متعلقہ تصویریںCover

اوپر دائیں سے: پنجور، ہریانہ میں مغل گارڈن،پاکستان کی بادشاہی مسجد کے نگراںفدائی خان کوکا کا ورثہ ہے۔ ہریانہ وپنجاب کے علاقہ میں ۱۷ ویں صدی کا محفوظ بچنے والایہ اکیلا گارڈن ہے؛ ہریانہ کے سوہنا میں حضرت شاہ نجم الحق مسجد اور مقبرہ کا احاطہ؛ تھانیسر، ہریانہ میں شیخ چلّی کا مقبرہ اور مدرسہ؛ گھروندہ ، ہریانہ میں مغل کارواں کے آرام کرنے کا ایک مقام۔

اوپر بائیں سے: لدھیانہ، پنجاب میں مغل سرائے مغل کاروانوں کے رکنے کے مقامات میں سے ایک ہے جو کہ قدیم آگرہ۔لاہور روٹ پر ابھی بھی اچھی حالت میں ہے؛ سرھند، پنجاب میںشاگرد کا مقبرہ؛ امرت سر پنجاب میں چمکدار ٹائلوں سے مزیّن سرائے امانت خاں کا مغربی دروازہ،اسے تاج محل کے نقاش امانت خان نے بنایا تھا۔

 

Baoli Ghaus Ali Khan in Farrukhnagar, Haryana. The octagonal shape of the step-well, or baoli, makes it unique in this region where a preference for rectangular step-wells is seen.

فرخ نگر، ہریانہ کی باؤلی غوث علی خاں۔ زینے دار کنویں یا باؤلی کی ہشت پہلو شکل اسے اس علاقے میں ممتاز بناتی ہے جہاں تکونے سیڑھیوں والے کنویں بنانے کا رواج عام ہے۔

View of Baoli Ghaus Ali Khan from the rooftop. The interior shows the tank and well in the center and the corridor around the tank.

چھت کے اوپر سے باؤلی غوث علی خاں کا ایک منظر۔ اندر مرکز میں ٹینک اور کنواں اور ٹینک کے چاروں جانب سیڑھیاں نظر آرہی ہیں۔

Mughal Bridge in Sirhind, Punjab. Many such bridges were constructed in the 16th and 17th centuries on the Agra-Lahore route to facilitate caravans.

سرھند، پنجاب کا مغل برج ۱۶ ویں اور ۱۷ ویں صدی میں آگرہ لاہور روٹ پر کاروانوں کے گزرنے کے لئے اس طرح کے متعدد برج تیار کئے گئے تھے۔

The Takht-e-Akbari or Akbar's throne in Kalanaur, Punjab. The monument marks the site of Mughal Emperor Akbar's coronation in 1556.

کالانور، پنجاب میں تخت اکبری۔یہ یادگار ۱۵۵۶ میں مغل شہنشاہ اکبر کی تاجپوشی کے مقام کو دکھاتی ہے۔

Left: The interior of the tomb of Afghan Emperor Ahmedshah Abdali's grandson Shah Zaman in the Rauza Sharif Complex in Sirhind, Punjab. Left: A kos-minar or distance marker near a caravan resting place in Kot Panech, Punjab. The pillars were built on travel routes to mark distance traveled and were placed at intervals of one kos, approximately 4.17 kilometers.

دائیں:سرھند ،پنجاب کے روضہ شریف احاطے میںافغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ زمان کے مقبرے کا اندرونی حصّہ۔
بائیں:کوٹ پنیچ، پنجاب میں کارواں سرائے سے کچھ دوری پر ایک کوس مینار یا نشان منزل۔اس طرح کے مینار سفر کے راستے پر طے کی گئی دوری کا تعین کرنے کے لئے بنائے جاتے تھے اور ان کی درمیانی دوری ایک کوس یعنی تقریبا ً ۴.۱۷ کلو میٹر ہوتی تھی۔

:مزید معلومات کے لئے Bullet

سب سے زیادہ پڑھے گئے ۱۰ مضامین Bullet

اسپین کے دوسرے مضامین Bullet

 

 

 

 

 

تاریخ کی دستاویز سازی

پنجاب اور ہریانہ کی غیر معروف یادگاروں کی ہندوستانی اور امریکی ماہرین آثار قدیمہ اور محققین کے ایک گروپ نے امریکی محکمہ خارجہ کے ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی تحفظ کی مالی مدد سے دستاویز سازی کی ہے۔

 

 

 

 


رچا ورما   تصاویر بشکریہ سینٹر فار ساؤتھ ایشین آرٹ اینڈ آرکیالوجی
SPAN March/April 2010

گذشتہ۱۸ مہینوں سے ہندوستانیوں اور امریکیوں کی ایک جماعت جس میں آرٹ کے مورخ، ماہرین آثار قدیمہ،دستاویز سازی کے افسران، فوٹو گرافر اور سرویئر شامل ہیں پنجاب اور ہریانہ کے گرد آلود میدانوں میں اس چیز کے لیے خاک چھان رہی ہے جو غالباً مشتاقانِ تاریخ کا ایک خواب ہوگی یعنی ایک قدیم تہذیب کے گمشدہ بیش بہا آثار۔

اس پروجیکٹ کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی تحفظ سے رقم فراہم کی گئی ہے۔ جو ۳۳سائٹوںپر ۱۳۶ آثارقدیمہ کے لیے ہے۔

۹۳۹۱۴ ڈالر کے اس پروجیکٹ پر سینٹر برائے آرٹ اور آثار قدیمہ، نئی دہلی کام کررہا ہے

(http://www.indiastudies.org/) ۔اس پروجیکٹ کی ڈائریکٹر وندنا سنہا کہتی ہیں کہ نئی دہلی اور گڑگاؤں،ہریانہ میں واقع سینٹر کا مقصد ان دونوں ریاستوں میں جی ٹی روڈ کے عقبی علاقوں میں ان انڈو اسلامک آثار کی دستاویز سازی کرنی ہے، جن پر اب تک تحقیق نہیں کی گئی ہے۔

بعض علاقوں کی مثلاً وہ جو دہلی کے اطراف میں ہیں وسیع پیمانے پر دستاویز سازی کی جاچکی ہے لیکن بہت سے آثار ایسے ہیں جنھیں مشکل ہی سے ہاتھ لگایا گیا ہوگا یا شناخت بھی کی گئی ہوگی۔

پنجاب اور ہریانہ کے میدانی علاقوں میں ۱۲ویں صدی سے ۱۹ ویں صدی تک کی انڈواسلامک یادگاریں پھیلی ہوئی ہیں، ان میں اس طرح کی عمارتیں شامل ہیں، جیسے کہ پانی پت میں وہ مسجد جسے خاندان مغلیہ کے بانی بابر نے تعمیر کیا تھا یا نور محل کی کارواں سرائے جو شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے تعمیر کیا تھا۔اسکے علاوہ بہت سارے پُل،راہ پیما(کوس مینار)،خوش کن باغات،آرام گاہیں،قلعے اور دیگر مقامات بھی ہیں۔ اگرچہ ان دونوں ریاستوں میں دو سو سے زیادہ سائٹیں ہیں لیکن ان میں سے بہت تھوڑی سی محض ۳۵ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے محکمہ آثارِ قدیمہ، عجائب گھروں، دونوں ریاستوں کے آثار قدیمہ کے ڈائرکٹریٹ اور اس علاقے میں کام کیے ہوئے آرٹ کے مورخوں سے مشورے کے بعد ان سائٹوں کا انتخاب کیا گیاہے۔ مورخین کا تعلق پنجاب کے بریجندرا کالج، مینیسوٹا اور ٹکساس کی یونیورسٹیوں اور شکاگو یونیورسٹی کی انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز سے ہے۔

اس پروجیکٹ کا مقصد اعلیٰ درجے کی دستاویزات تیار کرنا ہے جن میں آثار کے تفصیلی نقشے، تعمیری اونچائیاں اورتصاویر شامل ہیں۔ تاکہ ان تعمیرات کے ریکارڈ تیار کرکے انھیں، بشمول انٹرنیٹ، زیادہ سے زیادہ ناظرین کی دسترس میں پہنچایا جائے۔ یہ سینٹر مقامی لوگوں کو بھی ان کاوشوں میں شریک کرے گا تاکہ ورثہ کے طور پر ان آثار کی قدروقیمت کا انھیں احساس دلایا جائے۔ پلان یہ بھی ہے کہ اسکولوں کے اساتذہ اور اسکالروں کو بھی شریک کیا جائے تاکہ ان یادگاروں کے معماروں کی تاریخ، روایات اور طرزِ معاشرت کے متعلق اسباق تیار کیے جائیں۔

سنہا کہتی ہیںکہ ”دستاویز سازی خاص خاص آثار کی فوٹو گرافی تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کے اطراف کی دستاویز سازی پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ موجود ہ ماحول کے پس منظر میں ان تعمیرات کو دیکھا جاسکے۔ یہ طریقہ کار اس غرض سے اختیار کیا گیا ہے کہ ان آثار کے متعلق وہ ضروری معلومات اکٹھا کی جائیں جن کے ذریعے اطراف کی زمینی پرتوں کو سمجھا جاسکے۔

امریکی کانگریس نے ۲۰۰۱ میں ایمبیسڈر فنڈ قائم کیا تھا جس کے تحت اس وقت سے اب تک ایک سو ملکوں میں ۵۵۰ سے زیادہ پروجیکٹوں کے لیے براہِ راست گرانٹ فراہم کی جاچکی ہیں۔ یہ دنیا بھر میں ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لیے دو کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم کا عطیہ ہے۔

Bridging U.S.-India Relations