تاریخ کی دستاویز سازی
پنجاب اور ہریانہ کی غیر معروف یادگاروں کی ہندوستانی اور امریکی ماہرین آثار قدیمہ اور محققین کے ایک گروپ نے امریکی محکمہ خارجہ کے ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی تحفظ کی مالی مدد سے دستاویز سازی کی ہے۔
SPAN March/April 2010
گذشتہ۱۸ مہینوں سے ہندوستانیوں اور امریکیوں کی ایک جماعت جس میں آرٹ کے مورخ، ماہرین آثار قدیمہ،دستاویز سازی کے افسران، فوٹو گرافر اور سرویئر شامل ہیں پنجاب اور ہریانہ کے گرد آلود میدانوں میں اس چیز کے لیے خاک چھان رہی ہے جو غالباً مشتاقانِ تاریخ کا ایک خواب ہوگی یعنی ایک قدیم تہذیب کے گمشدہ بیش بہا آثار۔
اس پروجیکٹ کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی تحفظ سے رقم فراہم کی گئی ہے۔ جو ۳۳سائٹوںپر ۱۳۶ آثارقدیمہ کے لیے ہے۔
۹۳۹۱۴ ڈالر کے اس پروجیکٹ پر سینٹر برائے آرٹ اور آثار قدیمہ، نئی دہلی کام کررہا ہے
(http://www.indiastudies.org/) ۔اس پروجیکٹ کی ڈائریکٹر وندنا سنہا کہتی ہیں کہ نئی دہلی اور گڑگاؤں،ہریانہ میں واقع سینٹر کا مقصد ان دونوں ریاستوں میں جی ٹی روڈ کے عقبی علاقوں میں ان انڈو اسلامک آثار کی دستاویز سازی کرنی ہے، جن پر اب تک تحقیق نہیں کی گئی ہے۔
بعض علاقوں کی مثلاً وہ جو دہلی کے اطراف میں ہیں وسیع پیمانے پر دستاویز سازی کی جاچکی ہے لیکن بہت سے آثار ایسے ہیں جنھیں مشکل ہی سے ہاتھ لگایا گیا ہوگا یا شناخت بھی کی گئی ہوگی۔
پنجاب اور ہریانہ کے میدانی علاقوں میں ۱۲ویں صدی سے ۱۹ ویں صدی تک کی انڈواسلامک یادگاریں پھیلی ہوئی ہیں، ان میں اس طرح کی عمارتیں شامل ہیں، جیسے کہ پانی پت میں وہ مسجد جسے خاندان مغلیہ کے بانی بابر نے تعمیر کیا تھا یا نور محل کی کارواں سرائے جو شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے تعمیر کیا تھا۔اسکے علاوہ بہت سارے پُل،راہ پیما(کوس مینار)،خوش کن باغات،آرام گاہیں،قلعے اور دیگر مقامات بھی ہیں۔ اگرچہ ان دونوں ریاستوں میں دو سو سے زیادہ سائٹیں ہیں لیکن ان میں سے بہت تھوڑی سی محض ۳۵ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے محکمہ آثارِ قدیمہ، عجائب گھروں، دونوں ریاستوں کے آثار قدیمہ کے ڈائرکٹریٹ اور اس علاقے میں کام کیے ہوئے آرٹ کے مورخوں سے مشورے کے بعد ان سائٹوں کا انتخاب کیا گیاہے۔ مورخین کا تعلق پنجاب کے بریجندرا کالج، مینیسوٹا اور ٹکساس کی یونیورسٹیوں اور شکاگو یونیورسٹی کی انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز سے ہے۔
اس پروجیکٹ کا مقصد اعلیٰ درجے کی دستاویزات تیار کرنا ہے جن میں آثار کے تفصیلی نقشے، تعمیری اونچائیاں اورتصاویر شامل ہیں۔ تاکہ ان تعمیرات کے ریکارڈ تیار کرکے انھیں، بشمول انٹرنیٹ، زیادہ سے زیادہ ناظرین کی دسترس میں پہنچایا جائے۔ یہ سینٹر مقامی لوگوں کو بھی ان کاوشوں میں شریک کرے گا تاکہ ورثہ کے طور پر ان آثار کی قدروقیمت کا انھیں احساس دلایا جائے۔ پلان یہ بھی ہے کہ اسکولوں کے اساتذہ اور اسکالروں کو بھی شریک کیا جائے تاکہ ان یادگاروں کے معماروں کی تاریخ، روایات اور طرزِ معاشرت کے متعلق اسباق تیار کیے جائیں۔
سنہا کہتی ہیںکہ ”دستاویز سازی خاص خاص آثار کی فوٹو گرافی تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کے اطراف کی دستاویز سازی پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ موجود ہ ماحول کے پس منظر میں ان تعمیرات کو دیکھا جاسکے۔ یہ طریقہ کار اس غرض سے اختیار کیا گیا ہے کہ ان آثار کے متعلق وہ ضروری معلومات اکٹھا کی جائیں جن کے ذریعے اطراف کی زمینی پرتوں کو سمجھا جاسکے۔
امریکی کانگریس نے ۲۰۰۱ میں ایمبیسڈر فنڈ قائم کیا تھا جس کے تحت اس وقت سے اب تک ایک سو ملکوں میں ۵۵۰ سے زیادہ پروجیکٹوں کے لیے براہِ راست گرانٹ فراہم کی جاچکی ہیں۔ یہ دنیا بھر میں ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لیے دو کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم کا عطیہ ہے۔





