ہندوستان اور امریکہ: ایک ساتھ بڑھتے قدم
میری دعا ہےکہ آنے والے دنوں میں ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی یونہی بڑھتی رہے۔ دنیا کی قدیم ترین جمہویت کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سےدنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سےخطاب میرے لئے صحیح معنوں میں باعث عزت و شرف ہے۔
صدر بارک اوباما،
نومبر ۸،پارلیمنٹ گولڈن بک، نئی دہلی
*****
آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے ایک ارب سے زیادہ ہندوستانیوں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نمائندوں سے خطاب کرنے کا اعزاز بخشا۔ میں آپ کے لئے دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت ، ریاستہا ئے متحدہ امریکہ کی طرف سے، جس میں کم و بیش تیس لاکھ ہندوستانی امریکی شامل ہیں ، خیر سگالی اور دوستی کا پیغام لے کر آیا ہوں ۔
پچھلے تین روز کے دوران میری اہلیہ میشل اور میں نے ہندوستان اور اس کے لوگوں کے مختلف پہلوؤں کا مشاہدہ کیا ہے ۔ہمایوں کے عظیم الشان مقبرے سے لے کر اْن ترقی یافتہ ٹیکنالوجیوں تک جن سے کاشت کاروں کو اور اس ملک کی خواتین کو جو ہندوستانی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈّی کا درجہ رکھتی ہیں ، توانائی مل رہی ہے۔ بچوں کے ساتھ دیوالی کے تہوار کی تقریبات سے لے کر ان جدت طرازوں تک جو ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ، یونیورسٹیوں کے طلبا سے لے کر، جو ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہیں آپ لیڈرانِ کرام تک، جن کے سر ہندوستان کو اس غیر معمولی بلندی تک پہنچانے کا سہرا جاتا ہے۔
۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایشیا اور دنیا بھر میں ہندوستان محض اْبھر نہیں رہا ہے بلکہ یہ اْبھر چکاہے۔ اور مجھے پختہ یقین ہے کہ امریکہ اور ہندوستان کے مابین تعلّقات۔۔۔ جو مشترک مفادات اور مشترک اقدار کی وجہ سے ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔ اکیسویں صدی کی مثالی شراکت داریوں میں سے ایک ہونگے۔۔۔
ہما را جو مشترک مستقبل ہے اس پر میرے یقین کی بنیاد ہندوستان کے قیمتی ماضی کے لئے میرا احترام ہے۔۔ایک ایسی تہذیب جو ہزار ہا برس تک اس دنیا کو بناتی رہی ہے۔۔۔
بلا شبہ ہندوستان نے نہ صرف ہمارے ذہن کھول دئے ، بلکہ اس نے ہمارے اخلاقی تصورات کو بھی وسعت دی: ایسی مذہبی تحریروں سے جو آج بھی معتقدین کو متانت اور ضبط کی زندگی گذارنے کا درس دیتی ہیں ،ان شاعروں سے جنہوں نے ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کیا جہاں آپ کا ذہن خوف سے آزادہے اور سر فخر سے بْلند! اور اس شخص کے ذریعے جس کامحبت اور انصاف کا پیغام قائم و دائم ہے۔ یعنی آپ کا بابائے قوم ، مہاتما گاندھی۔
میرے اورمیشل کے لئے اس دورے کی خاص اہمیت ہے۔آپ دیکھئے کہ میری تمام عمر کے دوران، جس میں ایک نو جوان کی حیثیت سے شہر وں میں رہنے والے غریبوں کے لئے میری کاوِش شامل ہے،میں نے گاندھی جی کی زندگی سے ہمیشہ سبق حاصل کیا ہے اور اْن کے اِس سیدھے ساد ے لیکن گہرے سبق سے بھی ، کہ ہم دنیا میں جو تبدیلی چاہتے ہیں ، اْس کا خود نمونہ بنیں ۔ اور جس طرح انہوں نے ہندوستانیوں کو اپنی قسمت بدلنے کی تلقین کی،انہوں نے میرے اپنے ملک کے آزادی کے متوالوں کو بھی اسی طرح متاثر کیا۔ان میں مارٹن لوتھر کنگ نامی ایک نوجوان مبلّغ شامل ہے۔نصف صدی قبل ہندوستان کی یاترا کرنے کے بعد ڈاکٹر کنگ نے گاندھی کے عدم تشدّد کے فلسفے کے بارے میں کہا تھا کہ انصاف اور ترقی کی جدّوجہدکے لئے یہ واحد منطقی اور اخلاقی طریقہ ہے۔
چنانچہ یہ ہمارے لئے عزت کی بات تھی کہ ہم منی بھون نامی اس گھر میں گئے، جہاں گاندھی اور کنگ دونوں نے قیام کیا تھا۔ اور راج گھاٹ جا کر بھی ہم نے عقیدت کا نذرانہ پیش کیا۔ اورمجھے اس کا احساس ہے کہ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے آج جومیں آپ کے سامنے کھڑا ہوں ، ایسا ممکن نہ ہوتا، اگر گاندھی نہ ہوتے اور ان کا دنیا کے نام وہ پیغام نہ ہوتا،جس نے امریکہ اور دنیا بھر کو ایک ولولے سے سرشار کیا۔
سائنس اور ایجاد و اختراع کی ایک پرانی تہذیب،انسانی ارتقاء میں بنیادی اعتقاد، یہ ہے وہ مضبوط بنیاد جس پر آپ نے اس آدھی رات کو تعمیر و ترقی کا کام شروع کیا جب ایک آزاد اور خود مختار ہندوستان پر ترنگا جھنڈا لہرایا تھا۔۔۔
بھوک کے چنگل میں جانے کے بجائے آپ نے سبز انقلاب برپا کر دیا جس نے کروڑوں لوگوں کوخوراک فراہم کی۔اشیاء اور برآمدات کے دست نِگر ہونے کے بجائے آپ نے سائنس اور ٹکنالوجی پر اور اپنے سب سے بڑے وسیلے یعنی ہندوستانی عوام پرسرمایہ لگایا۔اور ساری دنیا نے اس کے نتائج دیکھ لئے۔ ایک طرف آپ کے بنائے ہوئے سپر کمپیوٹر ہیں اور دوسری طرف وہ ہندوستانی پرچم ہے جو آپ نے چاند پر گاڑا ہے۔
عالمی معیشت کی مزاحمت کرنے کے بجائے آپ اس کا ایک انجن بن گئے۔ آپ نے لائسنسنگ کے راج میں اصلاح کی، اور ایک ایسا اقتصادی معجزہ برپا کر دیا جس نے کروڑوں لوگوں کوغربت کے چنگل سے نکالا اور دنیا کا سب سے بڑا متوسط طبقہ قائم کیا۔*****
اور بجائے اس گمراہ کن خیال سے دھوکہ کھانے کے کہ دوسروں کی آزادی سلب کر کے ہی تر قی کی جا سکتی ہے، آپ نے ایسے ادارے تعمیر کئے ہیں ،جن پر صحیح جمہوریت کا انحصار ہے۔یعنی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، جن کی بدولت شہریوں کے لئے ہتھیاروں کا سہارا لئے بغیر اپنے لیڈروں کا انتخاب کرنا ممکن ہو جاتا ہے؛ایک خودمختار عدلیہ اور قانون کی بالا دستی، جس کی بدولت شہریوں کیلئے اپنی شکایات کا ازالہ کرنا ممکن ہو جاتا ہے؛ ایک کامیاب آزاد پریس اور ایک متحرک سول معاشرہ، جس میں ہر فرد بشر کی بات سنی جاتی ہے۔ ہندوستان اس سال ایک مضبوط اورجمہوری آئین کے ساٹھ برس پورے کررہا ہے۔ اس سے جو واضح سبق ملتا ہے یہ نہیں ہے کہ ہندوستان نے جمہوریت کے باوجود کامیابی حاصل کی ہے، بلکہ جمہوریت کی بدولت کامیابی حاصل کی ہے۔
چنانچہ جس طرح ہندوستان بدل گیا ہے ، اْسی طرح ہمارے دو ملکوں کے درمیان تعلّقات بدل گئے ہیں ۔*****
یہاں ہندوستان میں یکے بعد دیگرے دو حکومتوں نے، جن کی قیادت دو مختلف جماعتوں کے ہاتھوں میں تھی،جانچ لیا کہ امریکہ کے ساتھ دوستی کرنا ایک قدرتی امر بھی ہے اور ضروری بھی۔اور امریکہ میں بھی میرے دونوں پیش روؤں نے جن میں سے ایک ڈیموکریٹ تھے اور ایک ری پبلکن، ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے کام کیا، جس کے نتیجے میں تجارت کو فروغ ملا اور تاریخی غیر فوجی جوہری معاہدہ طے پایا۔
*****
امریکہ سیکورٹی کا متلاشی ہے -ہمارے ملک کی سلامتی، ہمارے اتّحادیوں اور شراکت داروں کی سلامتی۔ہم خوشحالی کی تلاش میں ہیں ،ایک کھلے بین الاقوامی اقتصادی نظام میں ایک مضبوط اور پھلتی پھولتی معیشت چاہتے ہیں ۔ہم بین ا لاقوامی اقدار کے لئے احترام چاہتے ہیں ، اور ہم ایک منصفانہ اور دیرپا بین لاقوا می نظام کے متلاشی ہیں ،جو مضبوط تر عالمی تعاون کے ذریعے عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرے۔
*****
۔۔۔ ہم دو مضبوط جمہوریتیں ہیں ،جن کے آئین ایک ہی طرح کے انقلابی الفاظ سے شروع ہوتے ہیں - ’’وی دی پیپل ‘‘ یعنی ہم عوام۔ہم دو بڑی ریپبلکس ہیں جن کی وابستگی تمام لوگوں کے لئے آزادی ، انصاف ، اور مساوات سے ہے ۔اور ہم دو آزاد منڈی والی معیشتیں ہیں جہاں لوگوں کو نئے خیالات اور ایجادات و اختراع کی آزادی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرا یہ اعتقاد ہے کہ ہندوستان اور امریکہ ہمارے دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ناگزیر شراکت دار ہیں ۔
*****
ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی اقتصادی تعاون کے لئے جی- ۲۰کو ایک بنیادی فورم بنا دیا ہے۔ اس طرح عالمی اقتصادی فیصلے کرنے میں مزید آوازیں شامل ہو گئی ہیں اور ان میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ ہم نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں ہندوستان جیسی اْبھرتی ہوئی معیشتوں کے رول میں اضافہ کیا ہے۔ہم نے کوپن ہیگن میں ، جہا ں تمام بڑی بڑی معیشتوں نے آب و ہوا میں تبدیلیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقدامات کے وعدے کئے تھے اورہندوستان کے اہم رول کی قدر کی تھی نیز ان اقدامات پر قائم رہنے کا عہد کیا تھا۔ہم اقوامِ متحدہ کی قیامِ امن کی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر مدد فراہم کرنے کی دیرینہ ہندوستانی روایت کو سلام کرتے ہیں ۔اور اس وقت جبکہ ہندوستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی نشست سنبھالنے کی تیاری کررہا ہے ، ہم اْس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔
مختصر یہ کہ اس وقت جبکہ ہندوستان دنیا میں اپنا وہ مقام حاصل کررہا ہے جس کا وہ حقدار ہے، ہمیں اس بات کا ایک تاریخی موقع ملا ہے کہ ہم اپنے دونوں ملکوں کے تعلقات کو اگلی صدی کی شراکت داری کی ایک پہچان بنادیں ۔ اور مجھے یقین ہے کہ ہم تین اہم شعبوں میں مل کر کام کرتے ہوئے ایسا کرسکتے ہیں ۔
اول ہم عالمی شراکت داروں کی حیثیت سے اپنے اپنے ملکوں میں خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں ۔ ہم مستقبل کے لئے مل کر اعلیٰ ٹیکنالوجی اور بلند معاوضوں کے حامل روزگار کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں ۔ میرے اس دورے کے ساتھ ہی اب ہم اپنے غیر فوجی جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد شروع کرنے کے لئے تیار ہیں ۔اس سے ہندوستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی،اور ہمارے دونوں ملکوں میں روز گار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔
ہمیں دفاع اور غیر فوجی خلائی منصوبوں جیسے اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ہم نے ہندوستانی اداروں کو اپنی اْس فہرست سے خارج کردیا ہے جسے "اینٹٹی لِسٹ " کہا جاتا ہے۔ہم برآمدات پر عائد اپنے کنٹرول کو ختم کردیں گے اور ضوابط کی اصلاح کریں گے۔یہ دونوں اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امریکہ کے ساتھ اعلیٰ ٹیکنالوجی کے لین دین اور تجارت کی خواہاں ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو ہم اپنے قریب ترین اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ کرتے ہیں ۔*****
اور ہم مل کر تجارت میں اْ س تحفظ پسندی کی مزاحمت کرسکتے ہیں ، جو اقتصادی افزائش اور اختراعات کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔امریکہ کا شمار اب تک دنیا کی سب سے زیادہ کھلی معیشتوں میں ہوتا ہے اور وہ بدستور ایسا ہی رہے گا۔اور اسی طرح ہندوستان بھی منڈیاں کھول کر اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کرکے اپنے بھر پور اقتصادی مواقع سے بہر ہ مند ہو سکتا ہے۔جی-۲۰ کے ساتھیوں کی حیثیت سے ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ عالمی اقتصادی بحالی مستحکم اور دیر پا ہو۔ہم ضروری مفاہمتیں کرنے کے حوصلے کے ساتھ دوحہ مذاکرات کے ایک ایسے دور کے لئے کوششیں جاری رکھ سکتے ہیں جو بلند مقاصد کا حامل ہو اور متوازن ہو تاکہ عالمی تجارت تمام معیشتوں کے لئے کار گر ہو۔
ہم مل کر زراعت کو مستحکم کرسکتے ہیں ۔ہندوستانی اور امریکی ماہرین اور سائنس دانوں کے درمیان تعاون نے سبز انقلاب کو جنم دیا تھا۔ ہندوستان کاشتکاروں کو با اختیار بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک لیڈر ہے۔اسی قسم کے کاشت کاروں سے میں کل مِلا تھا، جو اپنے سیل فون پر مارکیٹ اور موسمی حالات سے متعلق تازہ ترین اطلاعات مفت حاصل کرتے ہیں ۔ امریکہ زرعی پیداواری صلاحیت اور ریسرچ میں ایک لیڈر ہے۔اب جبکہ کسانوں اور دیہی علاقوں کو آب وہوا میں تبدیلیوں کے اثرات اور خشک سالی کا سامنا ہے، ہم ایک دوسرا، زیادہ دیر پا اور سدا بہار انقلاب لانے کے لئے مل کر کام کرسکتے ہیں ۔
ہم برسات کے اگلے موسم سے پہلے ہندوستان کی موسمی پیش گوئی کے نظاموں کو مل کربہتر بنا رہے ہیں ۔ کاشتکار خاندانوں کی جانب سے پانی کے استعمال میں کفایت، ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور اجناسِ خوراک کی پراسسنگ کو بہتر بناتے ہوئے، تاکہ زرعی پیدا وارمارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں ضائع نہ ہو جائے،اوران نقصانات سے بچنے کے لئے جو لو گوں کو مفلوج کردیتے ہیں اور جن کے باعث اجناسِ خوراک کی قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں ، ہمارا مقصد کروڑوں ہندوستانی کسانوں کی مدد کرنا ہے۔*****
چونکہ قوم کی دولت کا انحصار اس کے عوام کی صحت پر بھی ہوتا ہے اس لئے ٹی بی اور ایچ آئی وی ایڈز جیسی بیماریوں کے خلاف ہندوستان کی کوششوں کو ہم اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ اور وبائی فلو کے پھیلاؤ سے بچنے کی غرض سے عالمی صحت کو بہتر بنانے کے لئے کام کرتے رہیں گے۔
اس وقت جبکہ ہم اپنی مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لئے کام کررہے ہیں ، ہم ایک دوسرے ترجیحی معاملے میں بھی شراکت داری کرسکتے ہیں ۔ اور وہ ہے ہماری مشترکہ سیکورٹی کا معاملہ۔ میں نے ممبئی میں حوصلہ مند خاندانوں اور وحشیانہ حملے میں زندہ بچ جانے والوں سے ملاقات کی تھی۔اور یہاں پارلیمنٹ میں ، جسے خود اس لئے نشانہ بنایا گیا تھا کہ وہ جمہوریت کی نمائندگی کرتی ہے، ہم گیارہ ستمبر کے ہندوستانی شہریوں اور ۲۶ نومبر کے امریکی شہریوں سمیت ان تمام لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں ، جنہیں ہم سے چھین لیا گیا۔*****
اور ہم سب بدستور پاکستان کے لیڈروں پر زور دیتے رہیں گے کہ ان کی سرحدوں کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نا قابلِ قبول ہیں اور یہ کہ ممبئی کے حملوں میں جن دہشت گردوں کا ہاتھ تھا ، ا نہیں لازماً انصاف کے کٹھرے میں لایا جاناچاہئے۔اور ہمیں لازمی طور پر یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ایک ایسے افغانستان اور ایک ایسے پاکستان کے ساتھ ہم سب کا مفاد وابستہ ہے جو مستحکم ہوں ، خوشحال ہوں اور جمہوری ہوں ۔اور ہندوستان کا مفاد بھی اسی میں ہے۔
علاقائی سلامتی کے لئے کوشاں رہتے ہوئے ہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بدستور مکالمے کا خیر مقدم کرتے رہیں گے۔ تاہم ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو صرف دونوں ملکوں کے لوگ ہی طے کرسکتے ہیں ۔*****
دو عالمی لیڈروں کی حیثیت سے امریکہ اور ہندوستان عالمی سلامتی کے لئے شریکِ کار بن سکتے ہیں ۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان اگلے دو برسوں تک سلامتی کونسل میں خدمات انجام دے رہا ہے۔یقیناً امریکہ جس منصفانہ اور دیر پا عالمی نظام کا خواہاں ہے ، اْس میں ایک ایسی اقوامِ متحدہ شامل ہے، جو عمدہ کارکردگی کی حامل ، موثر ، قابلِ اعتبار اور جائز ہو۔ یہی وجہ ہے جو آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں آنے والے برسوں میں اقوامِ متحدہ کی ایک ایسی اصلاح شدہ سلامتی کونسل کے بارے میں پْر اْمید ہوں ، جس میں ہندوستان ایک مستقل رکن کی حیثیت سے شامل ہوگا۔
اب آپ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ بڑھے ہوئے اختیارات کے ساتھ بڑھی ہوئی ذمّے داریاں بھی آتی ہیں ۔اقوامِ متحدہ اپنے بانیوں کے ان تصوّرات کی تکمیل کے لئے قائم ہے، جن کا مقصدامن اور سلامتی کو برقرار رکھنا،عالمی تعاون کو فروغ دینا اور انسانی حقوق کو آگے بڑھانا ہے۔یہ تمام ملکوں کی ذمّے داریاں ہیں ۔ لیکن یہ خاص طور پر ان ملکوں کی ذمّے داریاں ہیں ، جو اکیسویں صدی میں قیادت کرنا چاہتے ہیں ۔لہذا اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ سلامتی کونسل موثر ہو، اْس کی قرار دادوں پر عمل درآمد ہواور اس کی پابندیاں نافذ العمل ہوں ، ہم ہندوستان اور اْن تمام ملکوں کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں جو سلامتی کونسل کی رکنیت کے متمنّی ہیں ۔اور یہ کہ ہم ان بین الاقوامی روایات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں ، جن میں تمام ملکوں اور تمام افراد کے حقوق اور ذمّے داریوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
اس میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ہماری ذمّے داری شامل ہے۔میں نے جب سے اپنا منصب سنبھالا ہے، امریکہ نے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں جوہری اسلحہ کے عمل دخل کو کم کردیا ہے اور ہم نے خود اپنے اسلحہ کے ذخائر میں کمی کرنے کے لئے روس کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔اور ہم نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور جوہری دہشت گردی کی روک تھام کو اپنے جوہری ایجنڈے میں اوّلین حیثیت دے رکھی ہے۔اور ہم نے عالمی سطح پر اسلحہ کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اْس انتظام کو مستحکم کیا ہے، جسے نیوکلیائی عدم توسیع کا معاہدہ کہا جاتا ہے۔
امریکہ اور ہندوستان دنیا کے اْ س جوہری سازوسامان کو محفوظ کرنے کے مقصد سے مل کر کام کرسکتے ہیں جس کا غلط ہاتھوں میں چلے جانے کا احتمال ہے۔ہم یہ بات واضح کرسکتے ہیں کہ ہر ملک کو اگر چہ پر امن مقاصد کے لئے جوہری توانائی کا حق حاصل ہے۔لیکن ہر ملک کو لازمی طور پر اپنی بین الاقوامی ذمّے داریاں بھی پوری کرنی چاہئیں ۔ اور ان ملکوں میں اسلامی جمہوریہ ایران بھی شامل ہے۔اور ہم مل کر ایک ایسے تصوّر کے لئے کام کرسکتے ہیں ، جسے ہندوستانی لیڈر آزادی کے بعد سے اپنائے ہوئے ہیں ۔ یعنی ایک ایسی دنیا کا تصوّر جو جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو۔
اور اس بات نے مجھے اب اس آخری شعبے تک پہنچا دیا ہے، جس میں ہمارے ملک شراکت دار بن سکتے ہیں ۔اور وہ ہے جمہوری طرزحکومت کو مستحکم کرنا۔ نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی۔
امریکہ میں میری انتظامیہ نے حکومت کو زیادہ کھلا، شفّاف اور لوگوں کے سامنے جواب دہ بنانے کے لئے کام کیا ہے۔یہاں ہندوستان میں آپ یہی کچھ کرنے کے لئے ٹیکنالوجیز سے کام لے رہے ہیں ، جیسا کہ میں نے کل ممبئی میں ایک نمائش میں دیکھا۔آپ کا اطلاعات تک رسائی کے حق کا عہد ساز قانون، شہریوں کو ان سروسوں کے حصول کی صلاحیت فراہم کرتے ہوئے با اختیار بنارہا ہے ، جن کے وہ مستحق ہیں ۔۔اور یہ قانون عہدے داروں کو قابلِ محاسبہ بنا رہا ہے۔ ووٹرز، ٹیکسٹ میسَیج کے ذریعے امید واروں کے بارے میں اطلاعات حاصل کرسکتے ہیں ۔اور جیسا کہ میں نے کل اس وقت دیکھا، جب میں نے راجستھان میں دیہاتیوں کے ساتھ ایک ای پنچایت میں شرکت کی تھی، آپ لوگوں کو تعلیم اور حفظان صحت اور علاج کی خدمات فراہم کررہے ہیں ۔
اب ہمارے دونوں ملک کھلی حکومت کے بارے میں ایک نئی شراکتِ کار میں اپنے تجربات کا تبادلہ کریں گے، اس چیز کا تعیّن کریں گے کہ کیا چیز کام کرتی ہے ۔ ساتھ ہی اپنے شہریوں کو با اختیار بنانے کے لئے وسائل کی ایک نئی پود تیار کریں گے۔اور اس بات کی ایک اور مثال کے تحت کہ امریکہ اور ہندوستان کی شراکت داری کس طرح عالمی مسائل کے چیلنج سے نمٹ سکتی ہے، ہم ان اختراعات سے معاشرتی تنظیموں اور دنیا بھر کے ملکوں کومستفیض کریں گے۔ہم یہ ثابت کریں گے کہ عام مرد اور عورتیں کسی بھی دوسرے طرزِ حکومت کے مقابلے میں جمہوریت سے زیادہ فیض یاب ہوتی ہیں ۔*****
ایسے میں جب آپ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ہر ہندوستانی شہری یہ بات جان لے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ صرف تماشائی بن کر آپ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے باہر سے ہی آواز بلند نہیں کرتا رہے گا، بلکہ ہم آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے ۔ اس لیے کہ ہم ہندوستان سے وابستہ توقعات سے آگاہ ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مستقبل وہ ہے جو ہم خود تعمیر کرتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چاہے کسی شخص کا تعلق کہیں سے بھی کیوں نہ ہو، وہ خدا کی طرف سے عنایت کردہ استعداد کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر امبیڈ کر اس مقام تک پہنچے جہاں انہوں نے ہندوستان کا آئین تحریر کیا جو تمام ہندوستانیوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پنجاب کے دیہات سے لے کر چاندنی چوک کی گلیوں تک ، یا کولکتہ شہر کے پرانے حصے سے لے کر بنگلور کی بلند و بالا عمارتوں تک، چاہے آپ جہاں بھی رہتے ہوں ، آپ کو امن،سلامتی اور وقار سے زندگی گزارنے، تعلیم حاصل کرنے، نوکری پانے اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل فراہم کرنے کا مساوی حق حاصل ہے۔*****
یہ ہندوستان کی کہانی ہے، یہ امریکہ کی کہانی ہے- کہ باہمی اختلافات کے باوجود لوگ ایک دوسرے میں اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں ، مل کر کام کر سکتے ہیں اور بطور پروقار ممالک اکٹھے کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ یہ ہمارے دو ممالک کے درمیان ساجھے داری کی روح سے عبارت ہے -کہ اگرچہ ہم ان ادوار کا احترام کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں جدا رکھا، اگرچہ ہم اس گلوبل دنیا میں اپنی شناخت بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، پھر بھی ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم مل کر کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں ۔
*****










