انکر جین:عالمی ترقی کے نقیب
نومبر /دسمبر۲۰۱۱
یہ نوجوان تجارتی مہم جـو اچھے کام انجام دے کر تجارتی ترقی میں مددگار ثابت ہورہے ہیں۔
اکیس سالہ امریکی تجارتی مہم جو انکُر جین کے بقول ’’دور حاضر کی کاروباری دنیا میں اب حقیقی معنوں میں سرحدوں کا وجود باقی نہیں رہا۔ اب امریکی بازار اور چینی بازار ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ یہاں پر ہر کوئی مل جل کر کام کررہا ہے۔ اس میدان میں ساتھ کام کرنا اور ساتھ تھکنا بہت ہی ولولہ خیز ہے۔‘‘
مہم جو تاجر بننے کے تقاضے
مہم جو تاجر کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ کامیاب مہم جو تاجران کا تعلق مختلف سن و سال، سطح آمدنی، جنس اور نسلوں سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ تعلیم، تجربے، تہذیب و تمدن اور ملک و قوم کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن مطالعہ و تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انتہائی کامیاب و کامران مہم جو تاجروں میں چند ذاتی خوبیاں مثلاً تخلیقیت، تندہی، عزم مصمم، لچک، قائدانہ صلاحیت، جوش و جذبہ، خود اعتمادی اور ذہانت و برجستگی وغیرہ مشترکہ ہوتی ہیں۔
● تخلیقیت، نئی مصنوعات اور خدمات کی ترقی میں معاون ہوتی ہے۔ یہ خوبی مہم جوتاجر کی ہمیشہ اصلاح کرتی رہتی ہے۔ تخلیقیت نام ہے سیکھنے کا، سوالات قائم کرنے کا اور نئے پیرایوں اور نئی جہتوں میں فکر کے نئے نئے چراغ روشن کرنے کا۔
● تندہی اور خود کو کسی نصب العین کے لئے وقف کرنے کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ مہم جو تاجر عام طور پر خصوصاً ابتداء میں ہفتے کے ساتوں دن ۱۲ گھنٹے یا اس سے زیادہ سخت محنت کرتا ہے۔ کامیابی کے لئے منصوبہ بندی اور افکار و خیالات کوکڑی محنت سے عملی جامہ پہنانا ضروری ہے۔
●عزم مصمم کا مطلب یہ ہے کہ آپ واقعی طور پر کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ اس راہ میں اگر کوئی مشکل آپڑتی ہے تو آپ ہمت نہیں ہارتے۔ عزم مصمم ہو تو مہم جو تاجر مایوس نہیں ہوتا، دوبارہ کال کرتا ہے یا کسی اور دروازے پر دستک دیتا ہے۔ ایک سچّے مہم جو تاجر کے لئے پیسہ محض ایک انعام ہوتا ہے لیکن اسے سچی خوشی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی مصنوعات یا خدمات صحیح طور پر کام کر رہی ہیں۔
● لچک تبدیلیٔ حالات کے ساتھ ساتھ حرکت میں آنے کا نام ہے۔ گاہکوں کی خواہش کے مطابق مہم جو تاجر کو بھی اپنے اصل خیال میں ترمیم کرنی چاہئے۔
● قیادت، قاعدوں اور صنابطوں کے وضع کرنے کی صلاحیت کو کہتے ہیں۔ اچھے قائدین جب کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اسے انجام تک پہنچاتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر شخص قاعدہ و قانون کی پابندی کر رہا ہے۔
● جوش و جذبہ مہم جو تاجروں کو توانائی بخشتا ہے۔ جوش و ولولے سے سرشار تاجر دوسروں کو اپنے افکار و خیالات سے اتفاق کرنے پر رضا مند کرسکتے ہیں۔ یہی خوبی انہیں مرکزِ توجہ بناتی ہے اور ایسے مہم جو تاجر اپنے منصوبوں کے تئیں دوسروں کو سنجیدہ ہونے پر مجبور کردیتے ہیں۔
●خود اعتمادی، منصوبہ بندی، تجربہ اور آپ کی لیاقت و استعداد کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ خود اعتماد مہم جو تاجر اپنے نقطۂ نگاہ سے منحرف ہوئے بغیر دوسروں کے نظریات سن لیا کرتا ہے۔
●’’اسمارٹس‘‘ ایک امریکی اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح ذہانت اور عقل سلیم پر مبنی صلاحیتوں کی غماز ہے۔ عقل سلیم کسی شخص کو وجدان عطا کرتی ہے اور ذہانت اسے مہارت بخشتی ہے۔ بہت سے لوگ یہ خوبی رکھتے ہیں لیکن اس سے بے خبر رہتے ہیں، مثال کے طور پر ایک شخص جو اپنے کنبے پر ہونے والے اخراجات کا بجٹ بہتر طریقے سے بناتا اور چلاتا ہے، اس کے پاس تنظیمی اور مالی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور زندگی کے نشیب و فراز اس خوبی کو جلا بخشتے ہیں۔
جین ہولڈناقتصادی امور پر مہارت رکھنے والی ایک آزاد صحافیہ ہیں۔ انہوں نے ایک مدیر کی حیثیت سے یو ایس انفارمیشن ایجنسی میں ۱۷ سالوں تک کام کیا ہے۔

©گیٹی امیجز
اپنی ابتداء ہی سے، کائروز نے ملکی و بیرونی ہر شعبے کے تجارتی مہم جوؤں کی مل جل کر کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور سوسائٹی نے اپنے ارکان کے لئے بیش قیمت شراکتوں، کاروباری نمائشوں اور دوسرے تعلیمی مواقع کا انعقاد و اہتمام جاری رکھا ہے۔ جین اور کیروز ارکان کم توجہ یافتہ اسکولوں اور تجدید شدہ عمارتوں کو توانائی کے نقطۂ نگاہ سے مزید مؤثر بنانے کے لئے کلائوڈ ٹیکنالوجی فراہم کررہے ہیں، ٹھوس اقدامات کررہے ہیں اور اگر یہ کام صحیح طور پر ہوجائے تو اچھے کاروبار اور عالمی ترقی شانہ بہ شانہ آگے بڑھیں گے۔
تجارتی مہم جوئی کی تعلیم
جین، جن کے والدین پہلی نسل کے تارکین وطن ہیں، کہتے ہیں ’’یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میری پیدائش اور پرورش و پرداخت ایک مہم جو تجارتی کنبے میں ہوئی۔ آج تک اُن کی آپ بیتی مجھے حوصلہ بخشتی ہے۔ یہ صحیح معنوں میں ایک امریکی خواب ہے۔‘‘
اس کہانی کی ابتدا اس وقت ہوئی جب جین کے والد ہندوستان سے امریکہ منتقل ہورہے تھے۔ ان کی جیب میں ۱۰۰ ڈالر بھی پورے نہ تھے۔ وہ سی ایٹل، واشنگٹن میں آباد ہوئے اور سافٹ ویئر کے میدان میں ایک دیو پیکر کمپنی مائکروسافٹ میں ملازمت اختیار کرلی۔ یہ اس وقت تک ایک چھوٹی کمپنی تھی۔ جین نے بتایا ’’چند سالوں تک وہاں کام کرنے کے بعد انھوں نے یہ طے کیا کہ اب وہ وقت آگیا ہے جب انھیں اپنے امریکی خواب کی تعبیر تلاش کرنی ہوگی۔ چنانچہ انھوں نے خود اپنی ایک کمپنی قائم کی اور تاعمر ایک مستقل مہم جو تاجر رہے۔‘‘
بچپن میں جین اپنے والد کے ساتھ کانفرنسوں اور میٹنگوں میں جایا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں ’’ مجھے تجارتی مہم جوئی سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔ میں نے خود کو ایک ایسی ولولہ خیز دنیا میں ضم کرلیا جہاں آپ حقیقی معنوں میں اپنی تقدیر خود اپنے ہاتھوں سے لکھ سکتے ہیں، جہاں آپ دوسرے افراد کی مدد کرکے اُن کے جہانِ آرزو کو شاد و آباد کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔ جین کی عمر ابھی گیارہ سال کی تھی کہ انھوں نے اپنے گنے چنے دوستوں کے ساتھ ابتدائی کمپیوٹرپروگرامنگ سیکھی۔ اب کیا تھا جین ساحل سمندر پر کھڑے رہنے والے خاموش تماشائی رہنے کے بجائے بحرِ ذخّار کے غوّاص بن گئے۔ وہ ایک مشاہد کی سطح سے اوپر اٹھ کر ایک مخترع بن گئے۔ دوستوں کے معیت میں انھوں نے، دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ، ایک جدّت آفریں ویب سروس کا خاکہ بنایا جس کے ذریعے سیل فون کے استعمال کرنے والے متنی پیغامات آنِ واحد میں متعدد لوگوں کو ارسال کیے جاسکتے ہیں۔ یہ کارنامہ انھوں نے اس وقت انجام دیا جب دوسرے موبائلوں میں یہ سہولت عام نہ ہوئی تھی۔
اپنی تجارتی مہم جوئیوں سے متعلق خوابوں کی عملی تعبیروں سے آشنا ہونے کے لئے جین نے یونیورسٹی آف پنسل وانیا کے وھارٹن اسکول آف بزنس میں داخلہ لے لیا۔ وہ کہتے ہیں ’’وھارٹن میں گو کہ کئی ذہین اور طبّاع لوگ تھے لیکن تجارتی مہم جوئی کی ہوا انھیں اب تک نہیں لگی تھی۔‘‘ ۲۰۰۷ کے وال اسٹریٹ بحران کے دوران، جب بہت سے طلبہ مالیات کی دنیا سے مایوس اور دلبرداشتہ ہوئے جارہے تھے، جین کو امید کی کرن نظر آئی۔ اُن کے بقول ’’مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہی صحیح اور مناسب وقت ہے جب ان ذہین لوگوں کے ساتھ اسکول میں سلیکن ویلی جیسا ماحول بنانا چاہئے۔ نتیجہ سامنے تھا۔ جین کی کائروز سوسائٹی وجود میں آگئی۔ یہ نام یونانی لفظ سے مشق تھا جس کا مفہوم ہے ’’سازگار لمحہ‘‘۔
کائروز، پینجیا اور اس سے آگے
ایک طالب علم کے ذریعہ چلائی جانے والی غیر منافع بخش تنظیم کائروز کے پروگرام سرِ دست ۱۴ ملکوں کی کم و بیش ۴۰ یونیورسٹیوں میں چل رہے ہیں۔ جین کہتے ہیں کہ سوسائٹی نوجوان اور حوصلہ مند مہم جو تاجروں کو ماہرین اور وسائل تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ پرزور طریقے سے کہتے ہیں ’’اگر ہم مختلف ملکوں کے اسمارٹ اور ذہین لوگوں کو ایسے لیڈروں سے تعامل کے مواقع فراہم کریں جو انھیں کامیابی سے ہم کنار کرنے میں معاون ہوں تو ہم دنیا کے طول و عرض میں امریکی خواب کو شرمندۂ تعبیر کرسکتے ہیں۔‘‘
اس نظریئے کے عملی مظاہر امریکہ، ہندوستان، چین، میکسیکو، مشرق وسطیٰ اور اس کے آگے دکھائی دینے لگے ہیں۔ جین کہتے ہیں ’’ہم نسلِ حاضر کے سائنسدانوں، تجارتی مہم جوؤں اور صفِ اوّل کے سی ای اوز کو اپنے طلبہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر، طلبہ میں اوائل عمری سے ہی وہ جذبہ اور اعتماد بھر دیتے ہیں جو انھیں کامیابی سے ہمکنار کردے۔‘‘ کائروز کے پروگراموں میں ایک سالانہ عالمی چوٹی کانفرنس کا انعقاد بھی شامل ہے جس میں سیکڑوں طلبہ اور سی ای اوز نیویارک میں جمع ہوں گے۔ اس کے علاوہ کائروز کے ارکان ایمسٹرڈم میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ حفظان صحت سے لے کر صاف و شفّاف توانائی تک جملہ مسئلوں پر عملی اقدامات کریں گے۔
جین کائروز کے فلسفے کا لب لباب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اچھا کام بہت بہترہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ہم دنیا کو بڑے چیلنجوں کے ایک سلسلے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ مسئلوں کو دیکھ کر پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ مسئلوں کو حل کیا جائے۔ اسی ذہنی رجحان کے سبب دنیا بھر میں ۱۰۰ سے زیادہ کمپنیاں وجود میں آگئی ہیں۔‘‘
کائروز کے ساتھ شب و روز کی محنت کے علاوہ جین پینجیا نام کی ایک نئی کمپنی میں بھی گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ پینجیا دراصل نئی نئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تعاون دیتی ہے۔ جین وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہمارا کہنا ہے کہ جدّت پسندی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ محض اس لئے کہ کوئی مہم جو تاجر چین سے باہر رہتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ایجاد کی بین الاقوامی قدر سے فیضیاب نہیں ہوسکتا۔‘‘
پینجیا میں، جین اور اُن کے شریک بانی اپنے ساتھ کام کرنے والے مہم جو تاجروں کو درپیش گلوبلائزیشن کے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری ترقی کے کائروز طریقۂ کار کے ذریعے ہندوستان اور چینی مہم جو تاجران مثال کے طور پر سرمائے میں کسی طرح کے اضافے کا بوجھ برداشت کئے بغیر اپنے کاروبار کو امریکی بازاروں تک لے جاسکتے ہیں یا اپنی کمپنیوں کے مالکانہ حصص نئے سرمایہ کاروں کو منتقل کرسکتے ہیں۔ جین کے بقول، پینجیا تمام شریک ملکوں کے لئے نئی دولت اور نئے روزگاروں کے مواقع نکالنے کی تگ و دو کرتی ہے، خاص طور پر ان کے اقتصادی فروغ کے لئے باہمی کوششوں کو تیزتر کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’باہمی ترقی اور اشتراک ہی کے محور پر ہماری فکری پرواز ہوتی ہے۔‘‘
جین کا مشاہدہ ہے کہ پینجیا کی کوششیں نہ صرف عالمی اقتصادیات کے بحر میں تلاطم پیدا کررہی ہیں بلکہ بین الاقوامی بھائی چارے کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’میں اس کے بارے میں بے پناہ جوش و ولولے سے سرشار ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ایک مثبت نتائج کے حامل کھیل کی حیثیت سے گلوبلائزیشن کی تعریف ازسرنو متعین کرسکتے ہیں اور اس کا سہرا ان مہم جو تاجروں کے سر بندھتا ہے جو سرحدوں کے پرے کام کررہے ہیں۔‘‘ وہ لمحہ بھر کے لئے کسی خیال میں گم ہوجاتے ہیں۔ نہ جانے کیا خیال آیا کہ اُن کے لبوں پر ایک تبسم کھل اٹھا۔ اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا ’’اگر ہم ایسا کرپاتے ہیں تو ڈپلومیسی کا مستقبل تابناک ہے۔‘‘

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ وہ نیویارک سٹی میں رہائش پذیر ہیں۔

