امریکی کالج میں داخلہ کیسے لیں
ستمبر/اکتوبر ۲۰۱۰
امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں پڑھنے کیلئے آپ کے پاس چاہے جو بھی وجہ ہو ایم۔ وی۔ ہریش آپ کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ درخواست دینے کے چیلنجوں بھرے عمل میں کامیاب ہونے کیلئے آپ کو جوبھی کرنا ہے تیزی سے کرنا ہے ۔
میں سب سے اہم مشورہ یہی دے سکتا ہو ں ۔
امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں داخلے کیلئے درخواست دینے کے معاملے میں آپ کو سچ مچ کی تحریک ہونی چاہئے ۔اس میں ایک سال تک مسلسل لگے رہنا پڑتاہے اور یہ کام آسان نہیں ہے۔ اگر آپ واقعی داخلہ چاہتے ہیں تبھی درخواست دینے کیلئے قدم آگے بڑھایئے ۔
درخواست دینے کا عمل کب شروع کیاجائے ؟
آپ جس بیچ میں شرکت کے خواہش مند ہیں اس بیچ کی پڑھائی شروع ہونے سے کم از کم ایک سال پہلے درخواست دینے کا عمل شروع کردینا ضروری ہے ۔مثال کے طور پر اگر آپ۲۰۱۲کے موسمِ خزاں میں داخلہ کے آرزو مند ہیں ،جو اگست ۲۰۱۲میں شروع ہوگا ، تو آپ کو داخلہ لینے کی درخواست دینے کاعمل اگست ۲۰۱۱میں شروع کردینا ہوگا ۔
کوئی یونیورسٹی کسی درخواست دہندہ میں کیا تلاش کرتی ہے ؟
میرے خیال میں یونیورسٹی ایسے لوگوں کو تلاش کرتی ہے جن کے پاس صحیح معنوں میں اس کام کی انجام دہی کاجذبہ ہو جس کام کو وہ انجام دینے کے خواہش مند ہیں اور اس شعبہ میں کامیابی کے اہل بھی ہیں ۔ یونیورسٹی ان چیزوں کا ثبوت آپ کے تعلیمی نمبروں میں ،انٹرن شپ کام کے تجربے میں ،منصوبوں کی تکمیل میں ،سفارش ناموں میں اورمقصد کے بیان میں تلاش کرتی ہے ۔
یونیورسٹیاں جی آر ای (گریجویٹ ریکارڈ ایکزام )کے نمبروں کو بنیادی معیار کے طور پر تسلیم کرتی ہیں لیکن دوسرے شعبوں میں اگر امیدوار نے غیر معمولی کارنامے انجام دیئے ہیں تو اس کے کمزور نمبروں کو بھی نظر انداز کرجاتی ہیں ۔اس لئے ضروری ہے کہ آپ اچھے نمبر حاصل کرنے کی کوشش کریں اور کامیاب بھی ہوں لیکن صرف اچھے نمبر کسی بھی اعتبار سے داخلہ مل جانے کی ضمانت نہیں ہیں ۔
اس میں کن کن باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے ؟
آپ کو جن یونیورسٹیوں سے دلچسپی ہے ان یونیورسٹیوں میں درخوا ستیں دینے کی آخری تاریخوں پر نظر رکھیں ۔عام طور پر یہ تاریخیں دسمبر ۲۰۱۱کے ابتدائی دوہفتوں میں کسی وقت پڑیں گی ۔ بعض یونیورسٹیاں خاص طور پر یونیورسٹی آف سادرن کیلی فورنیا میں مئی جون ۲۰۱۲تک بھی درخواستیں دینے کی اجازت مل جاتی ہے لیکن اتنی دیر سے درخواست دینے کامشورہ قطعی نہیں دیا جاسکتا ۔
جی آر ای لکھئے ،(اگر ضرورت ہو تو )ہر مضمون کا جی آر ای لکھئے اور ٹی اوای ایف ایل (انگریزی کی اہلیت)کے امتحان کا جی آر ای بھی لکھئے ۔ ۲۰۱۲کے موسم خزاں کے بیچ میں داخلے کے لئے درخواستیں اس بار آپ کو اکتوبر ۲۰۱۱سے پہلے کسی وقت دے دینی چاہئیں ۔ اچھا تو یہ ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو یہ کام کردیجئے ۔جیسے کہ ۲۰۱۱کے اوائل میں ہی ۔
آپ اس وقت جس یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں وہاں سے بہت وقت رہتے ہوئے یعنی جولائی اگست۲۰۱۱میں تعلیمی ریکارڈ کی نقل کے لئے درخواست کردیجئے ۔ اس میں آپ کو ایک مہینہ لگ جائے گا ۔
ایسی یونیورسٹیوں کی حتمی فہر ست بنا لیجئے جہاں آپ داخلے کیلئے درخواستیں دینا چاہتے ہیں ۔اگر آپ کے پاس ڈھیر سارا خالی وقت ہے تو میں اس بات کی سفارش کروں گا کہ آپ ۱۲سے زیادہ یونیورسٹیوں میں داخلے کیلئے درخواست بھیجیں ۔یہ بات دھیان میں رہے کہ ہر درخواست کی تیاری کیلئے آپ کو خاصے وقت اور خرچ کی ضرورت پڑے گی ۔
یوایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ اور دوسری رتبہ بندی،کالج کے سینئر طلباء کی سفارشات ،یونیورسٹی کے ویب سائٹ پر نظر آنے والی اطلاعات اور مقبول فورموں جیسے کہ www.edulix.com اور www.thegradcafe.comسے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر یونیورسٹیوں کا انتخاب کریں ۔
اگر آپ۱۲یونیورسٹیوں میں داخلے کیلئے درخواست دے رہے ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیے کہ ان میں سے کم از کم تین یونیورسٹیوں میں آپ کو داخلہ مل جانے کا کامل یقین ہو ۔اس کے علاوہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ان میں وہ چار یونیورسٹیاں شامل ہوں جن میں داخلہ کیلئے آپ خواب دیکھتے رہے ہیں ۔کیونکہ آپ کو بعد میں اس کا ملال نہیں رہے گا کہ آپ نے وہاں درخواست نہیں دی ۔
اگست میں کسی وقت آپ اس یونیورسٹی میں ،جہاں ابھی پڑھ رہے ہیں ، اپنے پروفیسروں سے یا اپنے کام کی نگرانی کرنے والے سپروائزروں سے سفارشی خط کیلئے کہیں ۔آپ انہیں بتایئے کہ آپ درخواست دیناچاہتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیے کہ آپ کا سفارش نامہ جلد از جلد بھیج دیاجائے ۔یہ کام بعد میں نہ کریں ۔
جب آپ ان یونیورسٹیوں کی فہرست بنالیں ، جہاں آپ درخواست دینا چاہتے ہیں تو، اپنے ا غراض و مقاصد کابیان لکھنا شروع کردیں ۔
اس وقت تقریباً تمام یونیورسٹیاں آن لائن درخواستیں لینے کے نظام پر عمل پیرا ہیں ۔جس قدرجلد ممکن ہو ،مثال کے طور پر ستمبر میں ہی ،آن لائن فارم بھرنا شروع کردیں ۔آپ یونیورسٹی سے کاغذی درخواست کی بھی التجا کرسکتے ہیں لیکن یہ کام تبھی کریں جب کسی کمپیوٹر تک آپ کی رسائی بالکل نہ ہو ۔
سفارش کرنے والوں کا انتخاب کیسے کیاجائے ؟
l اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان میں سے کم از کم ایک کسی مشہور ادارے سے پی ایچ ڈی کئے ہوئے ہو۔
l اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان میں سے کم از کم دو فیکلٹی کے سینئر ممبران ہوں ۔
l انٹرن شپ سپروائزروں کے سفارش نامے عام طور پر قابل قبول ہوتے ہیں ۔
l عام طور پر یونیورسٹیاں یہ تقاضہ کرتی ہیں کہ تین سفارش ناموں میں سے کم از کم دو سفارش نامے ایسے ادارے کے اساتذہ کے ہوں جہاں آپ اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں ۔
l ایسے اساتذہ کاانتخاب کریں جنہوں نے آپ کوکم از کم ایک دو کورس پڑھائے ہوں یا آپ کے انڈر گریجویٹ منصوبوں یا تحقیقی کام میں آپ کی رہنمائی کی ہو ۔
l ظاہر ہے کہ آ پ کی سفارش کرنے والا اپنے مراسلے میں آپ کے بارے میں اچھی باتیں ہی لکھے ۔
اغراض و مقاصد کا بیان کیسے لکھاجائے ؟
l کامل انگریزی لکھئے مگر زبان سادہ رکھئے ۔جی آر ای لفظوں کی فہرست سے غیر واضح الفاظ استعمال نہ کیجئے ۔
l اگر ممکن ہو تو اپنے ایسے کسی دوست سے ،جو امریکہ میں رہتاہو، اسے پڑھوا لیجئے ۔
l اغراض و مقاصد کے بیشتر بیانات طوالت میں دو تین صفحات کے ہوتے ہیں ۔اپنی بات ان ہی صفحات تک محدود رکھئے۔
میں نے اغراض و مقاصد کے بیان کے اس بنیادی قالب کو استعمال کیا تھا ۔آپ چاہیں تواستعمال کرسکتے ہیں :
پیرا۔۱:آپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟مثال کے طور پر کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس ۔الگوریتم میں تخصص ۔
پیرا۔۲:میں کیوں یہی مضمون پڑھنا چاہتا ہوں یعنی مجھے ملنے والی تحریک کا ذریعہ کیا ہے ۔
پیرا۔۳:انڈر گریجویٹ تعلیم ۔
پیرا۔۴:انڈر گریجویٹ منصوبے ۔
پیرا ۔۵:انٹرن شپ اور کام کا تجربہ ۔
پیرا۔۶:آپ اس یونیورسٹی میں داخلے کیلئے درخواست کیوں دے رہے ہیں ؟آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ دلچسپ تحقیق کی بات کریں گے ،وہاں دستیاب نصابوں کی بات کریں گے اور مخصوص پروفیسروں کی بات کریں گے ۔
پیرا۔۷:آپ کے مستقبل کے منصوبے، طویل مدتی اور مختصر میعادی مقاصد ۔
انٹر نیٹ پراطلاعات کے وسائل کی بھر مار ہے ۔امریکی پروفیسروں کے بلاگ یا ویب سائٹ دیکھیں جہاں اغراض و مقاصد کا بیان لکھنے والوں کیلئے مشورے دیئے گئے ہیں ۔ان کی نقل نہ کریں ۔جو لکھیں اپنی زبان میں لکھیں ۔
ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ یونیورسٹی کو کیا چاہئے ؟
یہاں بھی ویب سائٹ سے ہی مدد لیجئے اور خاص کر ڈپارٹمنٹ کے ویب سائٹ سے جو کہ اطلاع کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ اپنے ان سینئر ساتھیوں سے بھی بات کیجئے جنہوں نے اسی طرح کے پروگرام لے رکھے ہیں اور اسی طرح کے اداروں میں پڑھ رہے ہیں ۔
میں نے جارجیا ٹیک کوکیوں چنا؟
lایک سینئر نے مجھے اس کا مشورہ دیا ۔اس نے گذشتہ سال داخلہ لیاہے اور اس نے اس کے بارے میں یہ باتیں کہی ہیں ۔
lمیرے تخصص کے شعبے کیلئے بہت مشہور ہے ۔
lکمپیوٹر سائنس میں عمدہ تحقیق ۔

ایم وی ہریش نے مئی میں گروگوبند سنگھ اندرپرستھ یونیورسٹی کے بھارتی ودیہ پیٹھ کالج آف انجینئرنگ سے فراغت حاصل کی اور ماسٹر آف کمپیوٹر سائنس پروگرام کرنے کے لئے جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنا لوجی میں داخلہ لیا ہے ۔



