متعلقہ تصویریں Cover


Waves crash ashore on the beach on the Quileute Indian Reservation in La Push, Washington.
لا پُش، واشنگٹن میں کوئیلٹ
انڈین ریزرویشن کے ساحل سے ٹکراتی ہوئی لہریں ۔
تصویر: ایلین تھامپسن © اے پی ڈبلیو ڈبلیو پی

A note at the Cullen House for visitors taking the Twilight Tour put on by the Forks Chamber of Commerce.
کلین ہاؤس پر ٹوئی لائٹ کی سیر پر آنے والے سیاحوں کیلئے ایک تحریر۔ جسے فورکس چیمبر آف کامرس نے نصب کرایا ہے۔
تصویر: ٹیڈ ایس۔گیلین © اے پی ڈبلیو ڈبلیو پی

Robert Pattinson (from left), Kristen Stewart and Taylor Lautner arrive at the premiere of “The Twilight Saga: Eclipse” in Los Angeles, California in June 2010.
لاس اینجلس ، کیلی فورنیا میں جون،۲۰۱۰ میں ’’دی ٹوئی لائٹ ساگا: اکلپس‘‘ کے پریمئر کے موقع پر رابرٹ پیٹنسن(بائیں سے)،کرسٹن اسٹیوارٹ اور ٹیلرلاؤنر۔
تصویر: میٹ سیلیس © اے پی ڈبلیو ڈبلیو پی

The private residence in Forks designated as Swan House.
فورکس میں ذاتی رہائش گاہ جسے سوان ہاؤس کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔
تصویر: مائک گرل

Forks High School.
فورکس ہائی اسکول۔
تصویر: مائک گرل

Bella Swan’s truck parked in front of the Forks Chamber of Commerce.
فورکس چیمبر آف کامرس کے سامنے کھڑا بیلا سوان کا ٹرک۔
تصویر : ایریکا ایلس

An old motorcycle outside Jacob Black’s house.
جیکب بلیک کی رہائش گاہ کے باہر ایک پرانی
موٹر سائکل۔
تصویر : ایریکا ایلس

Dazzled by Twilight store in Forks.
فورکس میں ’’ڈیزلڈ بائی ٹوئی لائٹ اسٹور‘‘۔
تصویر : ایریکا ایلس

Avery Ellis stands next to the “treaty line.”
’’ٹریٹی لائن‘‘ کے پاس کھڑی
ایوری ایلس۔
تصویر : ایریکا ایلس

“Twilight” themed wine on sale.
’’ٹوئی لائٹ‘‘پر مبنی
شراب کی بوتلیں ۔
تصویر : ایریکا ایلس

“Twilight Territory: A Fan’s Guide to Forks & La Push” by Chris Cook from the Forks Forum newspaper, on sale at the Thriftway store.
ٹوئی لائٹ ٹیریٹری:فورکس اور
لا پُش کے مداحوں کے لئے کرس کوک کی تحریر کردہ گائیڈجسے فورکس فورم
نیوز پیپر سے لیا گیا ہے، تھرفٹ وے اسٹور میں فروخت کے لئے رکھی گئی ہے۔
تصویر : ایریکا ایلس

سب سے زیادہ پڑھے گئے ۱۰ مضامین Bullet

اسپین کے دوسرے مضامین Bullet

فورکس میں خوش آمدید

کیٹلن مک وے
ستمبر/اکتوبر ۲۰۱۰

فورکس،واشنگٹن ‘چھوٹا سا،بارش میں نہایا ہوا شہر،انتہائی مقبول ’’ٹوئی لائٹ‘‘ ناولوں اور ان پر مبنی ہالی ووڈ فلموں کے سبب سیاحت کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اولمپک نیشنل پارک میں جھرنوں اورپہاڑیوں کی کھڑی ڈھلانوں والی چوٹیوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی شاہراہ نمبر ۱۰۱ پر ہمارا سفر جاری ہے ۔ ہمارے چاروں طرف بارش اور تاریکی کو شرمندہ کردینے والی کہر ے کی موٹی اور لامتناہی چادر ہے جس میں ہم جھومتے ہوئے ہرے بھرے درختوں کی شاخوں اور چھوٹے چھوٹے قصبات سے گزررہے ہیں ۔ اچانک ایک بڑا‘ ہرے رنگ کا لکڑی کا سائن بورڈ نظر آجاتا ہے جس پر لکھا ہے’’ سٹی آف فورکس آپ کا خیر مقدم کرتا ہے۔‘‘ کہاں ہمیں توقع تھی کہ ہم تعمیراتی لکڑی کے کسی خوابیدہ قصبہ میں داخل ہوں گے اور کہاں ایک جادوئی ٹوئی لائٹ نگری میں آگئے ہیں ۔ ویمپائر اور ٹوئی لائٹ فلموں سے تعلق رکھنے والی یادگاریں اور نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں اور سیاحوں سے دکانیں اور فٹ پاتھ بھرے ہوئے ہیں ۔
واشنگٹن اسٹیٹ کے اس شمالی مغربی کنارے میں بارش سے تر بہ تر اس آبادی میں ہی اسٹیفن میئرکی کمسن نوجوانوں کی ویمپائر(خونخوار بھوت جو رات کو قبر سے نکل کر سوتے ہوئے انسان کا خون چوس لیتا ہے۔) عشقیہ داستان ’’ ٹوئی لائٹ‘‘ کی شوٹنگ ہوئی تھی۔ ایک زمانہ تھا کہ تعمیراتی لکڑی کے کندوں سے بھرا ہوا یہ قصبہ۳۰۰۰افراد کا مسکن تھا جس کی معیشت کمزور تھی اور اب فورکس ٹاؤن انتہائی مقبول ناولوں اور ان ناولوں پر ہالی ووڈ میں بننے والی فلموں کے حوالے سے شہرت حاصل کرکے سیاحوں کا مرکز بن گیا ہے۔ اگرچہ یہ فلمیں پڑوسی اوریگون سٹی اور کناڈا کے وین کوور اور برٹش کولمبیا میں فلمائی گئی ہیں مگر فلموں کے شیدائی اس ہائی اسکول کو،جس میں ہیروئن نے تعلیم حاصل کی تھی‘ ویمپائر کا خاندانی مکان اور ناولوں اور فلموں کے دیگر پسندیدہ مقامات کو دیکھنے کیلئے فورکس ٹاؤن پہنچتے رہتے ہیں ۔
ویمپائرداستان سے فورکس کو شہرت اور دولت حاصل ہونے سے قبل کا عالم یہ تھا کہ یہ بہت سے ایسے چھوٹے قصبات میں شامل تھا جن کی آبادیاں اس وجہ سے کم ہوتی جارہی تھیں کہ تعمیراتی لکڑی کے کندے بنانے کا کام ختم ہورہا تھا۔ کبھی کبھار کوئی زیادہ تجربہ کار مسافر اس علاقے سے گزرتا تھا جویاتو وہ بارانی جنگلات کے پراسرار درختوں کی تلاش میں ہویا اسے لاپش کے خوبصورت ساحلوں کی تڑپ کھینچ لاتی ہوجہاں کوئیلٹ قبیلہ کے۷۵۰اراکین ان کیلئے وہیل مچھلیوں کے دیدار،دشت نوردی، ماہی گیری اورسمندر میں کشتی رانی کا اہتمام کرتے اور ایسے مقامات پر ان کے قیام کا بندوبست کر تے تھے جہاں سے سورج کے غروب ہونے کا منظر بہت شاندار ہوتا ہے۔ اگرچہ مقامی باشندوں کو ہمیشہ یہ امید رہی تھی کہ سیاحت اس قصبہ کو بچالے گی لیکن انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ کمسن ویمپائر کی داستان عشق سے یہ چیز نکلے گی۔
جون ۲،۲۰۰۳کویہاں سے کئی ہزار کلومیٹر دور ایری زونا کے فنکس میں ‘ جہاں شدید گرمی پڑتی ہے‘ گھر میں رہ کر کام کرنے والی ایک بال بچے دار عورت میئر نے ایک سرمئی اور سنسنی خیزخواب دیکھا۔ وہ سوتے سے اٹھیں ۔ اپنے ویب سائٹ پر انہوں نے اس تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’مجھے لگا کہ ابھی مجھے لاکھوں کام نپٹانے ہیں ۔۔۔۔میں جاگ تو گئی مگر بستر سے نہیں اٹھی‘ خواب کے بارے میں سوچتی رہی ۔۔۔۔دل تو نہیں چاہتا تھا مگر میں اٹھی اور فوری ضرورت کے سارے کام جلدی جلدی نپٹادیئے اوراس کے بعد ہر وہ کام جسے پسِ پشت ڈالا جاسکتا تھا‘ ڈال دیا اور کمپیوٹر پر بیٹھ کر لکھنے لگی۔ میں نے بہت دنوں سے کچھ لکھا نہیں تھا‘ مجھے اس پر بھی حیرانی تھی کہ کیا آفت ٹوٹ پڑی کہ میں لکھنے بیٹھی ہوں ۔‘‘
وہ خواب ’’ ٹوئی لائٹ‘‘ میں تیرہواں باب (اعتراف) کے عنوان کے تحت شامل ہے۔یہ ویمپائرکہانی کا پہلا ناول ہے۔ اس ناول کا ماحول جنگلوں کے سبزہ زاروں کا ہے۔ اس ناول میں ایک ’’اوسط لڑکی‘‘ ایک ’’نہایت خوب صورت ‘ عاشق مزاج ویمپائر‘‘ کے ساتھ محو گفتگو ہے۔ جیسا کہ میئر نے یادکیاکہ وہ شکیل ویمپائر اس انسانی مخلوق سے اپنی شدید محبت کا اظہار کررہا تھا اوراس کے ساتھ اپنی شدید مایوسی اور بے دلی کا بھی کہ وہ اس لڑکی کو مار بھی ڈالنا چاہتا ہے۔ میئر اس خواب کے سحر میں کھوگئیں ۔ ان پراسرار کرداروں میں گم ہوگئیں ۔ انہوں نے کہانی بننی شروع کی۔ اپنے ان دنوں سے جب وہ اپنے بچوں کو پوٹی میں رفع حاجت کی تربیت دے رہی تھیں اور انہیں تیرنا سکھانے کیلئے بھی لے جاتی تھیں ‘ رات کو جب سارے لوگ سوجاتے‘ وہ اپنے کمپیوٹر پر بیٹھ کر کہانی لکھنا شروع کردیتی تھیں ۔
اس عشقیہ کہانی کی منصوبہ بندی کرتے وقت ان کو محسوس ہواکہ اسے ایسی جگہ پر جاگزیں ہونا چاہئے جو کہ تاریک ہو اور جہاں خوب بار ش ہوتی ہو‘ اس لئے انہوں نے انٹرنیٹ کا سہارا لیا۔ انہوں نے امریکہ میں اس جگہ کو تلاش کیا جہاں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے اور تب واشنگٹن میں اولمپک پننسولا ابھر کر سامنے آیا۔ میئرنے اپنے ویب سائٹ پر لکھا کہ انہوں نے اس علاقے کے نقشہ کو اجاگر کیا اور غور سے یہ جاننے کیلئے مطالعہ کیا کہ کیا کوئی ایسی چھوٹی سی جگہ بھی ہے جو کہ دور افتادہ ہو اور جس میں ہر طرف گھنے جنگلات بھی ہوں اور تب نقشہ پر ایک چھوٹا سا علاقہ فورکس نظر آگیا۔ فورکس میں ہر سال تین میٹر بارش ہوتی ہے‘ وہیں انہیں کوئیلٹ قبیلہ کا بھی آبائی ٹھکانہ مل گیا جن کے آبائی اساطیر بتاتے ہیں کہ وہ بھیڑیوں کی اولادیں ہیں ۔ انہوں نے اس واقفیت کو اپنی کہانی میں بھی شامل کرلیا۔
میئر کی اس کہانی نے چار ناولوں کی طوالت سمیٹ لی جس میں ایک کمسن لڑکی اسابیلا (بیلا) سوان کے مہمات شامل ہیں ۔ یہ کہانی دھوپ سے چمکتے ہوئے فنکس سے شروع ہوتی ہے جہاں سے بیلا اپنے والد چارلی کے ساتھ سکونت کیلئے فورکس پہنچتی ہے۔ وہاں پہنچتے ہی وہ ایک شکیل و وجیہہ نوجوان کے عشق میں مبتلا ہوجاتی ہے جو کہ ۱۰۴سال کی عمر کاایک ویمپائر ہے جس کا نام ایڈورڈ کولن ہے اور مشکل سے ۱۹سال سے بھی کم عمر کا نوجوان دکھائی دیتا ہے۔ اس کاکوئیلٹ قبیلہ کے ایک رکن جیکب بلیک سے بھی گہرا تعلق بن جاتا ہے۔ بلیک چاہے تو وہ ایک بھیڑئے میں تبدیل ہوجاتا ہے‘ اس ناول میں بیلا عرف اسابیلا کی خطرناک زندگی دکھائی گئی ہے کیوں کہ دوسرے ویمپائر اسے جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں اور ایڈورڈ اور جیکب اس کی مدد کرتے ہیں مگر ان میں بھی بیلا کی محبت حاصل کرنے کیلئے ایک طرح کی رقابت ہے۔
میئر نے پہلا ناول ’’ ٹوئی لائٹ‘‘ ۲۰۰۵میں چھپوایا۔ پہلے ایڈیشن کی کاپیوں کی تعداد ۷۵۰۰۰تھی۔ ایک مہینہ کے اندر بچوں کی کتابوں میں ٹوئی لائٹ کو نیویارک ٹائمز کی بہت زیادہ بکنے والی کتابوں میں پانچواں درجہ حاصل ہوگیا۔ اسی کے بعد فوراً ہی یہ ناول پہلے مقام پر آگیا۔ اس کے بعد میئر نے بعد کے ناول لکھے۔۲۰۰۶میں ’’نیومون‘‘ ۲۰۰۷میں ’’ایکلپس‘‘اور ۲۰۰۸میں ’’بریکنگ ڈائون‘‘ ۔اس سلسلے کی پہلی فلم’’ ٹوئی لائٹ‘‘نومبر ۲۱، ۲۰۰۸کو نمائش کیلئے پیش ہوئی اور زبردست کامیابی سے ہم کنار بھی ہوئی۔ دوسری کتابوں کی حتمی شکلیں بقیہ دو برسوں میں آئیں ۔ ’’بریکنگ ڈان‘‘ ۲۰۱۱اور ۲۰۱۲میں دو قسطوں میں آ ئے گی۔
نیٹیو ٹو ٹوئی لائٹ اسٹور میں ‘ کوئیلٹ قبیلہ اور اس ناول سلسلے میں جیکب بلیک کے رول پر توجہ دی گئی ہے جہاں کام کرنے والے فورکس کے ایک مقامی باشندہ سیموئل شیلر نے کہا کہ’’ اس دوران ۲۰۰۷کی گرمیوں میں اجنبی لوگ ٹوئی لائٹ سے تعلق رکھنے والے مقامات کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے فورکس آنے لگے۔‘‘ زیادہ تر کمسن لڑکیاں اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ آئیں ۔بیلاکی محبت حاصل کرنے کوششوں میں مصروف دونوں کرداروں کی نمائندگی کرنے والے گروپوں کی شکل میں کچھ لوگ سڑکوں پر ’’ٹیم ایڈورڈ‘‘ اورکچھ لوگ’’ ٹیم جیکب‘‘ٹی شرٹس پہن کر گھومتے رہے۔ شہر کا ہر حصہ فوٹو گرافی کا مرکزبن گیا۔ خاص کر ایسا ہر حصہ تصویر کشی کا موضوع بنا جس پر فورکس لکھا ہوا ہو۔ شیلر نے مزید کہا کہ ’’ہجوم کا آنا جاری رہا‘ پہلی فلم کے نمائش کیلئے پیش ہونے کے بعد اور زیادہ لوگ آنے لگے۔‘‘ بہت جلد ایسی صورت حال پیدا ہوگئی کہ نہ صرف امریکہ کے چپہ چپہ سے بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگوں نے یہ دیکھنے کیلئے فورکس آنا شروع کردیا کہ کیا حقیقت ان کے تصور سے مطابقت رکھتی ہے ۔ شروع میں فورکس کے باشندوں کو ان سیاحوں کی آمد پر حیرت ہوئی لیکن انہوں نے اس کہانی سے وابستہ اقتصادی امکانات کو بروئے کار لانے میں دیر نہیں کی۔
فورکس کی ایک باشندہ کورا لاٹس پیئش نے جو کہ ’’ ڈیزلڈ بائی ٹوئی لائٹ اسٹورس‘‘ میں کام کرتی ہیں ‘ کہا کہ ’’ہمارا خاموش پرسکون قصبہ اب نئے چہروں اور جوش و خروش سے ہمک رہا ہے۔‘‘ ویسے ’’کچھ لوگ تھوڑے ناراض بھی ہیں ۔‘‘ ان کو گمشدہ سکون کی یاد ستاتی ہے۔وہ اتنی بھیڑ بھاڑ اور سیاح اور گاڑیوں کو پسند نہیں کرتے۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہاں لوگ آتے رہیں گے۔ فورکس ہمیشہ سیاحوں کی دلکشی کا مرکز ایک چھوٹا سا قصبہ رہے گا۔ لیکن یہ شہرت دائمی تو نہیں ہے‘ ا س لئے بہتر ہے کہ اس کا جتنا لطف اٹھایا جاسکتا ہو‘ اٹھالیا جائے۔
’’ ٹوئی لائٹ‘‘کے شیدائیوں کو ’’ ٹوئی ہارڈس‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور ’’ٹوٹیلائیٹرس‘‘ بھی۔ان کے سامنے فورکس کے امکانات کو بروئے کار لانے کے بہت سے متبادل راستے ہیں ۔بہت سی دکانوں میں ناول یا فلم سے تعلق رکھنے والے تفصیلی نقشے دستیاب ہیں ‘ سفری کتابیں بھی دستیاب ہیں ۔ اسکاٹ لینڈ کے نو سالہ ٹیم جیکب کی کٹر حامی ایوری ایلس اپنی دادی/ نانی کے ساتھ فورکس آئی۔اس نے اپنے طور پر اس قصبہ کو تلاش کرنے اور سمجھنے کی کوشش کی تاکہ وہ ان کہانیوں میں درج مقامات کو تلاش کرسکے۔ ایوری ایلس نے کہا ’’ مجھے تو یہ کوشش خزانے کی تلاش جیسی لگتی ہے۔ میں کتابوں میں درج تمام مقامات کی تلاش کرتی ہوں یا یہ تصور کرتی ہوں کہ وہ مقامات کہاں ہوں گے۔‘‘
واشنگٹن اسٹیٹ کی جنیفر بوگس نے بہت سی ٹوئی لائٹ سیروں میں سے ایک سیر کی پیشکش قبول کی کیوں کہ انہیں محسوس ہوا کہ ’’اس میں زیادہ مزا آئے گا۔ میری خواہش تھی کہ لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ رہوں تاکہ سب مل کر لطف اندوز ہوسکیں ۔‘‘ فورکس چیمبر آف کامرس نے دسمبر ۲۰۰۸سے ٹوئی لائٹ ٹورس کا اہتمام شروع کیا۔ پرائیویٹ سفری کمپنیاں دن بھر کی سیر کا اہتمام کرتی ہیں ۔ ڈیزلڈ بائی ٹوئیلائٹ دن بھر میں چار بارسیر کا اہتمام کرتی ہے۔ ہرسیر دو سے تین گھنٹے کی ہوتی ہے۔ اس کیلئے وہ فی کس ۳۹ڈالر لیتی ہے۔
پہلی مقبول منزل’ ملرٹری ان ‘ہے جسے ایڈورڈ کولن کے ویمپائر فیملی مکان کی طرز پر ڈیژائن کیا گیا ہے۔اس کا نام کولن ہاؤس ہے۔ یہ دو منزلہ سرائے ہے جسے۱۹۱۶میں کھلیان کے طور پراستعمال کرنے کیلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ سامنے کے داخلی دروازہ میں لگی ہوئی بڑی بڑی کھڑکیوں سے جھانک کر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس مکان کے مالکان بل او رموس بریگر اپنے مکان کی اس نئی تخصیص سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ انہوں نے ہر کمرے میں کولن خاندان کے کرداروں کے نام کے پلے کارڈ لگا رکھے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ’’ سامنے کے کمرے میں ہمارا جو پیانو ہے‘ اسے ہم ایڈورڈ کا تربیتی پیانو کہتے ہیں ۔ ہمارے اسکریپ بک میں تراشے اور دیگر یادگار یں ہیں جسے مہمان دیکھ سکتے ہیں ۔ ان کیلئے موسیقی کی سی ڈیز بھی رکھی گئی ہیں اور بورڈ گیمز بھی۔ ان کے لئے ایڈورڈ کی ماں اسمے کولن کا ایک پیغام بھی سامنے والے دروازے پرپیغام بورڈپر آویزاں ہے اور لیٹر باکس پر کولن کا نام لکھا ہوا ہے۔ ‘‘
اس کے برابر میں تھانہ ہے جہاں چارلی سوان کام کرتا تھا۔ آپ دفتری اوقات میں سٹی ہال کا معائنہ کریں تو آپ ٹوئی لائٹ کے مہمان خانہ میں اپنے نام کا اندراج کراسکتے ہیں جہاں بہت سے لوگوں کا اندراج ہے۔ قریب ترین سیئٹل سے لے کر فلپائن تک کے لوگوں کے نام ہیں ۔ اس کے بعد فورکس ہائی اسکول آتا ہے جس کا نام ’’ہوم آف اسپارٹنس‘‘ ہے جہاں بیلا اور ایڈورڈ پڑھتے تھے۔ اس عمارت کو خالی کرادیا گیا ہے اور اس وقت اس کو توڑ رہے ہیں اور ٹوٹے ہوئے مکان کے ٹکڑوں کو فروخت کیا جارہا ہے تاکہ اس جگہ پر نئی عمارت تعمیر کرنے کے لئے فنڈ اکٹھا ہوسکے۔
یہاں سے آپ فورکس آؤٹ فٹرس جاسکتے ہیں ۔ اس دکان میں کھیل کود کا سامان فروخت ہوتا ہے۔ناولوں میں بیلا اس دکان میں کام کرتی ہے۔ وہاں سے آپ ٹوئی لائٹ یادگاریں خرید سکتے ہیں ۔ بچوں کے کپڑوں سے لے کر بارش میں استعمال ہونے والے مخصوص جوتوں اور کافی مگ تک بہت سی چیزیں دستیاب ہیں ۔ اس کے قریب تھرفٹ وے ہے جہاں سے بیلا کیرانے کا سامان خریدتی تھی۔ آپ بھی وہاں سے کچھ لے کر کھاسکتے ہیں ۔ وہاں پیسٹری کاؤنٹر خون جیسے لال رنگ کے کپ کیک یا بلیک فراسٹنگ یا ویمپائر ونیلا سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ٹوئی لائٹ کافی اور بیلا چاکلیٹ بھی دستیاب ہیں جو کہ اس کی بھوری آنکھوں سے مطابقت کرتے ہیں ۔ چیمبر آف کامرس میں مہمانوں کیلئے ایک مرکز ہے جہاں سامنے ہی بیلا کا پرانا زنگ آلود۱۹۵۶ چیوی ٹرک کھڑا ہے۔
اس سیر میں اس کے بعد بیلا اور چارلی کا مکان ہے۔ میئر جس وقت ناولوں کا سلسلہ لکھ رہی تھیں ‘ اس وقت انہوں نے اس مکان پر خاص توجہ نہیں دی تھی۔ جب سیاحت کو فروغ حاصل ہوا تو چیمبر آف کامرس نے اس مکان کو سوان ہوم کانام دیا کیوں کہ کتاب میں چارلی کی دو منزلہ عمارت کے بارے میں جو تفصیلات ہیں ‘ وہ اس مکان سے مشابہ ہیں ۔ ناول میں کرافٹس مین کے اسٹائل کا ایک مکان دکھایا گیاہے۔ یہ مکان ایک پرائیویٹ رہائش گاہ ہے۔ اس کے بعد اسپتال آتا ہے‘ جہاں ایڈورڈ کا باپ کارلسل کولن ڈاکٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس اسپتال میں ایک جگہ پارکنگ کی ہے جس پر لکھا ہے’’ڈاکٹر کولن: ریزروڈ پارکنگ‘‘۔آخر کو یہ سیراس جگہ پہنچتی ہے جہاں ویمپائرخطہ ختم ہوتا اور وولف علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ وہاں ایک سائن بورڈ پر لکھا ہے’’اس مقام کے آگے کہیں کوئی ویمپائر نہیں ہے۔‘‘
یہاں وئروولف خطہ میں ہمیں جیکب بلیک کا مکان ملتا ہے۔ سرخ رنگ کی ایک منزلہ عمارت جس کی دیوار میں لگاہوا پینٹ ادھڑ رہا ہے سامنے کے آنگن میں ایک پرانی زنگ آلود موٹر سائیکل کھڑی ہے۔ ٹوئی لائٹر ایلس نے اس مقام کا لطف لیا کیوں کہ اسے یہ پسند آیا۔ اس طرح اسے گھر کے سامنے موٹر سائیکل کھڑی کرنے کا انداز پسند آیا۔ ایسا لگتا ہے کہ مکان کے مالکوں نے سچ مچ کوشش کی ہے کہ یہ جیکب کا مکان نظر آئے۔
اس کے آگے لاپش کا چھوٹا سا قصبہ ہے جو کہ کوئیلٹ قبیلہ کی مخصوص آبادی میں پڑتا ہے جہاں بلیک رہتا تھا۔ فورکس سے۲۴کلومیٹر جنوب میں ٹھیک بحرالکاہل کے کنارے ہے۔ بوگس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’لاپش کا پہلا ریتیلا سمندری کنارہ میرا پسندیدہ مقام ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں بیلاکا بہترین دوست جیکب بیلا کو ایڈورڈ کی صحیح شناخت بتاتا ہے۔ مجھے سچ مچ یہ محسوس ہوا کہ یہ علاقہ میرے تصور کے قریب ہے۔ یہ سمندری کنارا بڑا خوب صورت ہے۔ مجھے وہاں تمام دھلی دھلائی لکڑیاں بہت پیاری لگیں ۔‘‘
فورکس سے ۹۰کلومیٹر کی دوری پر واقع پورٹ اینجلس میں ایک ٹور اور اسٹور ہے جہاں آپ گوٹس چالکس نامی ڈیپارٹمنٹل اسٹورس دیکھ سکتے ہیں ۔ اسی دکان سے بیلا اور اس کی دو سہیلیوں اینجائیلا اور جسیکا نے محفل رقص کیلئے مخصوص کپڑوں کی خریداری کی تھی۔ وہاں کے آپ پورٹ بک اور نیوز اسٹور کے پاس رک سکتے ہیں ۔ ان دونوں دکانوں میں قدم نہ رکھنے کا فیصلہ بیلا نے اس لئے کیا تھا کہ وہ دکانیں اسے ’’زیادہ جدید‘‘ لگی تھیں ۔ اس ناول میں بیلا شام کا اندھیرا ہوتے ہی قصبہ میں گھومتے ہوئے گم ہوجاتی ہے۔ اسے ایک پتلی سی گلی میں کچھ عجیب و غریب لوگ گھیر لیتے ہیں کہ ایڈورڈاسے بچانے کیلئے اچانک اپنی وولوو پر وہاں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد ایڈورڈ اسے رات کا کھانا کھلانے کیلئے ایک اطالوی ریسٹورنٹ میں لے جاتا ہے جس کا نام بیلا اٹالیا ہے جہاں وہ مشروم ریویولٹ کھانا پسند کرتی ہے۔ فورکس اور پورٹ اینجلس میں سیروں کے علاوہ فلموں کی بنیاد پریہ سیر وین کوور اوراور یگون تک پھیل گئی ہے جہاں ان فلموں کی عکس بندی ہوئی تھی۔
فورکس چیمبرس آف کامرس میں ۲۰۰۵کے دوران بمشکل ۵۰۰۰افراد نے مہمان خانہ میں اپنے ناموں کا اندراج کیا تھالیکن۲۰۰۹تک یہی تعداد بڑھی اور ۷۰,۰۰۰ناموں کا اندراج ہوا۔ یہ تمام صفحات ناول کے کرداروں سے محبت اور شفقت کے اظہار سے بھرے ہوئے ہیں ۔ اس قصبہ سے گزرتے وقت آپ چاہے جس سمت میں بھی مڑیں ‘ یہ بہت مشکل ہے کہ کسی ٹوئی لائٹ تجارت یا آرائش پر آپ کی نگاہ نہیں پڑے۔اینیٹ روٹ اور ان کے شوہرنے دو اسٹورس کھولے ہیں ۔ ڈیزلڈ بائی ٹوئی لائٹ (ایک پورٹ اینجلس میں ہے)۔ اس کے علاوہ ایک ٹور کمپنی ‘ ٹوئی لائٹ لاؤنچ بھی چلا رہے ہیں اور نیچے ایک ریسٹورنٹ لاج ان فورکس بھی چل رہا ہے ۔ یہ تمام ادارے اسی قصبہ کی اصل سڑک نارتھ فورکس ایونیوپر واقع ہیں ۔ مسز روٹ نے پننسولا ویمن میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کسی چیز کے بارے میں اشتیاق کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں آتے ہیں ۔مجھے لگتا ہے کہ ہم لوگ بھی اگر یہاں ہیں تو اسی وجہ سے ہیں ۔‘‘
یہ اشتیاق ایک تحت البیان کے قریب ہے کیوں کہ مسز روٹ اس سے پہلے کہہ چکی ہیں کہ انہوں نے اس پورے سیریز کو ۲۲بار پڑھا ہے۔
ڈیزلڈبائی ٹوئی لائٹ میں داخل ہونا کسی فنطاشی ’’ ٹوئی لائٹ ‘‘ دنیا میں قدم رکھنے کے برابرہے۔ فرش ایسٹروٹرف کار پیٹنگ سے ڈھکے گئے ہیں ۔ بڑے بڑے دھات کے ڈھالے ہوئے درخت ہیں ‘ جن کی شاخوں اور پتوں کے اندر روشنیاں بھری ہوئی ہیں ۔ اس کے علاوہ ٹوئی لائٹ کی جو بھی یادگار، تصور کے اندر ہو‘ وہ آپ کے آس پاس نظرآجاتی ہے۔ کاؤنٹر پر کام کرنے والی دونوں لڑکیاں لاورن پیٹرسن اور کورا لوٹس پیئش ڈیزلڈبا ئی ٹوئی لائٹ کی میچنگ ٹی شرٹ پہنے ہوئے ہیں اور ناولوں کی وجہ سے فورکس میں سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں بہت پُرجوش ہیں ۔ پیٹرسن نے کہا کہ’’ ہماری اکلوتی اسٹاپ لائٹ پر ٹریفک ہمیشہ مصروف رہتی ہے۔مین اسٹریٹ کی پارکنگ مسلسل بھری رہتی ہے۔‘‘ لوٹس پیئش نے کہا کہ ہم لوگ اپنے ٹوئی لائٹ شیدائیوں کے بے انتہا شکر گزار ہیں ۔ ناولوں کے اس سلسلے کے قارئین یوں تو نوجوان لڑکیاں عورتیں ہیں مگر ان ناولوں کو تمام عمر کی عورتوں کی یکساں توجہ ملتی ہے۔ ان ناولوں سے ہمارے قصبہ کا زبردست بھلا ہوا ہے۔مجھے ان ناولوں کی کہانی بھی پسند ہے اور ان کتابوں میں جو ایکشن ہیں ‘ وہ سب کے سب پسندیدہ ہیں ۔‘‘
ان پسندیدہ ناولوں سے تعلق رکھنے والی یادگاروں سے گھرے ہونے کا تجربہ اضافی خوشی کا باعث ہے لیکن ان دونوں نے اس پر اتفاق کیا کہ ان کیلئے سب سے زیادہ عزیزیہ سیاح ہیں ۔ پیٹرسن نے کہا کہ یہ میرے لئے بہت پسندیدہ کام ہے کیونکہ ہردن میری ملاقات ایسے لوگوں سے ہوتی ہے جو کہ ان ناولوں کے شیدائی ہیں اور فورکس آنے کے جوش میں مبتلا ہیں ۔ یہ اس لحاظ سے بھی اچھی بات ہے کہ بعض شیدائیوں سے آپ کی اچھی دوستی ہوجاتی ہے جو بار بار فورکس آتے رہتے ہیں ۔‘‘
ٹوئی لائٹ موضوع کے مطابق فورکس کے بہت سے باشندوں نے اپنا کاروبار بدل دیا ہے اور وہ ویمپائرکی تشہیرسے مطابقت رکھنے والے کاروبار میں شریک ہوتے ہیں ۔ ٹوئی لائٹ کافی شاپ ،ٹوئی لائٹ جلاونی لکڑی، ٹوئی لائٹ لاک اسمتھ اور ٹوئی لائٹ کے موضوع سے وابستہ دوسرے کاروبار اصل سڑک پر قطار بندہیں ۔ فٹ وے میں بارش میں پہنے جانے والے لانگ بوٹس فروخت کئے جاتے ہیں ۔ اسی نام کے سلیپر،کپڑے،کافی ، شربت اور شراب بھی دستیاب ہیں ۔ آپ ان سے کچھ بھی متعلقہ چیز مانگ کر دیکھئے مل جائے گی۔سیلیزبرگر نے اپنے ۱۲۰۰۰بیلا برگرفروخت کئے ہیں ۔
اس قصبہ میں فاسٹ فوڈفراہم کرنے والی واحد کمپنی سب وے ہے جس نے اپنا نام یہاں ’’ٹوئی لائٹ سب‘‘ رکھا ہے۔ اس کے کھانے انتہائی شوخ رنگ کی میری نار چٹنی کے ساتھ ملتے ہیں ۔ یہاں تک کہ روبرٹ پیٹنسن کاایک ہم شکل بھی موجود ہے جس نے ایڈورڈ کا رول نبھایا تھا۔ وہ پورے شہر میں گھومتا پھرتا ہے اور سیاحوں کو اپنے ساتھ فوٹو کھنچوانے کا موقع دیتا ہے۔ بیشک اس کے لئے وہ پیسے بھی لیتا ہے۔ ستمبر میں میئرس ڈے کے موقع پر سیاحت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ناول میں میئر کا دن بیلا سوان کی سالگرہ کا دن ہے یعنی ستمبر۱۳۔ہزاروں سیاح ہر سال برتھ ڈے کیک ،اس جیسے نظر آنے کے مقابلے‘ میوزک اور رقص کے ساتھ میئرڈے منانے کے لئے وہاں جمع ہوتے ہیں ۔

Bridging U.S.-India Relations

کیٹلن مک وے‘ سیئٹل، واشنگٹن میں رہتی ہیں اور قلم کار ہیں ۔