پریکسس یوتھ لیڈر شپ آرکسٹرا: موسیقی کی تعلیم میں نئی جہتیں
ستمبر /اکتوبر۲۰۱۱
معتبر مشاورتی اور بہترین قائدانہ تربیت کے ذریعے، نوجوان موسیقار کنسرٹ ہال اوراس کے باہر ہونے والی فنکارانہ پیش کش کے ہنر سیکھتے ہیں۔
نیویارک سٹی میں، ۲۰۰۹ میں کافی کی ایک دوکان پر جب ناتھن اور اینا ہیتھرنگٹن پہلی بار ملے تو انہیں شاید ہی یہ معلوم رہا ہو کہ سال بھر کے اندر ہی اندر وہ ایک دوسرے سے شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ مزید یہ کہ اس وقت ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ رہی ہوگی کہ اس اتفاقیہ ملاقات کے نتیجے میں کلاسیکی موسیقی کا ایک انتہائی جدّت آمیز تعلیمی پروگرام ’’پریکسس یوتھ لیڈرشپ آرکسٹرا‘‘ وجود میں آجائے گا۔
جون ۲۰۱۰ میں قائم شدہ پریکسس ذہین نوجوان کلاسیکی موسیقاروں کو نہ صرف آرکسٹرا بجانے کی مبادیات سکھاتا ہے بلکہ انہیں زندگی کے گوناگوں ہنر سے بھی آراستہ کرتا ہے۔ ناتھن نے مین ہٹن اسکول آف میوزک میں تعلیم حاصل کی اور اب وہ ایک کنڈکٹر اور فنّی ڈائرکٹر کی حیثیت سے پریکسس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’جب بات ایک کامیاب پیشہ ور موسیقار بننے کی ہو تو یہ نکتہ یاد رہے کہ اس کے لئے موسیقار کا اچھا انسان اور باصلاحیت شخص ہونا لازم ہے۔ اجتماعی طور پر کس طرح کام کریں اور کس طرح اپنے احساسات کی ترجمانی کریں، یہ جاننا اہم ہے۔‘‘
اینا کولمبیا یونیورسٹی میں آرٹ ہسٹری میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور ایگزیکٹو ڈائرکٹر کی حیثیت سے پریکسس کا انتظام و انصرام سنبھالتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ان دنوں کامیابی و کامرانی کے لئے ایک پیشہ ور موسیقار کو محض سروں کے زیرو بم پڑھنے والے فنکاروں سے کہیں کچھ زیادہ ہونا چاہئے۔ ہم اپنے طلبہ کو انتہائی بلند معیار کی تربیت دیتے ہیں۔ ہمار مقصد ہے کہ انہیں بہترین صلاحیتوں سے مزیّن کیا جائے تاکہ وہ کامیابی کی شاہراہ پر دوڑ سکیں۔
معتبر مشاورت اور جدّت آمیز تدریسی حکمت عملی کے ایک منفرد امتز اج کے ذریعے پریکسس غنائی خوبصورتی پیدا کرنے کی طلبہ کی صلاحیتوں کو نہ صرف پروان چڑھاتا ہے بلکہ انہیں ایک کامیاب زندگی کے ہنر بھی سکھاتا ہے تاکہ وہ کنسرٹ ہال کے اندر اور باہر دونوں جگہ پھلیں پھولیں۔
پریکسس میں درس و تدریس
اینا کے بقول، پریکسس تعلیمی ماڈل کے شاہ کلید، نوجوان اور ہمہ تن وقف پیشہ ور موسیقاروں کی کہکشاں ہے۔ ہر مشق، ریہرسل اور پیش کش میں طلبہ اوراساتذہ شانہ بشانہ کام کرتے ہیں۔ ناتھن کہتے ہیں ’’کسی طائفے میں شرکت کے لئے متعدد نازک احساسات کا ادراک کرنا اور پیچیدہ ہنر سیکھنا لازم ہے۔ ایسے میں کسی ذی شعور فنکار کے سامنے اپنے فن کا اظہار، انجذاب کے دروازے کھول دیتا ہے۔‘‘
ناتھن پریکسس کے ریہرسلوں میں قائدانہ رول ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ریہرسلوں کا ایک جدّت آفریں اور موثر طریقہ تلاش کیا ہے۔ ایک طالب علم ان کی ایک تکنیک کو ’’اسپاٹ چیک گیم‘‘ کہتا ہے۔ اس میں اساتذہ کسی فن پارے کی پیش کش میں دانستہ طور پر غلطیاں کردیتے ہیں۔ اس کے بعد پریکسس کے طلبہ غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اپنے تأثرات سے دوسروں کو انتہائی رحمدلی اور احترام سے بھر پور لب و لہجے میں باخبر کرتے ہیں۔ ایسا لب و لہجہ جو غیض و غضب اور تنقید و تنقیص سے پاک ہوتا ہے۔
پریکسس کے بانیان طلبہ کی تربیت کے لئے یہ بھی کرتے ہیں کہ وہ انہیں مختلف صورتحال اور ماحول سے آشنا کریں۔ وہ ان کو مانوس ماحول سے نکال کر ایک اجنبی اور غیر مانوس ماحول میں لے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’ اگر کوئی بچہ قائدانہ رول ادا کرنے کا خوگر ہے تو وہ اسے مقتدی بننے کی تربیت دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ دوسروں کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کو قیادت کے گُر سکھاتے ہیں۔ ‘‘ اینا کے بقول ’’یہ تربیت انہیں ایک مختلف تناظر سے آشنا کرتی ہے، سماعتِ موسیقی کے یکسر مختلف انداز سے بہر ہ ور کرتی ہے اور مشکلات پر قابو پانے کے طور طریقے سکھاتی ہے۔‘‘
ناتھن کہتے ہیں ’’اگر آپ اپنے ہر مقتدی کے تناظر سے واقف نہیں ہیں تو آپ ایک موثر قائد کس طرح بن سکتے ہیں؟ اگلی صف میں بیٹھنے والوں کو یہ خوب معلوم ہونا چاہئے کہ پچھلی نشستوں پر بیٹھنا کیسا لگتا ہے۔ ہم اپنے بچوں سے ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے شعور و آگہی سے اپنے آپ کو مزیّن رکھیں۔‘‘
ماضی کے تاثرات اور مستقبل کے منصوبے
ایک ہفتے کے ریہرسلوں اور ورکشاپوں میں طلبہ اور اساتدہ کی کڑی محنت کے بعد پریکسس نے فروری ۲۰۱۱ میں اپنا اوّلین پروگرام پیش کیا۔ہفتے کا اختتام وولف گینگ امیڈیوز موزارٹ، اینٹونیو وِویلڈی اور فرڈرک ڈیلیس کے ترتیب دئے گئے دو شاہکاروں کی پیش کش کے ساتھ ہوا۔ ہمیشہ کی طرح، طلبہ اور اساتذہ نے شانہ بشانہ ایک ایک سُر کی ادائیگی کی۔
سامعین اور ارکانِ طائفہ کے تأثرات کے نقطۂ نگاہ سے یہ پروگرام انتہائی کامیاب رہا۔ ایک نفیری نواز طالب علم زیک سڈکی نے اپنے بلاگ میں تحریر کیا ’’پریکسس کا تجربہ میری زندگی کا حاصل رہا۔‘‘ اسی طرح ایک دوسری طالبہ وائلن نواز صوفیہ اسٹیگر نے سیدھے سادے لفظوں میں کہا ’’پریکسس کا طائفہ، ان تمام طائفوں سے بہتر تھا جن سے میں وابستہ رہی۔ ہر روز میں نے طرح طرح کی جو مشقیں کی ہیں مجھے ان سے پیار ہے۔۔۔ اتنے محیر العقل پیشہ ور موسیقاروں کے ساتھ ساز بجانا میرے لئے کسی عجوبے سے کم نہ تھا۔‘‘
پریکسس کے معلّموں نے بھی پروگرام کے بارے میں اسی جوش و خروش کا اظہار کیا۔ بیسون نوازایڈیشنل پرنسپل ایڈرِئین مورے جون نے تحریر کیا ’’کنسرٹ کے دوران، دوسرے اساتذہ کی خوشی کا منظر قابل دید تھا جن کے چہرے ان کے سیکشن کے طلبہ کے بہترین انفرادی مظاہروں سے دمک رہے تھے۔‘‘
ایک تنظیم نو کی حیثیت سے پریکسس کومالی اعانت نیز ریہرسل اور پیش کش کے لئے مناسب جگہوں کے حصول جیسے چیلنجوں کا سامنا ہمیشہ ہوتا ہے۔ لیکن اینا کے بقول، پریکسس کی اصل قوت اس کی کاوشوں میں مضمر ہے۔ ناتھن اسی جذبے کی توثیق کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’قیادت پر ہماری توجہات منفرد ہیں۔ ہم طلبہ کو صرف آرکسٹرا کا فن ہی نہیں سکھاتے بلکہ انہیں زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی سے ہم کنار ہونے کا گر بھی سکھاتے ہیں۔ وہ ایک ہفتے تک ہمارے ساتھ ہوں گے لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ جہاں بھی جائیں گے، جس جگہ بھی ہوں گے، اپنے ساتھ سماعت کی صلاحیت، ترسیل و ابلاغ کا ہنر اور ٹیم میں کام کرنے کا جذبہ لے کر جائیں گے۔‘‘

مائیکل گیلنٹ،گیلنٹ میوزک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ ان کی رہائش نیو یارک سٹی میں ہے۔





Eپریکسس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انا ہیتھرنگٹن ۲۰۱۱ اسپرنگ انسٹی ٹیوٹ کے فائنل کنسرٹ کے لئے اسٹیفن وائز فری سائناگوگ جاتی ہوئی۔