مرکز
1 2 3

دلنواز موسیقی

ہند امریکی نغمہ نگار، موسیقار اور گلوکارہ جنجر شنکر اپنے غنائی فن پاروں کو موسیقی کی ان مختلف اصناف کے نام معنون کرتی ہیں جن کے ساتھ وہ پلی بڑھیں اور بام ِ عروج پر پہنچیں۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ جِنجر شنکر کی راک اسٹار شبیہ آپ کو کسی مغالطے میں ڈال دے کیونکہ حال ہی میں، کیلی فورنیا کے سن ڈانس فلم فیسٹول ایوارڈز ۲۰۱۱ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان کی شخصیت محض پاپ اور ہپ ہاپ سے عبارت نہیں ہے۔ یوں تو ایرانی امریکی آزاد فلم ’’سرکم اسٹانس‘‘ کی پوری ٹیم کی ستائش ہوئی ہے لیکن شنکر کی وضع کردہ موسیقی نے تو لوگوں کا دل جیت لیا ہے۔ مشہور وائلن نواز ایل سبرامنیم کی بیٹی ایک ہند امریکی نغمہ نگار، موسیقار اور گلوکارہ ہیں جنہوں نے اپنے کمال فن سے سامعین کے دل و دماغ مسخر کرلئے ہیں۔ ان کے میدانِ کار کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے جیمز نیوٹن ہاورڈ جیسے موسیقاروں سے لے کر متبادل راک بینڈ اسمیشنگ پمپکنز تک سے فنی اشتراک کیا ہے۔ انہوں نے جیکی شان کی عہد ساز فلم ’’دی فور بیڈن کنگڈم‘‘ کے لئے گلوکاری کی اور مائک مائرز کے شاہکار ’’لوگرو‘‘ کے لئے جارج کلنٹن کے ساتھ مشرقی طرز کی موسیقی وضع کی ۔

شنکر، لاس اینجلس ،کیلی فورنیا میں پیدا ہوئیں اور یہیں ان کی پرورش ہوئی۔ وہ صوت و آواز کی نغمگی سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور ساز و آواز کے اس جشن کو موسیقی کی اُن متعدد اصناف کے نام معنون کرتی ہیں جن کے ساتھ وہ پلی بڑھیں۔ وہ کہتی ہیں ’’میری پیدائش اور پرورش ایک غنائی ماحول میں ہوئی۔ میرے بچپن کی بیشتر نمایاں اور قابل ذکر یادیں موسیقی سے وابستہ ہیں۔ شنکر، ایم ایس سبو لکشمی، لتا منگیشکر، آشا بھونسلے، ہری پرساد چورسیا اور روی شنکر کو سننے کی شوقین ہیں۔

بچپن کے چند سال انہوں نے ہندوستان میں گزارے۔ اس عرصے میں انہوں نے چنئی میں واقع ایک موسیقی اور رقص اسکول کلاچھیتر میں موسیقی کی تربیت لی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ وہ اپنے بارے میں کچھ بتائیں، وہ کہتی ہیں ’’میں موسیقی کی دھنیں تیار کرنا پسند کرتی ہوں لیکن فطری طور پر میں ایک فنکار -ایک غنائی فنکار ہوں۔ میں قلمکار اور تخلیق کار کا ایک مرکب ہوں۔‘‘

’’مجھے کیریئر کے انتخاب کے سلسلے میں کبھی کوئی الجھن نہیں ہوئی کیونکہ ایک موسیقار بننا میرا مقدر ہوچکا تھا۔مجھے یاد نہیں کہ زندگی کے کس لمحے میں، میں نے موسیقی سے ہم رشتہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ میرے کنبے نے میری جس قدر حوصلہ افزائی کی اس کا ذکر الفاظ میں ممکن نہیں۔ میرے خاندان میں بہت سی خواتین موسیقار ہیں۔ انھیں گاتا ہوا دیکھ کر، خاص طور پر اپنے والدین کو اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے دیکھ کر میری ہمت جاگ اٹھی اور میں جوش و ولولے سے سرشار ہوگئی۔ علاوہ ازیں میرے گھر پنڈت جسراج کی تشریف آوری نے بھی میری حوصلہ افزائی کی۔‘‘  واضح رہے کہ شنکر کی والدہ ایک کلاسیکی گلوکارہ ہیں۔

’’یہ محض ایک اتفاق تھا کہ میں فلمی موسیقی کی طرف راغب ہوئی۔مجھے اس پیشے میں داخل ہوئے مشکل سے دو سال ہوئے ہوں گے، میں ایل شنکر اور طائفے کے ساتھ امریکہ کے دورے پر تھی کہ اسی درمیان فلم ’’دی پیشن آف دی کرائسٹ‘‘ کے موسیقی سپروائزر کا فون مجھے ملا۔ میں اس وقت تک موسیقی کی محفلوں میں ہندوستانی موسیقی پیش کیا کرتی تھی اور مجھے حقیقی طور پر یہ معلوم نہ تھا کہ فلمی موسیقی کیا ہوتی ہے۔ وہ لوگ فلم کے لئے ایک خاص مشرقی دھن چاہتے تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ محض چند گھنٹوں کا کام ہوگا لیکن مجھے تو پوری فلم کے لئے موسیقی تیار کرنی پڑی۔ یہ تین ماہ میری زندگی کے مشکل ترین شب و روز تھے۔‘‘

ٹیم کے ہمہ تن انہماک کو دیکھ کر انھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ شنکر بتاتی ہیں ’’وہ جو چاہتے تھے اس کے بارے میں ان کا ذہن بالکل صاف تھا۔ اس چیز نے میرے کام کو آسان بنا دیا اور مجھے صاف ذہنی کی اہمیت کا احساس بھی دلا دیا۔‘‘

شنکر اب دستاویزی فلموں کے لئے بھی موسیقی دیتی ہیں۔ ان کے بقول ’’فلمی موسیقی، دستاویزی فلموں کی دھنوں سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ فلموں کی زبان قدرے مختلف ہوتی ہے۔ دستاویزی فلموں کے مقابلے میں فلموں میں صوت و آواز کی نقش گری گہری اور بھاری ہوا کرتی ہے۔‘‘

شنکر کا شمار دنیا کے ان چند موسیقاروں میں ہوتا ہے جو ۱۰ تاروں والا دوہرا وائلن بجا سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’میں نے اپنی زندگی میں جو مشکل کام انجام دئیے ہیں، ان میں یہ کام سرفہرست ہوگا۔ موسیقی کے متعدد آلات کے ساتھ سفر کرنا دشوار ہوتا ہے۔ اسی لئے جب ایل شنکر نے وہ آلہ بنایا جو باس، سیلو اور وائلن سمیت آرکسٹرا کے پورے رینج کا احاطہ کرسکتا ہے، تو انھوں نے مجھ سے اسے سیکھنے کے لئے کہا۔‘‘

ایک جنوبی ایشیا نژاد موسیقار کی حیثیت سے شنکر کہتی ہیں کہ ’’مجھے پہلے یہ احساس کبھی نہیں رہا کہ یہ عوامل ان کی موسیقارانہ قدر و قیمت پر کس طرح اثرانداز ہوں گے۔ آج مجھے احساس ہوتا ہے کہ ایک موسیقار کی حیثیت سے میرا کام اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میدان میں بہت ہی کم خواتین ہیں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے ماہ وسال میں مزید عورتیں اس میدانِ کار میں آئیں گی۔‘‘

وہ یہ طے نہیں کرپائیں کہ ان کا محبوب ترین ہندوستانی فنکار کون ہے لیکن ان کے آئی پوڈ پر ایسے فنکاروں کی ایک طویل فہرست ہے۔ بالی ووڈ کے لئے موسیقی دینے کے سوال پر وہ کہتی ہیں ’’میں بالی ووڈ فلمیں پسند کرتی ہوں۔ میں بالی ووڈ کی کسی فلم میں موسیقی دینا چاہوں گی۔‘‘ سردست وہ اپنا سولو البم تیار کرنے میں مصروف ہیں جس کے لئے انھیںتمام قسم کی موسیقی اور موسیقاروں سے حوصلہ ملا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آئندہ سال اس البم کا اجراء ان کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا ’’میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ ایک بچے کی حیثیت سے اپنے والدین کے ساتھ جب میں کارنیگی ہال گئی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ جب تم کو کبھی کارنیگی ہال میں اپنے فن کے مظاہرے کاموقع میسر ہو تو سمجھ لینا کہ تمہیں منزل مقصود مل گئی ہے۔ اور جب مجھے یہ موقع میسر آگیا تو اب میں اس سوچ میں ہوں کہ ’میری اگلی منزل کیا ہے؟‘میری آرزو ہے کہ میری زندگی میں ایسے لمحے بار بار آئیں۔‘‘

پارومیتاپین، یونیورسٹی آف جنوبی کیلی فورنیا کے اینن برگ اسکول آف کمیونیکیشن میں ایک گریجویٹ پروگرام کے تحت صحافت کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ اس سے قبل وہ دی ہندو، چنئی میں صحافی تھیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط