مرکز

پتھر پر پانی سے نقاشی

امریکہ کی مغربی ریاست یوٹا میں واقع نیچرل برجیز نیشنل مونیومینٹ  کی سیر کرنے والے سیاح یہاں کی قدرتی بناوٹ دیکھ کر اس کی تشکیل میں کارفرما پانی کے کردار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ 

وایو مِنگ کے یلو اسٹون نیشنل پارکیا کیلی فورنیا کے  یوز مائٹ نیشنل پارک کے برعکس یوٹاکے نیچرل برجیز نیشنل مانیومینٹ  کو شاید ہی کبھی سیاحتی منصوبوں کی لازمی فہرست میں شامل کیا گیا ہو۔

چند برس پہلے مئی میں جب  ڈیبرا جینسن  اپنے والد کے ساتھ وہاں گئی تھیں تو اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر جو لفظ ان کے منہ سے نکلا وہ  ہاٹتھا ۔باغوں کے دلدادہ ان نے والد نے یہاں کا سفر کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ یوٹا اسٹیٹ یونیورسیٹی میں صحافت اور مواصلات کی معاون پروفیسر جینسن کہتی ہیں ’’یہاں بہت ساری ناقابل یقین چیزیں ہیں جنہیں قدرت نے یکجا کر دیا ہے۔ ڈائناسور نیشنل مانیو مینٹ کے برعکس جو کہ بہت بڑا ہے، یہ پارک منفرد ہے کیوں کہ اس طرح کی ایک چھوٹی سی جگہ میں یہاں بہت کچھ ہے۔‘‘

یہ یادگار کولو رَیڈو پٹھار کا ایک حصہ ہے ۔ اسے کولو رَیڈو ندی کی موجوں کے ذریعہ ہوئے کٹاؤ نے فطری طور پر ڈھال دیا ہے۔یہاں ۳ قدرتی پُل ہیں جن کے نام کاچینا، اووا چومو اور سپاپو ہیں۔ یہ نام ان اصل امریکی قبائل کی تاریخ کو ظاہر کرتے ہیں جن کے آبا و اجداد کبھی قدرتی پلوں کے علاقہ سمیت امریکہ کے جنوب مغرب کے کئی حصوں میں سکونت پذیر تھے۔اسے ۱۹۰۸ ء میں ایک محفوظ علاقہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا ۔ اس طور پر یہ اوٹا میں قدیم ترین قومی پارک بنا۔  

برج ویو ڈرائیونامی پختہ سڑک کے ذریعہ یادگار کی مسافت ۳  پلوں کے متعدد مناظر کو پیش کرتی ہے۔ آرکس نیشنل پارک کے برعکس، جو یہاں سے ۳ گھنٹے کی دوری پر واقع ہے اور جس میں ۲ ہزار سے زیاپتھر کے قدرتی محراب ہیں ،یہاں صرف ۳ پُل ہیں۔ لیکن جغرافیائی طور پر پُلوں کو محراب کے مقابلے زیادہ نادر مانا جاتا ہے کیوں کہ یہ دلکش ڈھانچے ہوتے ہیں ۔ 

 

ُپل کا کام دینے والی جڑیں

انڈیا کے کچھ مخصوص علاقوں میں جہاں بھاری بارش ہوتی ہے اور فطرت کو نسبتاََ پھلنے پھولنے کی اجازت ہوتی ہے، وہاں پل نہیں بنائے جاتے بلکہ وہ ہندوستانی ربڑ کے درخت کی مضبوط جڑوں سے نکلتے ہیں۔ میگھالیہ میں چیراپنجی کو ایک طویل عرصہ تک زمین پر سب سے زیادہ گیلی زمین ہونے کا خطاب ملا تھا۔ علاقہ کی زیادہ تر قبائلی آبادی نے محسوس کیا کہ ربڑ کے درخت کی مضبوط جڑوں کو ہاتھ سے گھمایا جا سکتا ہے اور مضبوط ڈھانچوں میں فروغ پانے کے لیے ایک ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ کبھی کبھار لکڑی اور بانس کو ایک مخصوص سمت میں جڑوں کو اگانے کے لیے مچان کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قبل اس کے کہ انہیں واقعی معنوں میں پلوں کے طور پر استعمال کیا جا سکے،

یہ ۱۰ سے ۱۵ برس کی مدت لیتے ہیں لیکن ایک بار جب جڑیں ایک ساتھ مل جاتی ہیں تو ان سے انتہائی مضبوط ڈھانچے بنتے ہیں۔ ان میں سے کچھ روٹ برج پچاس یا اس سے زیادہ لوگوں کو ایک ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا پروجیکٹ ہے جسے کوئی بھی شخص اپنی عمر میں پورا نہیں کر پائے گا۔ کچھ تو صدیوں پرانے ہیں اور اتنے موٹے ہو گئے ہیں کہ انہیں ڈبل ڈیکرز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پیڑ بھی مٹی کے تودے گرنے اور پانی سے متعلق دیگر کٹائو سے علاقہ کو محفوظ رکھتے ہیں۔ نیشنل جیوگرافک میں ایک مضمون کے طور پر ان پلوں کا تذکرہ کچھ اس طرح کیا گیا ہے:یہ پل مستقل طور پر سیلاب اور طوفان کا مقابلہ کرتے ہیں جو کہ اس خطہ میں عام ہیں۔ پورے نشیبی خطہ میں پھیلے ہوئے دور دراز کے پہاڑی گائوں کو جوڑنے کے لیے ان کی حیثیت ایک کم لاگت والے پائیدار راستے کی ہوتی ہے۔ 

میگھالیہ میں پنرسلا کے پاس واقع روٹ برج ۵۰ میٹر سے زیادہ لمبا ہے اور اس کا شمارملک میں معروف سب سے لمبے روٹ پلوں میں ہوتاہے۔

پ ۔پ 

گزر گاہوں کی دریافت

اس قومی یادگار کے عجائبات کی دریافت کرنے کے لیے پیدل سفر کرنا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ ۳ پلوں کے درمیان کا چینا پل سب سے چھوٹا ہے جب کہ اووا چومو ممکنہ طور پر سب سے پرانا ہے۔ سپاپو سب سے بڑا اور بہت زیادہ شاندار ہے۔ یہ پلوں کی شان وشوکت کا پہلا تعارف ہے اور ندی کے کنارے اور وادی کے نچلے حصہ میں ایک دلچسپ طویل مسافت ہے۔

وزیٹر سینٹر کے ایک گائڈ نے بتایا کہ گرمیوں میں یہاں کا درجہ حرارت اکثر و بیشتر ۳۸ ڈگری سیلسیس کے پار جا سکتا ہے۔ اس لیے موسم بہار یہاں کا مصروف ترین موسم ہوتا ہے۔اس وقت درجہ حرارت معتدل ہوتا ہے، جنگلی پھول کھلتے ہیں اور کیمپ کے لیے یہ ایک مقبول وقت ہے۔ سیاح یہاں ستارہ بینی کے لیے بھی آتے ہیں ۔ یو ایس نیشنل پارک سروس کی ویب سائٹ کے مطابق ’’ قومی پارک ملک کے کچھ سب سے گہرے آسمانوں کو محفوظ رکھتے ہیں ۔‘‘

انٹرنیشنل ڈارک اسکائی ایسو سی ایشن نے ۲۰۰۷ ء میں اس کی تصدیق پہلے انٹرنیشنل ڈارک اسکائی پارک کے طور پر کی۔ ڈارک اسکائی پارک کا مقصد آسمانوں کا تحفظ کرنا اور روشنی کی آلودگی کے بارے میں عوام کو بتاناہے کہ وہ کیسے اس میں امتیاز پیدا کر سکتے ہیں۔

 

کہانیوں کا لطف لیں

یہ پارک پیدل سفر کے لیے ایک مقبول منزل ہے۔لیکن یہ ابھی بھی نسبتاََ الگ تھلگ ہے۔اس سے سپاپو اور کاچینا پلوں کے درمیان واقع  ہارس کالر روئن  کے تحفظ میں مدد ملی ہے۔ اس کا نام دو ڈھانچوں کے نام پر رکھا گیا ہے جن کے دروازے گویا گھوڑے کے کان جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ زیکے جانسن کے ذریعہ۱۹۳۶ء میں دریافت شدہ اس پارک کا پہلا محافظ ہارس کالر روئن اس علاقہ کے سب سے بہتر محفوظ آبائی پوئے بلوان سائٹوں میں سے ایک ہے۔اس کی اصل چھت اور اندرونی حصے تقریباََ انچھوئے ہیں۔ اس متروک آبادی کا بیان کرتے ہوئے جانسن نے حیرت و استعجاب کے ملی جلی کیفیات کے ساتھ لکھا تھا’’ تقریباََ ایک چھجہ گھروں سے بھرا ہوا پیچھے کے ۸۰ گز کے اندر۔چھت کے ساتھ ایک بڑا کیوا ہے تقریباََ مکمل ہے ۔ کھٹکے دار دروازے میں ایک سیڑھی کھڑی ہے جس میں چھوٹی چھوٹی بید کی لکڑیاں بھی ابھی اپنی جگہ برقرار ہیں۔‘‘

 

فطرت کی سیر

یہ جگہ جانوروں کے متعدد اقسام کا مسکن بھی ہے۔ لیکن چوں کہ ریگستانی جانورد دن کے وقت یا تو غیر فعال رہتے ہیں یا انسانوں سے محتاط رہتے ہیں ، اس لیے انہیں دیکھا نہیں جا سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود شکر خورا، ریگستانی خرگوش اور چھپکلیاں زیادہ تر سیاحوں کو نظر آ جاتی ہیں۔ بڑے دودھ پلانے والے جانوروں میں خچر اور ہرن ہی عام طور پر دیکھے جاتے ہیں جب کہ پہاڑ وں کے شیر ، شمالی امریکہ کے مخصوص جانور، امریکی کالے بھالو اور امریکی بھیڑیے شاید ہی کبھی دیکھے جاتے ہوں ۔ 

سیل فون عام طور پر یہاں کام نہیں کرتے ۔وائی فائی کی سہولت بھی یہاں دستیاب نہیں ہے۔اس لیے سیاحوں کے لیے لازمی ہے کہ ضروری نقشے ضرور ساتھ رکھیں اور نشان زدہ گزر گاہوں سے دور نہ جائیں۔ قدرتی پلوں پر کھانا، گیس اور دیگر چیزیں دستیاب نہیں ہیں ۔ 

سیاح انہیں نزدیکی قصبوںجیسے یوٹا میں بلینڈنگ،مانٹیسلواور کولو رَیڈو میں کورٹیز میں خرید سکتے ہیں۔ پارک کے علاوہ سیاح یوٹا میں دیگر یو ایس نیشنل پارک سروس سائٹس  جیسے کہ  آرکس نیشنل پارک، کینین لینڈ نیشنل پارک اور  ہووین ویپ نیشنل مونیومینٹ کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 

 

پارومیتا پین ریاست ٹیکساس کی راجدھانی آسٹِن میں مقیم ایک صحافی ہیں۔  

 


تبصرہ کرنے کے ضوابط