مرکز
1 2 3

بیابان کے مکینوں کی سلامتی

آئی وی ایل پی یافتہ طالبہ پریرنا سنگھ بِندرا اپنی صحافت اور جنگلی جانوروں کی حفاظت کی وکالت کے ذریعہ ہندوستان میں جنگل کے پناہ گزینوں کی حفاظت کے لئے کام کرتی ہیں۔

وائلڈ لائف جرنلسٹ پریرنا سنگھ بِندرا نے جنگل کی زندگی اور جنگلوں میں پائے جانے والے حیوانات کی پناہ گاہوں کی حفاظت کے لئے اپنی عملی زندگی وقف کر دی ہے۔انہوں نے فطرت، جنگلی زندگی اور کبھی کبھی دور دراز جنگلوں میں تفتیشی صحافت کے لئے مواد کی تلاش اور جنگلی جانوروں کی غیر قانونی تجارت میں مصروف بازار جیسے موضوعات پر ۱۵ سو سے زیادہ مضامین لکھ کر جنگل کی زندگی کے تحفظ کے موضوع کو  مین اسٹریم میڈیا (معروف و معتبر ذرائع ابلاغ) کا نمایاں حصہ بنا دیا ہے۔ ہندوستانی قدرتی ورثے کو لاحق خطرات کو بے نقاب کرنے کے ان کے غیر متزلزل عزم نے ان کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جانے کی راہ ہموار کی ہے۔ بِندرا کے مضامین کا  وائلڈ لائف کوریڈور(جنگل کے اندر وہ راہداری جسے جانور گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں)، چڑیوں کے آشیانے ، بیابان کی زندگی کے لئے مخصوص علاقوں کے اندر سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور فطری دنیا کی حفاظت سے متعلق قوانین کے نفاذ پر اثر پڑا ہے۔ بچوں کے لئے شائع ان کی حالیہ کتاب وھین آئی گرو اپ ، آئی وانٹ ٹو بی اے ٹائیگراور منظر عام پر جلد ہی آنے والی ان کی کتاب  دَ وَینیشِنگ: انڈیاز وائلڈ لائف کرائیسِسجنگلی زندگی کے تحفظ کی وکالت کرنے والی ان کی کاوشوں کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔  

بِندرا کے بچپن کے مستقل رفیق راشیل کارسن ، جین گوڈال، ایم کرشنن اورسالم علی جیسے مصنفین کی کتابیں تھیں جو ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں بڑے مشہور نام ہیں ۔ اس کے علاوہ گھر کے پچھلے حصے میں ایک چڑیا گھر بھی موجود تھا۔وہ بتاتی ہیں ’’ہمارے باغ میں موجود پرندے ، مینڈک ، نیولا اور مور نے فطرت لئے میری محبت کو پروان چڑھانے میں میری مدد کی۔‘‘وہ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ مور کے انڈے سے چوزوں کے نکلنے کو دیکھنے کے لئے وہ اسکول جانا ترک کر دیتی تھیں ۔ 

بِندرا نے ۱۹۹۴ ء میں مینجمینٹ ڈگری لی لیکن چار برس کے اندر اندر وہ صحافت کے شعبے میں آ گئیں کیوں کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے آس پاس کی قدرتی دنیا تہہ وبالا ہورہی ہے تو وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کرنہیں بیٹھے رہنا چاہتیں۔ انہوں نے ہندوستان کے  وائلڈ لائف کے صفِ اوّل کے رسالہ سینکچوری ایشیا  کے لئے کام کیا ۔ اس کے بعد مزید نصف درجن اخبارات اور رسائل جیسے ایشین ایج، پاینیر، ٹائمس آف انڈیا ، انڈیا ٹوڈے ، دَ ویک  اور تہلکہ کے توسط سے جنگلاتی زندگی کے موضوعات کو  مین اسٹریم میڈیا  کے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی۔  

لامحالہ وہ تحفظ کی وکالت کرنے کی جانب ملتفت ہوئیں اور پھر حکومتِ ہند کے ساتھ باہمی تعاون کی جانب کھنچی چلی آئیں۔ وہ بتاتی ہیں ’’ جب آپ کسی معاملے کو ذرائع ابلاغ میں اٹھانا چاہتے ہیں تو آپ خود کو اس معاملے سے الگ نہیں رکھ سکتے ۔ آپ اسے آگے لے جانا چاہتے ہیں اور کاروائی کو یقینی بھی بنانا چاہتے ہیں ۔ ‘‘

ایسا ہی کچھ اس وقت ہوا جب وزارتِ سیاحت نے کئی ٹورسٹ ریزارٹس(سیاحت کی غرض سے بنائے گئے ایسے تجارتی مراکز جہاں سیّاح کو ضرورت اور تفریح کی چیزیں دستیاب ہوتی ہیں) کے ذریعہ شیروں اور ہاتھیوں کی قدرتی راہداری کو مسدود کرنے کے بارے میں ان کے مضمون کا نوٹس لیا اور ان سے اتراکھنڈ میں کاربیٹ ٹائیگر ریزرو پر سیاحت کے اثرات کا مطالعہ کرنے کو کہا ۔ اسی کے نتیجے میں ٹائیگر ریزروس(شیروں کی حفا ظت اور ان کی نشو ونما کے لئے قائم کیا گیا ایسا علاقہ جہاں شیروں کو خاص طور پر رکھا جاتا ہے ) میں سیاحت کی درستی کے لئے مرکزی حکومت کی ہدایات سامنے آئیں۔ 

۲۰۰۹ ء میں جب اڑیسہ کے سمیلی پال ٹائیگر ریزرو میں باغیوں نے مواصلاتی ٹاور اور رینجر اسٹیشنز تباہ کردئے تب بِندرا اور جنگل کی زندگی کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے آدتیہ پانڈا یہاں سب سے پہلے پہنچنے والوں میں شامل تھے۔ وہ کہتی ہیں ’’بے شک ہم لوگوں نے خطرہ مول لیا۔ہم نہیں جانتے تھے کہ وہاں پرصورت حال کیا ہوگی۔ جب ہم اندر گئے تو ہم نے پایا کہ ریسٹ ہائوس جلا دیا گیا تھا اور مواصلاتی ٹاور کو تباہ کر دیا گیا تھا۔میں نے اس کے بارے میں لکھا جس کے بعد نیشنل ٹائیگر کنزرویشن آتھریٹی نے معاملے میں جانچ کی پہل کی اور وہاں سابقہ صورت حال بحال کرنے کی جانب پیش قدمی کی۔ ‘‘

بیابانوں میں نہتے جانے کے لئے معروف بِندرا وہاں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں ۔جانوروں کے سکون کے صحت مند احترام کے باوجود بِندرانے ہاتھیوں اورمصروف ِ وصل گینڈے کے ایک جوڑے کے حملے کا سامنا کیا ہے ۔ انہیں ایک مرتبہ تنہا اندھیری رات میں جنگل سے واپس اپنے کیمپ آنا آج بھی یاد ہے جب انہیں اپنے قریب ہی ایک چیتے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ مگر اس کے باوجود بِندرا کہتی ہیں ’’ فوریسٹ رینجر اور گارڈ غیر قانونی شکار اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے جنگلات کی زندگی کو بچانے میں سب سے آگے رہتے ہیں ۔ اور یہ لوگ ہمارے احترام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں ۔‘‘

 بِندرا سیکھنے کے اپنے سب سے بڑے تجربے کو بیان کرتے ہوئے ہندوستان کے اعلیٰ ترین دستوری ادارہ نیشنل بورڈ فار وائلڈ لائف میں کئے گئے اپنے کام کا حوالہ دیتی ہیں جو جنگلاتی علاقوں میں سرگرمیوں کی درستی کے لئے قائم ادارہ کے طور پر کام کرتا ہے۔  بِندرا  ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۳ ء تک اس بورڈ کی رکن اور کور سٹینڈنگ کمیٹی  کا اہم حصہ تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ ہم نے جنگلاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر صنعتی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں کے اثرات کا مطالعہ کیا اور ان پر گرفت کی کوشش کی جن کے(جیسے برصغیر میں فلَیمِنگو کے آشیانوں سے گزرنے والی سڑک وغیرہ) شدید ماحولیاتی اثرات پڑ رہے تھے۔ہم نے شدید خطرے سے دو چار گریٹ انڈین بسٹارڈ  اورکشمیری ہرن سے متعلق کلیدی نوعیت کے علاقوں کی حفاظت کے لئے بھی کام کیا۔‘‘

ہندوستان نے ۱۹۷۳ء میں تحفظاتی پروگرام  پروجیکٹ ٹائیگر شروع کرکے جانوروں کے اقسام کی حفاظت کے لئے ایک نیا معیار قائم کیا جس کی رو سے اب ۵۰  ٹائیگر ریزرو کی نگرانی کی جاتی ہے۔بِندرا بتاتی ہیں ’’ایک اعشاریہ تین بلین آبادی والے ملک میں ہمارے یہاں اب بھی شکاری شیر ، چیتے ، ایشیائی ہاتھی کے علاوہ میٹھے پانی کی ڈولفن موجود ہے۔ لیکن ان سے قطع نظرایسی چیزیں بھی ہیںجنہیں ہم دوسرے ملکوں سے سیکھ سکتے ہیں اور انہیں اپنا سکتے ہیں ، جیسے کہ امریکہ کی خصوصی نیشنل پارک سروس۔ ‘‘

بِندرا بتاتی ہیں کہ ۲۰۱۲ء میں امریکی وزارتِ خارجہ کے انٹر نیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام  نے ان کو سیکھنے کا اہم موقع فراہم کیا اور ان کے اندر ’’امریکی قومی باغوںکے نظام کے بارے میں مزیدواقف ہونے اور ان کے اندر کی سرگرمیوں کی ہم آہنگ درستی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی خواہش پیدا کی۔‘‘ 

ہیلری ہو پیک کیلی فورنیا کے اورِنڈا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ، ایک اخبار کی سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط