مرکز
1 2 3

پودوں اور انسان میں روابط کی تلاش

ہند۔ امریکی ایتھنو بوٹینِسٹ (پودوں کے طبی، مذہبی اور دیگر استعمال سے متعلق لوگوں کے روایتی علم اور ان کی رسموں کا سائنسی مطالعہ کرنے والی ماہر ) دیپا پریتی نٹراجن برکلے میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بوٹینکل گارڈن میں اپنی تحقیق کے ذریعہ انسان اور پیڑ پودوں کے درمیان روابط کی جستجو میں مصروف ہیں۔ 

انسان پودوں کا استعمال ہزاروں طریقوں سے کرتاآ رہا ہے۔ اسی حقیقت نے دیپا پریتی نٹراجن کو مسحور کر رکھا ہے۔اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں ایسی ملازمت مل گئی ہے جو انہیں اس شوق کو پورا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ وہ برکلے میں واقع  یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بوٹینکل گارڈن  میں امریکہ کے بڑے پلانٹ کلیکشنس  میں سے ایک میں پبلک پروگرام کو آرڈی نیٹر ہیں۔

نٹراجن کے والدین نے تمل ناڈو سے ہجرت کی تھی۔ ان کی پیدائش ریاست اوہائیو کے فِنڈلے میں ہوئی ۔ وہیں ان کی پرورش و پرداخت بھی ہوئی۔انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے حیاتیاتی بشریات میں بیچلر ڈگری لی ۔یونیورسٹی سے نکلنے کے ساتھ ہی انہوں نے ۲۰۰۶ ء میں بوٹینکل گارڈن  میں ملازمت شروع کی جو برکلے میں واقع  یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کا ہی حصہ ہے۔ ادارے کی جانب سے عوام کے لیے منعقد کیے جانے والے لکچر ، نمائش ، ورکشاپ اور دیگر سرگرمیوں کی ذمہ داری نٹراجن ہی سنبھالتی ہیں۔ انہوں نے روایتی ادویات ، قدرتی رنگ اور نباتاتی ریشے، پیپر سے تیار اشیاء ، صابن کی تیاری ، کھانا پکانے اور دیگر شعبے سے متعلق کافی کورس تیار کیے اور پروگرام منعقد کیے ہیں ۔ انہوں نے  بوٹینکل گارڈنکے پہلے پائدار فیشن شو گرین گالا کے انعقاد میں رابطہ کار کے بطور کا م کیا۔ نٹراجن نے مقامی فراست اور ثقافت کے احیا کی خاطرمقامی ثقافتی نباتیات کی معلومات کے اشتراک کے لئے ایک پلیٹ فارم، پلانٹس پیپُل قائم کیا۔   

نٹراجن اب اپنے کرناٹک گلوکارشوہر، اپنے ایک چھوٹے بچے اور دو بڑے بڑے کتوں کے ساتھ برکلے میں ہی رہتی ہیں ۔ وہ بھرت ناٹیم کی رقاصہ اور استاد بھی ہیں۔پیش ہیں ان سے لیے گئے انٹرویو کے اقتباسات۔  

اتھنو بوٹنی میں آپ کی دلچسپی کیسے ہوئی؟ 

میرا خیال تھا کہ میں بہت سارے ہند نژاد امریکیوں کی طرح میڈیسن کی پڑھائی کروں گی۔ مگر مجھے  پری میڈیکل کورسیز بہت خشک معلوم ہوئے۔ پھر میں طبی بشریات کا کلاس کرنے لگی۔ یہاں میں نے جانا کہ مختلف ثقافتیں کن مختلف طریقوں سے پودوں کا استعمال کرتی ہیں ۔ رفتہ رفتہ اس میں میری دلچسپی پیدا ہو گئی۔ اس سال موسم ِ گرما میں میں تین ماہ کے انڈر گریجویٹ فیلڈ اسٹڈی کے لیے ایریٹیریا (مشرقی افریقہ ) گئی۔ یہ دورہ یہ جاننے کے لیے تھا کہ حبشہ کے نام سے معروف روایتی طور سے علاج کرنے والے معالج کس طرح پودوں کا استعمال کرتے ہیں اور علاج کے اس طریقے کو اور ان معلومات کو وہ کن کو فراہم کر رہے ہیں۔ 

اگلے سال یعنی ۲۰۰۵ ء میں مَیں نے را جستھان میں چار مہینے پر مشتمل ایک سمیسٹر کی پڑھائی کی۔ اس وقت میں روایتی شفا بخش پودوں کے استعمال کو تحفظ فراہم کرنے میں کوشاں ایک غیر سرکاری تنظیم جاگرن جن وکاس سمیتی کے ساتھ کام کررہی تھی۔ میں نے دیہی معالجوں سے دوائی میں ان کے ذریعے استعمال کیے جانے والے پودوں سے متعلق اعداد و شمار یکجا کیے۔ میرا پروجیکٹ یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ معالج کہاں رہتے ہیں اور کن بیماریوں کے علاج کے ماہر ہیں تاکہ اس کے متعلق ایک ہدایت نامہ تیار کرسکوں۔ میں نے ماہرِ نباتیات اور آیوروید کے ڈاکٹروں کے مشورے پر ان معالجوں کی ایک کانفرنس کے اہتمام میں مدد بھی کی جہاں مقامی معالجین نے شرکت کی اور اپنے بہترین طریقوں کا اشتراک کیا۔ 

پودوں کا استعمال انسانی ثقافت کی ایک عظیم بنیاد ہے ۔میں تو اناج کو پیداکرنے اور اسے تیار کرنے میں بھی ایک طبی نظریہ پاتی ہوں۔ یہ ایک روحانی معاملہ ہے اور یہ لوگوں کوپھر سے اس جگہ سے منسلک کرتا ہے جہاں ہماری بنیاد ہے ۔

میں نے کئی برسوں تک چنئی میں موسمِ سرما اپنے رشتے داروں کے ساتھ گزارا ہے۔ انڈیا میں تو چھپر والی چھتوں سے لے کے پھولوں کے ہار اورپودوں پر مشتمل کپڑے کی صنعت تک پودوں کے استعمال کی بڑی روایت رہی ہے ۔مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فاسٹ فوڈ اور پلاسٹک لوگوں کو اس قدرتی آغوش سے بڑی تیزی کے ساتھ کہیں دور لے جار ہے ہیں۔ 

وہ کیا چیز تھی جو برکلے میں واقع  یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بوٹینکل گارڈن  میں آپ کے کام کرنے کا سبب بنی؟ 

یہاں منتقل ہونے کے اسباب میں سے ایک چیز تو قدرتی کھانوں کی دستیابی تھی جو برکلے اور سان فرانسسکو علاقے میں خوب ملتے ہیں۔جب مجھے برکلے بوٹینکل گارڈن اور ان کے پودوں کے ریشے اور رنگ جیسی چیزوں سے متعلق نمائش کے بارے میں پتہ چلا تو پھر میں یہیں کی ہو کر رہ گئی۔ میں نے پبلک پروگرام کو آرڈی نیٹر کی ملازمت کے لیے درخواست دی۔درخواست دینے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں تو ان تقریباََ سو افراد میں سے ایک ہوں جنہوں نے اس ملازمت کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ پہلے دور کے ا نٹریو کے بعد ان لوگوں نے مجھے دوسرے دور کے انٹریو کے لیے برکلے طلب کیا جہاں میں اس ملازمت کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ 

برکلے میں واقع  یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بوٹینکل گارڈن کی خصوصیت کیا ہے؟

پورے امریکہ میں موجود متنوع پلانٹ کلیکشنس میں سے یہ ایک ہے۔یہاں پودوں کے ۱۰ ہزار سے زیادہ اقسام پائے جاتے ہیں جن میں بہت سارے نایاب اور بعض معدومیت کے خطرے سے دو چار ہیں ۔ یہاں پائے جانے والے اقسام ایشیا ، آسٹریلیا اور بحیرۂ روم جیسے ۹ عالمی علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ اس میں جڑی بوٹی والے باغات اور دنیا بھر کی فصلوں وغیر ہ پر مشتمل مقامی ثقافتی نباتاتی مجموعے بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں ۱۲۵ ویں سالگرہ منانے والایہ بوٹینیکل گارڈن، اسٹرا بیری کینین  میں واقع ہے۔مرکزی برکلے میں واقع اس کے مین کیمپس سے یہ صرف ۱ اعشاریہ ۶ کیلو میٹر ہی دور ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ گویا آپ قدرت کی پناہ میں ہوں ۔ یہاں سے نیچے نظر ڈالیں تو آپ کو شہر کا توسیعی منظر نظر آئے گا یعنی  سان فرانسسکو بے نظرآئے گا۔ ہم لوگ اسے پوشیدہ باغ کہتے ہیں ۔  

یہ باغ دنیا بھر کے تحقیق کاروں کے لئے ایک بہت بڑا وسیلہ ہے ۔یہ برکلے میں واقع  یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے طلبہ کے لیے بھی ایک وسیلہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کی حیثیت ایک کھلی تجربہ گاہ کی بھی ہے۔ مثال کے طور پر حیاتیات کے طلبہ قدرتی تنوع کی مثالیں دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں ۔ 

پبلک پروگرام کو آرڈی نیٹر کے طور پر آپ کیا کام انجام دیتی ہیں؟

ہم لوگ عوام کے لیے کلاس، بات چیت اور ورکشاپ وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔اس میں سب سے مقبول پروگرام اتھنو بوٹنی ہے جس میں لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ مختلف ثقافتیں کس طرح کھانے پینے میں، کپڑے تیارے کرنے میں اور دوا وغیرہ میں پودوں کااستعمال کرتی ہیں۔ہم لوگوں نے چیڑ کی سوئی والی ٹوکری، پیپر اورمربہ تیار کرنے جیسے موضوعات سے متعلق بھی ورکشاپ کا اہتمام کیا ہے۔ہم نے پھولوں کو سجانے اور دنیا بھر کی میٹھی شراب اورہاضمے میں مدد پہنچانے والی اشیا ء سے متعلق پروگراموں کی سیریز کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اب ہم لوگ کلاسیکی موسیقی کے آلات میں استعمال ہونے والی مختلف لکڑیوں کے استعمال  پر ایک سیریز تیار کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمار ا منصوبہ  وٹنیس ٹریز کے نام سے ایک پروگرام کے انعقاد کا بھی ہے جو ان درختوں سے متعلق ہے جو عظیم تاریخی واقعات کے موقعوں پر موجود تھے ۔ 

نباتاتی توضیحی تصاویر سمیت پودوں سے متعلق نمائش کا اہتمام بھی ہمارا کام ہے۔ اس کے علاوہ باغ میں ہم لوگ موسم گرما میں کنسرٹ کی سیریز کا بھی انتظام کرتے ہیں۔راگاز اینڈ ریڈ ووڈس کے نام سے سب سے پہلے کنسرٹ کا اہتمام میں نے ہی کیا تھا جس میںبرکلے میں مقیم انڈیا کے موسیقاروں نے پروگرام پیش کیے تھے۔ 

مستقبل میں آپ کے کیا منصوبے ہیں؟

ہمارا منصوبہ اپنے مجموعوں کی ممکنہ توسیع کا ہے ۔ہم آیوروید دواؤں میں استعمال ہونے والے پودوں کو یکجا کرنے کا کام شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔ 

جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو میں چھٹی پر جانے والی ہوں ۔ میں ۱۲ مہینے موجود نہیں رہوں گی کیوں کہ میں انگلینڈ میں واقع یونیورسٹی آف کینٹ سے اتھنو بوٹنی میں ماسٹر کورس کرنے جار ہی ہوں ۔ یہ پروگرام کیو میں واقع رویال بوٹینک گارڈن کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے۔ 

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ صحافی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط