مرکز
1 2 3

آرٹ کے ذریعہ معذوری کا مقابلہ

سوربھ موہن کے لئے رنگ دنیا سے رابطے کا ذریعہ ہیں ۔

بھورے سنہرے، ہرے اور کتھئی رنگوں کے پیہم جلی خطوط والی سوربھ موہن کی پینٹنگس جن کے حاشیے جابجا روشن لوؤں سے چمکتے ہیں دنیا سے ان کی مواصلت کاذریعہ ہیں۔ایک ای میل انٹرویو کے دوران انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے پینٹنگ پسند ہے کیونکہ میں حسن کو دکھانا چاہتا ہوں۔‘‘

۲۹؍سالہ موہن پیدائشی بہرے ہیں۔ وہ بالکل اتفاقی طور پر پینٹنگ سے جا ٹکرائے۔ ان کی عمر مشکل سے سات برس رہی ہوگی جب اسکول میں ڈرائنگ کے ایک مقابلے میں انھیں کامیابی کا سرٹیفیکٹ ملا۔ موہن کہتے ہیں کہ اونچی جماعتوں میں تعلیم سے فرار کے طور پر جس چیز کی ابتداہوئی تھی وہ رنگوں کی مسرتوں کی دریافت کی طرف ایک سفر بن گئی۔ ابتدا ً آرٹ کی طرف سے ’’بے تعلقی‘‘ کا جو رویہ تھا، اس نے جلد ہی ایک قطعی سمت اختیار کرلی۔

موہن نے امریکن سینٹر، نئی دہلی میں ماہ اکتوبر میں اپنی پہلی’آرٹ اِز ایبی لِٹی‘ سولونمائش کی۔ امریکن سینٹر کی ویزیٹرس بک‘ برش اور ان کے میل کے آئندہ امکانات بتانے والی ثابت ہوئی۔ نمائش میں آنے والے ایک مہمان نے لکھا ’’امکانات کا حامل آرٹسٹ ہے‘‘ ایک اور نے لکھا: ’’سبھی پورٹریٹس میں ایک قطعیت ہے۔‘‘ ایک اور نے لکھا:’’ان کے خطوط میں اعتماد اور پختگی ہے۔‘‘

ان کی پینٹنگس کا کوئی متعین ڈھب نہیں ہے۔ ان میں سے بیشتر کینوس پر پکے ایکری لک رنگوں میں بہو رنگی اقلیدسی اشکال پر مشتمل ہیں۔ موہن کہتے ہیں کہ وہ پہلے سے رنگوں کافیصلہ نہیں کرتے جوں جوں اس پر کام آگے بڑھتا جاتا ہے رنگوں کااضافہ ہوتا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جب میں پینٹ کرتا ہوں تو میرا ذہن کھلتا ہے اور میں زیادہ سے زیادہ پینٹ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ’’ ابتداً میں نے کچھ ایسی پینٹنگس کیں جو عالمی حرارت کے مسئلے سے متعلق تھیں۔ میں جوں جوں آگے بڑھتا جاتا ہوں چوکھٹے، بلاک، دھبے اور دائرے اور دھاریاں نمودار ہوتی جاتی ہیں۔ کبھی وہ عمارتوں جیسی ہوتی ہیں، کبھی لوگوں جیسی، کبھی جنگلوں جیسی، کبھی ہالے جیسی اور کبھی پانی جیسی۔ اسے میں دیکھنے والوں کے تصور پر چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘

ان کی صحافی ماں کمود موہن کہتی ہیں کہ ’’امریکن سینٹر میں ان کی نمائش ان کے لیے ایک کامیاب تربیت گاہ ثابت ہوئی ہے۔‘‘انھوں نے بتایا کہ اس دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد معلوم ہواکہ وہ صحتمند بچہ مکمل طور پرسماعت سے محروم ہے تو گھر والوں کو بڑی پریشانی ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے ابتدائی دنوں میں اپنی پریشانیاں بیان کیں۔انھیں جان ٹریسی کلینک، لاس اینجلس، کیلی فورنیا سے مدد ملی جو کہ بہرے بچوں اور ان کے والدین کے علاج معالجے کا سینٹر تھا۔ دنیا بھر میں بہرے بچوں اور ان کے والدین کے لیے مفت مواصلاتی کورس بھی اس کی خدمات میں شامل ہیں۔

مسز موہن کہتی ہیں کہ اس کورس سے انھیں ایسی ہدایات اور مدد ملی جس کی انھیں سخت ضرورت تھی۔ وہ کہتی ہیں : ’’جان ٹریسی کلینک، لاس اینجلس سے میں نے جو کورس کیا اس سے مجھے زبردست اعتماد ملا جس سے غالباً سوربھ میں خود اعتمادی پیدا ہوئی۔‘‘

امریکن فلم اسٹار اسپنسر ٹریسی کی بیوی لوئی ٹریسی نے ۱۹۴۲ میں یہ کلینک قائم کی تھی اس وقت سے اب تک اس ادارے نے تین لاکھ سے زیادہ خاندانوں کی مدد کی ہے۔ ۱۹۲۵ میں جب مسز ٹریسی کو معلوم ہوا کہ ان کا بچہ جان بالکل بہرہ ہے تو انھوں نے سننے اور بولنے والی دنیا سے مواصلت کی تدبیروں پر غور کرنے کے لیے اپنا وقت اور توانائی وقف کردیا۔ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی وجہ سے انھیں زبان اور ہونٹوں کی حرکت کی سمجھ آگئی اور وہ بولنا سیکھ گئے۔ جب دوسرے بہرے بچوں کی ماؤں نے ان سے مدد طلب کی تو مسز ٹریسی نے یہ کلینک قائم کی۔ جان ٹریسی ایک کارٹونسٹ اور پولو کے کھلاڑی تھے۔ ان کے دیگر مشاغل بھی تھے وہ پسماندگان میں ایک بیٹا اور پوتے چھوڑ کر ۲۰۰۷ میں انتقال کرگئے۔

مسز موہن نے اسپین کے نومبر ۱۹۸۶ کے شمارے میں لکھا کہ ’’ان سے ہماری ملاقات تو کبھی نہیں ہوئی لیکن وہ ہماری زندگی میں داخل ہونے والی بہترین شخصیت تھیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’کورس مٹیریل بحری جہاز کے ذریعے آنے میں بیس دن لگ جاتے تھے۔ پھر میرے جوابات کو وہاں پہنچنے میں اتنا ہی وقت لگتا۔‘‘ وہ کورس ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ آج تو والدین کو بہت ساری سہولتیں حاصل ہیں۔ جان ٹریسی کلینک انٹرنیٹ پر بھی معلومات فراہم کرتی ہے جسے اس پتے سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے:  

موہن انتہائی مصروف فوٹو گرافر ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا ہے۔ انہیں کار میں طویل سفر کا بڑا شوق ہے۔ وہ بولنے کی مشق پر بہت وقت صرف کرتے ہیں۔ موہن کہتے ہیں کہ ان کی ساری کوششوں میں گھر والوں نے ان کی جو مدد کی ہے اس کے لیے وہ ان کے ممنون ہیں۔ ان کی ان کوششوں میں پینٹنگ بھی شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی پر خاموشی کی حکمرانی ہے لیکن رنگوں نے مسرتیں اور سکون بھردیا ہے۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط