مرکز
1 2 3

راہل کمار: آرٹ کی تشکیل محض نمائش نہیں

کارپوریٹ ایگزیکٹو اور سفال گر راہل کمار کی زندگی کا دہرا پن ان کی تخلیق میں اجتماعِ ضدّین کو ظاہر کرتا ہے۔

سینئرسکنڈری اسکول کا امتحان دینے کے فوراً بعد جب راہل کمار کے دوسرے دوست احباب عملی زندگی کے روایتی متبادل امکانات کا جائزہ لے رہے تھے وہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے سامنے پہاڑگنج کی ایک گلی کی دھول اور آلودگی کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ وہاں انہوں نے روایتی چاک پر مٹی سے حسن کی تخلیق کرنے کا عمل سیکھنا شروع کیا تھا۔

کمار نے بتایا کہ وہ جب دس برس کے تھے تبھی نئی دہلی  کے سینٹرل کاٹج انڈسٹریز امپوریم میں انہوں نے پہلی بار سفال گری کی نمائش دیکھی تھی اوراس واسطہ کے سحر میں ڈوب گئے تھے۔ اس نے بتایا کہ ’’یہ جادو تھا۔ اتنا خوبصورت اور آسان۔ میں گرویدہ ہوگیا۔ زندگی بھر کیلئے اس کا ہوگیا۔‘‘ کمار کے والدین ان کے اس شوق کی مزاحمت کرتے رہے مگر بالآخر انہوں سپر ڈال دی۔وہ کسی کے ساتھ ہفتے میں ایک د ن سفال گری سیکھنے کیلئے جاتے رہے۔ اس کے بعدانہوں نے دہلی بلیو پوٹری ٹرسٹ میں اسٹوڈیو سفال گری کے زیادہ منظم اسلوب کو دریافت کیا۔

راہل آل انڈیا فائن آرٹس اینڈ کرافٹس سوسائٹی کا قومی ایوارڈ تین بار جیت چکے ہیں۔ ۲۰۰۸میں انہوں نے ٹکساس کی یونیورسٹی آف ڈلاس میں فل برائٹ اسکالر شپ پرسفال گری کا فن باضابطہ سیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’فل برائٹ نے مجھے اس واسطہ کوبروئے کار لانے کا اوزار دیا ۔امریکہ میں مجھے اس سوال کا جواب حاصل ہوا کہ کیامیرے کام کو کسی خیال کے اظہار کیلئے بھی استعمال کیاجاسکتا ہے؟ اگر ہاں توکیسے؟ وہاں کے تجربے نے اس کا اہل بنایا کہ میں صرف اچھی اچھی چیزیں بنا نے پر ہی اکتفا نہ کروں بلکہ اپنے اظہار کے لئے اس ہیئت کو سمجھنے اوراستعمال کرنے کی اہلیت کوبھی استعمال کروں۔

لیکن حسن کا تعلق تناظر سے ہے اور کمار کاکہنا ہے کہ ’’میں کسی چیز کو خوبصورت بنانے کی کوشش صرف اس خیال کے تحت نہیں کرتا کہ میں اپنی تخلیق کو فروخت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’میں اس کا ۱۰۰فی صد سہرا فل برائٹ کے سردیتا ہوں ‘‘ کیونکہ اس نے ’’مجھے اس کا موقع دیا کہ میں اس واسطہ کو صرف خوبصورت چیزیں بنانے میں نہیں بلکہ اپنے اظہار کیلئے ایمانداری اور دیانت داری سے آرٹ بنانے میں استعمال کروں۔ مجھے سچ مچ خوشی ہے کہ میں ایسی کوئی چیز بنا سکتا ہوںجو چاہے بالکل اکتا دینے والی اور بد نما ہو مگر اس سے وہ بات ظاہر ہورہی ہو جس کا اظہار مجھے مقصودہے۔‘‘

انہوں نے از رہِ مزاح کہا کہ ’’سچ مچ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ برتنوں سے بھرے ہوئے ان گیرج کا میں کیا کروں؟‘‘ 

جو چیز بیشتر لوگوں کو حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کمار کام کے عام دنوں میں معینہ وقت کے اندر کام نپٹانے والے کارپوریٹ ایکزیکیوٹیو ہیں۔ان کے پاس ایم بی اے کی ڈگری ہے۔ وہ ایک کنسلٹنگ فرم میں نوکری کرتے ہیں اور ہریانہ کے شہر گڑگائوں میں ثانوی اور منڈی ریسرچ کرنے میں مصروف ایک ٹیم کی سربراہی کرتے ہیں۔ اختتامِ ہفتہ پراپنے اسٹوڈیو میں سفال گری کا بھی ہنر آزماتے ہیں وہ اسے صرف وقت گذاری کا شوق نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے ذوق کی تسکین کاسامان ہے۔ 

ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی زندگی کے ان قطعی متضاد پہلوئوںکے درمیان کیسے مطابقت پیداکرتے ہیں تو ان کا جواب تھا ’’میری زندگی میں بہت دوہراپن ہے، میری زندگی کے رنگ ڈھنگ کارپوریٹ نوعیت کے ہیں اورمیری کاوشیں فن کا رانہ ہیں ،دونوں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ میرے کام کی نوعیت یہ ہے کہ وہی کروں جس کا کرنادرست ہو ،سیاسی اعتبار سے ٹھیک ہو اور کام بھی ٹیم کی صورت میں کرناپڑتاہے لیکن میراآرٹ انفرادیت کامتقاضی ہے۔ اس کا تعلق میرے اظہاریہ سے ہے۔یہ میری اپنی اقلیم ہے۔ یہ دو مختلف چیزوں کو یکجا کرنے کا تجربہ ہے۔ ایک طرح سے اجتماعِ ضدّین ہے۔‘‘

یہ راہل کمار کے حالیہ کام اور موجودہ امنگ کے بارے میں بھی اچھا بیان ہے ’’ ہارمونک ڈسکارڈ‘‘ سیریز میں کمار کی زندگی کا ایک باب اجاگر ہوتا ہے۔ ضدین کے درمیان ایک دلچسپ بازی ۔ اظہار کے دوہرے پن کو اجاگر کرتا ہوا سفال گری کانمونہ۔عمودی کے مقابلہ میں افقی کا استعمال،خلاکو بھرتا ہوا ٹھوس مادہ۔ اس میں ڈھیر ساری داخلی توانائی کی دائرہ توڑ کرنکلنے کی کوشش اور ڈھیر ساری بیرونی طاقتیں سطح پر حملہ آور۔

راہل کمار نے کہا کہ ’’ اس میں میرا سروکارایسی چیزوں سے ہے جو ایک دوسرے کی مطلق ضدہیں لیکن میں نے یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ان چیزوں کومیں اپنی زندگی سے بہت مشابہ محسوس کرتا ہوں۔ یہ دوراستے ہیں جو ایک دوسرے کے متوازی چلتے ہیں۔کبھی آپس میں ملتے نہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں‘‘۔ 

سفال گری آرٹ کی واحد صنف ہے جس میں فطرت کے پانچوں عناصرمٹی،پانی،آگ،ہوا اور خلا کا یکساںاستعمال ہوتا ہے۔ سفال گری میںمٹی کے ایک بے جان تودے کواستعمال کرکے کسی خیال کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن کمارکا خیال ہے کہ سفال گری مطمئن کرنے والاایک عظیم فن بھی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ’’ کچھ ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب آپ تخلیقیت کے ایک مرحلے میں خودکو خدا سمجھنے لگتے ہیں اور جس وقت یہ خدائی کا سودا سر میں سماتا ہے اسی وقت مٹی کا تودہ چاک سے ٹوٹ کر باہر نکلتا ہے اور آپ کے ہاتھوں میں ڈھیر ہوجاتا ہے۔ تب آپ کو اس سچائی کا ادراک ہوتا ہے کہ آپ پوری طرح قادر نہیں ہیں۔ مٹی ایک ضدی بچے کی طرح ہے۔ ان کے ساتھ آپ کا رویہ سختی کا ہونا چاہیے مگر مطلق مثبت نہیں۔اس کا اپنا مزاج ہوگا۔اس وقت آپ کو اس کے اسی مزاج سے نپٹناہے لیکن اگر آپ میں تخلیقیت نہیں ہے تو آپ اس کے ساتھ کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔‘‘

کمار کے بنائے ہوئے سفال گری کے نمونے چھوٹے بھی ہیں دو انچ کے ،اور بڑے بھی ساڑھے تین فٹ تک کے۔ ا ن کاکہنا ہے کہ ان کی موجودہ فریفتگی کامرکز ’’ہارمونک ڈسکارڈ‘‘ سیریز کا تسلسل ہے جس میں وہ متضاد ہیئتیں تخلیق کررہے ہیں ۔جیسے بہت چھوٹے پائوں اور بہت بڑے پیٹ ۔ کمار نے کہا کہ ’’میرے لئے کارگزاری اہم نہیں ہے۔ میں تجریدی خیالات کااظہار کررہا ہوں۔ توانائی مجردہے ’’عام طور پر میں ایسی ہیئت بنانے میں مستعد ہوں جو بہت گول ہوں ،پیٹ والی ہوں میری اپنی ذات کی طرح۔‘‘ کمار ہیئت کی تکمیل پر یقین رکھتے ہیں۔

اگر چہ آرٹ کوکبھی بھی انہوں نے عملی زندگی کا انحصاری متبادل نہیں سمجھا کیونکہ ان کو یقین ہے کہ پوری دنیا میں آرٹسٹ فاقہ کرتے ہیں لیکن کمار کے والدین نے ہمیشہ ان کی تخلیقی کھوج کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی کو تقسیم کر لینے میں وہ اس لئے کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ان میں زندگی کے ایک شعبہ کو ’’مکمل طور پرروشن اور دوسرے کوتاریک کردینے کی ‘‘ اہلیت ہے اور اس کی بھی کہ جب چاہیںچشم زدن میں اس صورتِ حا ل کو اس کے برعکس بھی بنا سکتے ہیں۔

۱۵سال سے زائد کے تخلیقی سفر میں مٹی کے واسطہ سے اپنی تخلیقیت کے اظہار میں کمار کا طرز عمل ایک ایسے اسلوب سے متعارف کراتا ہے جو مکمل طور پر ان کاانفرادی اسلوب ہے۔ اپنے فن کے لئے سچا رہنے کی ان کی تڑپ بھی اسی طرح چمکتی ہے جس طرح ان کے سفال گری کے نمونے۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط