مرکز

ثقافتوں کا بُننا

فل برائٹ اسکالر اور ٹیکسٹائل آرٹسٹ ونڈی ویس کی گجرات میں اکٹ ٹیکسٹائلس کی دستاویز بندی کے اپنے تجربہ کے بار ے میں بات چیت۔

آرٹسٹ ، ویوَر اور اِکَٹ چھپائی کی ماہر ونڈی ویس ، یونیورسٹی آف نیبراسکا ۔ لِن کَون میں ٹیکسٹائل ڈیزائن کی پروفیسر ایمیریٹا ہیں۔فل برائٹ ۔ نہرو سینئر اسکالر ایوارڈ کے ایک حصے کے طور پر ویس نے پہلے ۲۰۰۹ میں اور پھر ۱۵۔ ۲۰۱۴ ء میں ایک آرٹسٹ کے تناظر سے اکٹ ٹیکسٹائلس کی دستاویز بندی کے لیے انڈیا کا دورہ کیا ۔ ان کے سفر ہند کے نتیجے کے طور پر ان گنت کارنامے ان کے حصے میں آئے جس میں سے ایک ایسی نئی تکنیک شامل ہے جو انہوں نے  ٹیکسٹائل پیٹرنس کے ساتھ متن کو ملانے کے طور پر وضع کی۔انہوں نے اپنے اس کام کی نمائش شمالی امریکہ ، یورپ اور ایشیا میں کئی جگہ اکیلے اور گروپ شو کے توسط سے بھی کی۔ فی الحال ویس ایک گروپ شو پر کام کر رہی ہیں جس کا عنوان ہے:اے ریور رنس تھرو اٹ ۔ اس کا انعقادمیوزیم آف نیبراسکا آرٹ میں ہوگا۔ پیش ہیں ان سے انٹرویو کے اقتباسات ۔ 

ٹیکسٹائل آرٹسٹ کی حیثیت سے اپنے کام کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں؟ 

کپڑوں اور نمونوں کا مجموعہ، قدرتی ماحول اور فطری روابط میرے کام کے روح رواں ہیں۔ میں چوں کہ بنیادی طور پر ایک ویوَر اور قدرتی رنگریزہوں، اس لیے میں اپنی تخلیق میں دیگر اشیا ء جیسے کہ اکٹ کا استعمال کرتی ہوں۔اگست ۲۰۱۴ ء میں جب میں نے اکٹ کے سلسلے میں اپنی تحقیق سے متعلق ایک ورکشاپ پولینڈ کی زیریمنسکی اکیڈمی آف فائن آرٹس میں منعقد کی ، تب مجھے لِزمنس ٹڈٹ آبادی کے بارے میں ۱۷ پینل والی اکٹ تخلیق کرنے کی تحریک ملی۔ اس کے نتیجے میں  لِزمنس ٹڈٹ گیٹو ۴۴۔۱۹۴۰

 نمائش معرضِ وجود میں آئی جسے سینٹرل میوزیم آف ٹیکسٹائلس میں۱۵ ویں انٹرنیشنل ٹرائی این نئیل آف ٹیپیسٹریکے طور پر پیش کیا گیا۔یہ نمائش امریکہ میں امیریکن کنٹیجینٹ  کے علاوہ دوسری بین الاقوامی نمائشوںکا بھی حصہ بنی۔

اکٹ کیا ہے اور آپ اسے اپنے کام میں کیسے استعمال کرتی ہیں؟

اکٹ بنائی سے پہلے ایک مخصوص پیٹرن میں دھاگوں کو بننے کے لیے رنگنے کی مزاحمت کرنے والی گانٹھ کو استعمال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اکٹ واحد بھی ہو سکتا ہے جس میںتانا دھاگے یابانادھاگے میںسے کسی ایک کو ہی رنگا جاتا ہے اور دوسرا دھاگہ کسی ایک گہرے رنگ کا ہوتا ہے۔دوہرے اکٹ میں تانااور بانادونوں دھاگوں کو ایک مخصوص پیٹرن میں رنگا جاتا ہے ۔ اس میں یہ بات لازمی ہوتی ہے کہ جب بنکر کرگھا پر تانا کو بانا دھاگوں میں بننے کے لیے بیٹھے تو دونوں ایک دوسرے سے میل کھائیں ۔ 

میں نے اس سے پہلے کے کام میں تانادھاگوں پر اس وقت رنگ کیا جب وہ میرے فلور لوم پر ہی تھے۔اس عمل میں پانی استعمال ہوا،جب میں نے اپنے کرگھے کو اس چیز میں بدلا جس کو الیکٹرانک ڈوبی کہتے ہیںتو میں نے اپنے کرگھے پر الیکٹرانک آلات نصب کیے تاکہ میرا کمپیوٹر میرے کرگھے سے منسلک ہو جائے۔ تب میں نے یہ محسوس کیااب میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اپنے کرگھے پر براہ راست ڈائی کو پینٹ کر سکوں کیوں کہ اس سے سرکٹ خطرے میں پڑ سکتے ہیں ۔ اس لیے میں نے اپنے منصوبہ بند ڈیزائن کے مطابق اپنے کرگھے پر دھاگے ڈالنے سے پہلے تانادھاگوں کو ڈائی کرنا شروع کر دیا۔مجھے یہ محسوس ہواکہ جب میں تانااکٹ رنگریزی پر سنجیدگی سے 

کا م شروع کررہی ہوں تو مجھے کسی ماہر ویوَر سے کچھ سیکھ لینا چاہئے۔ مجھے ۲۰۰۹ میںفل برائٹ ۔ نہرو سینئر اسکالر ایوارڈ ملا جس کے دوران مجھے ایک آرٹسٹ کے تناظر سے تانا اکٹ کی دستاویز بندی کاموقع ملا ۔

آپ قدرتی رنگ مقامی طور پر کاشت اور اکٹھا کرنا پسند کرتی ہیں ۔ آپ کیا اس عمل کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گی؟

میں نے کم سنی کے زمانہ سے ہی بننا شروع کیا تھا اور تب ہی قدرتی رنگ مجھ پر آشکارا ہوگئے تھے لیکن میں نے تب اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیاتھا، یہاںتک کہ ۲۰۰۱ میں مجھے ڈائی گارڈن لگانے کا موقع مل گیا ۔ میرا بنیادی پودا میڈر (روبیہ)ہے،جسے گجرات کے قالینوں اور اجرک پرنٹس میں شوخ لال رنگوں کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔میں پھولوں کی بھی کاشت کرتی ہوں جس میں نارنگی اور پیلے کوسموس پودے شامل ہیں جو شوخ نارنگی رنگ نکالتے ہیں اور ایک پودا ولڈ ہے جوکہ شوخ پیلا رنگ نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔میرے باغ میں رنگوں کے کچھ اور پودے بھی ہیں ۔مثال کے طور پر بربری ،سماق اور بنفشی ۔ہر پودے کی کاشت اور پروسیسنگ کا ایک مخصوص وقت ہے ، میں کوسمس پھول ہر دن توڑتی ہوں اور انہیں سکھاتی ہوں ، جولائی میں ولڈ کے ڈنٹھلوںکو کاٹتی ہوں اور بعد میں اسے استعمال کرنے کے لیے بچا لیتی ہوں ۔ جہاں تک روبیہ کی جڑ کی بات ہے تو اسے اس وقت کاٹتی ہوں جب وہ خفتہ ہو جاتا ہے ۔ اسے رنگ کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے اسے پیسنے اور سکھانے کا ایک لمبا طریقہ اپنا تی ہوں۔ 

گجرات میں فل برائٹ ریسرچ کے کام کے تجربات سے واقف کرائیں؟

بڑودہ کی مہا راجا سایا جی رائو یونیورسٹی (ایم ایس یو)کی انجلی کرولیا اور گاندھی نگر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی کے رفقاء کی مدد سے میں گجرات کے سریندر نگر ضلع میں ایک ماہر بنکر واگھیلا وٹّھل بھائی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ۔انہوں نے مجھے اکٹ بنانے کے لیے تانا دھاگے تیار کرنے سے متعلق اپنے عمل کی دستاویز بندی کی اجازت دی ۔ میں نے ان کے اور ان کے خاندان کے قریب رہ کر کام کیا اور ان لوگوں کے ساتھ ایک ایسا تعلق بنایا جس کی بنیاد پر ایم ایس یو میں اپنے میزبان شعبہ کے گریجویٹ طلبہ اور ریسرچ معاونین کے ساتھ طلبہ اور ریسرچ معاونین کے ساتھ ۱۵۔ ۲۰۱۴میں پھر سے ان کے پاس واپس آئی۔ 

دوسرے فل برائٹ پروجیکٹ پر ہماری ٹیم نے دو شعبوں میں تربیت مکمل کی ۔ پہلے ہم لوگوں نے ڈیزائن کلاسوں کی ایک سیریز تیار کی اور ایک ایسا سافٹ ویئر پروگرام پیش کیا جس میں اکٹ پیٹرن اور رنگوں کے پھیلنے کے مقامات کا تعین کرنے کے کئی متبادل فراہم کیے گئے۔ ان متبادلات کو نئے ڈیزائن رنگنے اور مؤکّلوں کے ساتھ ربط ضبط کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا ۔ دوسری چیز یہ کہ ہم لوگوں نے اس خاندان کو سوتی دھاگے پر فائبرردعمل پذیر رنگ استعمال کرنے کی تربیت دی کیوں کہ ماہر بنکر ایسی متعدد مصنوعات تیار کرنا چاہتے تھے جن پر ان کی بنائی ہوئی روایتی سلک مصنوعات سے کم لاگت آئے۔میں نے ۱۵۔۲۰۱۴ میں جو کام مکمل کیا اس کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ میں نے اکٹ کے بارے میں جو کچھ سیکھا تھا اس کا اطلاق اپنے کام میں کروں ۔ میں نے تانا پر مزاحمتی گانٹھ استعمال کر کے پیٹرن کے ساتھ متن کو مربوط کرنے کی ایک تکنیک ایجاد کی۔

آپ اس وقت کن منصوبوں پر کام کر رہی ہیں؟

میں اور میرے شوہر دونوں میوزیم آف نبراسکا آرٹ کے ایک منصوبے سے متعلق ایک گروپ شو کے لیے ، جس کا نام اے ریور رنس تھرو اٹ ہے ، کام کر رہے ہیں۔ کیوریٹر تیلیزا روڈرِگز نے ہم سے کہا ہے کہ ہم پلیٹی ندی کو سامنے رکھ کر کام کریںجو نبراسکا میں چٹانی پہاڑوں کے درمیان بہتی ہے۔ پَول جانس گارڈ کے مطابق دیسی گھاس کے میدانوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی یہ ندی ایک چکر دار تزئین ہے جس کی پیروی ہزاروں سال سے انسان اور جانور کرتے رہے ہیں۔میں ان پودوں کو استعمال کرتی ہوں جن کی کاشت میں اپنے ڈائی گارڈن میں کرتی ہوں اور گجرات میں سیکھی ہوئی ایک تکنیک کو اس میں شامل کرتی ہوں ۔وہ تکنیک رنگ بدلنے کے لیے لوہا کے استعمال کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں ڈائی کے طریقوں کے ذریعہ ڈوبتے سورج کے پس منظر میں اس ندی کی سجاوٹ کا تاثر قائم کر سکوں اور اس میں وہی ساخت بنائوں جنہیں میں استعمال کرتی ہوں۔میرے شوہر جے کریمر انڈیا میں کام کرچکے ہیں اورانہوں نے فل برائٹ ۔ نہرو سینئر اسکالر ایوارڈ پروجیکٹ میں سڑکی موسیقاروں کی دستاویز بندی کی ہے۔وہ میری کاوش کو مکمل کرنے کے لیے مجسمہ اور آوازوں کے اجزا ء تخلیق کریں گے۔ 

 

نتاشا مِلاس واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط