مرکز
1 2 3

آننـدگـردھـرداس: نئی امنگیں اور نیا ہندوستان

’’جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا ہندوستان میں تبدیلیاں ہوتی گئیں اور اس کے نتیجے میں نئی اختراعات پھر سے ممکن ہو سکیں ۔ ‘‘

پاپا اور میں یہاں کیا کررہے ہیں ؟ ‘‘آنند گردھر داس کو ان کی والدہ کایہ پیغام اس وقت ملا جب ان کی بہن کیلی فورنیا سے ہندوستان منتقل ہونے کے بارے میں غور کر رہی تھیں۔ گردھر داس پہلے سے ہی ہندوستان میں کام کررہے تھے۔ ان کے والدین اس وقت واشنگٹن ڈی سی کے باہر اپنے مکان پر تھے۔ 

گردھر داس کے والدین ۱۹۷۰ کی دہائی میں امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔ اس وقت ہندوستان کے تعلیم یافتہ اور ذہین لوگوں کے بڑے پیمانے پر باہرمنتقل ہونے کا سلسلہ جاری تھا۔

گردھر داس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک وقت آئے گا جب وہ واپس ہندوستان چلے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ’’میرے بچپن کے برتائو کا تقاضا یہ تھا کہ ہندوستان سے دور رہا جائے کیوں کہ ہندوستان کے بارے میں جو پہلی بات مجھے معلوم ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ میرے والدین نے اس ملک کو چھوڑنا پسند کیا تھا۔میرے لئے ہندوستان کا مطلب زیادہ سے زیادہ ایک ایسی جگہ تھا جہاں خاندان کے لوگوں کے ساتھ گھومنے کے لئے ، تحفوں سے بھرے ہوئے سوٹ کیس میں خاکی گیپ اور جانی واکر بلیک لیبل وسکی لیکر جایا جائے ۔ بعض طریقوں سے ہندوستان کی تعریف کچھ ایسی چیزوں سے ہوتی تھی جنہیں کوئی حاصل نہیں کرسکتا۔‘‘

’’لیکن جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا، ہندوستان میں تبدیلیاں ہوتی گئیںاور اس کے نتیجے میں نئی اختراعات پھر سے ممکن ہوسکیں۔‘‘ گردھراس کی کتاب ’’انڈیا کالنگ‘‘ اسی تبدیلی سے متعلق ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ایسا نہیںکہ ایک نوجوان شخص کے طور پر صرف میں ہی مشرق کی طرف جارہا تھا اور خود کو از سر نو دریافت کررہا تھا بلکہ اس کہانی کا سب سے اہم جز یہ ہے کہ ہندوستانیوں سمیت بہت سارے دوسرے لوگ اپنے اپنے ملک میں خود کو ازسرنو دریافت کرنے کے مواقع حاصل کررہے تھے۔ ‘‘

گردھر داس نے ہندوستان واپس آکر ’میک کینزی اینڈ کمپنی‘میں کام کیا۔ یہاں قیام کے دوران وہ انٹر نیشنل ہیرالڈ ٹریبون اور نیو یارک ٹائمز کے لئے لکھتے بھی رہے ۔ اس سے انہیں محفوظ مقام پر کھڑے ہو کر بدلتے ہوئے ہندوستان کودیکھنے کا موقع ملا ۔

گردھر داس کے خیال میںاس تبدیلی کے بہت سے اسباب  ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ’’بہت سے لوگ اس رول کو ضرورت سے زیادہ اچھالتے ہیں جسے سرمایہ داری نے ادا کیا ہے ۔ ‘‘ انہیں ایک لطیف لیکن زیادہ گہری ثقافتی تبدیلی نظر آرہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں ’’ڈھیر سارے ہندوستانی خود سے اور خودی سے واقف ہو رہے ہیں۔انہیں معلوم ہورہا ہے کہ خاندان کے دعوے کے برعکس ،ذات پات کے دعوے کے برعکس،مملکت کے دعوے کے برعکس ان کی اپنی کوئی اہمیت ہے ۔ ‘‘

اس تبدیلی کا ایک غیر متوقع ذریعہ ٹیلی ویژن بھی ہے ۔ گردھر داس کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے چھوٹے شہروں میں ٹیلی ویژن اصل میں ترقی کی طاقت بن کر آیا ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ ٹیلی ویژن پر صرف کاروں اور صابن کے اشتہارات آتے ہیں ۔روندرنام کے ایک نوجوان نے انھیں بتایا کہ جب آپ ڈسکوری چینل پر کسی کو ایناکونڈا پکڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ اینا کونڈا کو پکڑنے میں دنیا کا ماہر ترین شخص ہے۔ گردھر داس نے کہا کہ ’’کسی بہت چھوٹے سے قصبے میں کسی کام کے ماہر ترین شخص کو دیکھنا کسی معجزہ سے کم نہیں ہوتا۔‘‘

روندر ایک کسان کا بیٹا ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے قصبے میں پلا بڑھا ہے ۔ وہ ایک ایسی دنیا سے تعلق رکھتاہے جہاں کسی چیز کو اسی طرح قبول کرلیا جاتا ہے جیسی وہ ہو۔ لیکن اس نے خود کو اوپر اٹھاتے ہوئے  انگریزی اور کمپیوٹر کوچنگ سنٹرز میں داخلہ لیا ۔ آج اس کے پاس اپنی انگلش لینگویج اکیڈمی اور رولر اسکیٹنک رنک ہے۔ جب گردھر داس کی اس سے ملاقات ہوئی تو وہ مہاراشٹر میں ۵۰ ہزار کی آبادی والے اپنے قصبے امرید میں مسٹر اینڈ مس امرید پرسنالٹی مقابلہ کرارہا تھا ۔ گردھر داس نے بتایا ’’ وہ حصول نجات کی خواہش رکھنے والی نئی نسل کے لئے ایک سفیر بن گیا ہے ۔ ‘‘

اس عمل میں ہندوستان کے روندرجیسے نوجوان اپنے آپ میں مطمئن نظر آتے ہیں۔وہ لوگ اپنے پسندیدہ ریستورانوں میں کھانا کھاتے ہیں لیکن گھر کے کھانے کو ترجیح دینے میںشرمندگی محسوس نہیں کرتے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب گر دھرداس کے دادا جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں طاقت کی باگ ڈور ہوتی تھی ۔ ان کے ٹوئیڈ کوٹ،پکی انگریزی اور کلبوں کی ممبر شپ اسی کے ثبوت ہیں۔ گردھر داس نے کہا کہ ’’پرانے لوگ اب بھی جمے ہوئے ہیں لیکن حالات میں ایک واضح تبدیلی آگئی ہے جوکہ ان کی حکمرانی کے دنوں سے الگ ہے اور جودیکھنے اور محسوس کرنے میں زیادہ ہندوستانی ہے اور زمین میں اس کی جڑیں زیادہ گہری اتری ہوئی ہیں۔ ‘‘

اس نسل کے سرپرست سنت یا رول ماڈل شاید صنعت کار مکیش انبانی ہیں۔روندر اپنے لیپ ٹاپ پر گردھر داس کو مکیش امبانی کی ایک ایک تصویر دکھانا چاہتا تھا ۔ امبانی اپنے تجارتی رفقاء کو اپنے ساتھ لے کر مندر جاتے ہیں اور نیو یارک میں جاپانی کھانوں کے لئے مخصوص ریستوراں نوبو میں نت نئے پکوان کھانے کے بعد بھی وہ اصل کھا نے کی آ رزو میں رہتے ہیں۔ 

تاہم صرف امنگ اور کچھ کر گزرنے کاجذبہ اپنے آپ میں کوئی ایسی بھرپور چیز نہیں ہے جس سے اقتصادی زینے پر لاکھوں لوگوں کو آگے بڑھایا جاسکے ۔ گردھر داس نے کہا ’’آپ کے پاس ایسے ورکروں کی افراط ہے جن کو روزگار نہیں ملتا اور دوسری طرف ایسی ملازمتوںکی بھی افراط ہے جن کو ورکر نہیں ملتے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے تعلیمی نظام کو فروغ دیا جائے جو دونوں کومربوط کر سکے۔‘‘

 گردھر داس دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ۔وہ واپس امریکہ آگئے ہیں اور اپنی پی ایچ ڈی مکمل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ان کو خود اعتمادی دی ہے لیکن ہندوستان نے ’’اجتماعیت کا احساس ‘‘دیا ہے۔ ان کا ارادہ مزید کتابیں لکھنے کا ہے۔ لیکن وہ یہ کتابیں صرف ہندوستان کے بارے میں نہیں لکھیں گے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’’میں اتنا جانتا ہوں کہ ہندوستان میری زندگی کا مستقل حصہ ہوگا ۔ میں وہاں دوبارہ رہ سکوں گا ۔ ‘‘

سندیپ رائے کلکتہ میں نیو امریکہ میڈیا کے ایڈیٹر ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط