مرکز
1 2 3

ایک نئی آواز کی دریافت

آئیووا یونیورسٹی کے بین الاقوامی تحریری پروگرام میں چندرہاس چودھری نے مختلف ادبی ثقافتوں میں پائی جانے والی مما ثلتوں اور تفریق پر گفتگو کی۔

ناول نگار ،ناقد اور بلاگ نویس چندر ہاس چودھری شاید دنیا میں واحد قلم کار ہیں جو اپنے پسندیدہ قلم کاروں کے بارے میں کسی سوال کاجواب دیتے وقت ایک ہی جملے میں بنگالی ناول نگار ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے اور امریکی ناول نگار ولاکیتھر کی مثال دیتے ہیں جیسا کہ ہندوستانی ویب جریدہ انٹر جنکشن کے ساتھ گزشتہ سال ایک انٹرویو میں انہوں نے کیا۔

اس طرح کی ثقافتی چیزوں کو پہلو بہ پہلو رکھ کر دیکھناچودھری کے یہاں فطری ہے۔ انہوں نے امریکی ادب میں ایم فل کیا ہے اور ممبئی میں رہتے ہیں۔ یہاں وہ ہر ہفتے کتابوںپر تبصرے لکھتے ہیں اور ایک ادبی بلاگ دی مڈل اسٹیج بھی چلاتے ہیںجس میںپوری دنیا کی کتابوں خاص کر انگریزی میں بہترین ہم عصر ہندوستانی ادب اور اس کے انگریزی ترجمے کے حوالے سے کافی وسعت آئی ہوئی ہے۔ 

چودھری کا پہلاناول ’’ارزی دی ڈوارف‘‘ہے جو حال ہی میں شائع ہوا اور ناقدین نے اسے سراہا بھی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’’انڈیا :اے ٹراولرس کمپینین‘‘ترتیب دیا ہے اور یہ کتاب حال میں ہی شائع ہوئی ہے۔ 

اگست سے نومبر۲۰۱۰تک انہوں نے یونیورسٹی آف آئیووا میں انٹر نیشنل رائٹنگ پروگرام کیلئے ۳۲ملکوں کے دیگر ۳۷قلم کاروں کے ساتھ شرکت کی۔ اس پروگرام کی کفالت کرنے والا اہم ادارہ امریکی محکمہ خارجہ ہے۔ اس بین الاقوامی خامہ رانی پروگرام کے انٹر ویومیں انہوں نے کہا کہ ’’کتابوں کے ناقد ہونے کے ناطے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں عالمی ادب کے بارے میں تھوڑا بہت جانتا ہوںلیکن آئیووا آکر بہت سے شعبوں میں مجھے اپنے علم کو وسیع کرنے اور ایسے خلاف معمول تخلیقی کاموں کو دیکھنے کا موقع ملا جسے بصورت دیگر میں کبھی نہیں دیکھ سکتاتھا۔‘‘ 

نومبر میں چودھری نے آئیووا میں پہنچے ہوئے چار مہمان قلم کاروں کی نظمیںاپنے بلاگ پر ڈالیں۔یہ نظمیں جنوبی کوریا کے کم ساان، نائیجریا کے اسماعیل بالا،نیدرلینڈ میں رہنے والی البانیائی ڈچ شاعرہ البانا شالااور پولینڈ کے میلوسزبیدر زسکی کی ہیں۔

ہندوستانی اورامریکی ادب

آئیووا میں چندر ہاس چودھری کو ہندوستانی اور امریکی ادبی ثقافت کی مماثلتوں اور تضادات کی چھان پھٹک کا موقع ملا۔ وہاں وہ ایک اور چیز کا تجربہ کرسکے جو ان کے لئے نئی تھی یعنی امریکیوںکی بولنے والی زبان کا تجربہ۔ انہوں نے کہاکہ ’’ امریکی لہجے جیسی سادہ سی چیز میرے لئے غیر ملکی تھی اور اب محسوس ہوتاہے کہ وہ لوگ کیسے بولتے ہیں۔ اس لئے اب جب میں کتابیں پڑھتا ہوں تو چیزوں کو اس انداز سے سمجھتا ہوں جس انداز سے اس سے پہلے نہیں سمجھ پاتاتھا۔ ‘‘

چودھری نے کہا کہ ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی انگریزی اس وقت ایک بہت دلچسپ مرحلے میں ہے۔ اور میں اپنے آپ کو اس تحریک کا جز سمجھتا ہوں۔ میری کوشش ایک ایسی انگریزی خلق کرنے کی ہے جو روایتی انداز میں غنائیت سے پر معلوم ہو اور اس کے باوجود ہندوستانی اعتبار سے جدید بھی ہو۔‘‘

چودھری کے خیال میں شاید امریکی اور ہندوستانی ادب کے درمیان سب سے نمایا ںفرق یہ ہے کہ انگریزی ا مریکہ میں ادب پر حاوی زبان ہے جب کہ ہندوستان میں صورت حال اس سے مختلف ہے۔ 

’’انڈیا:اے ٹریولس لٹریری کمپینین‘‘ کے تعارف میں انہوں نے لکھا ہے کہ مجموعی طورپر دیکھیں تو ہندوستانی ادب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ادب اس حد تک کثیرلسانی ہے کہ اس کی نظیر دنیا کے کسی قومی ادب میں نہیں ملتی اور شاید یہی ہندوستانی ادب کی طاقت اور گوناگونی کاسرچشمہ بھی ہے اور ہندوستانی ادب سے پوری طرح گزرنے میں رکاوٹ بھی۔ 

ممبئی اور آئیووا شہر

چودھری اپنے آپ کو ہندوستانی قلم کار بھی سمجھتے ہیں اور فرزند ممبئی بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ممبئی میں موسیقی اور بالی ووڈ کی فلمیں مرتبے میں ادب سے برتر ہیں۔ ’’لیکن ممبئی شاید ہندوستان کا سب سے زیادہ کہانیوں بھرا شہر ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کا بیانیہ کافی زوردار ہے اور میں اپنی تخلیقات میں اسی امکان کو بروئے کار لاتا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ممبئی میں کہانیا ںلکھنے والوں کیلئے کسی بھی وقت کہانیوں کی کمی پڑ ے گی۔‘‘ 

’’ارزی دی ڈوارف ‘‘ممبئی کی کہانی ہے۔ اسی طرح ان کا نیا ناول ’’کلائوڈس ‘‘ بھی ہے۔آئیووا میں اپنے تین مہینے کے قیام کے دوران انہوں نے ’کلائوڈس ‘لکھنا شروع کیا تھا۔ چودھری کو شروع میں لگا کہ ان کے نئے ناول کا لہجہ، خاص کر ارزی کے طربیہ عناصر کے مقابلے میں، بہت ہولناک ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ آئیووا نے ان کے طرز عمل کو بدل ڈالاہو۔ 

انہوں نے کہا ’’وہاں مجھے بہت بڑے پیمانے پر ڈھیر ساری آوازیں سننے کا موقع ملا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’کہ امریکن (انگلش)دوسری قسموں کی انگریزی سے بہت زیادہ بے تکلف ہے۔ اس میںچبا چبا کر بات کرنے جیسی ایک طرح کی آہستگی ہے، ایک طرح کی آسانی ہے جو مجھے بہت پسند آئی۔اور میں اس کتاب میں ایک ایسا دوسراکردار شامل کرنے کی کوشش کررہا ہوں جس کے بولنے کا انداز ذرا سست ہوگا ،آسان ہوگا اور یہ کردار میں آئیووا سے لوں گا۔‘‘

کلاسیکی ناول 

اگر چہ انہیں شبہ ہے کہ وہ کوئی ایسا ناول لکھیں گے جس کا ماحول ہندوستان کے باہر کا ہوگالیکن اس کے باوجودچودھری اپنے آپ کو کم از کم دو خاندانوں کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کاایک خاندان بین الاقوامی قلم کاروں کی ہم عصر برادری ہے اور دوسرا ان ناول نگاروں کا خاندان ہے جنہوں نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ذرا حقیقت پسندی کے زاویے سے لکھتا ہوں۔’’ ارزی دی ڈوارف‘‘ بلیک کامیڈی جیسا ہے۔ ایک طرح کی داستان جو حقیقت پسندانہ تفصیلات میں دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک مضمون میں ادب کی طاقت پر اپنے اعتماد کا بیان کیا ہے جو انہوں نے آئیووا میں پینل بحث کے دوران پیش کیا تھا۔ مضمون کا عنوان تھا ’’کلاسیکل ناول ،آن اے فال مارننگ ان آئیووا سٹی(آئیووا سٹی میں موسم خزاں کی ایک صبح پر کلاسیکی ناول)۔‘‘ 

انہوں نے لکھا کہ ’’ ناول کو وقت کے ساتھ کھیلنا پسند ہے ۔ ایک مختصر سے جملے میں کئی کئی برسوں کابیان ہوجاتا ہے اور صرف ایک دن کے واقعات کو چاہیں توبیان کرنے میں ساری کتاب بھر دیں۔ حقیقت پسند ناول‘ قلم کار اور قاری دونوں کو وقت پرقابو پانے کی طاقت دیتا ہے جس طاقت سے زندگی نے ا نہیں محروم رکھا تھا۔‘‘ 

لیکن چودھر ی نے سیدھاسادا مضمون لکھ کر ادب پر اپنی ساری توجہ کے ارتکاز کو پیش کرکے اطمینان نہیں حاصل کیا، اس کے بجائے انہوں نے مزاح اور سنجیدگی کے اسی دہرے لہجے کو استعمال کرنے کی کوشش کی جس کا استعمال وہ اپنے فکشن میں کرتے آئے ہیں۔ 

انہوں نے اپنا مضمون کچھ اس طرح سے سپرد قلم کیاجیسے یہ تاثر دینا چاہتے ہوں کہ وہ بالکل تیار نہیں تھے کیونکہ پہلے انہوں نے سوچا کہ ان سے ناف کو گھورنے کی پراسرار روایت پر مقالہ پیش کرنے کے  لئے کہا گیا ہے۔ مگر اس لیکچر سے ایک گھنٹہ پہلے انہیں احساس ہوا کہ سامعین ناول کے بارے میں سننا چاہتے ہیں۔ چودھری نے مخاطب اور متکلم سے الگ تیسرے فرد کی حیثیت سے اپنا یہ مضمون لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں یہی کام سونپا گیا تھا۔

مضمون لکھنے کی سراسیمگی میں چودھری نے ناول کی اس اہلیت کے بارے میں سوچا جس سے ناول‘زندہ کردارتخلیق کرنے، یادوں کو جگانے اور قارئین کو کوئی کتاب پڑھنے کی جگہ ایک متبادل زندگی دیکھنے کا قائل کرنے کا اہل بن جاتا ہے۔ 

مضمون کے خاتمے پر انہوں نے محسوس کیا کہ ڈیجیٹل ٹکنالوجی اور قلم کار کے تخیل کے پر اسرار ادغام کی وجہ سے ان کے یہ خیالات ضبط تحریر میں آئے اور سامعین میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’چودھری نے اس دن کے ،اور واقعی خود اپنی زندگی کے بھی، حیرت انگیز اچھے مقدر کو ضبط تحریر میں لانے میںکچھ لمحات لئے۔ اور اس طرح وہ پھر ایک بار ایک کہانی لکھنے سے بچ گئے۔‘‘ 

ہاورڈ سنکوٹا امریکہ ڈاٹ جی او وی سے وابستہ خصوصی نامہ نگار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط