مرکز
1 2 3

ایک نو وارد خیال

کویتا شُکلا کی ایجاد فریش پیپر پھلوں اور سبزیوں کو طویل عرصے تک تازہ رکھنے کے علاوہ غذائی اشیاء کی بربادی کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

ٹائم میگزین کے ذریعہ حال ہی میں خوراک اور مشروبات کے زمرے میں پانچ سر فہرست اختراعی خواتین قرار دئے جانے والوں میں سے ایک کویتا شُکلا نے کھانوں کو محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ  فریش پیپر  ایجاد کیا ہے جو پھلوں اور سبزیوں کو تازہ رکھنے کے روایتی طریقوں سے چار گنا زیادہ وقت تک خوردنی اشیا ء کو تازہ رکھ سکتا ہے۔شُکلا کی یہ ایجاد اس قدر با وسائل ہے ، گویا کہ یہ کوئی مشین ہو۔اسے اگر فرج کے دراز ، بیری کے ڈبے، سلاد کے تھیلے یا پھل کے کٹورے میں رکھ دیا جائے تو اس کی موجودگی اشیا ء کی ترو تازگی کی مدت میں نمایاں طور پر اضافہ کر دیتی ہے۔  

اس ایجاد کا سبب کیا تھا؟ اس کا تعلق شُکلا کے بچپن سے ہے ، خاص کر چنئی میں نانی امّاں کے گھر کے ان کے دورے سے۔ وہاں امی کی تنبیہ کے باوجود شُکلا نے ایک بار غلطی سے نل کا پانی پی لیا۔ نل سے پانی پینے کے بعد انہیں فکر ہوئی کہ کہیں وہ بیمار نہ پڑ جائیں ۔ ان کی نانی امّاں نے شُکلا کو پریشان دیکھ کر مختلف مسالوں سے تیار ایک کپ چائے انہیں پینے کو دی۔ شُکلا نے وہ کثیف آمیزہ پیا ۔ اور اپنے شبہات کے باوجود وہ بیمار نہیں پڑیں۔ 

جب وہ امریکہ میں اپنے گھر واپس گئیں (اس وقت ان کی عمر ۱۲ برس تھی)توانہوں نے مسالوں کے حفاظتی آمیزے کے ساتھ تجربہ شروع کیا ۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ آمیزہ پھپھوند اور کُکُر متے کی نشو ونما کی رفتار میں کمی لاتا ہے۔ ایک دن جب وہ اپنی امی کے ساتھ اسٹرا بیری خرید رہی تھیں تو انہیں بغیر پھپوند والی اسٹرا بیری سے بھرا ڈبہ تلاش کرنے میں خاصا پریشان ہونا پڑا۔ اس وقت انہیں خیال آیا کہ کیسا ہو اگر اسٹرا بیری کوآمیزے میں ڈبویا جائے۔انہوں نے ویسا ہی کیا اور پایا کہ آمیزے میں ڈبوئی ہوئی بیری دیگر بیریوں کی بہ نسبت زیادہ وقت تک ترو تازہ رہی۔ 

شُکلا نے ہائی اسکول کے دوران اپنا زیادہ تر وقت اپنے گیریج میں اسی نوعیت کا تجربہ کرتے ہوئے گزارا اور آخر کار وہ اپنے تیار کردہ آمیزے میں کاغذ کو بھگونے میں کامیاب رہیں۔ اس طور پر ۱۷ برس کی عمر میں ان کے نام فریش پیپر پیٹنٹ  تھا اور وہ ریاست  مسا چیوسٹس کے شہر کیمرج میں واقع ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے تیار تھیں ۔ مگر اب تک یہ پیداوار بازار تک نہیں پہنچی تھی، خیال تک ہی محدود تھی۔ اس کے لئے ایک اضافی کوشش درکار تھی۔ ایسے میں شُکلا اور ان کی پارٹنر ڈاکٹر سوروپ سامنت نے اپنے ہاتھوں سے فریش پیپر  کا ایک دستہ تیار کیا اور اسے بوسٹن میں مقامی کسانوں کے بازار تک لے گئے۔ اس پہل کے نتیجے میں  فریش پیپرنے رفتار پکڑی اور اب تو اسے ۳۵ ملکوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اسٹارٹ اپ کی اختراعی مصنوعات کو آمیزن کے لاکھوں گاہکوں تک پہنچانے کا کام کرنے والے آمیزن کے عالمی پروگرام لانچ پیڈ کے ذریعہ پہلے پہل فروخت کئے جانے والی چند مصنوعات میں سے ایک پیداوار  فریش پیپربھی تھی۔  فریش پیپرکی کامیابی نمایاں رہی مگر اس کی ماحول دوستی ہی ہے جس نے کمپنی کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ فریش پیپر کوشکلا کی شراکت میں قائم سماجی کاروباری ادارہ  فینو گرین کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے اور بازار تک پہنچایا جاتا ہے۔وہ اس کی چیف ایکزیکٹو افسر کی خدمات بھی انجام دے رہی ہیں۔ 

یہ افسوس کی بات ہے کہ عالمی سطح پرکھانے کی پیداوار کا ۲۵ فی صد حصہ برباد ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ایک اعشاریہ چھ بلین افراد کی رسائی ریفریجریٹر تک نہیں ہے۔ایسے ہی لوگوں کے مسائل سے نمٹنے کے لئیفریش پیپر ایک کم تکنیک والا سستا حل ہے۔دراصل اس ایجاد کا کم تکنیکی پہلو ہی اسے ایک دلچسپ اختراع بناتا ہے۔اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اسے کہیں بھی کم قیمت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 

خو ردنی اشیاء کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے میں مدد کرتے ہوئے  فریش پیپر صرف کھانوں کو بڑے پیمانے پر برباد ہونے سے ہی محفوظ نہیں رکھتا بلکہ یہ صارفین کو زیادہ سے زیادہ مقامی اور نامیاتی کھانوں کا موقع بھی فراہم کر سکتا ہے جو کیڑے مار دواؤں اور حفاظتی دواؤں سے بھرے نہیں ہوتے ۔ لہٰذا  فریش پیپرکے نامیاتی اور خوردنی اجزاء ان کی جگہ لے سکتے ہیں اور ان کی بہ نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ 

صرف ایک ہزار ڈالر (تقریباََ ۶۸۰۰۰ روپے )سے آن لائن اور کسی باہری امداد کے بغیر شروع کیا گیا  فریش پیپر ایک ایسی مثال ہے جو صنعت سازوں کو بیک وقت عالمی سطح پر اور مقامی سطح پر بھی غور و فکر کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ بوسٹن میں پھیلنے سے پہلے فریش پیپر کو مضبوط آن لائن موجودگی کی وجہ سے شُکلا اور سامنت متعدد ملکوں میں بھیجا کرتے تھے۔ عالمی سطح پر اس کی فروخت نے کمپنی کی ان دنوں میں مالی اعتبار سے کافی مد د کی جب اس کے بَرینڈ کو ترقی کرنے اور اپنے گاہکوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت تھی ۔

بڑے آن لائن خوردہ فروشوں اور دیگر اسٹوروں کے ذریعہ کامیابی ملنے کے بعد  فریش پیپر کا اگلا قد م اب کھانوں کی تقسیم کرنے والے نظام میں اپنا اثر ڈالنا ہے جہاں اسے کھانوں کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے میں اہم تعاون فراہم کرنا ہے ۔ 

ٹریور لارینس جوکِمس نیو یارک یونیورسٹی میں تحریرو ادب اورعصری ثقافت کی تعلیم دیتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط