مرکز
1 2 3

ہندوستان میں نوخیز کمپنیوں کا فروغ

اس مضمون میں آئی وی ایل پی سے سرفراز یَتِن ٹھاکر  ہندوستان کی اسٹار ٹ اپ تحریک کو فروغ دینے کے اپنے تجربے میں قارئین کو بھی شریک کرتے ہیں۔ 

ہندوستان کی کاروباری تنظیم کاری کی تحریک میں یَتِن ٹھاکر ایک نئے بڑے کھلاڑی کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس میدان میں انہوں نے اسی وقت قدم رکھ دیا تھا جب وہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے۔وہ اب تک سات سے زیادہ نوخیز کمپنیوں کی بنیاد رکھ چکے ہیں ۔ 

انہوں نے ہندوستان میں اسٹارٹ اپ ویک اینڈ  تقریبات کو نئی بلندیاں عطا کیں ۔ ان تقریبات کے دوران شرکاء نئی نوخیز کمپنیوں کی شروعات سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ،خیالات کو بروئے کار لانے کے لئے ٹیم بناتے ، ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کا چھوٹا ماڈل تیار کرتے اور اس کی نمائش بھی کرتے ہیں ۔ یہ تمام کام صرف ۵۴ گھنٹوں کے دوران انجام پاتا ہے۔ ٹھاکرنے اسٹارٹ اپ انڈیا نامی کمپنی کو شراکت میں قائم کیا جو کاروباری پیشہ وروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے تاکہ ہندوستان کے سب سے بڑے مسائل میں سے بعض کا حل تلاش کرسکے۔  

واشنگٹن ڈی سی کو مرکز بنا کر سرگرم  گلوبل انٹر پرینر شپ نیٹ ورک(جی ای این )نے ٹھاکر کو جون ۲۰۱۶ ء میں اپنی نئی معاون کمپنی جی ای این انڈیا کے کارگزار مینیجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے چنا۔ ٹھاکر اس کمپنی میں اپنی تجارتی اختراعیت، ترقیاتی طرز فکر اور کاروباری تنظیم کاری لے کر پہنچے۔

 جی ای این کے پریزیڈینٹ، جوناتھن اَورٹ مانس  ہندوستان کی موجودہ حکومت کو کاروباری پیشہ وری کے فروغ کا شاندار اور فعال حامی قرار دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’’ہم اس کام میں مدد رسانی کے لئے اور ہندوستان کواس نوع کی عالمی تحریک سے منسلک کرنے کے لئے بیتاب ہیں جس کی رسائی ۱۶۰ ممالک تک ہے۔‘‘ 

ٹھاکر ہندوستان کے کاروباری پیشہ وروں کے لئے ایسا ماحولیاتی نظام قائم کرنا اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے ہیں جس میں’’ کاروباری ناظموں کو سرمایہ کاروں اور گاہکوں کے علاوہ حکومتی ، قانونی ، تکنیکی اور تجارتی ماہرین تک رسائی حاصل ہو سکے۔ـــ‘‘

ٹھاکر جی ای این انڈیا  کا سربراہ رہتے ہوئے  ۲۰۱۷ ء کی گلوبلانٹر پرینر شپ چوٹی ملاقات کی منصوبہ بندی میں بھی سرگرم کردار نبھائیں گے۔ اس کا آغاز ۲۰۱۰ ء میں صدر بارک اوباما نے پوری دنیا میں کاروباری نظامت کی مدد کے لئے کیا تھا۔ٹھاکر نے بتایا کہ ۲۰۱۷ ء میںہونے والی  گلوبل انٹرپرینر شپ سَمِٹ ہندوستان میں منعقد ہوگی جس میں ’’ بڑی تعداد میں کاروباری پیشہ وروں کو ہندوستان کی جانب راغب کیا جائے گا اور خیالات کے عالمی تبادلے کے لئے عالمی سطح پر ہندوستان کی موجودگی درج کرائی جائے گی۔ ‘‘

ٹھاکر خود کو معاشرتی کاروباری پیشہ ور کہتے ہیں۔ تجارت میں۱۳ برس کاان کا عملی تجربہ شہری اور دیہی دونوں طرح کے ماحول میں ان کی ترقی کے تسلسل کا انکشاف کرتا ہے ۔ یہ اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ’’ ملک گیر پیمانے پر چھوٹے سے چھوٹے قصبے میں بھی تمام کاروباری پیشہ وروں کو ایک ایسا نظام فراہم کیا جائے جو وہاں ایسے ماحولیاتی نظام کے فروغ کا باعث بنے جس میں وہ اپنا ادارہ قائم کرنے کے لئے نیٹ ورک کا استعمال کر سکیں، خواہ وہ دست کاری کا کوئی کاروبارہو یا صحت و صفائی اور پانی تک رسائی کے مسئلے کو حل کرنے کا معاملہ ہو۔‘‘ 

ٹھاکر کی اسٹارٹ اپ کمپنی آپٹا میز کارپوریٹ سولیوشنس پرائیویٹ لیمیٹیڈ  ہندوستانی نوجوانوں کو تربیت دینے کے لئے اور بیمہ ایجنٹوں یا سیکوریٹی گارڈوں کی حیثیت سے ملازمت حاصل کرنے کے لئے انہیں بنیادی مواصلاتی اور صنعتی ہنر مندیوں سے واقف کرانے کی نیت سے ۲۰۰۷ ء میں قائم کی گئی تھی۔بہت کم عرصے میں ترقی کرکے یہ کمپنی ۱۰ ملین ڈالر (تقریباََ۶۷ کروڑ روپے)مالیت والی کمپنی بن گئی۔ اس کے بعد  ۲۰۰۸ء میں ٹھاکر نے گرامین موبیا سوشل انٹر پرائز قائم کی جس کا مقصد موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعہ کسانوں کو با اختیار بنانا ، اسٹاک کی قیمت ،مٹی کی رپورٹ،زمین سے متعلق تفصیلات، فصل کے ڈھرے اور موسم سے متعلق اطلاعات تک رسائی دلانا تھا۔پھر۲۰۱۱ء میں ٹھاکر نے کسی کے ساتھ شراکت میں مون لائٹنگ دہلی قائم کی۔۲۰۱۳ ء میںٹھاکر نے اسٹارٹ اپ ویک اینڈ  تقریبات پر کام کرنا شروع کر دیا تھاجہاں’’ آپ کسی خیال کے ساتھ آ سکتے تھے اور اختتام ِ ہفتہ ایک اسٹارٹ اپ کے ساتھ واپس جا سکتے تھے۔‘‘

جن کاروباری پیشہ وروں نے اسٹارٹ اپ ویک اینڈ میں شرکت کی وہ اپنی کمپنیوں کے لئے اضافی مدد کی غرض سے ٹھاکر کے پاس دوبارہ آنے لگے۔ 

۲۰۱۳ ء میں ٹھاکر نے اپنی اسٹارٹ اپ کمپنی کو وَرک اِن  شروع کی جس کا مقصد’’ نوخیز معیشت کو دفتر کے لئے سستی جگہ کے علاوہ ایسا طبقہ فراہم کرنا تھا جو ان کے خیالات کی توثیق کرسکے اور ان کے چھوٹے کاروبار کو بڑھانے میں ان کی مدد کرسکے۔‘‘وہ بتاتے ہیں کہ او وائی او رومس   اور  اربن کلَیپ جیسی کروڑوں ڈالر والی کمپنیاںایسے ہی ماحول اور مقامات کی دَین ہیں۔   ٹھاکر اپنی کمپنیوں کو بر قرار رکھنے اور انہیں بڑھانے کی اپنی جد وجہد کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’میری رسائی سرمایہ تک نہیں تھی، نہ ہی میرے پاس ایسے احباب تھے جو مجھے تحریک دیتے یا میری مدد کرتے۔‘‘اس لئے انہوں نے نوجوانوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ وہ ذہنی طور پر ’’اسی کیفیت سے گزر رہے تھے جس سے میں ۱۶ برس کی عمر میں دو چار ہوا تھا۔ ‘‘

امریکی وزارتِ خارجہ کی ایما پر ۲۰۱۵ء میں آئی وی ایل پی میں شرکت کے لئے امریکہ کے دورے کے دوران انہوں نے خود اپنے کام کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے اس پر غور کیا کہ ہندوستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی تعریف کرنے کے سلسلے میں وہ کیا کرسکتے ہیں۔انہوں نے ایسے امریکی شہروں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں جانا جو شہری اختراعات کے لئے ٹیکنالوجی کو اختیار کر رہے تھے اور یہ بھی معلوم کیا کہ ان کے مسائل موثر ڈھنگ سے حل کرنے کے لئے کس طرح حکومت ، صنعتیں ، تعلیمی ادارے اور افراد ذاتی حیثیت میں مربوط ہوسکتے ہیں۔ تبادلے کے اس تجربے سے ٹھاکر کو اس بات کا بھی یقین ہوگیا کہ ’’کسی ماحولیاتی نظام میںمعاملات سے تعلق رکھنے والے مختلف لوگوں کے درمیان اشتراک وتعاون کی طاقت کا بڑا اثر پڑتا ہے اور اختراعی ماحول تیا رہوتا ہے۔‘‘

اس کے بعد کاروباری پیشہ وری کی تبدیلی لانے اور فرق پیدا کرنے کی طاقت کی تعریف کرتے ہوئے ٹھاکر نے ایک سیدھا سادا فلسفہ اپنایا : ’’ آپ اگرکاروباری تنظیم کار بننا چاہتے ہیں تو آپ کو ڈھیرساری مدد کی ضرورت ہے اور مدد حاصل کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ دوسروں کی مدد کریں۔‘‘

ہلیری ہو پیک کیلی فورنیا کے اورِنڈا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ، ایک اخبار کی سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط