مرکز

اسپین بلاگ

بین ثقافتی تعلیمی نظام
ارپتا چٹرجی مکھوپادھیائے
| زمرہ: امریکہ ۔ہند تعلقات

اس مضمون میں اسٹڈی آف دَ یونائیٹیڈ اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ کی سابق طالبہ ارپتا چٹرجی مکھوپادھیائے امریکہ میں اپنے ایکسچنج پروگرام کے بارے میں بتا رہی ہیں۔
 
میں خوش نصیب تھی کہ مجھے امریکی محکمۂ خارجہ کی کفالت والے اورریاست کینٹکی میں لوئی ولے یونیورسٹی کی میزبانی والے اسٹڈی آف دَ یونائیٹیڈ اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ کے تبادلہ پروگرام میں مقدّم ساجھی دار کے طور پر منتخب ہونے کا موقع ملا۔ 
 اس میں دنیا کے مختلف حصوںسے۱۷ شرکاء موجود تھے اور اس پروگرام نے ہمیں متنوع ثقا فتی ، تاریخی اور سیاسی پس منظر والے لوگوں کے ساتھ تبادلہ ٔ خیال کرنے کا ایک منفرد موقع عطا کیا۔ 
 
ایکسچینج پروگرام کا اہتمام معاصر امریکی ادب کے نقطہ نظر سے شرکا ء کو امریکی معاشرے اور ثقافت کی عمیق تفہیم فراہم کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔اس کا انعقاد اہم لکھنے والوں ،مکتب ِ فکر اور تحریکوں کی قدر کا تعین کرنے اور ان سے متعلق مباحثے کثیر لسانی ، کثیر ثقافتی اور ما بعد جدید یت کی مختلف ادبی شکلوں کے امکانات اور روایت کے افہام و تفہیم کی غرض سے کیا گیاتھا۔ 
 
آرٹ، فن ِتعمیر اور ادب میںمابعد جدیدیت پر ہماری بات چیت مؤثر طریقے سے اس رجحان کے براہ راست تجربہ کے ساتھوابستہ تھی۔مثال کے طور پر لوئی ولے میں ہمیں شہر کا دورہ کروایا گیا جس میں ہوٹل سیل باچ جیسا تاریخی مقام شامل تھا جو ایف اسکاٹ فٹز گیرالڈ کے دَ گریٹ گیٹس بی سے منسلک ہے ۔ ہمارے اس دورے میں ہیومانا بلڈنگ بھی شامل تھی جوما بعد
جدیدیت کے فن تعمیر کاایک ابتدائی نمونہ ہے ۔
 
  سیمینار سیشن اور انفرادی تحقیقی سرگرمیوں کے علاوہ ایکسچینج پروگرام میں کیلی فورنیا اور اوہائیو میں سان فرانسسکو اور لاس اینجلس کا فن تعمیر کے موضوع کے لحاظ سے ا سٹڈی ٹور شامل تھا۔تیسرے ہفتے میں ہم سان فرانسسکو کے پہلے تربیتی دورے پر روانہ ہوئے۔ہمیں شہر کے مختلف حصوں کے بارے میں وضاحتی دورے کے لئے لے جایا گیا۔اہم نشانیوں اور یادگار والے جس راستے سے ہمیں لے جایا گیا اسے ناول دَ کرائنگ آف لاٹ ۴۹ کے مصنف تھامس پِنچَن نے چنا تھا جو فسانہ اور حقیقت کا سنگم ہے ۔ یہ اس دورے میں روح پھونکنے والا تجربہ تھا۔ہم نے ادب اور فنون ِ لطیفہ میں بیٹ موومینٹ کا مرکز رہی کتابوں کی مقبول دکان سٹی لائٹس کا دورہ کیا۔  
 
اسٹڈی ٹور کے درمیان بلند درجے کے تعلیمی تبادلے بھی شامل تھے۔ سان فرانسسکو میں ہمارے قیام کے دوران برکلے میں واقع کیلی فورنیا یونیورسٹی کا دورہ بھی شامل تھا جہاں ہم نے جنگ کے بعد کے ادب اور  بین لرنر، جھمپا لہری اور میکسین ہانگ کنگسٹن جیسے مصنفین سے متعلق سیمینار میں حصہ لیا۔سان فرانسسکو میں مشہور چائنا ٹاؤن کے دورے نے ہمیں عصری امریکی ادب کے کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی طول و عرض کے بارے میں بہتر تفہیم فراہم کی۔ ہم سیّاحوں کی توجہ کا ایک اہم مرکز فشر مینس وہارف میں یومِ آزادی کے دن موجود تھے۔ وہاں کی آتش بازی اور شرکاء کا قابلِ دید جوش آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ سان فرانسسکو کا دورہ معاصر امریکی ادب میں زمان و مکان کی تبدیلی کے ارد گردہی بنا گیا تھا۔
 
ہم  پَیسیفِک کوسٹ ہائی وے کے ذریعے ایک چارٹرڈ بس میں ۵ جولائی کوسان فرانسسکو سے لاس اینجلس کے لئے روانہ ہوئے۔یہ ایک بہترین تجربہ تھا جب سمندر کے ساتھ سفر کرتے ہوئے بے شمار رنگ اور محل ووقوع تبدیل ہوئے۔ ہم  ہرسٹ کیسل میں ٹھہرے جوفراوانی کے عہدکی وصیت کے ساتھ ما بعد جدیدیت کے فن لطیفہ کی پیش بندی ہے۔ شہر میں ہم لوگوں نے ھسپانوی ادب اور ثقافت پر کئی سیمینار میں بھی شرکت کی۔اس دوران ہمیں ایوارڈ یافتہ مصنف  پرسیول ایوریٹ سے ان کے کام کے بارے میں بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ 
 
اس کے علاوہ ایک اور دلچسپ تعلیمی تبادلہ لاس اینجلس ریویو آف بوکس کے مدیران ٹام لوٹز اور ایوان کِنڈلے کے ساتھ ہوا جنہوں نے نئے میڈیا ادب ، عصر حاضر کی کتابوں کا جائزہ لینے اور امریکی غیر افسانوی ادب میں کئی نئی تبدیلیوں پر تبادلہ ٔ خیال کیا ۔ 
 
لاس اینجلس کے دورے میں ہالی ووڈ کا اس کے مکمل شان و شوکت کے ساتھ دورہ بھی شامل تھا۔مابعد جدیدیت کے نظریہ ساز وں ایڈوارڈ سوجا اور فریڈرک جیمسن کی وجہ سے معروف ہوئے  دَ ویسٹن بونا وینچر ہوٹل اینڈ سوئٹ کا جائزہ لینا ایک منفرد تجربہ ثابت ہوا۔ اور لاس اینجلس کے سفر نے معاصر امریکی ادب کے مد نظر ادبی مستقبل، مختلف نسلی گروہوں اور ماحولیات سے جڑے مسائل کی تفہیم کا موقع فراہم کیا۔
 
  لوئی ولے سے واپسی کے دوران ہم ریاست اوہائیو کے سنسناٹی میں واقع قومی زیر زمین ریلوے فریڈم سینٹر کے ایک روزہ دورے پر گئے۔ یہ دورہ ٹونی موریسن کے ناول بی لویڈ کے ہماری نسل اور تاریخ کے سوالات کے حوالے سے جڑے مطالعہ کے سلسلے میں تھا۔ 
 
واشنگٹن ڈی سی کا ہمارا آخری تربیتی دورہ تعلیمی اور سرکاری دونوں نوعیت کا تھا۔ وہاں ہم خوب چلے اور یادگاروں اور عجائب گھر جیسے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی یادگار، کوریائی جنگ کافوجی میموریل، ویت نام فوجی میموریل اور لنکن میموریل کو دیکھا۔لائبریری آف کانگریس میں گُٹن برگ بائبل کا نظارہ متاثر کن تھا۔ واشنگٹن ڈی سی کی میری سب سے شاندار یادوں میں نیشنل گیلری آف آرٹ میں اصل شاہکاروں کو دیکھنے کا تجربہ ہے۔ امریکی محکمہ ٔ خارجہ کے ایک نمائندے کے ساتھ تبادلۂ خیال کے ساتھ ہمارے دورہ اختتام پزیر ہوا جہاں ہمیں اس تبادلہ پروگرام میں شرکت کی سندبھی دی گئی۔  
 
تبادلہ پروگرام لوئی ولے یونیورسٹی کلب میں الوداعی ڈنر کے ساتھ ختم ہوا جو پروگرام کے شرکاء کے ساتھ میزبانوں کے لئے بھی ایک جذباتی واقعہ بن گیا۔ میزبان ادارے سے سند کے علاوہ ہمیں ریاست کینٹکیکے گورنر اسٹیو بے شیئر نے کینٹکی کرنل اعزاز سے نوازا۔ تبادلہ پروگرام نے مجھے امریکہ میں اپنے مساوی لوگوں کے ساتھ تعلیمی تبادلہ سے سیکھنے، اپنے انفرادی تحقیقی منصوبے پر کام کرنے اور متنوع قومیتوں والے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دیرپا تعلق قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔
 
 ارپتا چٹرجی مکھوپادھیائے مغربی بنگال کی بردوان یونیورسٹی میں انگلش اورکلچرل اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ میں ایسو سی ایٹ پروفیسر ہیں۔
 

تبصرہ کرنے کے ضوابط