مرکز

پانی سے پہچان بنانا

امریکہ کی پانی کی تکنیک والی کمپنی زائیلیم پانی کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کے علاوہ آبی آلودگی کو کم کرنے پر بھی توجہ دیتی ہے تاکہ تمام لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب کروایا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی عالمی آبی ترقیاتی رپورٹ۲۰۱۸ کے مطابق پچھلی ایک دہائی کے دوران پانی کی کھپت میں سالانہ ایک فی صد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے کئی اسباب ہیں مثلاََ آبادی میں اضافہ ، معاشی ترقی اور پانی کے استعمال کے طریقوں میں تبدیلی۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے ’’ مستقبل میں بھی پانی کی کھپت میں بڑا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ پانی کی مانگ میں زیادہ تر اضافہ ان ملکوں میں ہوگا جہاں کی معیشت یا تو ترقی پذیر ہے یا ابھی پروان چڑ رہی ہے۔‘‘ 

ان حالات میں یہ بات بہت ضروری ہو جاتی ہے کہ ہم دستیاب پانی کا استعمال مؤثر انداز میں کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانی کی برباد ی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ادارے اور محققین اپنی توجہ چست درست آبی تکنیک پر زیادہ سے زیادہ مرکوز کر رہے ہیں۔ 

زائیلیم ایک ایسا ہی ادارہ ہے( جس کا دفتر نیویارک میں واقع ہے)جو پانی سے متعلق چابکدست تکنیک بہم پہنچاتا ہے۔ یہ دنیا بھر کے صارفین کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مختلف حالات میں پانی کو بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا سکیں ، اس کی جانچ کرسکیں اور اسے پینے کے لائق بنا سکیں۔ 

انڈیا ان ۱۵۰ سے زائد ملکوں میں سے ایک ہے جہاں کمپنی محفوظ پینے کے پانی کے علاوہ اس کے انتظام اور انصرام میں مصروف ہے۔  زائیلیم واٹر سولوشنس انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ  کا قیام ۲۰۱۱ء میں عمل میں آیا۔  زائیلیم انڈیا میں انتظامی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائزایچ بالاسبرامنیم بتاتے ہیں ’’انڈیا میں پانی کے مسئلہ کو حل کرنا کمپنی کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔فی الحال کمپنی کے  ٹیکنالوجی سینٹر کیمپسیس وڈودرا اور بنگالورو میں واقع ہیں۔وڈودرا میں کمپنی کی جدید ترین اسمبلی اینڈ ٹیسٹنگ فیسیلٹی بھی ہے۔ اس کے علاوہ بنگالورو، نوئیڈا ، تھانے اور پونہ میں سیلس آفیسیز بھی ہیں ۔‘‘

بالا سبرامنیم زور دے کر کہتے ہیں کہ کمپنی کی مصنوعات اور خدمات پانی کے پورے دَور پر محیط ہیں.....یعنی فاصل آب سے لے کر عوامی استعمال ، صارف اور پھر نیا دَور۔ وہ بتاتے ہیں ’’ہم پانی کو منتقل کرتے ہیں ، اس کی صفائی کرتے ہیں ، تجزیہ کرتے ہیں ، نگرانی کرتے ہیں اور پھر اسے فضا میں واپس پہنچادیتے ہیں۔اس پورے عمل کے دوران ہم عوامی افادیت کے وسیلے بہم پہنچاتے ہیں اور اسے صنعتی علاقوں ، رہائشی علاقوں اور تجارتی مراکز میں دستیاب کراتے ہیں ۔ ہماری اختراعی تکنیک ، آلہ جات اور مہارت پانی کا کام کرنے والوں کو پانی کا مؤثر انتظام اور انصرام کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس سے پانی سستا ہوتا ہے،اس کی رسائی آسان ہو جاتی ہے اور طبقات پانی کی فکر اور اس کی عدم دستیابی کے خوف سے آزاد ہوجاتے ہیں۔‘‘

آبی آلودگی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے زائیلیم کے پاس کئی مصنوعات اور نظام ہیں جن سے پانی کی مانگ کی تکمیل اور گندے پانی کو صاف کرنے جیسے مسائل کے حل شامل ہیں۔ پانی سے توانائی کا پیدا کرنا بھی کمپنی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ بالا سبرامنیم بتاتے ہیں ’’کمپنی نے ۳۵ برسوں کے دوران تمام دنیا میں آبدوز ٹربائن کے ذریعہ ماحول دوست اور

 قابل ِ تجدید آبی توانائی کی پیداوار کی حمایت کی ہے۔ ان ٹربائنس کو چھوٹے ہائیڈرو پلانٹکی ضرورت کے اعتبار سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ضرورت کے اعتبار سے آسانی کے ساتھ ڈھل جاتی ہیں ، ان کی تنصیب میں شروع میں بہت کم سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ یہ دیر پا  اور بھروسے مند ہیں اور انہیں بہت کم بالائی تعمیر درکار ہوتی ہے۔‘‘ 

کمپنی اپنے غیر سرکاری تنظیمی شریک کار  پلانٹ واٹر فاؤنڈیشن کے ساتھ قریبی شراکت میں پورے ملک میں اسکولوں ، طبقات اور گھروں میں محفوظ پینے کا پانی بہم پہنچانے اور حفظانِ صحت کی تعلیم سے متعلق فعال ہے۔ دونوں نے مشترکہ طور پر صاف پانی کے مقامی سسٹم کی تنصیب کی ہے جس سے ایک لاکھ ۱۶ ہزار افراد استفادہ کر رہے ہیں۔ 

واٹر مارک نامی اپنے  کارپوریٹ سٹیزن شپ پروگرام کے تحت کمپنی نے  مَینچسٹر سٹی فٹبال کلب اور  پلانیٹ واٹر فاؤنڈیشن کے اشتراک سے بنگالورو میں دو سرکاری اسکولوں میں صاف پانی چھاننے والے ٹاور تعمیر کرنے میں مدد کی ہے۔

بالا سبرامنیم کہتے ہیں ’’اس سے طویل مدت تک آس پاس کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی رسائی ممکن ہو سکے گی۔ پورے ہفتے کئی تنظیموں نے مقامی  سٹیزنس گیونگ این جی او پارٹنر، میجِک بس کے ساتھ مل کر نوجوان لیڈروں کو تربیت دی تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ کس طرح آبی حفظانِ صحت اور صفائی ستھرائی کو فٹبال کے ذریعہ سکھایا جا سکتا ہے۔ ‘‘

زائیلیم مغربی بنگال میں اپنے این جی او پارٹنر، واٹر فار پیپُل کے ساتھ مل کر ضرورت مند طبقات کو اعلیٰ معیار کا پینے کا پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات مہیا کراتی ہے۔زائیلیم واٹر مارک کے مالی عطیہ کی بدولت واٹر فار پیپُل نے ریاست میں ۴ لاکھ افراد کو قابلِ اعتماد پینے کا محفوظ پانی فراہم کیا ہے۔ 

 

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم صحافی ہیں ۔ وہ افسانوی ادب کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط