مرکز

ہمیشہ دستیاب پانی

نیکسَس تربیت یافتہ ہائیڈروٹیک سولوشنز شمسی توانائی کی مدد سے پانی صاف کرنے کا حل پیش کرتا ہے تاکہ طبقات کوہر وقت پینے کے صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی کی جا سکے۔ اس میں یہ التزام ہے کہ ہر شخص پانی لیتے وقت انفرادی طور پر اس کے لیے ادائیگی بھی کرے۔ 

پینے  کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک اے ٹی ایم؟ تھوڑا عجیب تولگتا ہے؟ لیکن یہی وہ چیز ہے جسے کاروباری پیشہ ور نوین گپتا اور ریتو پرنا داس کی کمپنی  ہائیڈرو ٹیک سولو شنز نے تیار کیا ہے تاکہ مختلف طبقات تک انتہائی ضرورت کا حامل پینے کا صاف پانی آسانی کے ساتھ دستیاب کروایا جا سکے۔ 

گپتا نے سول انجینئرنگ میں بی ٹیک کرنے کے ساتھ آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے ایم بی اے بھی کیا ہے جب کہ داس سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ انہیں پانی کے اے ٹی ایم کا خیال کیسے آیا ؟ اس کے بارے میں گپتا بتاتے ہیں ’’ کالج کے زمانے میں ہاسٹل میں رہتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے پینے کے پانی سے متعلق مسئلہ کا تجربہ کیا۔ چند برسوں بعد جب میں ایک پانی صاف کرنے والی کمپنی کے ساتھ کام کر رہا تھا تب مجھے کرناٹک کے ایک گاؤں کے لیے طبقات کی خاطر پینے کے پانی کے منصوبے کے قیام کا موقع ملا۔اس دوران میں نے جانا کہ ملک کے دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران کتنا شدید ہے۔ اور ہم شہروں میں دستیاب وافر پانی کو مشکل ہی سے اہمیت دیتے ہیں۔ ‘‘ 

گپتا کو اس بات کا علم بھی ہوا کہ طبقات کو پینے کا صاف پانی مہیا کروانے والے یہ منصوبے تربیت یافتہ نگراں افراد کی کمی کی وجہ سے تھوڑے ہی عرصے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ بار بار بجلیگُلہونے کی وجہ سے بھی ایسے منصوبوں کا کام کاج متاثر ہوتا ہے۔ 

انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔کالج کے دوستوں سے رابطہ سازی کرنے اور ان سے اپنے خیالات بانٹنے کے نتیجے میںکولکاتہ میں واقع  ہائیڈرو ٹیک سولو شنز کا قیام عمل میں آیا۔ گپتا بتاتے ہیں ’’ ۱۰ ماہ میں ہم ایک چھوٹا نمونہ سسٹم تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ہم نے اس کا نام اروسیہ رکھا جو لفظ امبروسیہ سے مستعار لیا گیاہے جس کا مطلب دیوتاؤں کا کھانا ہے۔‘‘ 

پانی صاف کرنے کے اروسیہ سسٹم میں روایتی طبقاتی پینے کے صاف پانی والے سسٹم کے مقابلے کچھ انوکھی خصوصیات بھی ہیں۔داس بتاتے ہیں ’’ اسے بجلی فراہم کریں اور کہیں بھی اس کا استعمال کریں ۔ یہ تالاب ، کنویں،  سبمرسبُل بورویل وغیرہ سے حاصل پانی کی آسانی کے ساتھ صفائی کر سکتا ہے۔ ‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں پانی کے بہت سے روایتی ذرائع غفلت اور تنگ نظر پالیسیوں کی وجہ سے ختم ہو رہے ہیں۔جب کہ داس کہتی ہیں ’’ آج بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح نمایاں طور پر گر چکی ہے۔ لہٰذا پانی میں آرسینکاور  فلورائڈ جیسی کیمیائی آلودگی کے امکان میں اضافہ ہوگیا ہے۔دیہی علاقوں میں اپنی مشینیں لگانے اور چلانے کے دوران ہم مقامی لوگوں کو پانی کے تحفظ کی تربیت بھی دیتے ہیں تاکہ وہ وسائل کی حفاظت کرنا شروع کریں۔‘‘ 

اروسیہ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ سسٹم شمسی توانائی سے چل سکتا ہے۔بجلی کی قلت کے دوران یہ سسٹم  لیتھیم آئی آن بیٹری کا استعمال کرتا ہے۔ اس سے سسٹم کی عملیاتی پریشانی کم ہو جاتی ہے۔اس کے شریک بانیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مکمل خود کار ، کم رکھ رکھاؤ والا نظام ہے جس کی دیکھ بھال کے لیے کسی نگراں کی ضرورت نہیں ہے۔

داس کہتی ہیں ’’ آج بھی تمام گاؤں میں بجلی دستیاب نہیں ہے ۔ اگر دستیاب ہے بھی تو بار بار کٹ جاتی ہے ۔ پینے کے پانی جیسی ضروری چیز بجلی فراہمی کے ایسے وسائل پر منحصر نہیں رہ سکتی ہے۔ مزید یہ کہ پانی صاف کرنے میں آنے والی لاگت کا ۶۰ فی صد حصہ بجلی کا ہے ۔ شمسی توانائی سے پانی صاف کر کے ہم پانی صاف کرنے کی لاگت کو کافی حد تک کم کر رہے ہیں۔ ‘‘

بانیوں کا اصرار ہے کہ یہ سسٹم ایک طرح سے کاربن اخراج کے ماحولیات مخالف اثرات کو کم کرتا ہے اور اسے ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ پائدار بناتا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’ ایک بار چارج کر لینے کے بعد تیزی کے ساتھ چارج کی جا سکنے والی یہ بیٹریاں ۴۸ گھنٹے تک چل سکتی ہیں ۔ اس دوران یہ ایسی حالت میں بھی کام کرسکتی ہیں جب دھوپ بھی نہ ہو۔اس سے ہمیں دیہی علاقوں میں ہر وقت پینے کے پانی کی فراہمی کے حصول میں مدد ملتی ہے۔

 خود کار طریقے سے کام کرنے والا  پری پیڈ کارڈ پر مبنی یہ سسٹم پینے کے صاف پانی تک فی کس استعمال کی بنیاد پر ادائیگی کے بعد رسائی کو ممکن بناتا ہے۔ 

کمپنی کے بانیوں نے نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں واقع  نیکسَس انکیوبیٹر اسٹارٹ اپ ھَب سے تربیت حاصل کی ہے۔ گپتا بتاتے ہیں ’’گرچہ ہم چند برسوں سے کاروبار کر رہے ہیں مگر نیکسَس ہمارا پہلا   انکیوبیشن پروگرامتھا۔ اس منظم پروگرام نے ہماری طاقتوں، کمزوریوں اور مواقع کی نشاندہی کرنے میں ہماری مدد کی۔ ہم متعلقہ صنعتی اداروں، اساتذہ اور تنظیموں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے اور ان کے تجربے اور علم سے فائدہ اٹھایا۔ ہم اپنی مصنوعات کی شناخت کرنے اور ان میں نئی خصوصیات کا اضافہ کرنے کے بھی اہل ہوئے۔‘‘

ابھی اروسیہ اے ٹی ایم کومغربی بنگال ، اتراکھنڈ اور تریپورہ جیسی ریاستوں کے مختلف مقامات اور اسکولوں میں نصب کیا گیا ہے۔ دا س کا کہنا ہے کہ وہ مختلف کمپنیوں کی سماجی ذمہ داری کے پروگرام (سی ایس آر )کے تحت ہند کے دیہی علاقوں میں مزید کام کرنے کی خواہش مند ہیں۔ 

 

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ وہ افسانوں کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط