مرکز
1 2 3

مالی شمولیت

ہریانہ میں واقع ملینیم الائنس ایوارڈ یافتہ کمپنی ایف آئی اے ٹیکنالوجی محروم طبقات کے صارفین کو ان کے گھروں تک بینکا ری خدمات پہنچا کر مالی شمولیت کا کام کرتی ہے۔ 

مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی ) کی سلون فیلو شپ (قیادت اور عام انتظام کے شعبے میں کریئر کے وسط اور اس کی بلندی پر فائز افراد کے لیے دنیا کا پہلا ماسٹر ڈگری وظیفہ پروگرام)یافتہ سیما پریم کے لیے سماجی شعبے میں کام کرنا ہمیشہ ہی سے شوق اور جذبے کا معاملہ رہا ہے۔ اس کے بارے میں خود پریم بتاتی ہیں ’’ ایم آئی ٹی میں ہم نے اس خیال کو پختہ کیا کہ ہم لوگ خاص طور سے دیہی اور دیگر محروم علاقوں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کس طرح بینکاری نظام کے دائرے میں لا سکتے ہیں اور یہی وہ مقام تھا جہاں ایف آئی اے کا خیال ذہن میں آیا۔ ‘‘

انڈیا میں جہاں موبائل فون ہر جگہ ہی پائے جا سکتے ہیں ،کم آمدنی والے بہت سارے کنبوں کا اب بھی بینکاری نظام سے منسلک ہونا باقی ہے۔ ان کنبوں کے افراد کے  سیونگ اکاؤنٹ  بھی نہیں کھلے ہیں ۔ اور ایک مخصوص آمدنی کی سطح سے کم آمدنی والے کنبوں کے لیے حکومت کے ذریعہ نافذ کیے گئے مختلف منصوبوں تک ان کی رسائی نہیں ہے۔ایف آئی اے کوشاں ہے کہ مختلف طبقات تک رسائی کرکے فرد اور مالی اداروں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرے ، کھاتہ کھولنے جیسی بنیادی بینک سہولت کے بارے میں انہیں بتائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ اس قسم کے ادارے کس طرح لوگوں کو مالی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

پریم اور ان کی ٹیم نے بنگلہ دیش کے گرامین بینک جیسے مختلف ماڈل سے ترغیب حاصل کی۔ وہ بتاتی ہیں ’’ہمارے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ بنگلہ دیش کا گرامین بینک ماڈل یقیناََ ایک غیر معمول سوچ کی اپج تھا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے باوجود لوگوں کے پاس بنیادی کھاتے بھی نہیں تھے کیوں کہ یہ بینک خالصتاََ قرض کی بنیاد پر کام کرتا تھا۔جب کہ انڈیا میں حکومت کی پالیسی لوگوں کے بینک کھاتے کھولنے اور سماجی تحفظ اور قرض کے منصوبوں کے بارے میں مدد کرتے ہوئے با مقصد مالی شمولیت پر توجہ دینے کی رہی ہے۔ ‘‘

ایف آئی اے نے نجی اور سرکاری شعبوں میں کام کر رہے بینکوں کے ساتھ شراکت داری کرکے گاہکوں کو مختلف خدمات بہم پہنچانے کا فیصلہ کیا۔کمپنی ملک کی تمام ریاستوں کے ۶۲۵ اضلاع میں کام کرتی ہے۔ کمپنی روزانہ ۳۰ سے زائد مالی اداروں کے ساتھ ۲ لاکھ سے زیادہ لین دین کے معاملے کرتی ہے۔ کمپنی مختلف مضافاتی علاقوں اور دیہی معاشروں میں اپنے مراکز قائم کرتی ہے جہاںایف آئی اے کے معاونین، جو عام طور پر مقامی طور پر چھوٹے کاروباری پیشہ ور ہوتے ہیں، کو ان خدمات تک رسائی میں مدد کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔ان میں سے بہت سارے مراکز کے نظم و نسق کی ذمہ داری خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔

پریم کہتی ہیں ’’ کسی بینک میں کھاتہ کھولنے کے لیے رہائشی پتہ سے متعلق ثبوت ، ثناختی ثبوت اور دو حوالہ جات کی ضرورت ہوتی ہے جسے ایک ساتھ یکجا کرنے میں لوگوں کو اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں بینکوں کے پاس اکثر عملے کے ارکان بہت ہی کم ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی یہاں لین دین کی رقم بھی عام طور سے ۵ہزارروپے سے زیادہ نہیں ہوتی جو اسے ایک منافع بخش منصوبہ نہیں بنا پاتی ۔ بینک کی پائیداری کے لیے یہ مناسب بھی نہیں ہوتا۔‘‘

آر بی آئی نے ایسی پالیسیاں بنائی ہیں جو خطرات کو کم کرتے ہوئے ان ضروریات میں نرمی لاتی ہیں ۔ آر بی آئی ان پالیسیوں کو وضع کرتا ہے اور بینک اسی کے مد نظر اپنی مصنوعات بناتے ہیں ۔ اور ایف آئی اے اسے نافذ کرنے والی ایجنسی کی طرح کام کرتی ہے جوان سے متعلق اطلاعات پہنچاتی ہے اور گاہکوں کی مدد کرتی ہے کہ وہ انہیں حاصل کرسکیں۔ 

 ابتدا میں صارفین کو کسی مالی مصالحت کار پر اعتماد کے لیے قائل کرنا آسان نہیں تھا۔ پریم کہتی ہیں ’’ سادہ بینکاری کے تعلق سے حکومت نے بہت اچھا کام کیاہے۔‘‘

ایف آئی اے نے لوگوں کے ساتھ بینکوں اور مالی اداروں کے مختلف فائدوں کی وضاحت کے لیے بینک منیجروں ، گرام پنچایتوں اور مقامی بلاک ڈیولپمنٹ افسروں کے ساتھ کمیونٹی سطح کی ملاقاتیں کیں۔اکاؤنٹ کھولنے سے متعلق کیمپوں کا بھی انعقاد کیا گیا ۔ رفتہ رفتہ جیسے ہی لوگوں کو ان فائدوں کا تجربہ ہوا اور انہوں نے دیکھا کہ جو رقم انہوں نے جمع کی تھی، اس کا ان کے پاس بْکوں میں اندراج ہوچکا ہے تو اس سسٹم کے تئیں ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا گیا۔

 مالیاتی خواندگی ایف آئی اے کے مراکز کے قیام سے متعلق بازارکاری مہم کا ایک اہم جزو ہے۔ایف آئی اے نے نئے کاروباری اداروں کو شروع کرنے میں چھوٹے کاروباری پیشہ وروں کی مدد کے لیے حال ہی میں مناسب شرح سود پر قرض کا اہتمام کیا ہے۔پریم بتاتی  ہیں ’’ یہ وہ صارفین ہیں جن کی قرض لینے کی تاریخ نہیں ملتی۔ ہم نے انفرادی قرض درخواست دہندگان کی قرض کی لیاقت کی تحقیق کے لیے نئے طریقے اختیار کیے ہیں ۔ ‘‘

ایف آئی کو حال ہی میں ملینیم الائنس کی جانب سے اعزاز ملا ہے۔ ملینم الائنس کی ویب سائٹ پر درج ہے ’’مالی شمولیت کے لیے ایف آئی اے کاایوارڈ یافتہ ماڈ ل،محروم طبقوں والی آبادی میں بینکاری کی خاطر مانگ اور فراہمی کے فرق کو ختم کرنے کے لیے حرکت پذیری پر مبنی جدید ترین پلیٹ فارم اورتقسیم کار کے کثیر سطحی نیٹ ورک کو یکجا کرتا ہے۔‘‘

پریم بتاتی ہیں ’’ ان علاقوں میں ایف آئی اے کا ہدف بڑے پیمانے پر حاشیہ پر جا چکے کسان ،بے زمین مزدور ، خود کار اور غیر منظم شدہ شعبے کے ادارے ، قبائلی ، شہر کی کچی آبادیاں ، ہجرت کرنے والے ، نسلی اقلیتیں اور سماجی طور سے محروم طبقے ، بزرگ شہری اور خواتین ہیں۔ اس مالی امداد نے ملک کے بعض غریب ترین علاقوں پر توجہ دینے میں مدد کی ہے۔‘‘ 

پچھلے ۷ برسوں کے دوران کئی حیرت انگیز لمحات آئے ہیں ۔ اتر پردیش کے باغپت ضلع میں چولداہا گائوں کے ۹۲ برس کے پیارے لال کا بینک اکائونٹ پہلے کھلنے والے اکائونٹس میں شامل تھا۔پریم بتاتی ہیں ’’ اتراکھنڈ ۔ نیپال سرحد پر ۱۰۰ برس کی ایک خاتون کو جو بستر علالت پر تھیں ،ایک ایف آئی اے متر  نے ان کی بڑھاپے کی پنشن کو   بایو میٹرک لین دین کے ذریعے ان کے گھر میں ہی حاصل کرنے میں ان کی مدد کی۔ ایسے نوجوان جو شروع سے ہمارے ساتھ ہیں ان کے اعتماد میں بھی کافی اضافہ ہو گیا ہے کیوں کہ وہ ان سہولتوں کو اس بزرگ اورپسماندہ افرادکی طرح ان لوگوں تک پہنچاتے ہیں جنہیں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط