مرکز

تجارتی ترسیل سنوارنے پر توجہ

انگریزی زبان کے ماہر ڈائٹر بُرُن کاروباری پیشہ وروں کی تجارتی ترسیل میں کام آنے والی ہنر مندیوں (جیسے بول چال اور مذاکرات کی صلاحیت)کو نکھارنے کا کام کرتے ہیں۔

ڈائٹر بُرُن کاروباری پیشہ وری میں اندازِ بیان کی اہمیت کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’لوگوں کے پاس مصنوعات اور تجارت سے متعلق اکثر عمدہ تجویزات ہوتی ہیں مگر کاروبار کے سلسلے میں عمدہ اندازِ بیان کلیدی اہمیت کی حامل چیز ہے کیوں کہ اسی سے لوگوں میں اس کے تئیں دلچسپی پیدا ہوگی اور سرمایہ کار متوجہ ہوں گے۔ ‘‘

انگریزی زبان کے ماہر اور کاروباری پیشہ ور بُرُن کو تجارتی ترسیل میں تربیت دینے کا وسیع تجربہ ہے۔اسی لیے ایسے نوجوان کاروباری پیشہ ور جو کاروباری ترسیل کی باریکیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے تجارتی تجویزات کو بہتر طریقے پر پیش کر سکیں ،ان کے لیے بُرُن بہترین اطالیق ہیں۔ابھی حال ہی میں انہوں نے ہند کا دورہ کیا تھا ۔اصل میں کولکاتہ میں واقع امریکی قونصل خانے نے ایک پروجیکٹ کی کفالت کی جس کے تحت بُرُن نے شیلانگ ، گوہاٹی ، کولکاتہ اور رانچی میں کاروباری پیشہ وروں کے ساتھ مل کر کام کیا ۔وہ بتاتے ہیں ’’مجھے کاروباری پیشہ وروں کی ترسیلی صلاحیت جیسے اندازِ بیان ، مذاکرات ، قائدانہ صلاحیت اور ٹیم سازی کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے میں بڑا مزہ آتا ہے۔ میں ہند کے کاروباری پیشہ ور طبقات کے ساتھ کام کرنے کے خیال سے ہی بہت پُر جوش ہوں۔‘‘

اہم نکات

شرکاء بُرُن کی ورکشاپ میں اس لیے حصہ لیتے ہیں تاکہ وہ اپنی ترسیلی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں اور اپنی تجارت کو فروغ دے سکیں۔ایک عام ورکشاپ پیش کش اور اندازِ بیان پر توجہ دیتا ہے۔وہ بتاتے ہیں ’’ ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ دو منٹ کی بول چال پر مشتمل ایسی چیز تیار کی جائے جسے ناظرین کے سامنے پیش کیا جا سکے۔اس کے بعد ہم طویل رسمی پیش کش کی جانب بڑھتے ہیں ۔ اس کے بعد ہم ایلی ویٹر پِچز پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو اکثر کاروباری پیشہ وروں کے لیے ایک بالکل ہی نیا تصور ہے۔‘‘

شرکا ء کو اکثر اپنی بات کو اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بُرُن شرکا ء کو بتاتے ہیں کہ کس طرح کاروباری پیشہ ور اپنے مرکزی خیال کو آسان الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں اور اس کے کیا فائدے ہیں۔اس طرح بُرُن کی ورکشاپ میں شرکت کرنے والے آہستہ آہستہ اہم پہلو کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس طریقہ کار کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ ایسی ورکشاپ میں شرکت کرنے والے یہ سیکھ جاتے ہیں کہ کس طرح ممکنہ سرمایہ کاروں اور صارفین میں دلچسپی پیدا کی جاسکتی ہے اورکسی تجویز کو تفصیل کے ساتھ کیسے بیان کیا جا سکتا ہے۔

بامعنی مذاکرات

مذاکراتی صلاحیت توجہ کا دوسرا اہم شعبہ ہے۔بُرُن بتاتے ہیں ’’ ہماری توجہ اس امر پر رہتی ہے کہ مذاکرات اور گفت و شنید اس طرح کی جائے کہ معاملات کاروباری پیشہ وروں اور سرمایہ کاروں دونوں ہی کے لیے کارآمد ثابت ہوں۔بہترین نتیجے ان کو ہی کہتے ہیں جب کاروباری پیشہ ور اور سرمایہ کار دونوں ہی کو فائدہ پہنچتا ہے۔اسی لیے میں شرکت کرنے والوں کو ترغیب دیتا ہوں کہ وہ تجارت میں نہ صرف تعلقات بنائیں بلکہ انہیں عمدہ طریقے پر نبھائیں بھی۔‘‘

آزادانہ تجارت کو بنانے اور ترقی دینے میں قائدانہ صلاحیت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔اکثر مختلف النوع اقسام کے افراد کمپنیوں کے قائد ہوتے ہیں تو اگر کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو آپ کے خیال میں اس کو کس طرح رفع دفع کیا جا سکتا ہے؟ورکشاپ میں الگ الگ قسم کی شخصیات کی خصوصیات کے بارے میں بات کی جاتی ہے۔بُرُن اصرار کرتے ہیں کہ غلط شخصیت کوئی چیز نہیں ہوتی ۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ بات سمجھ میں آئے کہ کوئی شخص اگر کسی معاملے میں کوئی رویہ اختیار کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے۔ اس کے بعد حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ لوگوں سے تعمیری انداز میں بات کی جائے جو تعاون پر مبنی ہو۔بُرُن کا خیال ہے کہ قائدانہ صلاحیت سے کاروباری پیشہ وروں کو اپنے تصور کی قیادت کرنے اور اسے مزید توسیع دینے میں کافی مدد ملتی ہے۔ یہ اس بارے میں ہوسکتا ہے کہ آئندہ کا لائحۂ عمل کیا ہو اور اس سلسلے میں بھی کہ کمپنی کو کس طرح بہتر طور پر چلایا جا سکتا ہے۔ اس سے ٹیم کی تشکیل اور تنوع سے متعلق مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ شرکا ء کے لیے اہم ہے وہ متنوع ٹیم کی طاقت کے بارے میں جانیں۔

حوصلہ افزا تفاعل

بُرُن کی ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں کے سوالات اکثر مذاکرات کے سلسلے میں ہوتے ہیں جیسے اس وقت آپ کو کیا کرنا چاہئے جب مذاکرات میں مد مقابل شخص سخت قسم کا ہو؟سخت قسم کا مذاکرات کار ہمیشہ اپنی جیت چاہتا ہے ۔ تو آپ کس طرح گفت و شنید کریں گے کہ معاملہ دونوں ہی کے لیے سود مند ہو؟بُرُن بتاتے ہیں ’’ ہم ایسے بااصول مذاکرات پر زور دیتے ہیں جن کا مقصد حل تلاش کرنا اور سمجھوتا کرنا ہوتا ہے تاکہ دونوں فریق اس سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ ایسا اس لیے ہے کہ بااصول مذاکرات کار سخت مذاکرات کار کے مقابلے زیادہ تخلیقی ذہن والے ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ متبادل کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ بسا اوقات سخت مذاکرات کار کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے جب کہ بااصول مذاکرات کار کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔‘‘

بُرُن جس گروپ کو بھی تربیت دیتے ہیں وہ اپنے آپ میں منفرد ہوتا ہے اور ہر گروپ کو مختلف شعبوں میں تربیت دینی پڑتی ہے۔وہ کہتے ہیں ’’ میں گروپ کو تربیت دیتا ہوں مگر میں گروپ میں شامل ہر شخص کو انفراد ی توجہ دیتا ہوں تاکہ ان کو ان کے حساب سے تربیت دی جائے جس سے کہ وہ کامیاب ہو سکیں۔کاروباری ترسیل ایک بین ثقافتی شعبہ ہے اور بُرُن کا خیال ہے کہ افہام و تفہیم کا رویہ اس سلسلے میں بہت اہمیت کی حامل چیز ہے۔ بُرُن نے اپنی کمپنی ون ورلڈ ٹریننگ کے تحت دنیا بھرمیں کثیر تعداد میں بین ثقافتی ورکشاپس کی ہیں۔وہ کہتے ہیں ’’ یہ بہت اہم ہے کہ کاروباری پیشہ ور ثقافتوں کے مابین اختلاف کو سمجھیں اور ان کا احترام کرنا سیکھیں تاکہ خلیج کو پاٹا جا سکے اور عالمی بازار میں مزید کامیابی کے ساتھ گفت و شنید کی جا سکے۔‘‘

انہیں اس امر نے کافی متاثر کیا ہے کہ ہند سے تعلق رکھنے والے کاروباری پیشہ ور نہایت تخلیقی ذہن کے مالک ، اختراعی اور کافی وسیع المشرب ہوتے ہیں مگر ان کی سب سے اہم بات جو بُرُن کو پسند آئی ہے وہ ہے ان افراد کا معاشرے پر اثر انداز ہونے کا عزم۔وہ کہتے ہیں ’’ ان کی دلچسپی منافع میں ضرور ہے مگر ساتھ ساتھ وہ یقینی طور پر تبدیلی کے لیے پُر عزم بھی نظر آتے ہیں ۔مثال کے طور پر ایک کمپنی مصنوعی اعضاء بنانے میں مصروف ہے جو اعلیٰ اور جدید ماڈلوں کے مقابلے کافی سستے ہوتے ہیں ۔ان ورکشاپ سے لوگوں کو بیش قیمت آلات مل جاتے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنی تجارت کو فروغ اور ترقی دے سکتی ہیں۔اس قسم کے پروگرام نت نئی راہیں کھولتے ہیںاور ملک میں لوگوں کے اندر تجارت کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ۔ یعنی ہم جس قدر ایسی ورکشاپ کا انعقاد کریں گے ، اسی قدر ہم لوگوں پر اثر انداز ہوں گے۔‘‘

 

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معا ون پروفیسر ہیں ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط