مرکز

حفظانِ صحت کےمنصوبےکی بہترطورپرتیاری

پسماندہ علاقوں میں ماہواری سے متعلق حفظانِ صحت کو فروغ دینے والی کمپنی سَرَل ڈیزائنس نے کورونا کے وبائی مرض کے پیش نظر سرجیکل ماسک بنانے کے لیے ماہواری پَیڈ بنانے والی مشینوں میں تبدیلی کی ہے۔ 

آئی آئی ٹی بومبے سے  میٹا لرجی اینڈ مٹیریل سائنس میں انجینئرنگ کرنے والی سوہانی موہن نے اپنے کریئر کا آغاز بطور سرمایہ کاری بینک کار کیا تھا۔ڈوئچ بینک کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کی ملاقات غیر منافع بخش تنظیم گونج کی بانی انشو گپتا سے ہوئی۔گپتا کی بدولت انہوں نے جانا کہ ہند کے دیہی علاقوں میں خواتین ماہواری کے دوران اخبارات، ردی کاغذات اور دیگر غیر صحت مند مواد کا استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں تولیدی نالیوں کا انفیکشن ہو جاتا ہے۔ اس جانکاری کے حاصل ہونے کے بعد موہن کا رد عمل کچھ یوں تھا”میں تو اپنی ماہواری کے بندو بست کے لیے 100 روپیہ ماہانہ خرچ کرتی ہوں مگرمیرے دماغ میں یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ ایک ایسی عورت جس کے پورے کنبے کی ماہانہ آمدنی 1000 روپیہ ہے کیسے اس کا بندو بست کرتی ہوگی۔ اس کے بعد میں نے اس سلسلے میں کچھ کرنے کی شدید خواہش محسوس کی جس کی وجہ سے میں نے 2014ء میں اپنی ملازمت چھوڑ دی اور اس معاملے پر پوری توجہ دینے لگی۔“ 

ایک برس بعد انہوں نے ممبئی میں واقع  اسٹارٹ اَپ کمپنی سَرَل انٹرپرائزیز کی مشترکہ طور پر بنیاد رکھی۔ یہ نووارد کمپنی پَیڈ بنانے والی مشینوں اور ان کی تقسیم کے اپنے اختراعی ماڈل کے سووَچھ رینج کے توسط سے ماہواری حفظان صحت سے متعلق اعلیٰ معیاری اور سستی مصنوعات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔مذکورہ کمپنی کی تربیت نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں واقع نیکسَس میں ہوئی ہے۔

امسال اپریل کے اوائل میں کورونا وبائی بیماری سے نمٹنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کمپنی نے پیڈ بنانے والی مشینوں میں فوری طور پر تبدیلی کرکے انہیں ملک میں ذاتی حفاظتی ساز و سامان کی دستیابی بڑھانے کے لیے سرجیکل ماسک بنانے کی خاطرتیار کیا۔کمپنی نے ممبئی میں آٹو موبِل کمپنی مہندرا گروپ  کے ساتھ کمپنی کی کاندی وِلی فیکٹری میں تھری پلائی ماسک تیار کرنے کے لیے اشتراک کیا ہے۔کمپنی  مہاراشٹر اسٹیٹ اننوویشن سوسائٹی کے ساتھ بھی کام کررہی ہے تاکہ کووِڈ 19سے متاثر ممبئی کی جھگی جھونپڑی والے علاقوں میں ماہواری کے دوران استعمال ہونے والے ایک لاکھ پَیڈ کی تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔پیش ہیں موہن کے ساتھ ایک انٹرویو کے اقتباسات۔

کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ آپ نے ماہواری سے متعلق حفظانِ صحت کے شعبہ پر توجہ دینے کا انتخاب کیوں کیا؟

ہمیں لگتا ہے کہ سستی سینیٹری نیپکن تک رسائی ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔ وہیں، قابل اعتماد اور اعلیٰ معیار کے سینیٹری نیپکن کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے کیوں کہ زیادہ سے زیادہ خواتین اب نوکری کرنے لگی ہیں۔ حالاں کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں کو آسان تر بنا رہی ہے، ہمارا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ایسے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بھی کیا جانا چاہئے جو آبادی کے ایک بہت بڑے حصے کو درپیش ہوتے ہیں۔ اس نے ہمیں ایسی مشینیں بنانے کی ترغیب دی جو مصنوعات کے معیار اورخدمات کو برقرار رکھتے ہوئے پیداوار اور تقسیم کے اخراجات کو کم کرنے کے عمل کو خود کار بنائے۔

آپ کو کس بات نے یہ تحریک دی کہ آپ کووِڈ 19 کے مد نظر اپنی مصنوعات میں تبدیلی کریں؟ 

چند ماہ پہلے ہم حفظانِ صحت کے شعبے میں نئی مصنوعات متعارف کرانے کے بارے میں غور کر ہی رہے تھے۔جب کووِڈ 19 بحران سامنے آیا تو گاہکوں نے استفسار کرنا شروع کیا کہ کیا  سینیٹری پَیڈ مشینس کو  تھری پلائی ماسک مشینس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ہم نے غور و خوض شروع کیا کہ اپنی مشینوں کا استعمال کرکے سرجیکل ماسک باقاعدگی کے ساتھ کس طرح تیار کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے پایا کہ پَیڈ میں استعمال ہونے والا غیر بُنا ہوا کپڑا سرجیکل ماسک میں استعمال ہونے والے کپڑے سے کافی ملتا جلتا ہے۔اور ہماری ایک مشین میں یہی طریقہئ کار استعمال ہوتا ہے۔ہم نے محسوس کیا کہ ماسک بنانا شروع کرنے کے لیے ہم جلد ہی اس مشین میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ 

سَرَل کے شریک بانی اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر  کارتک مہتا کی سربراہی میں ہماری ڈیزائن ٹیم نے ڈیزائن کو مکمل کرنے کے لیے دو سے تین دن تک روزانہ تقریباً 14 سے18 گھنٹے صرف کیے۔ اسی بیچ لاک ڈاؤن نافذ ہوگیا۔اس لیے ہم اپنی مشینوں کو ماسک بنانے والی مشینوں میں بدلنے کے لیے درکار اجزاء کی خریداری سے قاصر ہوگئے۔ایسے میں مَیں نے اپنے کئی جاننے والوں سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کیا۔ ان میں سے ایک آئی آئی ٹی بومبے میں میری جونیئر تھی جو مہندرا گروپ کے چیئر مین آنند مہندرا کی ایکزیکٹو اسسٹنٹ ہے۔ میں نے اسے لکھا کہ مجھے جو اجزاء درکار ہیں وہ مہندرا گروپ کمپنیوں میں دستیاب ہیں۔ ایسے میں کیا یہ ممکن ہے کہ مہندرا اینڈ مہندرا اپنے کارخانوں میں ان اجزاء کو ہمارے لیے تیار کرے۔4گھنٹے میں ہمیں  مہندرا وہیکل مینو فیکچررس لمیٹیڈ کے سی ای او وجے کالرا کا جواب ملا۔اس سلسلے میں ہوئی برقی خط و کتابت میں آنند مہندرا بھی شریک تھے۔ کمپنی نے ماسک کی تیاری، سپلائر اور اس سلسلے میں درکار بنیادی ڈھانچے میں ہماری مدد کی۔

مہندرا کے پاس ایسے کپڑے سے متعلق سہولیات وافر ہیں کیوں کہ ان کی کمپنی کار بناتی ہے، اس لیے ان کے لیے ماسک بنانے میں مدد کرنا مشینوں میں معمولی سی تبدیلی کرنا تھا۔ ہم نے پَیڈ کے  کَٹ آؤٹ سے لے کر سرجیکل ماسک کے رول تک اپنی مشین پر رولرس کے ڈیزائن کو تبدیل کرنے کے لیے ان کی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کیا۔کمپنی سے رابطہ کرنے کے ایک ہفتہ کے اندر ہم ان کے کارخانے سے بڑے پیمانے پر پروڈکشن شروع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ایک دن میں 10 ہزار ماسک سے شروعات کرکے اب ہم ایک دن میں 30 ہزار ماسک بنا رہے ہیں۔ مہندرا کمپنی کے سماجی ذمہ داری شعبے کے توسط سے ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ان ماسک کو حفظانِ صحت کی غرض سے کام کررہے کارکنوں میں تقسیم کر سکیں۔

 کیا آپ تفصیل سے بتا سکتی ہیں کہ سَرَل ڈیزائنس کی تکنیک کیا ہے اور کمپنی کس طرح اپنی مصنوعات تیار اور تقسیم کرتی ہے؟ آپ نے اپنی مصنوعات اور ٹیکنالوجی میں کون سی اختراعات شامل کی ہیں؟ 

ہمارا مقصد بیداری، رسائی اور ارزاں قیمت پر مصنوعات کو ان خواتین کو دستیاب کروانا ہے جو ماہواری کے دوران حفظان ِ صحت سے متعلق موزوں مصنوعات کا استعمال نہیں کرتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں ناقص بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے مصنوعات کی تقسیم پر آنے والے خرچ کی وجہ سے پَیڈ اور ڈائپر جیسی چیزیں 60 فی صد یا اس سے زیادہ مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یا موجودہ برینڈ دور دراز کے علاقوں کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔حالاں کہ ان مصنوعات کو مقامی طور پر بنانے کے بے پناہ امکانات موجود ہوتے ہیں۔ مقامی طور پران کو بنائے جانے کی وجہ سے ان کی تقسیم پر آنے والا خرچ بھی بچ جاتا ہے۔ اس سے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ پَیڈ جیسی مصنوعات سستی ہو جاتی ہیں اور دوسرے یہ کہ ان سے مقامی روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ 

ٹیکنالوجی ہمارے حل کی اساس ہے۔ ہم نے لا مرکزی طور پر ایک دیسی ڈیزائن اور پیٹنٹ شدہ خود کار انتہائی پتلے پَیڈ بنانے والی مشین تیار کی ہے۔لامرکزیت سے تقسیم کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔ خود کار طریقے سے پیداوار سے اس بات کو یقینی بنایا جا تا ہے کہ پیداوار کے پیمانے اور مصنوعات کے معیار سے کوئی سمجھوتا نہ ہو۔ اعلیٰ معیار کے یہ ماہواری پَیڈ خوردہ فروشوں اور متعدد حفظانِ صحت کارکنان، اسکولوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ اشتراک کے ذریعہ آن لائن تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ ان کے سلسلے میں بیداری پیدا ہو اور انہیں دور دراز علاقوں میں بھی دستیاب کروایا جا سکے۔

کیا آپ مختصر طور پر ان سماجی اثرات کی تفصیل بیان کرسکتی ہیں جس سے سرل کا مقصد اپنی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کے ذریعے تخلیق کرنا ہے؟

صنفی عدم مساوات والے رویے، جو جزوی طور پر امتیازی معاشرتی اصولوں کی جڑوں میں پیوست ہیں، بلوغت کے دوران زیادہ واضح ہوجاتے ہیں اور نوعمر لڑکیوں کے لیے طویل مدتی منفی نتائج پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ہند کے دیہی علاقوں میں تقریباً 48 فی صد خواتین اور لڑکیاں اپنی ماہواری کے بند وبست کے لیے غیر صحت مند اشیاء جیسے کپڑے، بھوسے اور اخبار کا استعمال کر تی ہیں۔  

ہم مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور سرکاری اداروں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہیں تاکہ پیداواری اکائی قائم کر سکیں اور انہیں خام مال فراہم کر سکیں۔ہم ایسی اکائیوں کے عملہ کو مشین چلانے اور انہیں درست رکھنے کی غرض سے تربیت دیتے ہیں تاکہ ہم دور دراز علاقوں میں خواتین کے ذریعہ چلائے جانے والے تقسیم سے متعلق نیٹ ورک کی تعمیر کر سکیں۔ہم طبقات پر مرکوز صنفی مساوات سے متعلق  بیداری کے بارے میں مواد کی تخلیق کرنے کے لیے شراکت داری بھی کرتے ہیں۔  

کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ آپ کی رسائی اب تک کتنے لوگوں تک ہو پائی ہے اور مستقبل میں اس سلسلے میں آپ کا ہدف کیا ہے؟ 

اب تک ہم 6 اعشاریہ 5 ملین کم لاگت والے پیڈ فروخت کر چکے ہیں۔ اس سے 2 لاکھ لڑکیوں اور عورتوں نے استفادہ کیا ہے۔ ہم نے ہند اور 5 دیگر ترقی پذیر ملکوں کی 30 سے زیادہ پیداواری اکائیوں کے ذریعہ ان کو تیار کیا ہے۔ ان پیداواری اکائیوں کو مقامی غیر منافع بخش تنظیمیں اور کاروباری پیشہ ور دوسرے اور تیسرے زمرے کے شہروں میں چلا رہے ہیں جن سے پیداوار اور فروخت کے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ہم ایک ہزار دیہی خواتین کے ساتھ کام کرتے ہیں جو اپنی برادریوں میں ہمارے سیلس اور آؤٹ ریچ ایجنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ 

اس سال اپنی بیداری مہمات سے ہمارا ہدف 51 ہزار لڑکیوں اور خواتین پر اثر انداز ہونے کا ہے۔ ہمارے پاس ملک کے مختلف حصوں میں پیداواری اکائیاں چلانے والی 45 مشینیں ہیں۔ 

کیا اپنی مصنوعات کے بارے میں کوئی خاص واقعہ ہے جس کا اشتراک آپ ہم سے کرنا چاہیں گی؟ 

ہماری ایک تقسیم کار جے شری کامبلی نے بتایا کہ شہروں میں جھگی جھونپڑی میں رہنے والی خواتین کو ماہواری کے دوران بہت سارے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر ان کے جیسے پہاڑی علاقے میں جہاں پیڈ آسانی سے نہیں ملتے۔ جنرل اسٹورس میں پیڈ رکھنے کا رواج نہیں اور میڈیکل اسٹور بہت دور ہوتے ہیں۔ اگر خواتین کو رات کے وقت پیڈ کی ضرورت پڑ جائے تو اسے لینے کی غرض سے گھر سے باہر جانا ان کے لیے غیر محفوظ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے طبقات میں گھر گھر نیٹ ورک کا ہونا لازمی چیز ہے۔ انہیں خوشی تھی کہ سَرَل ڈیزائنس اس شہری جھگی جھونپڑی میں پیڈ کی مناسب قیمت میں رسائی میں ان کی مدد کر رہی ہے۔

نیکسَس میں تربیت کا آپ کا تجربہ کیسا رہا؟ اس سے آپ نے کیا اہم چیزیں سیکھیں؟ 

نیکسس کا نیٹ ورک اعلیٰ قسم کا ہے۔ہم دو برس پیشتر اس کا حصہ تھے۔ ہم اب بھی مدد کے لیے گاہ گاہ ان سے رابطہ کرتے ہیں۔ بھوٹان میں ہماری پہلی مشین وہاں موجود نیکسَس سے تربیت یافتہ ایک فرد کی مدد سے ہی قائم کی گئی تھی۔ ہم اس کے لیے بھی نیکسَس کے بہت شکر گزار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط