مرکز
1 2 3

علالت کی تشخیص

نیکسَس سے تربیت یافتہ کمپنی کَوگنی ایبُل ٹیکنالوجی اور طبی مہارت کو یکجا کرکے تشخیص کو سستا اور سب کی دست رس میں پہنچانے کے علاوہ آٹِزم (خود فکری یا خود تسکینی)جیسے اعصابی امراض کے علاج کا حل پیش کر تی ہے۔

اعصابی صحت سے متعلق معاملات کا انتظام (خاص کر بچوں میں) طبی ماہرین کی محدود فراہمی کی وجہ سے مشکل بھرا ہو سکتا ہے۔  کَوگنی ایبُل کے بانی منو کوہلی اور ان کی ٹیم اس صورت حال کو ایک موقع کے طور پر دیکھتی ہے ۔ان حالات میں ٹیکنالوجی بچوں میں ذہنی نشو ونما میں ہونے والی تاخیر کا پہلے سے پتہ لگانے میںمدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔مشین لرننگ کو بروئے کار لاتے ہوئے گوروگرام میں واقع اس اسٹارٹ اپ کمپنی نے ذہنی امراض کے لیے خود کار جلد جانچ اور علاج تشخیص کرنے والا ایک نظام تیار کیا ہے تاکہ طبی ماہرین اور غیر ماہرین کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے اور وہ باخبر فیصلہ کرنے پر قادر ہوں۔کمپنی کی تربیت نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں واقع نیکسَس انکیوبیٹر میں ہوئی ۔ پیش ہیں کوہلی سے انٹرویو کے اقتباسات۔

 

کوگنی ایبُل کی ابتداء کی کہانی کیا ہے؟

میں ایک انجینئرنگ اور مینجمنٹ گریجویٹ ہوں۔ مجھے اطلاعاتی ٹیکنالوجی سیکٹر میں ۱۶ برس کام کرنے کا تجربہ ہے۔چوں کہ میری رفیقِ حیات طفلی ماہر نفسیات اور خصوصی معلمہ ہیں، اس لیے مجھے ہمیشہ سے لگتا تھا کہ خصوصی خدمات کی انڈیا میں بہت ضرورت ہے۔ مگر ہم میں اس وقت بڑی تبدیلی واقع ہوئی جب خود ہمارے بیٹے میںآٹزم کی تشخیص ہوئی۔

ہم نے ہند و امریکہ کے بعد بعض یورپی ممالک کی خدمات کابھی جائزہ لیا۔پھر ہم پر یہ بات منکشف ہوئی کہ ان خدمات کے لیے ٹیکنالوجی ضروری ہے۔اس کے مقاصد چار ہیں۔اوّل تو یہ سستا ہو؛دوم غیر ماہرین بھی اس کا استعمال آسانی کے ساتھ کر سکیں،سوم دور دراز علاقوں میں بھی دستیاب ہواور اس کا دارومدار اعداد و شمار پر ہو۔

۲۰۱۷ ء میں وطن لوٹنے کے بعد میں نے آئی آئی ٹی دہلی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا۔میری تحقیق کی توجہ اس امر پر تھی کہ میںمرض کا پتہ لگانے اور سب کو دستیاب علاج کے شعبے میںاعصابی ترقیاتی خامیوں سے متعلق ایسا سستا حل پیش کر سکوں جس کی پیمائش کی جا سکے۔یوں کَو گنی ایبُل معرضِ وجو د میں آئی۔

 

کیا بتائیں گے کہ آپ کی کمپنی کیسے کام کرتی ہے؟

کمپنی کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم دو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلی چیز تو جلد تشخیص ہے اور دوسری چیز خود فکری کا سستا علاج ہے۔ ایک غیر ماہر بھی ہماری تشخیصی خدمات سے کسی بھی دور دراز علاقے سے محض ۱۰ فی صد قیمت پر فیضیاب ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے اسے انٹرنیٹ پر بس ایک ویڈیو اَپ لوڈ کرنا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ہمارا مصنوعی ذہانت والا اَیلگورِدم تشخیص کا عمل انجام دے دیتا ہے۔

اس کے بعد ایک آسان تجزیاتی عمل کی مدد سے علاج کا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔کمپنی مختلف النوع شعبہ جات مثلاََ زبان ، گفت و شنید ، تعلیم ، سماجی ہنر مندی اور زندگی کے ہنر وغیرہ میں علاج مہیا کراتی ہے۔اور یہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔مشین لرننگ ماڈلس کے ذریعہ طویل مدتی ترقیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور ہر بچے کی ضرورت کے لحاظ سے علاج کا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔

 

آپ نے نیکسَس میں کیا خاص چیزیں سیکھیں؟

نیکسَس کی بدولت ہمارے سامنے تجارت کا ایک ایسا نظریہ آیا جس کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔یہاں داخلہ بہت سخت اور مسابقتی نوعیت کا تھا۔ مگر اس مشکل کو عبور کرنے کے بعد ہمیں ۱۰ ہفتوں کی سخت ٹریننگ دی گئی۔ تربیت آن لائن لرننگ، فیلڈ ورک اور ماہرین کے کلاس روم لیکچر پر مشتمل تھی۔یہ تربیت کمال کی تھی۔انٹیلیکچووَل پراپرٹی ، مالیات، فنڈ ریزنگ جیسے موضوعات پر مہمان اور ماہر مقرر ین کا تو کہنا ہی کیا۔ مجھے احساس ہوا کہ بسا اوقات کاروباری پیشہ ور ایسے حل کی تلاش میںرہتے ہیں جو اس کے نزدیک اہمیت کے حامل ہوں مگر شاید بازار کو ان کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

 

اب تک آپ کے اس پلیٹ فارم کی کارکردگی کیسی رہی ہے؟

اختراع کی بدولت ہم نے مصنوعی ذہانت کا ایساانجن بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس سے ہم محض ۲۵ فی صد ڈیٹا استعمال کرکے ہی انسانی حرکات کا پتہ لگا سکتے ہیں۔اس کی کفالت حکومت ِ ہند کے بایو ٹیکنالوجی شعبہ نے کی ہے تاکہ ایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم تشکیل دیا جاسکے جس کی مدد سے ریکارڈیڈ ویڈیو سے بچوں میں خود تسکینی کے مرض کا پتہ چل سکے۔

علاج کی اس شکل کو ہند اور امریکہ کی بعض کلینک میں شروع کیا گیا ہے۔ابھی حال ہی میں ہم نے ایک مشہور اسپتال سے معاہدہ کیا ہے جو اسے نہ صرف انڈیا میں بلکہ عالمی سطح پر متعارف کرانے میں ہماری مدد کرے گا۔اس کے علاوہ ہم ہند کے درجہ دوم کے ایسے شہروں میں بھی بچوں کے ڈاکٹروں کے لیے اپنی خدمات بہم پہنچائیں گے جہاں یہ خدمات ناپید ہیں۔ہمارا ہدف ہے کہ مارچ ۲۰۲۰ تک ایک ہزار لوگ اس پلیٹ فارم سے جڑ جائیں۔آج عوامی صحت کے شعبہ میں حقیقی دُنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعی حل کی ضرورت ہے جو نہ صرف سستے ہوں بلکہ وسیع پیمانے پر دستیاب بھی ہوں۔ ضرورت ہے کہ ہم اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھیں ، مختلف طبقات سے اس کی توثیق کریں اور پھر یہ طے کریں کہ ہمیں کس قسم کا ڈیٹا درکار ہے تاکہ مشین لرننگ کا استعمال کرکے اس کا اختراعی حل تلاش کیا جا سکے۔

 

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط