مرکز

فائدے والا کاروبار

امریکی محکمۂ خارجہ کے تبادلہ پروگرام کی سابق طالبہ یمونا شاستری کا بنگالورو میں واقع سماجی ادارہ کیب دوست مختلف قسم کی مالیاتی خدمات فراہم کرکے ٹیکسی ڈرائیوروں کو اپنا مستقبل محفوظ کرنے میں مدد کرتا ہے۔

یمونا شاستری اوبر اور اولا جیسی انڈیا کی ٹیکسی خدمات مہیا کرانے والی کمپنیوں کے کیب ڈرائیوروں کی زندگی کے معیار میں بہتری لانے پر کام کر رہی ہیں۔ان ۱۵ لاکھ ڈرائیوروں میں سے بہت سارے اپنی گاڑیوں کی خاطرلیے گئے قرض کی ادائیگی کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔۲۰۱۶ ء میں شاستری نے شراکت داری میں کیب دوست نامی کمپنی قائم کی جو ایک سماجی ادارہ ہے اور جس کا مقصدبینک اکاؤنٹ کھولنے ، بیمہ اور پنشن منصوبوں جیسی بہت ساری مالی خدمات کا فائدہ اٹھانے میں ان ڈرائیوروں کی مدد کرنا ہے۔

جو چیزیں اس نو وارد کمپنی کی توجہ کا کلیدی مرکز ہیں ان میں سے ایک چیز کیب ڈرائیوروں کو ان کا ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں مدد کرنا بھی ہے جو شاستری کے مطابق مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔ شاستری کے مطابق ایسا کیے بغیر ان ڈرائیوروں کے لیے قرض حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں ’’ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ لوگ ساہوکاروں اورسود پر قرض دینے والوں کا شکار بن جاتے ہیں جو بینکوں اور قرض دینے والے دوسرے قانونی اداروں کے مقابلے بہت زیادہ شرح سود حاصل کرتے ہیں۔ ‘‘

کیب کمپنیاں اکثر ڈرائیوروں کی کمائی کا ایک حصہ ٹی ڈی ایس (اصل تنخواہ پر ٹیکس )کے طور پر رکھ لیتی ہیں۔جب ان کی آمدنی پر واجب الادا ٹیکس کا حساب کیا جاتا ہے تو بہت سارے ڈرائیور حکومت سے رقم واپسی کے اہل قرار پاتے ہیں مگر وہ ان پیسوں کو اسی وقت وصول کر سکتے ہیں جب انہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کیا ہو۔ اور یہ وہ کام ہے جسے بہت سارے ڈرائیوروں نے کبھی بھی کیا نہیں ہوتا ہے۔

شاستری بتاتی ہیں ’’ ہم ابتداء سے اس کا آغاز کرتے ہیں ۔اپنی آمدنی کا حساب سرکار کو دینے میں صرف ۲۰ منٹ لگتا ہے۔مگر ہم ان کے لیے ای ۔میل ایڈرس بھی تیار کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کا نام اور یومِ پیدائش ان کے تمام دستاویزات میں یکساں ہو ۔ پھر ہم ڈرائیوروں کو اس وقت بلاتے ہیں جب ان کی آمدنی پر واجب الادا رقم کے حساب کے بعد ان کو واپس ملنے والی رقم سرکار کی جانب سے آجاتی ہے۔ ‘‘ 

فی الحال ۲۴ ملازمین والی کمپنی کیب دوست نے اب تک تقریباََ ایک درجن ٹیکس میلوں کا اہتمام کیا ہے ۔ یہ میلے ،ہوائی اڈوں، ریل روڈ اسٹیشنوں اور بیرونی مقامات پر ڈرائیوروں کو ٹیکس ریٹرن بھرنے کے کام میں مفت مدد فراہم کرنے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔شاستری بتاتی ہیں کہ ۲۰۱۶ ء سے اب تک اس کمپنی نے ۷ ہزار سے بھی زائد ڈرائیوروں کو ٹیکس فائل کرنے کے سلسلے میں مفت مدد فراہم کی ہے۔اس کے علاوہ کمپنی نے ڈرائیوروں کی قدرے بڑی تعداد کو ۵۰۰ روپے کی فیس لے کر بھی یہ خدمات فراہم کی ہیں۔ 

ان مہمات کے دوران کمپنی صحت اور تندرستی ، مختلف مادّوں کے غلط استعمال ، صفائی ، خواتین کی حفاظت اور مالی منصوبہ بندی جیسے دیگر اہم امور سے متعلق بیداری پیدا کرنے میں بھی ڈرائیوروں کی مدد کرتی ہے۔ 

مذکورہ تمام سہولیات سماجی خدمات کے زمرے میں آ سکتی ہیں مگر شاستری کے مطابق یہ اچھا کاروبار بھی ہے۔ کمپنی پہلے ہی سے فائدے میں چل رہی ہے ۔ جیسے جیسے یہ ترقی کرتی جارہی ہے ڈرائیوروں کے رجسٹریشن ،اعداد و شمار اور مالی امور کا حساب رکھنے جیسی ادائیگی والی خدمات فراہم کرنے کے علاوہ صحت اور زندگی بیمہ فروخت کرکے اور چھوٹے قرض فراہم کرکے بھی کمپنی اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی نے ڈرائیوروں کو انگریزی بول چال، ٹورگائڈنگ، رویہ ، اخلاقیات اور سڑک پر احتیاط سے متعلق تربیت دینا بھی شروع کر دیا ہے۔ تربیت کا اہتمام ٹور کمپنیاں کرتی ہیں۔ 

شاستری نے ۲۰۱۱ ء میں بنگالورو میں واقع جین یونیورسٹی سے کامرس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ۔ پھر بین الاقوامی اکاؤنٹنگ فرم کے پی ایم جی کی ہندوستانی شاخ کے رِسک انا لسس ڈپارٹمنٹ میں ۳ برس تک کام کیا۔پھراپنے شراکت دار شفیق تزہاتیری کے ساتھ کیب دوست کے قیام سے پہلے انہوں نے کیب ڈرائیوروں کی مالی حالت سے واقف ہونے کے لیے ڈیڑھ سال تک تقریباََ  ۳  ہزارڈرائیوروں کا انٹرویو کیا ۔اس وقت شفیق کرائے پر گاڑیاں دینے کا کام کیا کرتے تھے۔

۲۰۱۷ ء میں شاستری کو حیدر آباد میں منعقد عالمی کاروباری پیشہ وری سے متعلق چوٹی کانفرنس (جی ای ایس )میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا۔ہند۔ امریکی حکومتوں کے ذریعہ مشترکہ طور پر منعقد کی گئی اس تقریب نے ابھرتے ہوئے کاروباری پیشہ وروں کے لیے اس کانفرنس نے تربیت اور رابطہ سازی کے مواقع فراہم کیے۔شاستری کو امریکہ اور نیدر لینڈس کی حکومتوں کی جانب سے مشترکہ میزبانی میں ہیگ میں منعقد جی ای ایس ۲۰۱۹ میں بھی شرکت کے لیے دعوت ملی۔ شاستری بتاتی ہیں کہ ان اجلاس میں ملنے والی مدد اور دیگر ملکوں کے کاروباری پیشہ وروں سے رابطے کیب دوست میں ان کے کام کے لیے انمول ثابت ہوئے۔ ۲۰۱۸ ء میں شاستری نے امریکی محکمۂ خارجہ کے  پروفیشنل فیلوز پروگرام میں شرکت کی جس میں انہوں نے امریکی ریاست اوکلاہوما میں ۵ ہفتے بسر کیے۔وہاں شاستری گُڈ وِل انڈسٹریز آف ٹُلسا میں رہیں جہاں انہوں نے ادارے کے ذریعے فراہم کیے جانے والے انتظام و انصرام کے طریقوں اور مفت ٹیکس ریٹرن بھرنے کی خدمات کے بارے میں سیکھا۔یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں شاستری نے قیادت سے متعلق کلاسیز میں بھی شرکت کی۔

تبادلہ پروگرام سے متعلق شاستری کا امریکہ کا دورہ ان کا پہلا امریکی دورہ تھا۔ وہ باخبر کرتی ہیں ’’ میں نے وہاں انسانی وسائل کے بندوبست اور اس کی تعمیل کے بارے میں سیکھا اور یہ سیکھا کہ امریکہ میں وہ انسانوں کو تمام چیزوں پر کس طرح فوقیت دیتے ہیں۔‘‘

وہ بتاتی ہیں کہ قیادت کی مہارت سے متعلق کلاسیز نے انہیں یہ سکھایا کہ کسی تجارت کے بانی کے طور پر اپنے مشن پر کیسے توجہ دی جائے اور کیسے غیر ضروری اشیا ء سے دوری بنائی جائے۔  

اپنے کام اور زندگی میں بہتر توازن برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنے کا سہرا وہ فیلو شپ کے دوران سیکھنے والی چیزوں کے سر باندھتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اس تجربے نے زندگی بدل ڈالی۔ اس نے کیب دوست کے لیے ان کے مقاصد پر توجہ دینے میں مدد کی یعنی ’’ایک ایسا کاروبار کرنے میں مدد کی جو منافع بخش ہو نے کے علاوہ ایک مقصد کے تحت بھی ہو۔ یعنی کاروبار ایسا ہو جس میں اپنے فائدے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی کچھ کیا جائے۔‘‘

 

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ صحافی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط