مرکز

اشیاء کی فراہمی کے خلا کو پُر کرنا

امیریکن فل برائٹ نہرو  تحقیق کار ڈائناجو- راجہ سنگھ کی شراکت میں تمل ناڈو میں قائم کی گئی تنظیم ایس سمارٹ موجودہ مقامی نیٹ ورک کے اندر ہی تقسیم کے طریقۂ کار کو فروغ دے کر زندگی بہتر کرنے والی تکنیک فراہم کرتی ہے۔  

کہا  جاتا ہے کہ کو ئی بھی سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے مگر بعض اوقات اس کے آخری مرحلہ میں مسافر کو سب سے زیادہ چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جَیکی اسٹینسن اور ڈائنا جو- راجہ سنگھ کو اس قول کی درستی کا علم اس وقت ہوا جب انہوں نے بالترتیب یونیورسٹی آف کیمبرج اور مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے گریجویشن کے دوران براعظم افریقہ کے صحارا ریگستان کے جنوبی خطے اور جنوبی ہند کا سفر کیا۔ شمسی چراغ ، پانی صاف کرنے کی مشین اور کھانا پکانے کے مؤثر اسٹوو جیسی زندگی کو بہتر سہولت فراہم کرنے والی تکنیک کے سفر کا پتہ لگاتے ہوئے اسٹینسن اور جو- راجہ سنگھ کو علم ہوا کہ جن گاؤں والوں کے لیے یہ چیزیں بنائی گئی تھیں اُن تک اِن چیزوں کی رسائی ہی نہیں ۔ انہیں ان چیزوں کے بارے میں معلومات ہی نہیں۔اور اس کی خاص وجہ ان چیزوں کی تقسیم کے نظام کی عدم دستیابی تھی۔  

۲۰۱۲ ء میں اسٹینسن اور جو- راجہ سنگھ نے ترقی پذیر دنیا کے آخری مرحلے تک رسائی کے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے جنوبی ہند میں ایس سمارٹ نامی تقسیم پر مبنی کمپنی شراکت میں قائم کی۔یہی وہ زمانہ تھا جب جو -راجہ سنگھ کا انتخاب بنگالورو میں فل برائٹ ۔ نہرو ریسرچ فیلو شپ کے لیے عمل میں آیا ۔ اس کے بعد تین برس تک انہوںنے چیف آپریٹنگ افسر(سی او او)کے طور پر ایس سمارٹ کو چلایا اور پرشانت وینکٹ رمن اور پوناچا کا لینگڑ کے ساتھ مل کر مقامی طور پر ٹیم بنائی۔    ایس سمارٹ انڈیا میں ایک امریکی کارپوریشن اور ایک پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کے طور پر درج ہے۔  

ایس سمارٹ کی سی ای او اسٹینسن کہتی ہیں ’’ ہم کسی ایسی تنظیم کی تلاش میں ناکام رہے جو مکمل طور پر آخر ی شخص تک رسائی کے لیے وقف ہو ۔ موجودہ تقسیم کار یا تو روشنی دینے والی سستی الکٹرانک مصنوعات لاتے ہیں جن میں ہفتوں کے اندر ہی ایسی خرابی آجاتی ہے جو قابل مرمت نہیں ہوتی یا پھر تقسیم کار نقل و حمل کی لاگت کی وجہ سے دیہی علاقوں کے دکانداروں سے حد سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں جس میں فروخت کے بعد کی خدمات بھی شامل نہیں ہوتیں۔ ‘‘

ایس سمارٹ نے اپنا کام تمل ناڈو کے ایک چھوٹے سے قصبے پولاچی میں واقع خوردہ فروش دکانوں سے شروع کیا جن پر دیہی علاقوں کے زیادہ تر لوگ ضروری گھریلو اشیاء کے لیے انحصار کرتے ہیں۔کمپنی کی انڈیا پر مرکوز سرگرمی کے ڈائریکٹر وینکٹ رمن کہتے ہیں ’’ ایس سمارٹ نے چھوٹے ، آزادانہ طور پر گھر میں ہی چلائے جار ہے اور ایک خاندان کی ملکیت والے اسٹور کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ ایسے اسٹور دیہی علاقوں میں بہترین کاروباری پیشہ وری کے نمونے ہیں ۔ ایسے اسٹور سے ہمیں اپنی مصنوعات کی جانکاری پھیلانے میں مدد ملتی ہے ۔ ان کی مدد سے مصنوعات کی مرمت یا ان کی تبدیلی کی سہولت بھی گاہکوں کو ملتی ہے۔ ‘‘ 

کمپنی معاشرے کو سماجی طور پر اثر پذیر ۲۰۰ سے زیادہ مصنوعات فراہم کرتی ہے۔ اپنی فہرست میں کھیتوں میں چھڑکاؤ کی مشین اور کھانا پکانے کے برتن جیسی نئی چیزوں کو شامل کرنے سے پہلے کمپنی یہ یقینی بنا لیتی ہے کہ ان اشیاء کی آزمائش اچھی طرح کر لی جائے۔مقامی دکانداروں کے لیے شاید اہم ترین فائدہ مصنوعات کی ضمانت دہی اور فروخت کے بعد کی خدمات اور مصنوعات کو تبدیل کرنے کی سہولت کے لیے ایس سمارٹ کی یقین دہانی ہے۔  

کمپنی کے ڈائریکٹر آف فیلڈ آپریشنس کالینگڑ کے مطابق کمپنی اپنے  ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں شامل دکانوں کی مدد میں کافی وقت صرف کرتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں ’’ اپنی دکان میں ان مصنوعات کو رکھنے سے پہلے ہر دکاندار کو مصنوعات کی تعلیم کے علاوہ تکنیکی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔تربیت کے نتیجے میں دکاندار اور صارفین مصنوعات کے ان فائدوں کے بارے میں جان جاتے ہیں جن سے وہ بڑی حد تک پہلے واقف نہیں تھے۔ ‘‘

 اس سلسلے میں وہ کامیابی کی اس کہانی کا اشتراک کرتے ہیں جس میں شمسی چراغ کے استعمال سے اندھیرا ہونے کے باوجود دکانوں کے کھلے رہنے میں مدد ملی اور بنیادی بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے ضروری اشیاء کو فروخت نہیں کر پانے سے ہونے والے نقصان سے بھی دکانوں کو محفوظ رکھا جا سکا۔

کمپنی کی پروجیکٹ مینجر شنینا مرسیڈیا وان جینٹ  کہتی ہیں ’’ دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے آخری شخص تک مصنوعات کی فراہمی کے لیے ایسی دکانوںکے ساتھ شراکت داری میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔لازمی اشیا ء کی تکمیل کے لیے جہاں بہت ساری کمپنیاں اپنی مصنوعات تیار کرتی ہیں وہیں بہت کم کمپنیاں ایسی ہیں جو تکنیک کو فروغ دینے والوں اور اس کا استعمال کرنے والوں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے کا کام کرتی ہیں ۔ تکنیک اور شمسی چراغ اور آلودگی سے پاک کھانا بنانے والے اسٹوو جیسی مصنوعات زندگی کو بہتر سہولت اسی وقت فراہم کر سکتی ہیں جب انہیں لوگوں تک اچھی طرح پہنچایا جائے ، بہتر طور پر ان کا استعمال کیا جائے اور وقتاََ فوقتاََ ان کی مناسب دیکھ بھال بھی کی جائے۔‘‘  

وینکٹ رمن باخبر کرتے ہیں ’’ پچھلے ۷ برسوں میں تامل ناڈو اور کرناٹک میں ۱۴ تقسیم کار مراکز کی مدد سے ۱۴۰۰ سے بھی زیادہ مقامی خوردہ دکانوں کے نیٹ ورک کے ذریعہ ایس اسمارٹ نے ۸۰ ہزار سے بھی زیادہ گاہکوں تک رسائی پائی ہے۔ ان میں سے ہر مرکز دیہی علاقوں سے دور دراز کے گاؤں تک تقریباََ ۶۰ کلو میٹر کے دائرے کا احاطہ کرتا ہے ۔ ۲۰۲۰ ء تک تقسیم کار مراکز کی تعداد بڑھا کر ۲۰ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ‘‘

اسٹینسن کہتی ہیں کہ ایس سمارٹ مشن کا ایک اہم حصہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ زندگی کو بہتر سہولت فراہم کرنے والی تکنیک کی خاکہ نگاری اس طور پر ہونی چاہئے کہ ان کا استعمال درست طور پر ہو پائے۔وہ کہتی ہیں ’’ہم لوگ ایک بنیادی اور آخری شخص تک رسائی والا نیٹ ورک تشکیل دے رہے ہیں جو اختراع پرداز، پائیدار اور معاشرتی طور پر متاثر کن مصنوعات کو ان لوگوں تک پہنچا سکے جن کی وہ مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم لوگ ڈیزائنروں اوران کی مصنوعات کے استعمال کرنے والوں کے درمیان کی کھائی کو ختم کرنے کے لیے اہم اعداد وشمار سپلائی چین تک پہنچا رہے ہیں ۔ ‘‘

جو- راجہ سنگھ فی الحال  یونیورسٹی آف مشی گن کے اسٹریٹجی اینڈ سوشیو لوجی کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے امیدوار کے طور پر اپنی تحقیق میں ترقی پذیر ملکوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں ۔وہ کہتی ہیں ’’ ایس سمارٹ میں میرے روز مرہ کے کام نے اور فل برائٹ نہرو تحقیق کار کے طور پر میرے تجربے نے مجھے ابھرتی معیشتوں میں محروم طبقوں کو درپیش بعض بے قابو مسائل سے واقف کرایا ۔‘‘

ایک ماہر تعلیم کے طور پر وہ مندرجہ ذیل سوالات کرنے کی امید کرتی ہیں :’’ عالمی ترقیاتی برادری کس طرح اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ کاروباری پیشہ وروں کے ذریعہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طور سے بازار فروغ دیے جارہے ہیں ؟اور کاروبار کس طرح سب سے زیادہ مؤثر طریقے سے محروم طبقات کے لیے کام کرسکتے ہیں تاکہ ان کے صارفین کی ضروریات کا حل تو ملے ہی ، ساتھ میں ان کو فائدہ بھی پہنچایا جا سکے ؟ ‘‘

 

ہلیری ہوپیک کیلی فورنیا کے اورِنڈا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار،ایک اخبار کی سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط