مرکز

سبز مصنوعات

نیکسَس تربیت یافتہ نووارد کمپنی بایوکیو روزمرہ کے استعمال والی اشیاء کو دوبارہ ڈیزائن کرکے ماحول دوست متبادل پیش کرتی ہے۔

اس وقت انڈیا میں ماحول دوست اور پائدار چیزوں سے بنی مصنوعات میں دلچسپی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔بایو کیو نامی ایک کمپنی اس اختراعی میدان میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ کمپنی روز مرہ کے استعمال والی اشیا ء سے پائدار سامان جیسے کاغذ اور زرعی فضلہ سے دوبارہ نئی مصنوعات تیار کرنے میں مصروف ہے۔ فی الحال کمپنی اپنی تمام تر توجہ ماحول دوست اسٹیشنری تیار کرنے پر مرکوز کر رہی ہے۔ مستقبل قریب میں کمپنی کا ارادہ دیگر شعبہ جات مثلاََ فرنیچر، کٹلری(چھری ، کانٹا اور چمچ وغیرہ)اور بلڈنگ بلاک میں توسیع کا ہے۔ نئی دہلی میں واقع اس اسٹارٹ اپ کمپنی نے امیریکن سینٹر سے چلائے جا رہے نیکسَس انکیوبیٹر میں تربیت حاصل کی ہے۔پیش ہیں کمپنی کے بانی اور سی ای او سَوربھ ایچ مہتا سے انٹرویو کے چند اقتباسات۔

 

ہند کے بازار میں ماحول دوست اور پائدار مصنوعات کے تئیں کتنی دلچسپی پائی جاتی ہے؟

زیادہ سے زیادہ افراد اب بڑی تعداد میں ماحول دوست متبادل مصنوعات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس طور پر صارفین کاروبار کرنے والوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ بھی ان متبادل چیزوں کی جانب متوجہ ہوں۔

 

اس شعبہ میں بایو کیو کیا کردار نبھا رہی ہے؟

میری کمپنی کا شمار ایسی اوّلین کمپنیوں میں ہوتا ہے جس نے پلاسٹک یا لکڑی کی بجائے استعمال شدہ کاغذ سے بنے قلم اور پنسل بازار میں متعارف کی۔ہم نے بیج سے بنے کاغذ والے کور اورہر مہینے کے لیے کلینڈر تیار کیے۔ یہ ایسا کلینڈر ہے جس کے ہر صفحہ کو مہینہ ختم ہونے پر بویا جا سکتا ہے ۔ان اختراعی مصنوعات کی کافی پذیرائی ہوئی ۔

ہماری بنیادی توجہ ابھی تک اسٹیشنری اور کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے تحائف پر مرکوز رہی ہے۔کمپنی کی باقاعدہ شروعات کو ابھی ایک سال سے بھی کم کا وقت گزرا ہے۔ اور ہم اوسطاََ ہر پانچ سیکنڈ میں ایک بویا جا سکنے والا پروڈکٹ فروخت کر رہے ہیں۔

#MakingTraditionsGreener 2018میں دیوالی پر لانچ کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد بھارتی تہواروں کو مزید سبز اور ماحول دوست طریقے سے منانے کے تئیں بیداری پیدا کرنا تھا۔اس کی خوب پزیرائی ہوئی اور ہمیں نئے طرح سے سوچنے کا موقع ملا ۔

 

کیا آپ اسٹارٹ اَپ کے پورے عمل کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کریں گے؟

مجھے ماحولیات اور پائداری کے شعبے میں کام کرتے ہوئے ۱۰ برس سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا۔۲۰۱۷ ء میں مجھے گھر واپس بلا لیا گیا تاکہ میں ڈِسپوزیبُل بال پینکا خاندانی کاروبار سنبھال لوں۔ چند ماہ گزرنے کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں تمام زندگی یہ کام نہیں کر سکتا۔ ا س لیے میں نے اسٹیشنری کا ماحول دوست متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا۔ ایک برس بعد میں نے الگ سے بایو کیو کی بنیاد ڈالی جس کی توجہ خالصتاََ ماحول دوست مصنوعات تیار کرنے پر تھی۔

 

نیکسَس انکیوبیٹر آپ کے کام میں کس طرح مدد گار ثابت ہوا؟

نیکسَس سے استفادہ کرنے سے پیشتر بایو کیو کی افزائش مختلف سمت میں ہورہی تھی ۔ اس کی توجہ کا کوئی خاص مرکز نہیں تھا۔نیکسَس کی بدولت سب سے پہلے یہی سیکھنے کو ملا۔ہم نے درست طریقوں کی تلاش کے علاوہ جو موجود ہے اس کا بہترین استعمال کرنا بھی سیکھا۔۱۰ ہفتوں کی تربیت میں بہت کچھ الگ کرنے کی ترغیب ملی۔ہم نے کاروبار سے تعلق رکھنے والے افراد کا انٹرویو کیا جو نیکسَس کے بغیر ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

نیکسَس میں اس چیز سے متعلق تربیتی اجلاس باقاعدگی کے ساتھ ہوتے تھے کہ اپنے خیال کو کس طرح اور کتنے اچھے طریقے سے پیش کیاجائے۔ اس سے کافی فائدہ ہوا اور ہمیں اپنی تجارت سے متعلق مزید معلومات حاصل ہوئیں۔ تربیت کے دوران پورا گروپ مجموعی طور پر کافی مددگار ثابت ہوا کیوں کہ گروپ کا ہر فرد ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا تھا۔

 

آپ کی اب تک کی سب سے کامیاب اختراعی کاوش کون سی رہی ہے؟

بایو کیو مصنوعات کو ڈیزائن کرنے والی کمپنی ہے۔ یہاں اختراع روز مرہ کی چیز ہے۔اس لیے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ان میں سے کون سی اختراع سب سے زیادہ کامیاب رہی ہے۔اگر تجارتی اعتبار سے بات کریں تو بوئی جا سکنے والی اسٹیشنری سیریز بڑی حد تک کامیاب رہی۔ خواہ وہ استعمال شدہ کاغذ سے بنایا گیا قلم ہو، پنسل ہو یا نوٹ پیڈ ہو.....بیج اس میں لازمی طور پر رہتی ہے۔ ہم نے استعمال کرو اور پھینکو کے فلسفے کو تبدیل کرکے استعمال کرو اور بڑھو کا فلسفہ اپنانے کی کوشش کی ہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ نیوٹری کپس(یعنی ایسی کٹلری جسے آپ کھانے کے بعد کھا سکتے ہیں)؛پلاسٹک سے عاری قلم جو استعمال شدہ کاغذ سے تیار ہوتا ہے اور گتے سے بنا پلگ اینڈ پلے فرنیچر سسٹم(مختلف ٹکڑوں کو جوڑ کر کام کی ایک چیز بنانا) جس کا بہت کامیاب بیٹا لانچ(کسی چیز کی اس حالت میں شروعات کہ ابھی اس کی تکمیل نہیں ہوئی ہو) ہوا .....یہ تمام چیزیں آنے والے مہینوں میں کمپنی کی کامیابی کے لحاظ سے بڑا امکان رکھنے والی چیزیں ہیں۔

ہم مصنوعات کی تحقیق اور ان کی ترقی پر جارحانہ انداز میں پیسہ خرچ کر رہے ہیں ۔ ہماری ٹیم پارٹیوں میں استعمال ہونے والی کٹلری ، استعمال شدہ کاغذ سے بنے فرنیچر اور لکھنے میں استعمال ہوسکنے والی چیزوں میں اختراعی مصنوعات تیار کرنے میں مصروف ہے۔ان اشیاء کا ماحولیات پر بہت زیادہ مثبت اثر ہوگا۔ انڈیا ایک بہت بڑا بازار ہے جس میں صارفین کی کئی تہیں ہیں۔ان کا ایک طبقہ ایسا ہے جو قیمت کے معاملے میں حساس ہے تو بعض طبقہ ایسا بھی ہے جسے نئی مصنوعات آزمانے میں کوئی تردد نہیں بشرطیکہ سامان اسے دلچسپ لگے اور ان سامانوں سے ماحولیات کو صاف ستھرا رکھا جا سکے۔

 

ٹریور لارینس جوکِمس نیویارک یونیورسٹی میں تحریر ، ادب اور معاصر ثقافت کی تدریس کرتے ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط