مرکز
1 2 3

تکنیک کے استعمال سے کسانوں کی مدد

پٹنہ میں واقع فارمز اینڈ فارمرز فاؤنڈیشن موبائل فون ایپس اور دیگر خدمات پیش کرتا ہے تاکہ زرعی سرگرمیوں سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں مدد کر سکے۔

زراعت ہندوستانی معیشت کے اہم ترین شعبوں میں سے ایک ہے۔حکومت ہند کے ۱۸۔۲۰۱۷ کے اقتصادی جائزے کے مطابق زرعی شعبہ ملک میں کام کرنے والی کُل آبادی کے ۵۰ فی صد سے زائد کو روزگار دیتا ہے اور ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں اس کی شراکت داری تقریباََ ۱۷ سے ۱۸ فی صد ہے۔ اس یقین سے حوصلہ پاکر کہ تکنیک ملک کے کاشت کاروں کو وسائل کا بہتر استعمال کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے،  پٹنہ میں واقع  فارمز اینڈ فارمرز فاؤنڈیشن کسانوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ وہ اپنی زمین سے منافع کو بہتر بناکر زرعی سرگرمیوں سے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔

سنہ ۲۰۱۰ ء میں قائم ایف اینڈ ایف نے فصلوں کی نوعیت اور ان کی بازارکاری کے بارے میں مزید جاننے اور سمجھنے کے لیے بنیادی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے کسانوں کو کم اخراجات کے طریقے بتانے کی غرض سے مختلف پروگرام تیار کیے ہیں۔ کمپنی کے شریک بانی ششانک کمار کے دیہی پس منظر اور گریجویشن کے بعد ایک انتظامی مشاورتی فرم کے ساتھ کام کرنے سے انہیں کسانوں سے ساز و سامان کی خریداری کے دوران پیپسی کو اور برٹانیہ جیسی تیز رفتار اشیائے صرف(ایف ایم سی جی )سے متعلق کمپنیوں کو در پیش مشکلات کا علم پہلے سے تھا۔ کمار آئی آئی ٹی دہلی کے سابق طالب علم ہیں۔ وہ خریداروں اور کسانوں کے مابین اس خلیج کو کم کرنا چاہتے تھے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ کاشتکار ایسی فصلیں اگائیں جوکھیتی کے لیے دستیاب زمین کے لیے انتہائی موزوں ہوں اور صحت مند منافع بھی حاصل کرسکیں۔اپنے شراکت دار منیش کمار اور ۱۳ کسانوں کے ساتھ انہوں نے اس منصوبے کی شروعات ویشالی ضلع کے چکدھریا گاؤں میں کی تاکہ کسانوں کو مٹی کے معیار، فصلوں کے انتخاب اور ان کی مصنوعات کی بازارکاری کے بارے میں آگاہی حاصل ہوسکے۔

کسانوں کومطمئن کرنا آسان نہیں تھا ۔مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اورآئی آئی ٹی کھڑگ پور ، بہار زرعی یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے مشیروں کے ساتھ مل کر ایک ٹیم تشکیل دی تاکہ انہیں کسانوں تک رسائی میں مؤثر انداز میں مدد مل سکے۔ مٹی کی کیفیت کی بنیاد پر انہوں نے کاشتکاروں کو گندم کی بجائے راجما (گردے کی پھلیاں) اگانے پر راضی کیا اور اس سے انہیں ۱۰۰ فی صد منافع کمانے میں مدد ملی۔ اس کے فوراََ بعد ایک بنیادی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں پروفیسر امریندر سنگھ، شیام سندر سنگھ، آدرش سریواستو اور ابھیشیک دکانیا جیسے لوگ شامل تھے۔

 

کسانوں کو خدمات کی دستیابی

ایف اینڈ ایف کسانوں کو دی ہاٹ ماڈل کے توسط سے اپنی خدمات بہم پہنچاتا ہے۔ اس میں زرعی قدروں کے مختلف عناصر شامل ہیں جن میں کھیت کی تیاری، معلومات کی فراہمی، مشاورتی خدمات اور بازار سے ان کے روابط شامل ہیں۔ مشاورتی خدمات آن لائن اور آف لائن دونوں طرح مہیا کی جاتی ہیں۔اور یہ چیز اس ماڈل کی بنیاد ہے جس کا مقصد ہر کسان کی ضرورت کے اعتبار سے اسے چیزیں مہیا کروانا ہے۔ کمار کہتے ہیں ’’ ہمارا مقصد انڈیا کے چھوٹے زمین داروں کو مکمل زرعی خدمات بہم پہنچانا ہے۔‘‘

آف لائن طریقے میں کمپنی کے زرعی ماہرین کسانوں سے ملتے ہیںاور ان کے سوالوں کا بروقت جواب دیتے ہیں۔ اس سے کسانوں اور ماہرین کے درمیان راست تفاعل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسان اپنے سوال دی ہاٹ کے موبائل ایپ کے ذریعہ یا انٹر ایکٹو وائس ریسپانس (آئی وی آر)سسٹمکے ذریعہ بھیج سکتے ہیں۔ سوال درج کروانے کے ۴۸ گھنٹے کے اندر حل دستیاب ہو جاتا ہے۔ اس مشاورتی نظام کی بدولت کسان اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ جواب ملنے کے بعد فیصلہ کرسکتے ہیں جس سے ان کے زرعی خرچ میں کمی آتی ہے۔

 

چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی

کرنااس ماڈل کی دوسری اہم چیز ایسے چھوٹے کاروباریوں کو پیدا کرنا ہے جو دی ہاٹ رابطہ کاروں کا کام کرسکیں۔یہ لوگ گاؤں کے دی ہاٹ مراکز کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہیں اور کسانوں اور ایف اینڈ ایف کے درمیان پُل کا کام کرتے ہیں۔ان نوجوان رابطہ کاروں(جن کا تعلق اسی برادری سے ہے جن کے درمیان و ہ کام کرتے ہیں) کے مالیے کا اصل ذریعہ فصلوں کی فروخت سے حاصل ہونے والا کمیشن اور کسانوں کے ذریعہ ادا کیا جانے والا   اِن پُٹ کاسٹ ہے۔

اس ماڈل میں مقامی لوگوں کی شرکت (صرف فائدہ حاصل کرنے والوں کی حیثیت سے ہی نہیں، اسے فروغ دینے والے کی حیثیت سے بھی )نےدی ہاٹ ماڈل کی پائیداری کو یقینی بنایا ہے۔ کمار بتاتے ہیں ’’ابھی ہماری خدمات بہار،جھارکھنڈ ،اڑیسہ اور اترپردیش میں دی ہاٹ کے ۳۰۲ رابطہ کاروںاورموبائل پر مبنی ٹیکنالوجی کے توسط سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار کسانوں کو دستیاب ہیں۔ہمارا منصوبہ ۲۰۲۱ء میں مدھیہ پردیش اور راجستھان میں توسیع کا بھی ہے۔ اس کے علاوہ ایف اینڈ ایف بہار، جھارکھنڈ اور اڑیسہ میں کسانوں کی ۱۲ پیداواری تنظیموں کی معاونت بھی کر رہا ہے۔ ‘‘

ایف اینڈ ایف نے زرعی کاروبار، تکنیک اور آئی سی ٹی (انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی ماڈیول )پر ۱۰ سے زائد چھوٹے کاروباریوں کو تربیت دی اور اپنے ملینیم الائنس پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر زراعت سے متعلق مشورے ، فصلوں کے بارے میں مشورے اور بازار سے رابطے سے متعلق کسانوں کو مکمل اور بھرپور خدمات فراہم کرنے میں ان کی مدد کی۔ ملینیم الائنس اصل میں حکومت ہند اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بین الاقوامی ترقی سے متعلق ایجنسی ، فیس بُک اور دیگر کے درمیان شراکت داری ہے جس کی رُو سے ہند کے سماجی کاروباری شعبے میں سرگرم اکائیوںکی اعانت ، صلاحیت سازی اور تجارتی ترقی میں ا مداد کی جاتی ہے۔

دی ہاٹ مراکز کا اصل فائدہ یہ ہے کہ کسان ان مراکز سے چیزیں خرید سکتے ہیں اوریہاں اپنی پیداوار بیچ بھی سکتے ہیں۔ کمار بتاتے ہیں ’’ ہمارا وژن زرعی احتیاج کی چیزوں ، مشاورتی خدمات ، قرض اورکسانوں کی زرعی پیداواراور بازار سے روابط کی کسانوں تک بہتر دستیابی ہے ۔ کسان یہ کام دی ہاٹ ایپ پر ایک کلک سے کرسکتے ہیں ۔ وہ مفت نمبر ۱۱۰۔۱۰۳۶۔۱۸۰۰پر کال بھی کرسکتے ہیں۔ اس سمت میں کسی شراکت داری کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ ‘‘

 

پارومیتا پین رینو میں واقع نیواڈا یونیورسٹی میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط