مرکز

پلاسٹک فضلہ کا موزوں استعمال

نیکسَس سے تربیت یافتہ فیشن بَرینڈ ایل آئی ایف اے ایف ایف اے (لفافّا) پلاسٹک کوڑے کو چمڑے سے مشابہ ایک چیز میں تبدیل کرنے اور کوڑے کا استعمال کرکے بہترین مصنوعات بنانے میں کوڑا چننے والوں کے ساتھ شراکت دار بن  گیا ہے۔

ایک پھلتا پھولتا ہوا نیا سماجی ادارہ انڈیا میں کوڑا چننے والوں کو تنگدستی سے نکال کر انہیں متمول بنانے کا کام کررہا ہے۔اس ادارے کا نام(جو اب ایک فیشن بَرینڈ بن چکا ہے) ایل آئی ایف اے ایف ایف اے( لفافّا) ہے جو کوڑا چننے والوں کو ایک اختراعی پیداواری عمل کا استعمال کرکے پلاسٹک کوڑے سے خوش پوش ہینڈ بیگ اور دیگر مصنوعات بنانے میں مدد کر رہا ہے۔ ادارہ کی بانی کنیکا آہوجہ بتاتی ہیں ’’ لفافّا کو غریبی اور کوڑے کے جڑواں مسائل کا مقابلہ کرنے کی نیت سے قائم کیا گیا تھا۔ ہم نے طے کیا تھا کہ ہندوستانی معاشرے میں انتہائی استحصال کے شکار طبقات میں سے ایک یعنی کوڑا چننے والوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے لیے واحد دستیاب وسیلہ کوڑا ہے اور ڈلاؤ کے مقامات پر سب سے بڑا مسئلہ پلاسٹک ہے۔ ‘‘

آہوجہ نے ایک ایسا راستہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا جس سے کوڑا چننے والوں ، تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی زندگی کو کچھ بہتر بنا یا جاسکے، ان کی آمدنی میں کم و بیش ۱۵۰ فی صد کا اضافہ کیا جا سکے اور ڈلاؤ میں سڑ اور گل نہیں سکنے والی پلاسٹک کے بڑھتے مسئلے کا بھی حل تلاش کیا جاسکے۔ آہوجہ نے بتایا ’’ ہم نے پلاسٹک کوڑا جیسے کہ پلاسٹک تھیلیوں ، ریپرس، چپس کے پیکٹ اور پلاسٹک پیکجنگ کو ایک قسم کے مصنوعی چمڑے میں تبدیل کرنے کے لیے مالکانہ ٹیکنالوجی تیار کی۔ ‘‘

 اس کوشش کے نتیجے میں جو کپڑا تیار ہے اسے  ہینڈ میڈ ری سائیکل پلاسٹک (ایچ آر پی )کہا جاتا ہے۔آہوجہ مزید بتاتی ہیں ’’ ہم اس سے ہینڈ بیگ، بیک پیک، پاؤچ، لیپ ٹاپ سلیوز اور زیورات جیسی فیشن والی اشیاء بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ لیکن اس مواد کا استعمال فرنشنگ،مکان کے اندرلگنے والے ٹائلس، وال پیپر، بلائنڈس، جوتے چپل ، گھر کی آرائش والی اشیاء وغیرہ بنانے کے لیے بھی مختلف صنعتوں میں کیا جا سکتا ہے۔ اس طور پر اس مواد کی فروخت کے نتیجے میں یہ پروجیکٹ اپنا خرچ خود نکالنے کا اہل ہو جاتا ہے۔ 

لفافّا ،آہوجہ کے والدین کی قائم کردہ ایک غیر سرکاری تنظیم  کنزرو انڈیا کا فیشن بَرینڈ ہے۔ اس این جی اوکا قیام کوڑے کے مؤثر انتظام کے ذریعہ آلودگی پر قابو پانے اور مخدوش کوڑا چننے والی برادری کوبا اختیاربنانے کی نیت سے عمل میں آیا تھا۔آہوجہ نے اپنے کام کی بدولت اسے سوشل میڈیا کے دَور کی ضرورت کے لائق بنا دیا ہے۔  

لفافّا کی روح ِ رواںکی تربیت نئی دہلی کے امریکن سینٹر میں واقع نیکسَس انکیوبیٹراسٹارٹ اپ ہب میں ہوئی۔ آہوجہ اس سلسلے میں بتاتی ہیں’’ نیکسَس کا حصہ بننا شاندار تجربہ تھا۔ اس کے ایکسلریٹر پروگرام کی بدولت ہمیں کسی اسٹارٹ اپ کو چلانے سے متعلق کئی لازمی چیزوں کی جانکاری ملی ،حکمت عملیوں کی دوبارہ تقویم ہوئی اور ہم نے اپنی طاقت کو استعمال کرنا سیکھا ۔ جب کہ اتالیقوں نے ہماری کمزوریاں دور کرنے کے لیے ہم میں سے ایک ایک فرد پر الگ الگ محنت کی۔نیکسَس نے ان لوگوں کو مضبوط نیٹ ورک کے علاوہ ان کے کام میں مدد کر سکنے والی تنظیموں تک رسائی بھی فراہم کی۔ نیکسَس میں حصہ دار بننا پروگرام کے دائرۂ کارسے باہر کا معاملہ ہے۔ اور میں سچ مچ نیکسَس کا حصہ بن کر خوش ہوں۔‘‘

کنزرو انڈیا نے شروع میں مختلف قسم کی مصنوعات پیدا کرنے کے لیے اسی طرح کے ایک تصور کے استعمال کو رواج دیا تھا۔ بعد میں جب دنیا میں پائیدار ی پر بہت زور دیا جانے لگا تو آہوجہ کو لگا کہ یہ وقت ایک ایسا سماجی ادارہ قائم کرنے کے لیے موزوں ہے جو مصنوعات کی پیداوار اور بنیادی تجارتی طور طریقوں میں شدید تربیت کے ذریعہ سب سے کم آمدنی والے کاروباری پیشہ وروں کو بھی خودمختار بنا سکتا ہے۔

جب کنزرو انڈیا نے ان طبقات کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تو اسے علم ہوا کہ کوڑا چننے والوں کے لیے پائیدار کاروبار کا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس کے لیے اس واحد وسیلے کا استعمال کیا جائے جو انہیں مفت اور وافر مقدار میں دستیاب ہے، یعنی کم قدر والا پلاسٹک۔آہوجہ بتاتی ہیں ’’ اس قسم کا پلاسٹک کوڑا فضلہ کو قابل ِ استعمال بنانے والوں کے لیے بھی کم قدر والے سامان کی حیثیت رکھتا ہے۔ پھر ایک بار جب یہ ڈلاؤتک پہنچ جاتا ہے تو کوئی اسے دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی کوشش نہیں کرتا۔ ہم نے ایک ٹیکنالوجی ایجاد کی اور اسے پیٹنٹ کرایا جس کے ذریعہ ہم اس کم قدر والے پلاسٹک کو زیادہ موٹے ، فعال اور پائیدار کپڑے میں تبدیل کر سکتے ہیں جسے زیادہ اونچی قدر والی مصنوعات تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘

کنزرو انڈیا کوڑا چننے والے گروپوں کو کوڑا جمع کرنے اور اسے کار آمد بنانے کی تربیت دیتی ہے۔ آہوجہ نے بتایا ’’ بہت سارے گروپوں نے اپنے آپ کو اپنی مدد آپ کرنے والے گروپوں میں منظم کر لیا ہے اور اس فضلہ کا استعمال کرکے اس سے نفع بخش سامان بنانے اور نتیجے کے طور پر منفعت بخش کاروبار چلا رہے ہیں ۔ یہ اپنی مصنوعات کنزرو کے علاوہ دوسری کمپنیوں کو بھی مہیا کروا رہے ہیں۔ ‘‘

کوڑا چننے والے پتلے پلاسٹک تھیلوں کو چن ،چھانٹ کے ،صاف کرتے اور سکھاتے ہیں ۔اس کے بعد انہیں دبا کر پلاسٹک کی چادروں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔ بعد میں انہیں تہہ بہ تہہ بچھا کر ان سے پیٹرن اور ڈیزائن بنایا جاتا ہے ۔ ایسی ہر چادر کے بننے میں ۱۵۰ گرام پلاسٹک تھیلوں کا کوڑا استعمال ہوتا ہے ۔ اس کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی غرض سے روایتی طریقوں کے مقابلے توانائی کم صرف ہوتی ہے۔ اور خاص بات یہ ہے کہ اس سے کوئی زہریلا دھنواں بھی خارج نہیں ہوتا ۔ اس میں کسی قسم کا رنگ اور کیمیاوی مادّہ بھی استعمال نہیں کیا جاتا۔ آہوجہ بتاتی ہیں ’’ کنزرو انڈیا میں ۵ ہزار سے زائد ڈیزائن کا کیٹلاگ بنایا گیا۔یہ ڈیزائن تہہ بنانے کی مختلف تکنیک کے استعمال سے تیار ہوئے ۔ ‘‘ 

اس طریقے کے پلاسٹک کوڑے کا اطلاق بہت سے وسائل پر ہو سکتا ہے جس میں گھریلو کوڑا، صنعتی فضلہ اور سمندری کوڑا شامل ہے۔آہوجہ کا ٰخیال ہے کہ کمپنی کے اس تصور کو آگے بڑھانے کے لیے مستقبل میں امکانات بہت ہیں۔ انہوں نے بتایا’’آگے بڑھنے کے لیے ہمارے سامنے پُر جوش چیزوں کی قطار لگی ہے۔ ہم لوگ اپنی پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی کا لائسنس دلچسپی لینے والی تنظیموں کو دینے کے خواہش مند ہیں تاکہ وہ  ایچ آر پی فیبرک بنا سکیں ۔

ہم لوگ ایک اور پیٹنٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو بہتر بنائے گئے فیبرک کی نئی اور ترقی یافتہ صورتیں بنانے سے تعلق رکھتا ہے۔‘‘ مگر یہ چیز آہوجہ کے منصوبوں کا محض ایک پہلو ہے۔ انہوں نے بتایا ’’میں نے بنیادی کام کر لیا ہے ، کچھ شراکت داریوں کی رضامندی بھی حاصل کر لی ہے ۔ اس کے علاوہ ایک بہت کامیاب پائلٹ پروجیکٹ بنایا ہے جس میں ایسی تکنیک کا استعمال ہوا ہے جن کی ضرورت دنیا کو آج پہلے سے زیادہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اسے ایک چھوٹے پیمانے کے کامیاب منصوبے سے آگے لے جا کر کوڑے کو بہتر مصنوعات کے قالب میں ڈھال کر میں اس سلسلے میں عالمی معیار قائم کرنے میں کامیاب رہوں گی۔ ‘‘ 

 

کینڈِس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط