مرکز

اختراع سازی کی راہ پر منزل کی تلاش

ایک نئی تکنیک روڈ باؤنس جدید تجزیات کا استعمال کرکے اسمارٹ فون کے ذریعے عوامی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے کی پہل کرتی ہے۔

اسمارٹ فون صرف سیلفی اپلوڈ کرنے ،دوستوں سے رابطہ کرنے اور محل وقوع کا پتہ لگانے تک محدود نہیں ہیں ۔ ان کی مدد سے سڑکوں کی مرمت بھی کی جا سکتی ہے اور زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔  

ریاست مہاراشٹر کے شہر پونہ میں واقع  ڈیفینیٹِکس سافٹ ویئر سولوشنس(ڈی ایس ایس) کے ذریعہ تخلیق کی گئی نئی تکنیک  روڈ باؤنس کا مقصد بھی یہی ہے۔ڈی ایس ایس کے بانی رنجیت دیش مُکھ کہتے ہیں ’’ جب آپ سڑک پر اپنی کار میں ہوتے ہیں تو آپ محفوظ ، ہموار اور گڑھوں سے آزاد سفر کی امید کرتے ہیں لیکن دنیا کے بہت سارے حصوں میں یہ امیدیں بر نہیں آتیں۔ دوسری جانب محکمۂ سڑک کے حکام کو سڑکوں کی خطرناک صورت حال کے بارے میں پتہ لگانے اور ان کی مرمت کے لیے ضروری اعداد وشمار یکجا کرنے میں ہمیشہ دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی کمی کی تکمیل کے لیے ہم نے روڈ باؤنس ایجاد کیا۔‘‘

گاڑی میں روڈ باؤنس کی تنصیب کے بعد یہ ان مقامات کا بالکل درست طور پر پتہ لگانے کے لیے (جہاں گڑھوں اور خراب سڑکوں کی وجہ سے فون میں بہت زیادہ ارتعاش ہوتا ہے) جی پی ایس کے استعمال کے ذریعے اس بات کی نگرانی کرتا ہے کہ جب فون چلتی ہوئی کسی گاڑی میں رکھا ہو تواس میں ارتعاش پیدا ہونے کا سبب کیا ہوتا ہے۔اس کے بعدڈی ایس ایس سب سے زیادہ خطرناک علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اور اس جانکاری کو اپنے صارفین کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے مختلف صارفین سے ملے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتا ہے۔ 

کمپنی کے گاہکوں میں بلدیہ ، اسمارٹ شہروں کے حکام ، انڈیا میں قومی شاہراہ اور سڑک سے متعلق محکمے اور ٹیکساس میں روڈ سے متعلق ٹھیکیدار اور دنیا کے دیگر علاقوں کے ادار ے شامل ہیں۔اس کے نتیجے میں حکام کو درست طور پر اس کی جانکاری مل جاتی ہے کہ سڑک کی مرمت کہاں کرنی ہے اور عملے کو کہاں بھیجنا ہے۔ اس سے ان کے لیے سڑکوں کو مؤثر، بہترطریقے پر اور سستے میں ٹھیک ٹھاک رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جغرافیائی محل و وقوع سے پتہ چلنے والے گڑھوں یا نا ہموار حصوں کی مرمت سے حکومت اور روڈ ٹھیکیدار وں کے لیے سڑک کے رکھ رکھاؤ کی لاگت میں ۵۰ فی صد تک کمی آ سکتی ہے۔ اگر سڑکیں بہتر ہوں تو گاڑیوں میں خرابی کم ہوگی اور حادثوں سے متعلق بیمہ دعوے بھی کم ہوں گے۔

ایک تجربہ کار سافٹ ویئر ڈیولپر اور اسٹارٹ اپ ایکزیکٹو دیش مُکھ کو لوگوں کی مدد کے خیال نے پہلے پہل روڈ باؤنس کی ایجاد کی تحریک دی۔وہ بتاتے ہیں ’’انڈیا کا روڈ نیٹ ورک دنیا کا دوسرا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے مگر یہاں سڑکوں کے معیار کے تعلق سے اکثر خدشات رہتے ہیں ، خاص کر برسات کے موسم میں۔چوں کہ ملک میں ہر سال بہت سارے لوگ حادثوں میں مر جاتے ہیں اور سفر کے معیار کا راست اثر مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والی گاڑیوں ، اسکول بسوں ، خطرناک اشیاء ڈھونے والی گاڑیوں اور دیگر گاڑیوں پر ہوتا ہے ، لہٰذا میں نے سوچا کہ اگر اس شعبے میں اختراع سازی پر کام کیا جائے تو بہت ساری زندگیوں پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔‘‘

دیش مُکھ کو اس ایجاد میں تجارت کا ایک اہم موقع بھی نظر آیا۔ وہ کہتے ہیں ’’یہ اعداد وشمار کا بڑا دلچسپ کھیل ہے کیوں کہ سڑک کی حالت سے متعلق اعداد و شمار دوسرے کاروبار کی افزودگی کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔لاجِسٹِکس(دیکھ بھال اور رسدنیز دیگر سہولتوں کی فراہمی)،نقل و حمل ، بیمہ ،پہیہ وغیرہ سے متعلق صنعتیں بہت اچھی طرح فیضیاب ہو سکتی ہیں اگر روڈ باؤنس کے اعداد وشماربڑے پیمانے پر انہیں فراہم کروا دیے جائیں۔ ‘‘

۲۰۱۶ ء میں اسے شروع کرنے کے بعد دیش مُکھ اور ان کی ٹیم نے تحقیق ، سافٹ ویئر کی تیاری، اس کی پیمانہ بندی ، سڑکوں سے متعلق مقامی حکام کے ساتھ اس کی آزمائش کرنے اور پیٹنٹ کی درخواست دینے میں ۹ مہینے گزارے۔سخت محنت نےاپنا رنگ دکھایا ۔ جلد ہی روڈ باؤنس کو ادائیگی کرنے والا پہلا صارف ملا۔ اس طور پر ملک گیر پیمانے پر کمپنی نے سڑک پر احتیاط برتنے میں بہتری کے شعبے میں اچھا کام کیا۔ 

تکنیک کی سمجھ رکھنے والے بہت سارے کاروباری پیشہ وروں کی طرح دیش مُکھ کو بھی ابتدائی دنوں میں صرف ایک عظیم ایجاد کے لیے ہی مشکلات کا سامنا کرنا نہیں پڑا بلکہ اس سے متعلق ایک پائیدار کاروبار قائم کرنے میں بھی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں نیکسس انکیوبیٹر اسٹارٹ اپ مرکز کا حصہ بننے کے لئے درخواست دی۔دیش مُکھ کہتے ہیں ’’ نیکسَس نے ہمیں اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے کافی وقت دیا ۔ اس نے ہماری تکنیک ہی نہیں بلکہ ہمارے کاروبار کو بھی بہتر طور پر سمجھنے میں ہماری مدد کی ۔ہمیں اس بات کی بھی سمجھ دی کہ ہم روڈ باؤنس کو کس طرح قابلِ تجارت بنا سکتے ہیں ۔‘‘ 

وہ مزید کہتے ہیں کہ تربیت کے اس پروگرام نے ان کی ٹیم کو تحقیق کی تجربہ گاہ سے باہر نکل کر گلیوں اور سڑکوں تک پہنچنے میں مدد کی اور ان کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنے کے بیش قیمت طریقے بتائے۔  

روڈ باؤنس کو امریکہ اور نیدر لینڈس کی میزبانی میں منعقد  گلوبل انٹرپرینر شپ سمٹ (جی ای ایس)۲۰۱۹ سے کاروباری قوت حاصل ہوئی۔دیش مُکھ کہتے ہیں ’’ جی ای ایس ۲۰۱۹ ہماری نوخیز کمپنی کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور اس کو فروغ دینے کا ایک شاندار موقع تھا۔اس میں ایسے بہت سے ذہین لوگوں ، حکومت کے نمائندوں اور فیصلہ کرنے والوں نے شرکت کی جو اختراع سازی کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان رشتوں کے قیام کو رفتار دینے میں مدد کرتے ہیں۔ ‘‘

مذکورہ انعقاد کے دیگر مثبت نتائج کے بارے میں دیش مُکھ بتاتے ہیں کہ گاڑیاں بنانے والی ایک امریکی کمپنی نے امکانی شراکت داری کے لیے ان سے رابطہ کیاجس کی بدولت’’اس کاروبار کی ایک بالکل نئی جہت کے ‘‘دروازے کھل گئے۔

مستقبل میں دیش مُکھ کو امریکہ اور دیگر ممالک میں مزید شراکت داری کی امید ہے۔ ان کی آرزو ہے کہ اس میں مزید بہتر ی آئے اور آخرش سڑک پر دوڑنے والی ہر گاڑی میں روڈ باؤنس نصب ہو۔ 

 

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای اوہیں ۔ وہ نیویارک سٹی میں رہتے ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط