مرکز

خواتین کو روزگارمیں تکنیکی مدد

عوامی سفارت کاری  سے متعلق پروگرام ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا میں شرکت کر چکی چندرا وڈھانا آر خواتین کے لیے ملازمت کے امکانات کو بڑھانے کی خاطر انہیں بنیادی ڈیجیٹل مہارتیں فراہم  کرنے کا کام کرتی ہیں۔

چندرا وڈھانا آردو نووارد کمپنیوں کی سی ای او ہیں ۔ ان کا کام اختراع ، صنف اور کاروباری سرگرمی پر مرکوز ہے۔  پرایانا  اور  فورچون فیکٹری کے ذریعہ وہ ہندوستانی خواتین کو ملازمت کے بہتر مواقع حاصل کرنے کے لیے راہنمائی کرکے انہیں بااختیار بنانے کا کام کر تی ہیں۔ پرایانا ایسی کمپنی ہے جو خواتین کے علاوہ ان نوجوان خواتین کے ساتھ بھی کام کرتی ہے جنہوں نے ملازمت کے لیے خود کو بہتر طور پر تیار کرنے کی خاطر ملازمت سے عارضی طور پر رخصت لے لی تھی۔وڈھانا کے مطابق ۲۰۱۷ ء میں کمپنی کے آغاز کے بعد سے اب تک اس کمپنی نے ۲۰ ہزار سے زائد لڑکیوں اور خواتین کو متاثر کیا ہے۔ جب کہ فورچون فیکٹری انسانی وسائل مہیا کرانے والی کمپنی ہے جو کارپوریشن میں ہونے والی تقرری اور تربیت میں مدد کرتی ہے۔

 دبئی میں ۲۰۱۸ء میں منعقد ہوئے ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا (امریکی محکمۂ خارجہ کا تعلیمی اور ثقافتی امور کے بیورو کے زیر اہتمام منعقد عوامی سفار ت کاری پروگرام ) میں وڈھانا نے اپنے ٹیک شکتی پروجیکٹ کے تحت بہتر ملازمت کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی آلات کے استعمال سے متعلق ایک  ای ۔لرننگ ماڈیول تشکیل دیا۔پیش ہے ان سے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

 

آپ کا کام کس طرح ہندوستانی خواتین کو ملازمت میں مدد کرتا ہے؟ 

ملازمت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مَیں کچھ عرصے سے ایک پیشہ ور اور ماہر تعلیم کی حیثیت سے کام کر رہی ہوں۔۲۰۱۷ء میں میری دوست کیزیہ اور میں نے ۲۰۱۷ ء میں کیرل کے ایک دور دراز کے قصبے کی نوجوان خواتین کے ایک چھوٹے سے گروپ کو تربیت دی۔ اس کے نتیجے میں ہم انہیں بااختیار بنانے ، ان کی مہارتوں کو مہمیز کرنے اور ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ان میں تبدیلی لانے کے قابل ہو سکے تھے۔ کیرل سے واپسی کے دوران ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیںاس شعبے کے لیے اور زیادہ کام کرنا چاہئے۔

 اگلے چند مہینوں کے دوران میں نے خواتین کو ان کی عملی زندگی میں درپیش چیلنج سے متعلق مزید تحقیق کی اور خواتین کے کریئر میں بہتری لانے کے لیے تیار کیا گیا ایک خصوصی نصاب اور نمونہ پیش کیا۔ یہی پہل   پرایانا فیلوشپ پروگرام اور  اسٹارپ اپ کمپنی پرایانا لیبس کے طور پر سامنے آئی۔

 ہم ملازمت سے عارضی رخصت لینے والی خواتین کے علاوہ طالبات کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں ، ان کی ملازمت کی اہلیت میں اضافہ کرنے کے لیے ان کی مدد کرتے ہیں یا ان کے اسٹارٹ اپ میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ہم نے حال ہی میں  کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے قائدانہ صلاحیت میں اضافہ کرنے کا پروگرام بھی شروع کیا ہے۔ ہماری کوششیں ملازمت سے عارضی طور پررخصت لینے والی خواتین میں موجود بے روزگاری کی بنیادی وجوہات سے لڑنے پر بھی مرکوز ہیں۔ ہم اس بات کے لیے بھی کوشاں ہیں کہ تعلیم یافتہ لیکن بے روزگار ، نیز جزوی ملازمت والی خواتین کو مؤثر انداز میں ان کی کریئر سازی کے لیے بااختیار کرنے والے اقدامات کریں۔ پرایانا کے

  زیر اہتمام جاری  کمبیک ٹو کریئر مشن نوجوان خواتین کے ذہنوں میںخوابیدہ خواہش کو بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وقفے کے بعدانہیں دوبارہ ملازمت دلوائی جا سکے۔ پرایانا نے اسی مشن کے تحت ترو اننت پورم، کوچی، دبئی ، پونہ اور کوزی کوڈ میں تقریبات کا انعقاد کیا اور صرف ۲۰۱۸ ء میں ۵۰۰ سے زائد خواتین پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہوئی۔ 

 

کیا ہمیں ۲۰۱۸ ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا اور اپنے پروجیکٹ ٹیک شکتی کے بارے میں کچھ بتاسکتی ہیں؟

دبئی میں منعقدہ ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا ایک زبردست تجربہ تھا۔ میں ہم خیال خواتین کے ساتھ سیکھنے کے علاوہ رابطہ سازی کررہی تھی اور ان میں سے بہت سے لوگوں سے وابستہ ہوگئی تھی۔ کیمپ کے دوران میں نے سیکھا کہ سماجی کاروبار میں کس طرح سے ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد میں نے ٹیک شکتی نامی ایک پروجیکٹ کی تجویز پیش کی جو خواتین کو روزگار دلانے میں مدد کرنے کی غرض سے شروع کیا گیا ایک موبائل ایپلی کیشن ہے۔  

 اس کامیاب کیمپ کے خاتمے کے بعد مجھے خواتین کو درپیش مختلف قسم کے مخصوص مسائل کے حل پر زیادہ کام کرنے کی ترغیب ملی۔میں نے www.shespeakers.comشروع کیا ہے جو خواتین کے لیے  اسپیکر لِسٹنگ سائٹ ہے ۔ میں www.pracol.com(پرایانا کلیکٹیو) ڈیولپ کر رہی ہوں جو خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی فروخت کے لیے ایک  ای۔ کامرس پلیٹ فارم ہے۔

 

پریانا ہبس کیا ہیں؟

پرایانا ھَبس(مراکز) مختلف تعلیمی اداروں میں قائم ہیں جہاں ہماری رابطہ سازی کی زیادہ تر سرگرمیاں انجام پاتی ہیں۔ہر مرکز کی قیادت کیمپس کے سفیر اور ایک ایکزیکٹو کمیٹی کرتی ہے جو خصوصی طور پر خواتین کے لیے ماہانہ تقریبات کا انعقاد کرتی ہے۔ان مراکز میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد اور خواتین رہنما تربیت کار کے طور پر جاتے ہیں اور خواتین کو ان کے کریئر میں راہنمائی کرتے ہیں۔ یہ مراکز چھوٹے کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے مقامات کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ اب تک ہم نے ۱۰ سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں اور ہمارے پاس 60 سے زیادہ کیمپس سفیر ہیں۔

 

کریئر کوئن سمِٹ کیا ہے اور اسے کون سی چیز خاص بناتی ہے؟

میں نے اس کا خیال ایک سالانہ تقریب کے طور پر پالا تھاجہاں ہم خواتین رہنماؤں کی عزت افزائی کر سکیں۔ یہ تقریب اس طور پر منفرد ہے کہ اس میں ہم با صلاحیت نو جوان خواتین کی نشاندہی کرتے ہیں اور کسی مخصوص سال کے لیے مس پرایانا کے طور پر ان کی تاج پوشی کرتے ہیں ۔ اس پروگرام کا مقصدتمام طرح کی خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو آگے بڑھانا ہے، بجائے یہ دیکھنے کے کہ دیگر ملکۂ حسن کیا کرتی ہیں۔ 

 

آپ فورچون فیکٹری کی سی ای او بھی ہیں۔ یہ کمپنی پرایانا سے کس طرح مختلف ہے؟

فورچون فیکٹری کوایک ایچ آر کمپنی کے طور پر شروع کیا گیا تھا ۔ یہ کارپوریٹ کمپنیوں کو ان کی بھرتی اور تربیت کے عمل میں مدد کرتی ہے۔ ہم خصوصی تربیت، ای لرننگ اور میڈیا حل فراہم کرتے ہیں، جبکہ پریانالیبس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو خاص طور پر خواتین کی ملازمت اور اس سے متعلق معاملات کے لیے مخصوص ہے۔

 

آپ کے مستقبل کے منصوبے کیا ہیں؟

میں نے کوچن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے ابھی پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔  میری خواہش ہے کہ اختراع، صنف اور کاروباری صلاحیت کے شعبے میں مزید تحقیقی کام کو آگے بڑھاؤں۔ میں اپنے جدیداسٹارٹ اپ پرا کول پروجیکٹپربھی توجہ دوں گی،جہاں میں ۱۰ہزار خواتین کاروباری پیشہ وروں کی مصنوعات اور خدمات پیش کرنا چاہتی ہوں۔ میں خواتین کے لیے ایک  سیلف ہیلپ بُک بھی لکھ رہی ہوں۔ میں نے ۲۰۳۰ ء تک ۱۰ لاکھ زندگیوں کو بااختیار بنانے کا ایک ہدف بھی مقرر کر رکھا ہے۔ 

 

نتاشا مِلاس نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط