مرکز

کامیاب مثالیں

اس مضمون کو پڑھیں اور وھارٹن انڈیا اسٹارٹ اپ چیلنج ۲۰۱۹ میں کامیاب ہونے والے تین شرکا ء کے بارے میں جانیں۔

ڈیزل ، طلبہ کو تعلیم کے لیے ملنے والے قرض اور تجارتی سفر میں قدرِ مشترک کیا ہے؟ایندھن کی فراہمی ، تعلیمی قرض اور تجارتی سفر کی افادیت میں اضافہ کرنے والی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے تخلیقی اذہان کو وھارٹن انڈیا اسٹارٹ اپ چیلنج (ڈبلیو آئی ایس سی) ۲۰۱۹کا فاتح قرار دیا گیا ہے۔

مذکورہ تینوں فاتحین مختلف النوع تجارتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔مائی پیٹرول پمپ مانگ کے اعتبار سے ایندھن فراہم کرنے کا کام انجام دیتی ہے،آئی ٹی آئی لائٹ ایک تجارتی سفر کا پلیٹ فارم ہے جب کہ کریڈینس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے طلبہ کو تعلیمی قرض فراہم ہوتاہے۔

ڈبلیو آئی ایس سی ، وھارٹن انڈیا معاشی فورم (ڈبلیو آئی ای ایف) کا حصہ ہے۔ اس کانفرنس کی میزبانی کے فرائض پین سلوانیا یونیورسٹی کا دی وھارٹن اسکول انجام دیتا ہے۔آخر ی بار اس کانفرنس کا انعقاد ممبئی میں جنوری ۲۰۱۹ ء میں ہوا تھا۔اب تک اس کانفرنس کے انعقاد کے ۲۳ برس مکمل ہوچکے ہیں۔طلبہ کی جانب سے منعقد کی جانے والی یہ کانفرنس ہند اور عالمی معیشت میں اس کی ابھرتی ہوئی طاقت پر مرکوز ہے۔اس میں دنیا بھر سے کاروباری پیشہ ور ، قائدین ، پیشہ ور حضرات ، معلمین اور طلبہ شرکت کرتے ہیں۔اسٹارٹ اپ چیلنج اب فورم کی خاص کشش بن کر ابھرا ہے۔ چیلنج نے ۶ سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس کے تحت کسی بھی نئے خیال کو پہلے عالمی شہرت یافتہ کاروباری پیشہ ور اور تجارتی راہنما پرکھتے ہیں ۔بعد میں ان نوخیز کمپنیوں کی توثیق اور جواز کاری کی جاتی ہے۔ یہ نئے تجارتی منصوبوں کے لیے بیداری پیدا کرنے اور سرمایہ حاصل کرنے کی جستجو کرنے والوں کے لیے ایک نہایت عمدہ پلیٹ فارم ہے۔ مثال کے طور پر ماضی میں یہاں کے فاتحین نے پچاس ملین امریکی ڈالر تک کی امداد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

 

مائی پٹرول پمپ

مائی پٹرول پمپ ایک ایسی کمپنی ہے جو صارفین کو ڈیزل ایندھن فراہم کرتی ہے۔فی الحال اس کے دائرہ ٔکار بینگالورو اور اس کے مضافات ہیں۔ کمپنی کے سی ای او آشیش گپتا کو ایسی کسی کمپنی شروع کرنے کا خیال اس وقت آیا جب وہ افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع ایک دور افتادہ جزیرے پر شیل کمپنی کے لیے بطور ریزرووائر انجینئر کام کر رہے تھے۔گپتا بتاتے ہیں ’’جزیرے کی آبادی ۵ ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ وہاں صرف ایک پٹرول پمپ تھا۔ اختتامِ ہفتہ مقامی باشندے ۲۵ کلو میٹر کا سفر طے کرتے ، پُل پار کرتے اور گھنٹوں قطار میں کھڑے ہوکر اپنی گاڑیوں میں تیل بھرواتے ۔ ‘‘

اس صورت حال کا مشاہدہ کرکے انہوں نے سوچا کہ یقیناََ کوئی نہ کوئی راستہ تو ہوگا جس سے لوگوں کو ان ایّام میں آرام مل سکے اور پٹرول انہیں گھر پر ہی مل جایا کرے۔ یہیں سے مائی پٹرول پمپ کے خیال نے بال و پر نکالے۔

کمپنی فی الحال اسکولوں ، تجارتی کمپنیوں ، کار کرائے پر دینے والی کمپنیوں اور ایسے دیگر کاروباری اداروں کو ڈیزل فراہم کرتی ہے جنہیں اپنے احاطے میں جنریٹر چلانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان میں رہائشی فلیٹ ، ٹیکنالوجی پارک، شاپنگ کمپلیکس، آفس کمپلیکس ، اسپتال اور ہوٹل شامل ہیں۔

گپتا بتاتے ہیں ’’ ڈبلیو آئی ایس سی میں کامیابی کا ہمارا خاص قسم کا تجربہ تھا کیوں کہ اس سے ہمیں موقع ملا کہ ہم اپنی کمپنی کے بارے میں لوگوں کو بتا سکیں۔ انہیں باخبر کر سکیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کس طرح ہم ملک کے صارفین کی زندگیوں پر مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں ۔اتنا اعلیٰ سطحی مقابلہ جیتنا، جس کو سیکویا، میٹرکس ، آئی اے این ، اومیڈیار وغیرہ جیسے معروف ناموں سے تعلق رکھنے والے صنعتی ماہرین نے جانچا پرکھا ہو ، یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہیں اس کا ملک کے صارفین پر اور خاص کر ملک پر بالعموم معاشی اور معاشرتی طور پر خاصہ گہرا اثر ہو رہا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ فی الوقت کمپنی اس امر پر کام کررہی ہے کہ کیسے صارفین کو ایندھن ان کے گھر پر مہیا کروایا جا سکے۔ موجودہ طریقہ کار میں ایندھن کی چوری کا امکان کافی زیادہ ہے اور یہ کافی دشوار بھی ہے۔‘‘

گپتا کا منصوبہ ہے کہ مستقبل قریب میں کمپنی کی توسیع ملک گیر پیمانے پر کریں۔ وہ بتاتے ہیں ’’ ہم تیز رفتار سے ترقی کر رہے ہیں اور بہت جلد اپنی خدمات تین شہروں میں شروع کرنے والے ہیں۔ہمارا ارادہ ہے ہم ۲۰۲۰ کے آخر تک ملک کے اوّل درجے کے شہروں جیسے ممبئی، کولکاتہ،دہلی ۔این سی آر ، چنئی وغیرہ میں اپنا کاروبار پھیلائیں۔ ‘‘

 

آئی ٹی آئی لائٹ

آئی ٹی آئی لائٹ کمپنیوں کے لیے کام کرنے والی ایک تجارتی سفر کمپنی ہے۔یہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ساس(سافٹ ویئر ایز اے سروس) پلیٹ فارم کا استعمال کرکے کمپنیوں کو سفر سے متعلق اپنی ضروریات کو آن لائن طریقے سے پورا کرنے میں مدد کرتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ قیمت کو خاطر خواہ کم (تقریباََ ۳۰ فی صد تک کم )کرنے کے ساتھ ساتھ اس عمل کو بہت آسان بنا سکتی ہے۔ بینگالورو میں واقع اس کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او مَیَنک کُکریجاکہتے ہیں ’’ ہم پہلا چاق و چوبند ، سستا اور ملازم دوست پلیٹ فارم تیار کرنے کی جستجو میں ایسے بازار میں ہیں جس میں آف لائن طریقہ کار اور بے تکے عمل کا غلبہ ہے۔ ‘‘

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم ملازمین کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ سستا سفر کریں اور سستے ہوٹل میں ٹھہریں تاکہ کمپنی کا پیسہ بچے۔ اور اس ہدف کو پالینے کے بعد ملازمین بچے ہوئے پیسوں میں سے کچھ حصہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ کُکریجا بتاتے ہیں

’’ ایک آسان متحدہ بُکنگ سسٹم ، چست درست اورانفرادی سفارشات کے سبب ملازمین محض نوے سیکنڈ میں اپنی پوری ٹرپ بُک کر سکتے ہیں۔ اس طور پر اگر کام بڑھتا ہے اور صارفین کو کم وقت میں معلومات اور خدمات دستیاب ہو جاتی ہیں تو یہی کامیابی کا فارمولا بن جاتا ہے۔‘‘

یہاں تک پہنچنا ہی بذاتِ خود ایک نہایت مزیدار سفر تھا۔ کُکریجا بتاتے ہیں ’’ وھارٹن انڈیا معاشی فورم میں شرکت ایک بہت بڑا موقع تھا تاکہ لوگ بڑے پیمانے پر آئی ٹی آئی لائٹ سے روبرو ہو سکیں۔اسٹارٹ اپ چیلنج میں کامیابی بھی اس امر کی توثیق ہے کہ اس سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے یہ بہت ضروری ٹیکنالوجی ہے۔ ہم جدید عصری تکنیک کو کمپنیوں میں متعارف کر رہے ہیں اور بے انتہا خوش ہیں کہ صارفین ہماری تکنیک کوہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔‘‘

آنے والے برسوں میں کمپنی کا اپنے صارفین کی تعداد کو ۵۰۰ تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی کے ہدف میں عالمی سطح پر اپنی موجودگی درج کرانا بھی شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ جیسے جیسے بازار میں ہمارے شیئر میں اضافہ ہوتا جائے گا ہم دیگر تکنیکی نوخیز کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کرتے جائیں گے تاکہ ہم صارفین کو بے مثال تجربے سے روشناس کرا سکیں۔ وھارٹن بَرینڈ ایک عالمی بَرینڈ ہے ۔ اور ہم نے چوں کہ اس چیلنج میں کامیابی پائی ہے اس لیے اس سے ہمیں مختلف بازاروں میں نئے صارفین تک رسائی میں مدد ملے گی۔ ‘‘

 

کریڈینس

کریڈینس نئی دہلی میں واقع ایک مالیاتی ٹیکنالوجی نووارد کمپنی ہے۔اس کے بانی اویناش کمار کا کہنا ہے ’’ قرض دینے کے عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے اور اس میں موجود خرابیوں کو دور کرکے کمپنی نے تعلیمی قرض صنعت میں گویا ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔

مزید برآں، مالیاتی ادارے اس کی مدد سے متبادل قرض اسکورِنگ ماڈل اور مصنوعات کی اختراعی ساخت سازی کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ تعلیمی قرض فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ یہ ملک گیر پیمانے پر بینکوں ، غیر بینکی مالیاتی کمپنیوں اور یونی ورسٹیوں کے ساتھ تعاون کرتی ہے تاکہ ایک خود مختار نظام بنایا جا سکے۔یہ ایک ایسا آن لائن قرض دہندہ پلیٹ فارم ہے جو ایسے طلبہ اور والدین کے لیے ہے جو اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم ہر طالب علم کی صلاحیت کے مطابق ہونی چاہئے نہ کہ اس کا انحصار والدین کی آمدنی پر ہونا چاہئے۔‘‘

اسی فلسفہ کی توسیع کرتے ہوئے کمپنی نے مالکانہ حق والا ایک اَیلگورِدم تیار کیا ہے جو طالب علم کی تعلیمی لیاقت ، مہارت اور ہنر مندی کی بنیاد پر اس کی آمدنی کی پیش گوئی کرتا ہے۔ مشین لرننگ کی بدولت آمدنی کی پیش گوئی کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس ماڈل میں کسی طالب علم کی آمدنی کی پیش گوئی کے لیے ۱۵ ملین ڈیٹا نکات کا استعمال ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں ’’ ہمارے علاوہ جو لوگ اس منصوبے میں پیسہ لگا رہے ہیں وہ روایتی انداز میں کالج کی جانب سے طلبہ کو ملازمت کے مواقع دستیاب کروانے سے قطع نظر تعلیمی قرض کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے اور تعلیمی قرض دینے میں اس کا استعمال بہت کر رہے ہیں۔‘‘

مالیات کے علاوہ کمپنی کے دائرۂ کار میں ڈاؤن اسٹریمنگ سروسیز مثلاََ ملازمت کی قابلیت سے متعلق خدمات ، قرض ادائیگی کی منصوبہ بندی اور گاہکوں کے متعلق معلومات فراہم کرنے جیسی خدمات انجام دینا بھی ہے۔ کمار بتاتے ہیں ’’ مالیاتی خدمات سے متعلق کمپنی قرض دینے سے بھی بہت آگے کا کام انجام دیتی ہے ۔یہ ملازمت کے مواقع ہموار کرتی ہے اور طبقات کے درمیان گفت و شنید کے مواقع فراہم کرتی ہے تاکہ طلبہ کو ان کی ملازمت کی قابلیت کے اعتبار سے مواقع مل سکیں۔

کریڈینس اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ ملک کے نوجوان اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کر سکیں۔ کمار کہتے ہیں ’’وھارٹن انڈیا اسٹارٹ اپ چیلنج میں تین بہترین نووارد کمپنیوں میں اپنی کمپنی کے چنے جانے سے ہمارے اعتماد کو مزید تقویت ملی ہے کہ ہم جو کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ واقعی اہم ہیں ۔ تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو میرے دل کے بہت قریب ہے۔ ہم حقیقت میں اس سفر کی جانب دیکھ رہے ہیں جس میں ہم جلد ، آسان اور کم قیمت والے حل پیش کر سکیں ، مالیاتی رکاوٹیں دور کر سکیں اور اس طرح طلبہ اور والدین کی خواہشات کی تکمیل کر سکیں۔ ‘‘

 

نتاشا مِلاس نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط