مرکز

فضلہ سے پاک طرز حیات

ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا میں شرکت کر چکی سحر منصور کی اسٹارٹ اپ کمپنی بے یَرنیسیسٹیز ذاتی استعمال اور گھر میں استعمال ہونے والی ایسی مصنوعات پیش کرتی ہے جو نہ صرف ماحول دوست ہوتے ہیں بلکہ ان کی پیکنگ بھی ایسی اشیاء سے کی جاتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ خود بہ خود تلف ہوجاتی ہیں۔

سحر منصور بینگالورو میں واقع نوواردماحول دوست کمپنی بے یَر نیسیسٹیز کی بانی ہیں۔ ان کے لیے اس کمپنی کے قیام کے سفر کی شروعات ملک کے مختلف شہروں کی گلیوں کی خاک چھاننے سے ہوئی۔وہ خود بتاتی ہیں ’’ مجھے ملک میں کوڑے کے مسئلے کو دیکھ کر بہت برا لگا۔ مجھے روزانہ اس کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ میں گلیوں میں کوڑے کے ڈھیر کے ڈھیر دیکھتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ کس طرح کوڑا اٹھانے والے اپنے ہاتھوں سے مختلف قسم کے کوڑے کو الگ کرتے تھے۔ ‘‘

کوڑے کے اسی مسئلے نے انہیں اس سے وابستہ ماحولیاتی ، صحت اور سماجی انصاف سے متعلق معاملات کے بارے میں غور کرنے کی ترغیب دی۔ وہ کہتی ہیں ’’ میں اب اور اس مسئلہ کا حصہ بنی نہیں رہ سکتی ۔ مجھے سب سے پہلے اس کوڑے کے مسئلہ پر توجہ دینی تھی جو میرے گھر سے پیدا ہو رہا تھا۔ میرے نزدیک اس کا حل ایسی طرز رہائش کو اختیار کرنا تھا جس میں ان اقدار کا عکس ہو جن کو میں اچھا سمجھتی ہوں۔ ‘‘

وہ عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کام کر چکی تھیں جہاں توجہ ماحولیاتی منصوبہ بندی ، پالیسی اور قانون کے شعبہ جات پر تھی۔بس انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ انہیں ایسی طرز ِ حیات چاہئے جو ان کے ماحولیاتی اور سماجی اقدار سے مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہو۔ وہ بتاتی ہیں ’’ اب وقت آ گیا تھا کہ میں وہی کروں جس کی بات میں کرتی ہوں اور جس چیز پر میرا یقین ہے۔ یعنی میں نے جان لیا کہ اب مجھے خود فضلہ سے پاک طرزِ حیات کی شروعات کرنی ہے۔ ‘‘

اور انہوں نے یہ کر بھی دکھایا ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ یہ قدم اٹھانے کے بعد ڈھائی سال کے عرصے میں ا ن کی ذات سے صرف نصف کلو گرام کوڑا پیدا ہوا جو ۵۰۰ ملی لیٹر کے ایک مرتبان میں سما سکتا ہے۔

مگر پھر بھی ایک عنصرایساتھا جو ناقابل یقین حد تک ان کی پریشانی کا سبب بنا ہوا تھا اور انہیں فضلہ سے پاک طرزِ حیات اختیار کرنے نہیں دے رہا تھا۔اور وہ چیزیں تھیں ذاتی استعمال اور گھر میں کام آنے والی چیزیں۔ان میں کیمیاوی مادّے ہوتے ہیں اور انہیں عام طور پر پلاسٹک میں پیک کیا جاتا ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ اس کے جواب میں مجھے ایسی کمپنی شروع کرنی تھی جو ’’ فضلہ سے پاک ، اخلاقی استعمال والی اور پائیداری پر مرکوز اقدار کی عکاس ہو۔ میں لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ بہتر طور پر چیزوں کا استعمال کریں ۔ میںکم کوڑا پیدا کرنے میں ان کی مد د کرنا چاہتی تھی۔ اور اسی طور پر بے یَر نیسیسٹیز کا قیام عمل میں آیا۔ ‘‘

وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ اتفاقیہ کاروباری پیشہ ور ہیں ۔ حالاں کہ ان کا تعلق ایسے خانوادے سے ہے جہاں کاروباری پیشہ وروں کی کمی نہیں۔

کمپنی کی مصنوعات کی فہرست لمبی ہے جس میں ذاتی استعمال اور گھر میں کام آنے والی اشیاء مثال کے طور پر غسل کا صابن ، کپڑے دھونے والا پاؤڈر اور بے داغ اسٹیل والے سامان شامل ہیں۔منصور نے ٹیک کیمپ ساؤتھ ایشیا ء میں شرکت کی۔ یہ امریکی وزارتِ خارجہ کا عوامی سفارت کاری سے متعلق ایک پروگرام ہے۔ ان کو اپنے پروجیکٹ کے تحت عوامی رائے کی بنیاد پر فضلہ سے پاک اشیاء اور ہنر سے متعلق کھانا پکانے کی ایک کتاب تیار کرنی تھی۔ انہوں نے تخلیق کاروں سے کہا کہ وہ اپنی اپنی دادیوں اور نانیوں سے کھانے کی روایتی ترکیب سیکھ کر آئیں۔

اس کے بارے میں وہ بتاتی ہیں ’’ ہر شخص کے پاس بتانے کو اپنی اپنی کہانی تھی۔ لوگوں کا ہندوستانی اشیاء کے ساتھ جو اندرونی تعلق تھا وہ جان کر کافی اچھا لگا۔قوتِ داستان گوئی ہماری تہذیب کا جزوِ لاینفک ہے۔ عزیز و اقارب سے گفتگو میں یہ بات مجھ پر بالکل واضح ہو گئی۔ جب ہم بنیادی باتوں کی طرف لوٹے جیسے کہ جب شیمپو پلاسٹک کی بوتلوں میں بکتا تھا اس سے پہلے وہ کیا کرتی تھیں یا ٹوتھ پیسٹ کے مشمولات کیا ہیں وغیرہ تو اس طرح کے سوالات نے بے شمار کہانیوں کا پٹارہ کھول دیا ۔‘‘

اب انہیں کہانیوں پر مبنی ایک کتاب مرتب کی جا چکی ہے جس میں عوامی رائے کی بنیاد پر ماحول کو فضلہ سے پاک رکھنے سے متعلق مفید مشوروں اور تراکیب کا ذکرشامل ہے۔

منصور خیال آرائی کرتی ہیں ’’ میرے خیال میں ٹیک کیمپ نے خواتین کے لیے نہایت عمدہ پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔اس کی بدولت کارباری پیشہ وروں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔ عورتوں کا تعلق خواہ کسی ملک سے ہو، انہیں یکساں چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘‘

وہ یہ بھی محسوس کرتی ہیں کہ دوسری خواتین کے کاروباری پیشہ وری سے متعلق سفر کے بارے میں جاننا نہایت مدد گار ثابت ہوا۔وہ کہتی ہیں ’’ میرا پختہ یقین ہے کہ ہم عصروں کے بارے میں جاننا،سیکھنے کا بہت طاقت ور عمل ہے۔میں نے کاروباری پیشہ وری سے متعلق اپنے تجربات اور دشواریوں کو صاف گوئی کے ساتھ دیگر کاروباری پیشہ وروں کے ساتھ بانٹا تاکہ وہ لوگ ان غلطیوں کو نہ دہرائیں جو مجھ سے سرزد ہوئیں۔ ٹیک کیمپ گفتگو کو جمہوری پیرائے میں ڈھالتا ہے اور دوسروں تک اپنی بات بے خوف و خطر طریقے سے پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔ ‘‘

منصور کہتی ہیں ’’ ملک میں ایسا بہت کچھ ہے جس کی تعریف کی جائے۔ ہند یوگ کی سر زمین ہے ۔ یہاں ہر ندی اور پہاڑ کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔یہاں حس کی بھی بھرمار ہے :خوشبوئیں، ساخت اور رنگ ، یہ سب مل کر اس ملک کو وہ شناخت عطا کرتے ہیں جس کے لیے یہ معروف ہے۔ہماری نووارد کمپنی دراصل ملک کی اسی خوبصورتی اور تنوع کی مدح سرائی کی ایک کوشش ہے۔ مقامی اجزا کی شمولیت سے کسی چیز کی تخلیق کا تجربہ بڑا ہی پُر جوش تجربہ ہے جس کے بارے میں ہم نے غالباََ سن تو رکھا ہے مگر خود سے کبھی اس کا تجربہ کرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ ‘‘

کمپنی کی تمام مصنوعات قدیم و جدید کا بہترین سنگم ہیں ۔ ان مصنوعات کے ماحولیات اور صحت پر ذرا بھی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ ان کو ایسی اشیاء سے پیک کیا جاتا ہے جنہیں یا تو دوبارہ استعمال میں لایا جاسکے یا وہ اشیاء وقت کے ساتھ جزوِ زمین بن جائیں۔ ان اشیاء کو خواتین کرناٹک میں خود اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی ہیں ۔

منصور باخبر کرتی ہیں ’’ اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو میری کمپنی ملک میں فضلہ سے متعلق بحث میں تبدیلی لانے کی خواہاں ہے۔‘‘

ان کے اس بیان سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی کمپنی کو ایسا بین مضامینی مرکز بنانے کی خواہش مند ہیں جس میں مختلف شعبہ ٔحیات سے تعلق رکھنے والے (جیسے کہ مصنوعات کے ڈیزائنر، پالیسی تجزیہ کار ،نفسیات کی معاشی فیصلہ سازی پر فیصلہ کرنے والے، ماہر ماحولیات ، محقق اور صارفین ) ایک چھت کے نیچے جمع ہوں اور دائرہ دار معیشت پیدا کریں جس سے تمام دنیا کو درپیش کوڑے کے مسئلہ کو حل کرنے کی جانب پیش رفت ہو سکے۔

 

کینڈِس یاکونو جنوبی کیلیفورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط