مرکز

ضائع حرارت سے بجلی حاصل کرنے کی پہل

1 2 3

ضائع حرارت سے بجلی حاصل کرنے کی پہل

کیلی فورنیا میں واقع ایک کمپنی  تکنیکی اختراع کی بدولت جنریٹروں، بھٹیوں، چمنیوں اور انجنوں سے نکلنے والے خارج شدہ دھوئیں میں موجود حرارت  سے بجلی پیدا کرتی ہے۔


تصور کریں کہ آپ کی کار میں موجود برقیاتی آلات کو اس حرارت سے بجلی دستیاب ہو رہی ہے جو کار کی نکاسی نلی سے باہر آ رہی ہے۔ اور آپ کی جیب میں رکھا ہوا آپ کا سیل فون آپ کےتصور کریں کہ آپ کی کار میں موجود برقیاتی آلات کو اس حرارت سے بجلی دستیاب ہو رہی ہے جو کار کی نکاسی نلی سے باہر آ رہی ہے۔ اور آپ کی جیب میں رکھا ہوا آپ کا    سیل فون آپ کے جسم سے ملنے والی گرمی کو جذب کرکے برقی قوت حاصل کررہا ہے اور چارج ہو رہا ہے۔

آپ سوال کرسکتے ہیں کہ کیا یہ کوئی سائنسی افسانہ یا خیال ہے؟ اگر واقعی یہ سائنسی خیال ہے تو زیادہ دیر ٹھہرنے والا نہیں۔ کیلی فورنیا میں واقع ایک چھوٹی سی کمپنی الفابیٹ انرجی اِنک نے سِلی کَون سے جدید قسم کا حر برقی مادہ یعنی تھر مو الکٹرک مادہ تیار کرنے کا طریقہ کھوج نکالا ہے ۔ سِلی کَون وہ قدرتی عنصر ہے جس کا استعمال کمپیوٹر چِپس اور شمسی پینلوں میں پہلے ہی سے وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے۔

الفابیٹ کا یہ مادہ جو کسی اِنڈیکس کارڈ جیسا موٹا ہوتا ہے ، انفرادی ضروریات کے تحت تیار کئے جانے والے کسی بھی آلے کا مرکزی حصہ ہوتا ہے جسے بجلی پیدا کرنے کے لئے حرارت فراہم کرنے والے تقریباََ تمام ذرائع جیسے بھٹی، چمنی یا انجن وغیر ہ سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔

 تھرمو الکٹرسٹی یعنی حر برقی طاقت کی دریافت پرانی چیز ہے۔ جب کہ حرارت کو توانائی میں تبدیل کرنے کا بنیادی نظریہ ۱۸۲۱ میں دریافت کیا گیا۔ ناسا ریڈیو ایکٹِو آئسو ٹاپ یعنی تابکار ہم جا سے حرارت یافتہ اس تکنیک کا استعمال ۱۹۷۷ ہی سے اپنی بعض خلائی گاڑیوں میں کررہا ہے۔ جب کسی حر برقی مادے کے ایک سرے کو گرم کیا جاتا ہے تو الکٹران کا بہاؤ مادے کے ٹھنڈے سرے کی جانب ہوتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔

اب تک تجارتی حربرقی ٹکنالوجی کا انحصار بڑی حد تک نایاب ارضی عناصر سے تیار شدہ مادہ پر ہی رہا ہے جو نہ صر ف کم یاب ہیں بلکہ گراں بھی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنیوں کے لئے حر برقی پروجکٹوں پر کام کرنا مہنگا سودا ثابت ہوتا رہاہے۔ الفابیٹ کے بانی اور سی ای او ڈاکٹر میتھیو اِسکَلِن نے ایک انٹرویو میں وضاحت کی ’’الفا بیٹ کی اہم دریافت یہ ہے کہ ہم سِلی کَون سے حر برقی مادے تیار کر سکتے ہیں جو وافر مقدار میں دستیاب اور سستے ہیں ۔ اورہماری رجسٹر شدہ ٹکنالوجی کے توسط سے یہ حرارت کو منتقل کرنے والے ذریعہ سے اس مادے کو جوڑنے کا بہت زیادہ کفایتی اور آسان طریقہ فراہم کرتا ہے۔‘‘

گزشتہ چار برسوں میں ۴۰ سے زیادہ پیٹنٹ درج کرانے والے الفابیٹ کو سوئٹزر لینڈ کے ڈاووس میں حا ل میں منعقد ورلڈ اکنامک فورم میں ۲۰۱۴ کے ٹکنالوجی کے پیش قدم اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔اس موقع پرڈاکٹر میتھیو نے بڑے پیمانے پر توانائی کا استعمال کرنے والے کان کنی، تیل اور گیس کی صنعتوں کے انتظامی اختیار رکھنے والے افراد سے ملاقات کی۔  

برکلے میں واقع کیلی فورنیا یونیورسٹی سے مادی سائنس میں پی ایچ ڈی اور ایم سی کی ڈگریاںحاصل کرنے والے ڈاکٹر میتھیو نے بتایا ’’ہماری پہلی مصنوعات دور دراز کے علاقوں میں بھیجی جارہی ہیں جہاں بجلی پیدا کرنے کے لئے ڈیزل جنریٹر کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ جب کہ الفابیٹ کی تکنیک جنریٹروں سے دود کشی کے بعد نکلنے والی فاضل گیس سے بجلی پیدا کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ جنریٹر زیادہ کفایتی ہوں گے اور ڈیزل کے کم استعمال سے یقینی طور پر ماحول سبز رہے گا کیوں کہ گیس کا اخراج کم ہوگا۔ اس طور پر ان ممالک کے لئے زبردست امکانی فائدہ ہوگا جہاں اچھے قسم کے برقی گرڈ نہیں ہیں۔ ہمیں کہیں کہیں مگر ’پہنی جا سکنے والی ٹکنالوجی‘ جیسی چیزوں کو بھی اپنانا پڑے گا۔ ‘‘

جدید معاشروں کو کام کاج کے لئے گرچہ بڑی مقدار میں بجلی کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہم ابھی اس قابل نہیں ہیں کہ اتنی بجلی پیدا کرسکیں۔ مثال کے طور پر متعلقہ سائنسدانوں کی کونسل کے مطابق کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں پیدا ہونے والی حرارت کا صرف ایک تہائی حصہ ہی بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے جب کہ باقی حرارت فضا یا کارخانے کے ٹھنڈے پانی میں ضائع ہو جاتی ہے۔ فیکٹریوں، ریل کے انجنوں ، جہازوں، ٹرکوں اور دوسری مشینوں میں بھی حرارت کاضائع ہونا ایک عام سی بات ہے۔

الفابیٹ کے مارکٹنگ وائس پریزیڈینٹ موتھوسی پہل نے بتایا ’’الفابیٹ دراصل ضائع حرارت کو ایک نئے اثاثے میںتبدیل کرتا ہے اور اپنے لئے ایسی جگہ نئے بازار تیار کرتا ہے جہاں ان کا وجود نہیں تھا۔ تھرمو الکٹرسٹی کا مستقبل ایک ایسی چیز ہے جسے ہم اب تک مکمل طور پرنہیں سمجھ سکے ہیں ۔ یہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسے ۲۵ برس پہلے ہم تصور نہیں کرسکتے تھے کہ جی پی ایس کا مطلب کیا ہوگا۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب آپ ایک قابلِ عمل تجارت شروع کرتے ہیں اور اسے ایک ایسا مالی معاملہ بناتے ہیںجو تھرموالکٹرک کے لئے قیمتوں اور منافع حاصل ہونے کی میعاد کوپیش کرتا ہے ،تب آپ یہ سوال کرنا شروع کر سکتے ہیں کہ کیا آپ ایک تاجر کے طور پر واقعی ضائع حرارت کو حاصل کرنے اور اسے توانائی میں تبدیل نہیں کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں ؟

ڈاکٹر میتھیو کو یقین ہے کہ جب کمپنیاں تھرمو الکٹرک توانائی کے فوائد جان جائیں گی تب وہ وسیع پیمانے پر اسے استعمال میں لائیں گی۔ انھوں نے کہا’’ خریدا ر کے نقطہ ٔ  نظر سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں منافع کی وصولی فوراََ ہوتی ہے کیوں کہ یہ بولٹ آن ٹکنالوجی ہے یعنی ہم ایک ایسی حرارت کے ذریعہ سے فائدہ حاصل کرتے ہیں جو پہلے سے ہی موجود ہے۔اس میں توانائی کا نیا کارخانہ لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہماری ٹکنالوجی بہت آسان اور غیر پیچیدہ تھرمو الکٹرک سسٹم تیار کرتی ہے ۔ اس کا کوئی حصہ نہ حرکت پزیر ہوتا ہے اور نہ اس کے رکھ رکھاؤ پر کوئی خرچ ہی آتا ہے ۔ اور ہر چیز کا نصب کرنا بڑا آسان ہوتا ہے۔‘‘

  کمپنیاں اور سرمایہ کار اس پر توجہ دے رہے ہیں ۔ جو کمپنیاں متوجہ ہیں ان میں کیل سیف انوویشنز، ٹی پی جی بایو ٹیک اور کلیئر مونٹ کریک وینچرس قابلِ ذکر ہیں ۔ کناڈاکی سب سے بڑی قدرتی گیس پیدا کرنے والی کمپنی اینکانا،الفابیٹ کے تھرمو الکٹرک آلات کو نصب کررہی ہے اور اس نے اس فرم میں سرمایہ کاری بھی کی ہے ٹھیک اسی طور پر جس طر ح بہت ساری تجربہ کار وینچر کیپیٹل کمپنیاں الفابیٹ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

 

اسٹیو فاکس کیلی فورنیا کے ونچورا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلم کار، ایک اخبار کے سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط

تبصرے ملاحظہ کریں
تحسین عثمانی's picture

ضائع جرارت سے توانائی حاصل کرنے کی یہ کوشش یقیناً ایک مثبت پہل ہے۔اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے۔