مرکز

ماحول دوست پوشاک

اکشے’شے‘ سیٹھی کی لاس اینجلس میں واقع اسٹارٹ اپ کمپنی مورل فائبر کا مقصد پائدار ریشوں کے ذریعہ پوشاک میں استعمال ہونے والے ریشوں کو دائمی بنانا ہے تاکہ اسے بار بار کام میں لایا جاسکے۔ 

ذرا سوچیں کہ آپ نے ایک ٹی شرٹ خریدی اور اُسے کئی بار پہنا ۔جب آپ کے لیے اس کا استعمال ختم ہو گیا تو پھر سے اسی ٹی شرٹ کو بالکل نئی ٹی شرٹ میں بدل ڈالا گیا۔ اس خواب کو لاس اینجلس میں واقع ایک اسٹارٹ اپ کمپنی مورل فائبر نے شرمندہ تعبیر کیا ہے۔

یہ خیال تحقیق و ترقی کی بدولت پروان چڑھا جس میں اکشے سیٹھی کا ساتھ دیاڈیوس میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں ان کے ہم جماعت موبی احمد نے ۔سیٹھی بتاتے ہیں ’’ ہماری دلچسپی نئی سائنس کو ترقی دینے میں تھی جو پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی کو کم کرسکے۔ اس وقت ہماری منشا کسی کمپنی کو کھولنے یا اس قسم کا کوئی کام کرنے میں نہیں تھی۔ اس پہل کا اصل محرک وہ جستجو تھی جس سے نئی تحقیقات کا استعمال بڑے مسائل کے حل کے لیے کیا جا سکے۔ اور ہمارے اند ر آج بھی وہ جستجو باقی ہے۔‘‘

مورل فائبر کمپنی کی بنیاد تو سیٹھی اور احمد کے درمیان سالہا سال کے غور و خوض کے بعد پڑی۔ سیٹھی بتاتے ہیں ’’ جب ہم انڈر گریجویٹ طالب علم تھے تو ہم جب بھی پارٹیوں میں جایا کرتے تو  کیمیکل پروسیس ٹیکنالوجی کے بارے میں بات کیا کرتے ۔ گرچہ یہ باتیں عام سی ہوا کرتیں مگر ان میں نئی سائنس کو تسخیر کرنے کا جنون ضرور تھا۔ اور پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ہمیں نئی راہ مل گئی۔ اصل میں ہم ایسی تکنیک تیار کرنے میں مصروف تھے جس سے سالموں کو الگ کیا جا سکے۔ اسی زمانے میں ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ دنیا میں سب تیزی سے پھیل رہے پلاسٹک کے استعمال کے مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے۔ ہمیں لگا کہ دنیا کو ہماری تکنیک کی اشد ضرورت ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے کس طرح بروئے کار لایا جائے۔‘‘

مورل فائبر میں کیمیا کی ری سائکلنگ کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے بے کار کپڑوں سے پالسٹر نکالا جاتا ہے جو بقول سیٹھی دنیا کا سب سے بڑا پلاسٹک آلودگی کا ذریعہ ہے جس کو بعد میں تین مراحل کے اختراعی طریقہ کار سے سوت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اس طریقے میں پولسٹر جیسے کپڑے بنانے کے لیے قدرتی وسائل جیسے کپاس کے پودوں یا تیل کے استعمال کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہ تکنیک ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے جا سکنے والے چھوٹے برتن میں لائی ، لے جائی جا سکتی ہے ، لہٰذا اس کا استعمال کہیں بھی کیا جا سکتا ہے۔  

یہ خیال  لانچ کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہاجس کی بنیاد ۲۰۰۹ ء میں سکنڈ میوز نے امریکی محکمۂ خارجہ، یوایس ایڈ ، ناسا اور نائی کے اِنک کے ساتھ مل کررکھی تھی۔سکنڈ میوز میں ڈائریکٹر آف سٹیز کے عہدے پر فائز  گریگ اسپیل برگ کہتے ہیں کہ  اس کا مقصد دنیا بھر میں ہورہی امید افزا جدت کی نشاندہی کرنا اور اسے چیلنج سے بھرے اختراعات کے حوالے سے فروغ دینا ہے۔ اسپیل برگ بتاتے ہیں کہ پچھلے ۹ برسوں میں لانچ نے ۱۲۵ مخترعین کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔ 

وہ مزید کہتے ہیں ’’۲۰۱۳ ء میں ہم نے اس کام کو شروع کیا کہ ہم سامانوں اور صنعتی عملوں کی ان اختراعات کی نشاندہی کریں جن سے پوشاک بنانے کے نظام میں تبدیلی لائی جا سکے تاکہ عالمی معاشی ترقی کو فروغ ملے ، انسانوں میں خوشحالی آئے اور زمینی وسائل کی بھرپائی کی جا سکے۔ مورل فائبر (جس کا نام پہلے امبر سائیکل تھا)کو دنیا بھر کے ۱۰ بہترین مخترعین میں شمار کیا گیا تھا۔ یہ لانچ کے سالانہ فورم میں شامل ہوئی ۔ بعد میں ۶ ماہ کے ایکسلریٹر میں بھی شریک ہوئی جس کا مقصد دنیا کے تشویش ناک مسائل کا حل تلاشنا ہے۔‘‘ 

اسپیل برگ بتاتے ہیں ’’ آج کل تقریباََ ہر کپڑے میں پالسٹر ہوتا ہے ۔ اور چوں کہ آبادی تیز رفتار کے ساتھ بڑھ رہی ہے ، اس لیے وسیع پیمانے پر کپڑے کی تیاری میں پالسٹر کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ہمارا یقین ہے کہ مورل فائبر کا دائرہ دار کپڑوں کی صنعت اور دائرہ دار معیشت میں بہت اہم کردار ہے۔ ‘‘

  جب کہ سیٹھی کہتے ہیں ’’ جب بات وسائل کے استعمال کی آتی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ ہم دنیا کو مزید بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے جس سے ہم مستقبل کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں ۔مورل فائبر کا مشن پلاسٹک کو ماحول مثبت بنانا ہے ۔ ماحولیاتی تباہ کاری کو حقیقت میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ہم صرف اور صرف اسی مقصد پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔ ‘‘

اسپیل برگ کا خیال ہے ’’ عالمی پیمانے پر ایسی کوئی چیز نہیں جسے پھینکا جا سکے۔سکنڈ میوز اس بات کو سمجھتی ہے کہ کرہ ٔارض پر فضلہ کو رکھنے کی جگہ محدود پیمانے پر دستیاب ہے ۔ اسی طرح نئی مصنوعات کی پیداوار کے وسائل بھی محدود ہیں۔ اس چیز کے مدنظر کام کرتے ہوئے ہمیں نظام کی سطح پر تبدیلی لانی ہوگی ، اعتماد پیدا کرنا ہوگا اور انسانوں اور تنظیموں کے درمیان کل وقتی اشتراک کرنا ہوگا ۔ اور اس اشتراک کو مقاصد، ثقافت اور جغرافیائی حدوں سے آزاد بنانا ہوگا ۔ ‘‘

جب کہ سیٹھی اس بات کے لیے شکرگزار ہیں کہ انہیں اس کا موقع ملا کہ وہ دنیا کے اہم مسائل میں سے بعض کے حل کرنے میں مدد دے سکیں۔ وہ کہتے ہیں ’’جدید صنعتی تحقیق و ترقی میں پیش رفت کسی خواب کے شرمندہ ٔتعبیر ہونے جیسی ہے۔ یہ چیز بھی دل کو تسلی دیتی ہے کہ میں ہر روز صبح اٹھ کر معقول اور عقل مند لوگوں کے ساتھ کام کرتا ہوں تاکہ ہماری نسل کے ایک اہم مسئلہ کا حل تلاش کیا جاسکے۔ ‘‘ 

 

کینڈِس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو اخبار اور جرائد کے لیے لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط