مرکز

سکھانا انگریزی زبان کا

انگلش لینگویج فیلو روبن کیتھے حیدرآباد کی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسیٹی میں غیر مراعات یافتہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ 

روبن کیتھے امریکی انگریزی زبان کی ایک فیلو ہیں جنہوں نے ستمبر۲۰۱۸ ء میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو )میں انگریزی زبان میں اپنی تدریسی فیلو شپ شروع کی۔ وہ غیر مراعات یافتہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طلبہ کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ وہ حیدر آباد کے امریکی قونصل جنرل کے ساتھ مل کر انگلش ایکسِس مائیکرو اسکالر شپ پروگرام پر بھی کام کریں گی۔ یہ پروجیکٹ امریکی وزارتِ خارجہ کی کفالت والا ایک پروجیکٹ ہے جس کے تحت فوائد سے محروم ہائی اسکول کے طلبہ کو دو برس تک انگریزی زبان کی تربیت دی جاتی ہے۔ پیش ہیں کیتھے سے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

 

کیا آپ ہمیں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں انگریزی زبان میں تدریسی فیلوشپ کے ایک حصے کے طور پر انگریزی میں مواصلات کی مہارت میں کورس شروع کرنے کے اپنے تجربہ کے بارے میں بتا سکتی ہیں؟

اس کورس کے لیے جب درخواست طلب کی گئی تو ہمیں زبردست رسپانس ملا۔ ۳۰۰ سے زائد طلبہ نے درخواستیں دیں۔ میں نے طلبہ کو اس بنیاد پر قبول کیا کہ وہ کس سال میں ہیں ؟(سالِ آخر کے طلبہ کو ترجیح دی گئی)، ان کی صنف کیا ہے؟ (طالبات کو ترجیح دی گئی)، تعلیمی پس منظرکیا ہے ؟(مدارس سے تعلیم یافتہ طلبہ سبقت لے گئے)، ان کے اہداف کیا ہیں؟ (وہ طلبہ جو دوسرے طلبہ تک پہنچنا چاہتے ہیں یا سماج کو کچھ دینا چاہتے ہیں )اور کچھ حد تک اس بات کو کہ وہ کس مقام سے تعلق رکھتے ہیں؟ (کشمیر کے طلبہ کی اچھی طرح سے نمائندگی ہوئی)۔ 

اس یونیورسٹی میں کس قسم کے طلبہ ہیں؟

یوں تو طلبہ تمام انڈیا سے ہیں مگر ان کی اکثریت بہار اور اتر پردیش سے تعلق رکھتی ہے ۔ یہ دونوں زیادہ آبادی والی اور خصوصی طور پر غریب ریاستیں ہیں ۔ تمام طلبہ پہلی ، دوسری یا تیسری زبان کے طور پر اردو بولتے ہیں جو قبولیت کے لیے لازمی ہے۔ بعض طلبہ تلنگانہ کے بھی ہیں جہاں مانو واقع ہے اورجہاں علاقائی زبان تیلگو ہے جس کا استعمال اسکولوں اور حکومت میں کیا جاتا ہے۔ 

کچھ طلبہ گریجویشن کے بعد بیرون ملک کام کرنا چاہتے ہیں جب کہ بعض دیگر طلبہ انگریزی بولنے والے ممالک میں گریجویٹ ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ انڈیا میں انگریزی کی حیثیت ایک ایسے ملک کی عام بول چال والی زبان کی ہے جہاں ۲۲ سے زائد زبانوں کے علاوہ دوسری زبانیں بھی ہیں ۔میں نے کہیں پڑھا کہ ۱۹۶۰ ء کی دہائی کی مردم شماری میں ایک ہزار سے زائد زبانوں کو تسلیم کیا گیا تھا۔ 

انگریزی یہاں بین الاقوامی کاروبار، آئی ٹی اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں اور سیاحت کی زبان ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جو طلبہ یونیورسیٹی سے گریجویٹ کرتے ہیں لیکن انگریزی بول نہیں پاتے ہیں وہ اکثر خود کو بے روزگار پاتے ہیں۔

کیا طلبہ کی بعض خاص کامیابی کی کہانیاں ہیں جو ذہن میں آتی ہیں؟

یہ پروجیکٹ بہت نیا ہے۔ حالاں کہ ایک روز ایک کشمیری طالب علم مجھے سڑک پر یہ بتانے کے لیے ملا کہ وہ کلاس میں شامل ہوکر کتنا خوش ہے۔ انڈیا میں ہر طالب علم کو کلاس روم میں داخل ہونے کے لیے یکے بعد دیگرے اجازت طلب کرنی ہوتی ہے۔ طالب علم نے بتایا کہ وہ اور دیگر طلبہ اس وقت حیران رہ گئے جب میں نے ان سے کہا کہ کلاس روم میں داخل ہونے کے لیے انہیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ ان کا کلاس روم ہے اور کلاس روم میں داخل ہونے کا وقت ہونے پر انہیں کلاس روم میں ضرور داخل ہونا چاہئے۔ اس نے کہا کہ ان کے تئیں میرا رویہ کسی بھی دوسرے استاد سے مختلف تھا جو یہاں تدریس کے روایتی طریقوں کو بیان کرتا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک عظیم مثال ہے کہ کس طرح سے ایک جمہوری کلاس روم طلبہ کو بااختیار بنانے اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے کوشش کرنے اور ایک ٹیم کے طور پر مل کر کام کرنے میں ان کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔

آپ کے کام میں مدد کے لیے حیدر آباد کا قونصل جنرل کیا کردار ادا کرتا ہے؟

حیدر آباد میں واقع امریکی قونصل جنرل نے میری بہت زیادہ مدد کی۔ اس نے تقریباََ ہر چیز میرے لیے مہیا کرائی۔ ٹیم مجھے امیریکن کارنر پروگراموں، انگلش ایکسس مائیکرو اسکالرشپ پروگرام کے طلبہ سے جوڑتی ہے اور مجھے ان ثقافتی اختلافات کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے جن کا میں سامنا کرتی رہتی ہوں۔ یہ تعلق اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ میرے ذریعہ شروع کیے جانے والے اقدامات پورے طور پر محفوظ ہیں اور اس سے پہلے درستگی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے میں نے بات چیت کی تھی۔ اس طرح کے ایک نئے تناظر میں، یہ پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آپ کی نظر میں انگریزی زبان کا ایک استاد اپنے طلبہ کو کس طرح اچھے سے پڑھا سکتا ہے؟

مجھے نہیں لگتا کہ اس سوال کا کوئی متفقہ جواب ہے۔ میرا ماننا ہے کہ انگریزی زبان کے کلاس روم سیاق وسباق اور طلبہ کی ضروریات کی بنیاد پر الگ الگ طریقوں سے چلتے ہیں اور چلائے جانے چاہئیں۔ اس کلاس میں یہ دیکھ کر مجھے اچھا لگتا ہے کہ کیسے طلبہ ذرائع سیکھتے ہیں اور پھر اپنے سیاق و سباق کو فٹ کرنے کے لیے ان ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ وسائل کو اپنے لیے کارآمد بناتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک خاص مہارت ہے جو ان طلبہ کے پاس پہلے سے ہی موجود ہے اور اس کا وہ کلاس روم میں فوری طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان طلبہ کے سامنے جو نمونہ پیش کیا جاتا ہے وہ اس کے حصول کے اہل ہوتے ہیں اور اس کے استعمال میں یہ تخلیقی بن جاتے ہیں۔ یہ طلبہ مجھے بتاتے ہیں کہ جب انہیں پھر سے یا کچھ الگ طریقے سے سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اس بات کے لیے ووٹنگ کرتے ہیں کہ کیا مزید سمجھنے کے لیے دوسری بار ویڈیو دیکھنا ہے۔ میں یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہوں کہ وہ سرگرمیوں کے ’ کیوں‘ کو سمجھیں نہ کہ صرف وہ یہ کہیں کہ وہ انہیں کرتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ باہمی احترام ہے جو ہمارے رشتوں کو ایک ساتھ برقرار رکھتا ہے۔

 

ٹریور لارنس جاکِمس نیویارک یونیورسٹی میں مضمون نگاری، ادب اور معاصر ثقافت سکھاتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط