مرکز

خاکہ کشی سے مسئلہ حل کرنا

اس مضمون میں روڈ آئی لینڈاسکول آف ڈیزائن کےماہرینِ تعلیم روایتی اسٹیم شعبہ جات میںتخلیقی فنونِ لطیفہ کی شمولیت کی افادیت کے بارے میں بتاتے ہیں۔

تمام دنیا کے سائنسدانوں ، ماہرینِ اقتصادیات اور صنعتی دنیا کے رہنمائوں کے مطابق اسٹیم مضامین کی مؤثر تدریس آنے والی دہائیوں میں ٹیکنالوجی اور مالی امور کے اعتبا ر سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگی۔  

مگر ایک وسعت پذیر تحریک اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ اسٹیم سرنامیہ نامکمل ہے۔روایتی سائنسی اور تکنیکی پڑھائی میں فنون لطیفہ کو شامل کر کے یعنی اسٹیم کو اسٹِیم میں بدل کر جدید ماہرینِ تعلیم یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سائنس سے متعلق مضامین کے لیے ایک تخلیقی نقطۂ نظر کس قدر با اثر ثابت ہو سکتا ہے۔ 

بابِٹ اَیلینا،روڈ آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن(آر آئی ایس ڈی) میں  ایکزیکٹو ڈائریکٹر آف گورنمنٹ رلیشنس کے عہدے پر فائز ہیں۔ 

ا س ادارے میں مصوّری، مجسمہ سازی ، عمارت سازی، صنعتی ڈیزائن اورٹیکسٹائل جیسے شعبوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور جب سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے یہ ادارہ اسٹیم کو اسٹِیم میں تبدیل کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔ 

۲۰۱۱ ء میں شروع کیے جانے کے وقت سے ہی اَ یلینا اور آر آئی ایس ڈی کے ان کے ساتھی فنون لطیفہ کوایس ٹی ای ایم کے نصاب میں شامل کرنے کے لیے اور اس کی پڑھائی کے لیے وفاقی مالی اعانت کی خاطر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ان کی توجہ اس مالی اعانت کو حاصل کرنے پرہے جو کِنڈر گارٹین سے لے کر پوسٹ گریجویٹ تک کی پڑھائی اور آرٹ اور ڈیزائن کی پڑھائی کے لیے دستیاب ہے۔ان کی کوششوں میں تحقیقی پالیسی کوتبدیل کرنے سے لے کر آرٹ اور ڈیزائن کو شامل کرنااورمختص فنکاروں اور ڈیزائنروں کی تقرری کرکے اختراع پردازی کو رفتار دینے کی خاطر اس صنعت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔

 اَیلینا بتاتی ہیں کہ اسٹیم سے اسٹِیم تک کی تحریک صرف قومی سطح پر ہی اعتبار حاصل نہیں کر رہی بلکہ یہ قانون سازی کے مراحل کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بہت سارے تعلیمی اداروں میں بھی ایک فعال تحریک بنتی جا رہی ہے۔یہی سبب ہے کہ بہت سارے کالج اور یونیورسٹیاںمیں اپنے اسٹِیم پروگرام تشکیل دیے جارہے ہیں ۔ اَیلینا کو یقین ہے کہ یہ ایک ایسا رجحان ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ قوی ہوتا جائے گا۔ 

اسٹِیم کی جڑیں

 اسٹیم سے اسٹِیم تک کی تحریک زمینی سطح پر شروع ہوئی۔اَیلینا کہتی ہیں ’’اسٹیم کی تعلیم میں فنونِ لطیفہ کو شامل کرنے کا دارومدار ان طلبہ پر ہے جو اس صنعت کے ساتھ اپنی عملی زندگی میں تخلیقیت کی حمایت کرتے ہیں۔ہمارے بہت سارے طلبہ کے ساتھ آر آئی ایس ڈی کی قیادت نے اس سلسلے میں اپنی تشویش کا اشتراک کیا ہے کہ امریکہ میںاسٹیم پرکس طرح معمول سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جس میں ان مضامین میں حکومت کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔خاص طور سے مصنوعات سازی کے کام کی بیرونِ ملک منتقلی کے معاملے میں ملک کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لیے یہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ہم نے محسوس کیا ہے کہ اس عمل میں کسی اہم چیز کی کمی ہورہی ہے۔‘‘

اَیلینا انفرادی طور پر طلبہ اور مجموعی طور پر اقوام دونوں ہی کے لیے آرٹس اور اسٹیم مضامین کے امتزاج کو اقتصادی اور تکنیکی کامیابی کے لیے اہم خیا ل کرتی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ روزمرہ کی زندگی او ر کاروبار میں مصنوعی ذہانت کے اب تک کے سب سے زیادہ انضمام میں اس طرح کے امتزاج کی ضرورت ہے ۔ 

اَیلینا پوچھتی ہیں ’’روبوٹ سے ہمارے تفاعل کی نوعیت کیا ہوگی؟ اس سوال کا جواب اس لیے ضروری ہے کیوں کہ قریب قریب زندگی کے ہر شعبے میںان کی موجودگی درج کی جا رہی ہے۔ ہم جس قدر مصنوعی ذہانت کا مشاہدہ کرتے ہیں ہم پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تخلیقیت اور ٹیکنالوجی کے ماہر ڈیزائنر وں کی اہمیت میں اب وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ایک اہم سوال ہمیشہ ہی پوچھا جاتا ہے ۔ ہم تیزی سے خودکاری میں تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میںکس طرح تکنیک کو لوگوں کے لیے بہتر بنا سکتے ہیں؟ ہم کس طرح نئی تکنیک کی خاکہ کشی میں ہمدردی کے احساس کو اس میں شامل کر سکتے ہیں؟گرچہ یہ سوالات سائنس اور انجینئرنگ کے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ لازمی طور پر فنونِ لطیفہ اور خاکہ کشی سے متعلق سوالا ت بھی ہیں ۔ 

اَیلینا نے اسٹِیم کے امکانات کو صرف تکنیکی افق پر ہی نہیں دیکھا ہے بلکہ آر آئی ایس ڈی میں ان طلبہ میں بھی دیکھا ہے جو انٹرن شپ کر رہے ہیں ۔ خاص طور سے وہ ان دو گریجویٹ کے بارے میں بات کرتی ہیں جنہوں نے اسکول کی سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی تھی اور اب مالی امور پر مبنی ٹیکنالوجی کی تخلیق کے ڈیزائن میں کامیابی سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔اَیلینا کہتی ہیں کہ ایک تیسری طالبہ سارہ پیزہیں جنہوں نے آر آئی ایس ڈی میں عملی طور پر تعلیم حاصل کی تھی ، وہ اب فرنیچر ڈیزائن پر کام کررہی ہیں ۔ اَیلینا کہتی ہیں ’’ وہ اس شعبے میںبہت زیادہ کامیاب رہیں۔۲۰۱۵ ء میں گریجویشن کے بعد وہ ایک چھوٹے سے سافٹ ویئر اسٹارٹ اپ کی ڈیزائنر بن گئیں۔ وہ اب فیس بک میں  سِوِ ک اینگیجمینٹ ٹیم میں ڈیزائنرکی خدمات انجام دے رہی ہیں اور اس بات پر توجہ دیتی ہیں کہ اس کے استعمال کرنے والے فیس بک پر انتخابات کے موضوع پر کس طرح بات کرتے ہیں۔ اس طرح کی کہانیاں اس چیز کو ثابت کرنے میں مدد کرتی ہیں کہ اسٹیم میں حرف اے کا اضافہ اسے کافی طاقتوربناتا ہے ۔اور اس سے جو حقیقی نتائج حاصل ہوتے ہیںوہ لاکھوں دلوں کو چھو سکتے ہیں۔ ‘‘

اسٹِیم انڈیا کے لیے

اسٹیم سے اسٹِیم تک کا ارتقا ء صرف امریکہ میں ہی نہیںبلکہ انڈیا میں بھی زبان و مقام سے ماوریٰ ہوکر دلچسپ پیش رفت کا حامل ہو رہا ہے۔مثال کے طور پر اسپین کے بارسلونا میںاسٹِیم کی ایک حالیہ کانفرنس میں اَیلینا کو کھلونوں کے ہندوستانی موجد اروِند گپتا کے کام کو دیکھنے کا موقع ملا جنہیں وہ بچوں کی سائنس کی کتابوں کو حیرت انگیز طور پر ہردلعزیز بنانے والا قرار دیتی ہیں۔ 

اَیلینا کہتی ہیں ’’ گپتا سیکھنے کے ایسے ذرائع کی تخلیق کرتے ہیں جو تجربے کے دوران ہی بچوں کو انجینئرنگ کے تصورات کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ان تجربات کو دیگر کاموں کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے اور کبھی کبھی کسی ردّی کے ٹکڑے سے بھی یہ تجربات کیے جاتے ہیں جو انڈیا میں کہیں بھی مل جاتے ہیں ۔ کھلونوں پر مشتمل یہ تجربات جن کی تشہیر اخبارات، رسالوں، کتابوں اور ٹیلی ویژن کے ذریعے ملک بھر میںکی جاتی ہے ، اس میں یہ موضوع بھی شامل ہے کہ کوئی  طیّارہ کیسے پروا ز بھرتا ہے؟ اس میں ہوائی حرکیات کے اصول کو پڑھانے کے لیے پینے کے پائپ( اسٹرا) کا استعما ل کیا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک چیزپَمپسفروم دی ڈَمپ ہے جو یہ بتاتی ہے کہ بیکار ہو چکے پی وی سی پائپ اور فلم کنسٹر جیسی چیزوں کا استعمال کرکے صاف و شفاف پانی اور ایئر پمپ کیسے تیار کیے جا سکتے ہیں ۔ 

اَیلینا کہتی ہیں ’’گپتا نے سائنس کے طلبہ کے لیے ناقابل یقین حد تک اسٹِیم اور ڈیزائن پر مبنی ایک تخلیقی اور تفریحی طریقہ وضع کیا ہے۔ان کے تجربات بہت ہی غریب طبقے کے بچوں کو بھی ان تصورات کے بارے میں بتانے کے لیے فکر انگیزطریقے ہیں تاکہ وہ جن کی رسائی آئی پیڈ اور دیگر تکنیکی اشیاء تک نہیں ہے وہ بھی اسٹیم مضامین کے بارے میں پڑھ سکیں۔‘‘

خواہ انتہائی ضرورت مند بچوں کو طبیعیات کے تصورات کی تعلیم دینا ہو یا دنیا کے سب سے بڑے سماجی رابطے کے نیٹ ورک کی از سر نو صورت گری ہو ، ایسا نہیں لگتا کہ اسٹِیم کی موجودہ تحریک میں کہیں سے بھی کوئی کمی آرہی ہو۔

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں۔ وہ نیو یارک شہر میں رہتے ہیں۔

 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط