مرکز

فنونِ لطیفہ کے اثرات

اسٹیم شعبہ جات سے متعلق تعلیم میں فنون لطیفہ کو شامل کیے جانے سے ان شعبوں کو ابتدائے عمر ہی سے خواتین کے لیے زیادہ دلچسپ بنایا جاسکتا ہے۔

یہ اب کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے کہ تیز رفتار سے ترقی کررہی اسٹیم صنعت میں ملازمت کے بہترین مواقع نے ان شعبوں کو خواتین ، ان کے کنبوں اور ان کی برادریوں کے لیے وسیع طور پر معاشی مواقع کی راہ میں تبدیل کر دیا ہے۔تاہم واشنگٹن ڈی سی میں واقع  پیو ریسرچ سینٹر کے۲۰۱۸ء کے ایک جائزے کے مطابق۱۹۹۰ ء سے ہی ان شعبہ جات میں ملازمت کے مواقع مجموعی طور پر امریکہ میں تمام شعبوں کی ملازمتوں سے کہیں زیادہ ہیں مگر ان میں خواتین کی نمائندگی اب بھی کم ہے۔ ایس ٹی ای ایم یا اسٹیم ،سائنس ، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ اور ریاضی کا سرنامیہ (الفاظ کے ابتدائی حروف یا ہجوں کو ملا کر بنائی گئی اصطلاح)ہے۔ 

اسٹیم کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے اب اس میں آرٹ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے (اس طور پر ایس ٹی ای ایم اب ایس ٹی ای اے ایم یا اسٹِیم ہو گیا ہے)، جس سے تعلیم کے یہ شعبے ابتداء ہی سے خواتین کے لیے پُر کشش بن گئے ہیں۔ ماہر تعلیم روتھ کَیچین، جو   اِنہَینسِنگ اسٹیم : اِکسپلورِنگ دی آرٹس افیکٹ کی قیادت کرتی ہیں،  ایس ٹی ای اے ایم کے لیے نصابِ تعلیم بھی بناتی ہیں ۔ کَیچین کہتی ہیں ’’عورتیں اچھی تربیت کرنے والی ہوتی ہیں ۔ وہ یہ بات محسوس کرنا چاہتی ہیں کہ وہ معاشرے کے لیے اور تمام دنیا کے لیے کچھ اچھا کر رہی ہیں ۔ اس لیے ہمیں یہ دکھانا ہے کہ اچھا کام کرنا اسٹیم کا ایک حصہ ہے۔ ‘‘

وہ مزید کہتی ہیں ’’لڑکیاں اسٹیم میں شامل ہونے میں ڈر محسوس کرتی ہیں کیوں کہ وہ یہ بات سمجھ نہیں پاتیں کہ ان شعبہ جات کا استعمال کرکے کیسے وہ دوسروں کی مدد کر سکتی ہیں۔ فنون لطیفہ کے ذیعے انہیں شامل ہونے کا موقع دینے سے لڑکیاں یہ دریافت کر سکتی ہیں کہ دنیاکتنی دلچسپ ہے اوراپنی دریافت کے ذریعے وہ اسے بہتر بنانے کے لیے کیا کر سکتی ہیں ۔ سائنس اسی کے بارے میں بات کرتا ہے۔

مثال کے طور پر کسی مسئلہ کے حل کے لیے وہ انجینئرنگ کا استعمال کرکے دنیا کو بہتر بناتی ہیں۔فنون لطیفہ کے ذریعے اسے پیش کرنے سے انہیں تخلیقی ہونے اوران چیزوں کو بنانے کی کوشش کرنے کی سہولت فراہم ہوتی ہے جو ان کے لیے دستیاب ہیں۔ اس سے زیادہ مشکل تعلیمی مواد کے لیے دروازے کھلتے ہیں۔‘‘

پیوکا جائزہ کیچین کے خیالات کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ جہاں خواتین ،پیشہ ور طبیب اور تکنیک کار کا ۷۵ فی صد تشکیل کرتی ہیں، وہیں انجینئرنگ (۱۴ فی صد )، کمپیوٹر (۲۵ فی صد )اور طبیعیاتی سائنس (۳۹ فی صد) کے پیشے میں ان کی نمائندگی کم ہی رہتی ہے۔

موسیقی کے شعبے میں  ووکَل پرفارمینس  (آواز کا استعمال اداکاری کے لیے کرنا)میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے والی کیچین نے امریکہ میں ملک گیر پیمانے پر اوپیرا کمپنیوں اور آرکیسٹرا کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی توجہ تعلیم کے شعبے پر دی اور۲۰۰۷ ء میںیونیورسٹی آف کولورَیڈو اسپرنگس سے نصابِ تعلیم اور ہدایت میں دوسری ماسٹر ڈگری لی۔فی الحال وہ اسٹِیم شعبہ جات میں طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیت سازی پر کام کرنے والے  کولورَیڈو اسپرنگس کے  جَیک سوئی گَرٹ ایئرو اسپیس اکیڈمی میں  آرٹسٹ اِن ریزیڈینس کے عہدے پر فائز ہیں۔ 

وہ کہتی ہیں ’’طالبات خوردبین سے جو کچھ بھی دیکھتی ہیں اگر وہ اس کے زیر اثر آرٹ کی کوئی چیز تخلیق کرتی ہیں تووہ صحت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے یا کوئی ٹیکہ بنانے یا دوا سازی میںبھی دلچسپی لے سکتی ہیں۔ اگر وہ اس بات سے واقف ہوتی ہیں کہ خلائے بسیط میں رہائش کے لیے کیا چیز درکار ہوتی ہے اور پھر وہ خلائی سوٹ تیار کرتی ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ انجینئر نگ میں کریئر بنانے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔‘‘

کیچین کو یقین ہے کہ اسٹیِم شعبہ جات کی تعلیم صرف طلبہ کے لیے ہی گراں قدر نہیں ہو سکتی بلکہ ان آجروں کے لیے بھی بہتر ہوسکتی ہے جو نرم خوئی اور کھلے ذہن کے ملازمین کی تقرری کرتے ہیں کیوں کہ یہ طریقہ اسی کھلی ذہنیت کو فروغ دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں ’’ اسٹیِم کے پس منظر سے تعلق رکھنے والی کوئی طالبہ بہت ساری چیزوں کے بارے میں کوشش کر سکتی ہے۔اس کے پاس خیالات کی بھرمار ہوسکتی ہے اور وہ تخلیقی اعتبار سے زیادہ غور و فکر کرسکتی ہے۔ وہ بات چیت میں بہتر ہو سکتی ہیں اور ٹیم کا بہتر حصہ ہو سکتی ہیں۔ اور یہ تمام خصوصیات ہر آجر کے لیے

فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ خصوصیات کو ناقدانہ فکر و خیال یا تخلیقیت یا خطرات اٹھانے کے لیے زیادہ تیار رہنے کے حساب سے مقدار میں ظاہر نہیں کر سکتے لیکن میں اپنے مشاہدوں سے کہہ سکتی ہوں کہ یہ تمام چیزیں اوصاف ہیںجن کی وجہ سے طلبہ میں اسٹیِم کا طریقہ فروغ پاتا ہے۔‘‘

عالمی سطح کی انتظام سے متعلق مشاورتی فرم  مَیک کینسی اینڈ کمپنی کے مطابق بعض ممالک اسٹیم کے شعبوں میں خواتین کو ترغیب دینے میں زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ مثال کے طور پر۲۰۱۳ ء کا کمپنی کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا میں بہت اچھی کارکردگی والی خواتین کا۵۷ فی صد اسٹیم مضامین پڑھتا ہے ۔ کسی دوسرے ملک کے مقابلے یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔کیچین اشارہ کرتی ہیں کہ فنون لطیفہ کے ذریعہ اسٹیم شعبہ جات تک رسائی خواتین کو یہ سمجھنے میں مدد کرسکتی ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مختلف طریقوں سے کوشش کرنا بہتر ہے اور اس میں ناکام ہونا کوئی بری بات نہیں ہے۔ 

وہ اظہارِ رائے کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’بہت ساری نوجوان لڑکیوں سے کہا جاتا ہے کہ انہیںمکمل بننے کی ضرورت ہے اور انہیں دیگر لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کرنی ہے۔ہم ان سے یہ نہیں کہتے کہ کوشش کرکے اور غلطیاں کرکے کیسے سیکھا جا سکتا ہے ۔ ان سے یہ بھی نہیں کہا جاتا کہ غور و فکر کرنا اور کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ۱۰ یا ۱۵ طرح سے کوشش کرنا درست ہے گرچہ اس کے نصف طریقے مضحکہ خیز ہی کیوں نہ معلوم ہوں ۔ فنون لطیفہ اس طرح کی ذہنیت کو فروغ دینے میں مدد کرسکتا ہے۔ لہٰذا خواتین جانتی ہیں کہ کوشش کرنا بہتر ہوتا ہے ، بہ نسبت یہ دیکھنے کے کہ کوشش نہیں کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ ‘‘

وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ ابتدائی طور پر بنیادی اور ثانوی درجے کے لیے بنائے گئے اسٹِیم نصاب کو حالیہ برسوں میں امریکہ میں ملک گیر پیمانے پر اسکولوں میں زیادہ نافذ کیا گیا ہے۔ ان کے خیال میں وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیز ان غلط تصورات کو ختم کرنے میں مدد کرسکتی ہے جو خواتین کو اسٹیم شعبہ جات میں کریئر سازی سے دور رکھتی ہے۔ 

وہ کہتی ہیں ’’ کبھی کبھی وہ طالبات جو فنی چیزوں کو پسند کرتی ہیں اور تخلیقی فطرت کی واقع ہوتی ہیں سائنس میں دلچسپی نہیں لے سکتی ہیں کیوں کہ سائنس کے حوالے سے وہ تجربہ گاہ میں کسی بہت ہی ذہین شخص کا تصور کرتی ہیں ۔ حال آں کہ ایسا ہونا نہیں چاہئے ۔ اس کا بعض حصہ دقیانوسی خیالات کو توڑنے کے بارے میں بھی ہے۔‘‘

آج تیز رفتاری کے ساتھ بدلتی ہوئی دنیا مطالبہ کرتی ہے کہ لوگ اپنی پوری عملی زندگی میں نئے چیلنج کے مطابق خود کو ڈھالنا سیکھیں۔ 

کیچین کہتی ہیں ’’اگر آپ کے اندر مسائل حل کرنے کی مہارت، تخلیقیت اور ناقدانہ فکر و خیال نہیں ہے تو پھر آپ آج کی اس دنیا میں کامیاب نہیں ہونے والے ہیں۔فنون لطیفہ اس سلسلے میں خواتین کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

 

اسٹیو فاکس کیلی فورنیا کے وِنچورا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار، ایک اخبار کے سابق ناشر او رنامہ نگار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط