مرکز
1 2 3

خواتین کو یکساں مواقع فراہم کرنا

ماہرینِ تعلیم، خاتون سائنسدانوں، ریاضی دانوں، انجنیئروں اور دیگر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی نئی نسل کے لیے راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ 

کیتھرین جانسن کے تاریخی خلائی سفر کے حساب کتاب سے لے کر متحرک جینیاتی عناصر کی دریافت کے لیے نوبل انعام جیتنے والی  باربارا میک کلنٹوک کے تعاون تک خواتین نے سائنس ، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ اور ریاضی کی دنیا میں خاطر خواہ تعاون کیا ہے۔

سائنس ، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ اور ریاضی کو عرف عام میں ایس ٹی ای ایم یا اسٹیم سرنامیہ سے جانا جاتا ہے۔ ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں اپنا کریئر بنانے کی خواہش مند خواتین پاتی ہیں کہ یہاں بھی مرد ساتھیوں کے مقابلے ان کی تعداد کم ہے۔ اس تشویش ناک فرق کو ماضی کے اوراق میں دفن کرنے کے لیے بہت سارے ماہرین ِ تعلیم، سیاستداں اور عالمی رہنما سخت محنت کر رہے ہیں۔ 

 مگر سوال یہ ہے کہ لڑکیاں اسٹیم مضامین سے کنارہ کش کیوں ہوتی ہیں ؟ علم ِ کیمیا کی پروفیسر اور امریکی ریاست انڈیانا کی راجدھانی انڈیانا پولس میں واقع  انڈیانا یونیورسٹی ۔پرڈیو یونیورسٹی(آئی یو پی یو آئی )کے اسٹیم ایجوکیشن ، اِننو ویشن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس ای آئی آر آئی )کی بانی ایکزیکٹو ڈائریکٹر پرتبھا ورما ۔نیلسن کے مطابق بہت سارے کنبوں میں آج بھی بچیوں سے کہا جاتا ہے کہ سائنس ان کا میدان نہیں۔ کم آمدنی والے اور خاص کر ایسے کنبے کی بچیوں کو ،جو اپنے خاندان میں پہلی بار سائنسی مضامین کا انتخاب کرنا چاہتی ہیں ،اکثریہ پیغام دیاجاتا ہے۔ 

حالات میں تبدیلی

ورما۔ نیلسن اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسٹیم مضامین اکثر فرسودہ طریقوں سے پڑھائے جاتے ہیںجوایسی طالبات کے لیے تو بالکل موزوں نہیںجویہاں پہلے ہی سے خود کو ناپسندیدہ خیال کرتی ہیں۔ یہی نہیں طالبات کے بارے میں ایک غلط خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ مددگار ہونے کی بجائے سخت مسابقتی نوعیت کی حامل ہوتی ہیں ۔ اسی قسم کے مردوں پر مرکوز دقیانوسی خیالات ان سے منسوب کر دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی سائنسداں کی تصویر کوہی لیں۔ وہاں آپ کو سفید داڑھی کے ساتھ ایک سفید فام شخص اکیلا کام کرتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ 

ایس ای آئی آر آئی کے ذریعے ورما ۔نیلسن نے ان بندشوں کو توڑنے والے بہت ساری ابتدائی پہل کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔مثال کے طور پر درس و تدریس کے ساتھیوں کی قیادت والے طریقے کے ذریعے اسٹیم مضامین کی طالبات چھوٹی جماعتوں میں اکثر ملتی ہیں جہاں باقاعدگی سے لکچر کا اہتمام ہوتا ہے۔ وہ یہاں ہم رتبہ مشیروں کی راہنمائی میں مسائل کے حل    کے لیے کام کرتی ہیں ۔ ورما۔ نیلسن بتاتی ہیں ’’یہ ماڈل تمام طلبہ کے لیے کامیابی کی شرح میں اضافے کا باعث بنا ہے ، خواہ وہ لڑکے ہو ، لڑکیاں ہوں ، اقلیت ہوں یا اکثریت۔ ‘‘

نئے رہنما خطوط

بابی ہان سین  یونیورسٹی آف سان ڈیاگو میں معاون پروفیسراوریونیورسٹی کے آن لائن ماسٹر آف ایجوکیشن ان اسٹیم پروگرام کی رکن استاد ہیں۔ سین  دی ہارٹ اینڈ سائنس آف ٹیچنگ :پاورفل ایپلی کیشنس فار ایوری کلاس روم نامی کتاب کی مصنفہ بھی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ امریکہ میں تعلیم سے متعلق رہنما خطوط میں حالیہ تبدیلیوں نے اسٹیم شعبہ جات میں عورتوں کی شراکت داری پر اثر انداز ہونا شروع کر دیا ہے۔ 

وہ مزید کہتی ہیں ’’ ۲۰۱۶ ء میں امریکہ کی زیادہ تر ریاستوں نے اسکول جانے کی عمر کے تمام بچوں کے لیے سائنس کی تدریس کے نئے معیارات کو اختیار کیا جس میں مواد پر طریقہ ٔ تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے۔لہٰذا جب بچے سائنس سیکھتے ہیں تو وہ صرف معلومات ازبر نہیں کرتے بلکہ تجربہ کرتے ہوئے اور چیزوں کو دریافت کرتے ہوئے وہ ایک اہم مقام پر ہوتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی اور بنیادی تبدیلی ہے جس سے بچیوں اورکم نمائندگی کی مار جھیل رہے طلبہ کو فائدہ ہو رہا ہے۔اس سے نشو ونما والی ذہنیت رکھنے کے لیے اور اسکول کے پہلے ہی برس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ وہ سائنسداں ہیں اور سائنس کے شعبے میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ‘‘

تعصبات سے نمٹنا

انڈیا میں پیدا ہونے والی سائنسداں اسمتا بنرجی نے ٹیکساس میں واقع رائس یونیورسٹی سے زمین ، ماحولیات اور سیّاروں سے متعلق سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے ۲۰۱۷ء میں امریکہ کا رخ کیا تھا۔انڈیا ہی سے بیچلر اور ماسٹر دونوں ڈگری حاصل کرنے والی بنرجی کے لیے اسٹیم مضامین اس زمانے سے کشش کا باعث رہے ہیں جہاں تک ان کی یادداشت ساتھ دیتی ہے۔ بنرجی ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے کہتی ہیں ’’مجھے بچپن سے نمبروںسے کھیلنے کا شوق تھا۔ تاہم نیشنل جیوگرافک جریدہ اور نیشنل جیوگرافک شوز سے میں زیادہ متاثر رہی جس میں مجھے دیکھنے کا موقع ملتا کہ سائنسداں پگھلا ہوا لاوا کیسے جمع کرتے ہیں یا انٹارکٹیکا کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے وہاں کا دورہ کرتے ہیں۔یہ مجھے بہت زیادہ دلچسپی کے کام لگتے تھے جسے میں ممکنہ طور پر کر سکتی تھی۔‘‘

بنرجی اپنے کنبے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہاں تمام چیزوں سے بڑھ کر تعلیم کی قدر کی جاتی ہے۔ اس لیے وہاں صنفی تعصب یا امتیازی سلوک جیسی کوئی بات کبھی نہیں رہی۔ انہیں تمام زندگی ایسے لوگوں کا سامنا کرنا پڑا جن سے واضح طور پر یہ اشارہ ملا کہ لڑکیوں میں سائنس پڑھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔اور جب خواتین کی کارکردگی مردوں سے اچھی رہی تو انہیں یہ سننے کو بھی ملا ’’ یہ تو بس ان کی صنف کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہوگا ۔ یا ان لوگوں نے کسی نہ کسی طرح اپنی جنسی کشش کا استعمال کرکے یہ ممکن کیا ہوگا۔‘‘ 

عارضی جنسی رابطے عالمی معاشرے میں بری طرح سرایت کر گئے ہیں ۔ لوگ بغیرسوچے سمجھے اس کا حصہ بن جاتے ہیںاور اس کی پروانہیں کرتے کہ ان سے دوسروں کو کس قدر تکلیف پہنچتی ہے۔وہ کہتی ہیں ’’ غیر مناسب تبصرے، تجربہ گاہوں میں غیر معیاری رائے زنی ،  فیلڈ ٹرپ  میں غیر مناسب رویہ اور اس پر یہ باتیں کہ خواتین دفاتر میں انتشار کا باعث ہیں ،عورتوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔‘‘

آواز اٹھائیں

ہان سین اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ قابل ذکر ترقی اور دونوں جنسوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کی حمایت کرنے والے یونیورسٹی کے سخت رہنما خطوط کے باوجود یہ رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ نوجوان خاتون سائنسدانوں، ریاضی دانوں اور انجینئروں کو کیا کرنا چاہئے اگر ان کے ساتھ اس طرح کا مسئلہ درپیش ہو؟ہان سین کہتی ہیں ’’ ایسی صورت حال میں آپ آواز اٹھائیں ۔ اب قانون آپ کے ساتھ ہے۔ گرچہ ماضی میں ایسا نہیں تھا مگر فکرا ور احساس کا غالب رجحان اب آپ کی جانب ہے۔ اگر مسائل ہیں جو آپ کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں یا صرف خاتون ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے تو آواز اٹھائیں۔‘‘

ویسے بنرجی اسٹیم شعبہ جات میں کریئر بنانے کی خواہش مند خواتین کو ثابت قدم رہنے کا مشورہ بھی دیتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’’آپ کسی کو اس بات کا موقع نہ دیں کہ وہ آپ کو احساس کرائے کہ آپ اچھی نہیں ہیں یا اسٹیم کی پڑھائی آپ کے لیے نہیں ہے۔آپ کسی سے کم نہیں ہیں اور اگر کوئی اس سے اتفاق نہیں رکھتا تو اس سوچ کو اپنے لیے ایک چیلنج خیال کریں ۔ ایسے لوگوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے آپ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں ۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ خود کے لیے یہ ثابت کردیں کہ آپ جو بھی خواب دیکھتی ہیں اسے حقیقی شکل دے سکتی ہیں۔‘‘

 

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں۔ وہ نیو یارک شہر میں رہتے ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط