مرکز

اسٹیم شعبہ جات میں خواتین کو بااختیار بنانے کی پہل

نیو یارک میں واقع دی سائنٹِسٹا فائونڈیشن اسٹیم شعبہ جات میں غیر پیشہ ور خواتین کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کراتی ہے جس سے انہیں نہ صرف با اختیار بنایا جاسکے بلکہ وہ آپس میں منسلک بھی ہو سکیں۔ 

سائنٹِسٹا فاؤنڈیشن کے کارگزار ڈائریکٹر  برینڈی گروو بتاتے ہیں کہ اسٹیم شعبہ جات میں جاب انٹرویو کے بعد کال موصول ہونے والی خواتین کی شرح برابرکی تعلیمی لیاقت رکھنے والے اپنے ہم پلامردوں کے مقابلہ دوگنی کم ہے۔نیویارک میں واقع اس فاؤنڈیشن کا مقصد کالج جانے والی طالبات کے لیے اسٹیم شعبہ جات میں میجر کرنے میں آرہی وسائل اور رول ماڈلس کی قلت کو دور کرنا ہے۔ 

اس کی بنیاد ۲۰۱۱ ء میں دو بہنوں جولیا اور  کرسٹینا تارتاگلیا نے ڈالی تھی جو ہارورڈ یونیورسٹی میں حیاتیات میں میجر کر رہی ہیں ۔ان بہنوں نے محسوس کیا کہ اسٹیم شعبہ جات میں خواتین کے لیے وسائل کی کمی ہے ۔ ہارورڈ کالج اننوویشن چیلنج کی  سیمی فائنلسٹ اور  ہارورڈ ٹیک انعام یافتگان ان دونوں بہنوں نے آن لائن پلیٹ فارم اور قومی نیٹ ورک کی شروعات کی۔

گروو بتاتے ہیں ’’جولیا اور کرسٹینا نے ۲۰۱۱ ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ایک چیپٹرسے اس کی شروعات کی ۔ اس وقت سے لے کر اب تک اس نے کافی ترقی کر لی ہے۔فی الحال امریکہ اور کناڈا میں اس کی ۲۴  فعال شاخیںہیں۔ ہم نئی یونی ورسٹیوں میںمزید شاخ قائم کرنے کے خواہاں ہیں‘‘۔

فاؤنڈیشن کا مقصدپیشہ ور انہ اہلیت حاصل کرنے سے پیشتر اس کا خواب دیکھنے والی خواتین کو با اختیار بنانا ہے تاکہ وہ بہتر طریقے پر نظر آ سکیں اور سائنس میں خواتین کا ایک متحدہ نیٹ ورک تیار کیا جا سکے۔ یہ اسٹیم شعبہ جات میں کیمپس خواستین کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ 

اس کاوش میں بلاگ اور مجلہ بھی شامل ہیںجن کے ذریعہ سے خواتین اپنی دلچسپی کے موضوعات کے متعلق پڑھ سکتی ہیں،بحث و مباحثہ میں میں شرکت کر سکتی ہیں، فاؤنڈیشن میں درج پروفائل دیکھ سکتی ہیں اور سائنسی خبریں پڑھ سکتی ہیں ۔ فاؤنڈیشن طالبات کے واسطے خاتون رول ماڈل بھی فراہم کرتا ہے جو معاشرے میں عام طور پر نظر آ سکتی ہیں ۔ ان کی مدد سے ایک عام آدمی کے لیے متنوع کام کرنے کی جگہ پر تبدیلی آسان ہو جاتی ہے۔ 

ادارے میں سالانہ سمپوزیم کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں روزگار اور انٹرن شپ میلے ، مذاکرے ، ورک شاپ ، پوسٹر پریزنٹیشن اور پِچ کمپٹیشن وغیرہ کا انعقاد ہوتا ہے۔ فاؤنڈیشن ناسا کی ایسوسی ایشن آف ویمن اِن سائنس، مائکرو سافٹ اور ہفنگٹن پوسٹ جیسی تنظیموں سے اشتراک کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فاؤنڈیشن کے تین قومی سمپوزیم مائکروسافٹ کے صدر دفتر میں ہی ہوئے ہیں۔ 

فاؤنڈیشن نے جلد کی دیکھ بھال کی کمپنی  پیری کون ایم ڈی کے اشتراک سیبَورن سیکرس فیلوشپکا آغاز کیا ہے۔

اس تقریری مقابلے کے ذریعہ اسٹیم شعبہ جات میں ۴ ایسی خواتین کو ۲۰ ہزار امریکی ڈالر (تقریباََ ۱۴ لاکھ ۲۴ ہزار روپے )کا وظیفہ دیا جائے گا جو  بَورن سیکر خصوصیات کا مظاہرہ کریں گی۔

فاؤنڈیشن کی اس پیشکش سے فیضیاب ہونے والی کئی طالبات میں سے ایک سنگیتا سیلوَم بتاتی ہیں ’’۲۰۱۸ ء میں جن بَورن سیکر خواتین کو چنا گیا ہے وہ ترسیل اور قیادت میں قابلیت کی تعمیر کریں گی۔ اس طور پر وہ سائنسدانوں ، انجینئروں ، ڈاکٹروں اور اسٹیم شعبہ جات کے پیشہ ور افراد کی اگلی نسلوں کے لیے رول ماڈل ثابت ہوں گی۔ 

سیلوَم  کینٹ اسٹیٹ یونیورسٹی میں فاؤنڈیشن کے گریجویٹ باب کی صدر اور سکریٹری رہ چکی ہیں اورالبانی میں واقع اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک میں پوسٹ ڈاکٹورل فیلو ہیں۔ انہیں پی ایچ ڈی کے تیسرے برس میں فاؤنڈیشن کے بارے میں معلوم ہوا۔  

سیلوَم بتاتی ہیں ’’ اسی برس ہم نے ۲۰ گریجویٹ طالبات کی مدد سے اپنی یونیورسٹی میں سائنٹِسٹا فاؤنڈیشن کی شاخ کھولی۔ ہم ہر مہینہ مل کر بیٹھتے اور اس بارے میں غوروخوض کرتے کہ کس طرح ہم گریجویٹ طالبات کی کام کرنے والی جگہ پر وسائل کی کمی کودورکریں۔‘‘ 

اگلے برس ان میں خاصہ اضافہ ہوگیا اور یہ تعداد ۷۰ تک جا پہنچی۔ سیلوَم کہتی ہیں ’’ اس کی وجہ پیشہ ورانہ تقریبات جیسے اسپیکر پینل، جاب انٹرویو سیمینار اور کام کرنے کی جگہ پر ہراسانی پر دیا گیا پریزینٹیشن  رہا۔ ابھی گرچہ وہ امریکہ میں ہیں مگر ان کا تعلیمی سلسلہ انڈیا میں شروع ہوا تھا۔ ‘‘

سیلوَم اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’بہت سارے بچوں کی طرح میں بھی اسکول کے زمانے سے ہی سائنس کی گرویدہ تھی اور یقینی طور پر سائنس ہی میں کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں اس وقت اسٹیم شعبہ جات میں روزگار کے مواقع سے بالکل نا واقف تھی۔ جب میں انڈر گریجویٹ طالبہ تھی تب مجھے اعلیٰ تعلیم کے بارے میں معلوم ہوا جس میں تحقیق اور سائنسی تحریر پر توجہ دی گئی تھی۔ لہٰذا میں نے مدراس یونیورسٹی سے ماسٹرس کیا۔‘‘

اپنے مادرِ علمی کا قرض ادا کرنے کی غرض سے آج سیلوَم  فاؤنڈیشن کے اسپانسرڈ مواد کی ڈائریکٹر ، طرز حیات بلاگ کی سیکشن ایڈیٹر اور تنظیم کی ۲۰۱۹ء کی سمپوزیم کمیٹی کی مارکٹنگ چیئر پرسن ہیں۔

سیلوَم کا کہنا ہے ’’ جنسی تفریق آج ایک حقیقت ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا ماحول تیار کیا جائے جہاں بلا تفریقِ جنس قدرتی صلاحیت کی پرورش ہو۔ اسٹیم شعبہ جات میں خواتین کو جن بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں استاد کی تلاش ، اپنی تعلیم کے لیے ذرائع معلوم کرنا اور گفت و شنید کے آداب شامل ہیں۔ ‘‘

جب کہ گروو کہتے ہیں ’’خواتین کے سامنے ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ گھر بار سنبھالیں یا اپنا کریئر آگے بڑھائیں۔‘‘

وہ اس سلسلے میں خواتین مخالف کام کے ماحول اور کم تنخواہ کا بھی حوالہ دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’’ حالاں کہ حالیہ عشروں میں اس میں خاصی ترقی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود سائنس کے شعبے میں خواتین کی راہ میں رکاوٹیں تو حائل ہیں ہی۔ ‘‘

کینڈس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم ہیں ۔ وہ جرائد اور اخبارات کے لیے لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط