مرکز
1 2 3

سابق طلبہ کے تجربے اورمشورے

اس مضمون میں امریکی یونیورسٹی کے سابق طلبہ نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے سے متعلق اپنے تجربات اور آرزو مند طلبہ کے لیے اپنے مشورے شیئرکیے ہیں۔ 

سابق طلبہ کے نیٹ ورک تعلیمی اداروں، آرزومند اور موجودہ طلبہ اور خود سابق طلبہ کے لیے فائدہ مند ہیں۔کئی امریکی ادارے کامیاب طور پر سابق طلبہ اور طلبہ کے کام کا انضمام کرتے ہیں اوران کے تجربات میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔ بدلے میں طلبہ اور سابق طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

طلبہ کا تجربہ اور ان کا اطمینان کامیابی کے اہم پیمانے بن گئے ہیں اور کسی یونیورسٹی کو منتخب کرنے کے عمل کے لیے ناگزیر ہیں۔ اسی لیے سابق طلبہ کی آواز کسی ادارے کا اندازہ لگانے کے لیے ایک اہم جزو ہے۔ سابق طلبہ میں مثبت طور پر اثر انداز ہونے اور کسی تعلیمی ادارے کا مفید اثاثہ بننے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ 

یہاں ۵ امریکی یونیورسٹیوں کے سابق طلبہ اور ان کے تجربات پیش کیے جا رہے ہیں۔

دلپریت سنگھ: ماسٹر آف لاز (ایل ایل ایم )،یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ، برکلے ،۲۰۱۲۔وائس پریسیڈنٹ ، برکلے کلب آف دہلی۔

راہل ہانڈا :پوسٹ ماسٹر آف بزنس ایڈ منسٹریشن (ایم بی اے)، ماسٹرس اِن انٹرنیشنل مینجمنٹ ، ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی ،۲۰۰۲۔المنائی ممبر۔

رسیکا رانے: بیچلر آف سائنس اِن الیکٹریکل انجینئرنگ ، بیچلر آف آرٹس اِن جرنلزم ، میامی یونیورسٹی ،۲۰۱۷۔ 

رِدھی مہتا: ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) یونیورسٹی آف مشی گن ۔فلِنٹ ۲۰۱۲۔ممبر، المنائی ایسو سی ایشن آف یونیورسٹی آف مشی گن ۔ 

سوربھ سنہا: ماسٹر آف فائن آرٹس اِن فلم پروڈکشن ، فُل سیل یونیورسٹی ،۲۰۱۵۔ایمبسڈر ، انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ سوسائٹی ۔ 

 

گریجویشن کے بعد آپ کے تجربہ نے یونیورسٹی میں آپ کو اپنی پہلی ملازمت دلانے میں کیسے مدد کی؟

سنہا: گریجویشن کی تعلیم کے بعد میرا پہلا عہدہ ایک ڈیجیٹل امیجنگ ٹیکنیشین(ڈی آئی ٹی) کا تھا۔فُل سیل یونیورسٹی میں طلبہ کو مقالہ کا ایک پروجیکٹ مکمل کرنا تھا جہاں ہمیں طریقۂ کار کے پورے سلسلہ سے واقف کرایا گیا۔ میرے معلم نے ڈیجیٹل ڈیٹا میں مہارت حاصل کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

رانے:میامی یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد میں نے اپنی ماسٹر ڈگری کے لیے ایک الگ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ میامی یونیورسٹی میں میرے تجربہ نے مجھے اعلیٰ تعلیم کے لیے تیار کیا اور اپنی پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ پانے میں میری مدد کی۔ میرے پروفیسروں نے میری دلچسپی کا مضمون دریافت کرنے اور درخواست دینے کے لیے درست جگہوں کا انتخاب کرنے میں میری مدد کی۔ انہوں نے درخواست دینے کے پورے طریقۂ کار میں میری مدد کی۔ میرے ریزیوم کو ٹھیک ٹھاک بنانے اور میرا نجی بیان تیارکرنے میں میری مدد کرنے سے لے کر سفارشات دینے میں میرا تعاون کیا۔ کالج کے اخبار کے لیے میں نے جو نصاب سے متعلق مضامین لکھے اور دیگر جو اشاعتی امور انجام پائے، اس سے میرا پورٹ فولیو بہتر ہوا، جسے میں نے اپنی درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا۔

 

کیمپس میں کون سے مواقع طلبہ کے لیے سب سے زیادہ مفید ہیں؟

سنہا: چوں کہ وہاں ہر مہینہ ایک مقالہ لکھنا ہوتا تھا، میں نے تقریباََ ہر صورت حال میں براہ راست طور پر تجربہ حاصل کیا۔ میں نے نہ صرف یہ کہ فلمی طلبہ کے ساتھ کام کیابلکہ میں نے موسیقی، کھیل اور انیمیشن طلبہ کے ساتھ ان کے پروجیکٹوں پر بھی کام کیا۔اس سے مجھے مکمل تجربہ حاصل ہوا۔ 

رانے: آن کیمپس نیٹ ورکنگ پروگرامس سے سیکھنا زیادہ فائدہ مند ہوتاہے۔ وہ اس تعلیم کی تکمیل ہیں جسے ہم کلاس میں حاصل کرتے ہیںاور حقیقی زندگی میں کسی کی تعلیم کو نافذکرنے کے لیے بہت اچھی جگہیں ہیں۔

مہتا: میرے خیال میں کیمپس میں کام کرنا آپ کو فوری طور پر امتحان میں ڈالتا ہے اور پیشہ وارانہ اور نجی دونوں ہی اعتبار سے ترقی کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ یہ سیکھنے کا ایک شاندار تجربہ ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا ملازمت کرتے ہیں۔ 

 

اگر آپ اپنے کالج یا یونیورسٹی میں اپنے تجربہ کے بارے میں کسی چیز کو بدلنے کے لیے وقت پر واپس جا سکتے ہیں تو آپ کیا چنیں گے اورکیوں؟وہ واحد مشورہ کیا ہے جسے آپ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کو دیا جاتا؟

سنگھ: اپنے ساتھیوں اور پروفیسروں کے ساتھ رہنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت نکالیں اور جتنا ہو سکے اتنا سیکھیں۔

رانے: میں نے موسم سرما اور موسم گرما کے سمسٹر کے دوران کلاسیز لیتے ہوئے ۳ سالوں میں اپنا دوہرا موضوع مکمل کیا تھا۔ میں ممکنہ طور پر کم وقت میں ڈگریاں حاصل کرنا چاہتا تھا۔کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا اور اپنا وقت اس اسپیس میں خود کو تلاش کرنے میں لگاتا۔ وہ واحد مشورہ جسے میں چاہتا ہوں کہ مجھے ملتا یہ ہے کہ اپنے تعلیمی اوقات میں سے کچھ وقت نکالیں۔ صرف اس لیے نہیں کہ آپ دنیا میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ آپ خود کو دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ جب آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور اپنے مفادات کو پہچانتے ہیں تو حالات آپ کے موافق ہوں گے اور آپ کو کامیابی کی طرف لے جائیں گے۔

سنہا:دراصل، میری خواہش تھی کہ کیمپس میں ہاسٹل ہوتے۔ بس یہی ایک چیز مجھے یاد آتی تھی۔ یہ طلبہ کو نقل وحمل یا حفاظتی امور کے بارے میں فکرمند ہوئے بغیر آسانی سے کلاسیز کے لیے دستیاب ہونے میں معاونت کرتے ۔

مہتا: میں صحیح معنوں میں چاہوں گا کہ ایک چیزبھی نہیں بدلے۔ میرے سبھی تجربات نے میری تشکیل کی ہے کہ میں آج کون ہوں۔ میرا سب سے اچھا مشورہ یہ ہوگا کہ آپ بڑی تصویر پر توجہ مرکوز کریں اور ایک یا دو وجوہات کی بنیاد پر اپنے اسکول کا انتخاب نہ کریں۔ جیسے ہر ایک بیمار کے لیے ڈاکٹر کے نسخے الگ ہوتے ہیں ویسے ہی ہر ایک شخص کے لیے سب سے اچھا اور مناسب اسکول الگ ہوتا ہے۔

 

برائے مہربانی، نیٹ ورکنگ سے متعلق کچھ اہم معلومات شیئر کریں۔

رانے:یونیورسٹی میں دستیاب وسائل کا پورا استعمال کریں۔ آپ اپنے لیے دستیاب کریئر سے متعلق میلوں اور نیٹ ورکنگ پروگراموں میں حصہ لیں۔ یہ پروگرام پیشہ وارانہ دنیا میں شاندار داخلہ کے لیے ایک شاندار جگہ ہیں۔ ایک بار جب آپ روابط قائم کر لیتے ہیں تو اپنی کہانی کو سامنے لانے اور اثر ڈالنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کریں۔

سنہا: طلبہ کو سابق طلبہ کے نیٹ ورک میں سرگرم ہونا چاہئے۔ فُل سیل یونیورسٹی نوکریوں کے لیے گریجویشن کے بعد بھی ایک سرگرم پورٹل اور صلاح کار فراہم کرتی ہے ۔ طلبہ کو اپنے انسٹرکٹرز کے رابطہ میں رہنا چاہئے کیوں کہ وہ صنعت میں آپ کے لیے سفارش کر سکتے ہیں۔ 

مہتا: میرے خیال میں نئے مواقع کی تلاش سے زیادہ اہم یہ ہے کہ سب سے پہلے ان مواقع کی نشاندہی کی جائے اور ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے جو پہلے سے ہی ہمارے آس پاس ہیں۔

 

آرزومند یا داخلہ پاچکے طلبہ کو سابق طلبہ کے نیٹ ورک سے کیسے جڑنا چاہئے؟

ہانڈا، سنہا، مہتا: سابق طلبہ نیٹ ورک کے زیر اہتمام منعقد پروگراموںیا ایسوسی ایشنز میں حصہ لیں۔

سنگھ: سابق طلبہ کے نیٹ ورک میں سرپرستوں کو تلاش کریں۔

رانے: لِنکڈ اِن کو رابطے کے لیے استعمال کریں ۔

 

آستھاوِرک سنگھ نئی دہلی میں واقع امریکہ۔ ہند تعلیمی فاؤنڈیشن میں ایجوکیشن یو ایس اے کی سینئر صلاح کا رہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط