مرکز

فنونِ لطیفہ کا تجارتی پہلو

آرٹس مینجمنٹ پروگرام طلبہ کو تجارت کی تنظیم کی تکنیک اور باریکیوں کا اطلاق فنون ِلطیفہ کی دنیا میں کرنا سکھاتا ہے۔

ایسے طلبہ جنہیں آرٹس پسند ہے مگر ان کی دلچسپی تجارت میں بھی ہے توآرٹس مینجمنٹ کی تعلیم ان کے لیے اپنا دونوں علمی شوق پورا کرنے کابہترین ذریعہ ہے ۔آرٹس مینجمنٹ کے تحت طلبہ کو گرانٹ رائٹنگ ، چندہ جمع کرنا ، اکاؤنٹنگ اور آرٹس فائنانس جیسے مختلف موضوعات پڑھائے جاتے ہیں ۔ان کے علاوہ اس کورس کے تحت کسی ایک بصری یا پرفارمنگ آرٹس کی قسم پر اختصاص بھی کرایا جاتا ہے۔

 

شکاگو کے اسکول آف آرٹ انسٹی ٹیوٹ میں آرٹ ایجوکیشن کی ایسو سی ایٹ پروفیسر اورآرٹسٹ نِکولے میروکوئن کوچی میں ایک کانفرنس میں خطاب کرتی ہوئیں۔ یوایس قونصل خانہ چنئی کی شراکت میں یہ آرٹ ایجوکیشن کے وسیع فریم ورک میںمنصوبہ بند تبدیلیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ کانفرنس طلبہ کے ایک نمائشی پلیٹ فارم بائی ائینیل کے ساتھ منعقد کی گئی جو کہ مارچ ۲۰۱۹ میں منعقدہ کوچی موزیرِس بائی ائینیل(بائیں) کے مساوی تھی۔ تصاویر بہ شکریہ کوچی بائی ائینیل فاؤنڈیشن

یہ کورس کرنے والے طلبہ میوزیم ، آرٹ گیلری ، اوپیرا ہاؤس ، ڈیجیٹل اسٹریمنگ اسٹارٹ اپاور ڈانس کمپنیوں میں ملازمت کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ یہی کورس کرنے والے طلبہ مشہور فنکاروں کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ 

آرٹس مینجمنٹ عالمی صنعت ہے۔امریکہ کے کئی اداروں میں اس کی تدریس ہوتی ہے۔ جنوبی کیرولائنا میں واقع  کالج آف چارلسٹن کا انڈرگریجویٹ پروگرام اس ضمن میں ایک انتہائی معیاری پروگرام ہے ۔ اور اگرگریجویٹ سطح پر اس کی تعلیم حاصل کرنا ہو تو واشنگٹن ڈی سی میں واقع امیریکن یونیورسٹی بھی ایک بہترین ادارہ ہے۔ 

کورس کی معنویت

کالج آف چارلسٹن کی پروگرام ڈائریکٹر  کرین چینڈلرکہتی ہیں ’’چارلسٹن ایک بین الاقوامی سیاحتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ فنونِ لطیفہ، تاریخ اور ثقافت میں ڈوبا ہوا شہربھی ہے۔ مستقبل کے بھارتی طلبہ کے لیے آرٹس مینجمنٹ میں امریکی ڈگری کا حصول ایک اچھی سرمایہ کاری ہے کیوںکہ یہ طلبہ کو فنون ِ لطیفہ ، تجارت اور انتظامی ہنرمندیوں سے مسلح کرتی ہے جو امریکہ، ہنداور پوری دنیا میں منافع کو خاطر میں لائے بغیر کام کرنے والے اداروں ، منافع بخش اداروں اور ثقافتی اداروں کے انتظام و انصرام کے لیے اشد ضروری ہے۔اس پروگرام کے تحت طلبہ کو پرفارمنگ آرٹسٹ اور بصری فنکاروں سے معاملہ کرنا ، ان کے لیے راہ ہموار کرنا اور ان کے لیے چندہ یکجا کرنا بھی سکھایا جاتا ہے۔‘‘

دنیا کے ۶۱ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے طلبہ چارلسٹن کالج میں داخلہ لیتے ہیں۔سال ِ اوّل کے تمام بین الاقوامی طلبہ کو وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس کالج سے طلبہ آرٹس مینجمنٹ میں میجر(کسی مضمون میں اختصاص کرنا) یا  مائنر(ثانوی نوعیت کے مضامین جو اختصاص کے لیے چنے گئے مضمون کا تکملہ ہوں )کر سکتے ہیں۔طلبہ موسیقی میں بھی اختصاص کر سکتے ہیں۔کالج کا اپنا طلبہ کا ریکارڈ لیبل ہے جو ۱۷۷۰ ریکارڈ کے نام سے معروف ہے۔انڈر گریجویٹ پروگرام کو کسی دوسرے ڈگری پروگرام کے ساتھ ڈبل میجر(اسے ڈووَل میجر  بھی کہتے ہیں جس کے تحت طلبہ کو گرچہ ایک مضمون میں میجر ملتا ہے مگر ڈگری میں دونوں مضامین کا اندراج ہوتا ہے) یا ڈبل مائنر(ایک ساتھ دو میجر یا ایک میجر دو مائنرکورس کیا جا سکتا ہے) کے طور پر جوڑا بھی جا سکتا ہے۔

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انڈر گریجویٹ طلبہ پرفارمنگ آرٹس ایونٹ مینجمنٹ ،پروڈکشن ، مارکیٹنگ ایند ڈیولپمنٹ ، میوزیم مینجمنٹ اور  آرٹسٹ مینجمنٹ جیسے میدانوں میں ملازمت اختیار کر سکتے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ چوں کہ یونیورسٹی قومی فنونِ لطیفہ کا گڑھ سمجھی جانے والی جگہ پر واقع ہے لہٰذا ان کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ آرٹس کمیونٹی سے انٹرن شپ ، رضاکاری ، مہمان مقررین اور دیگر اضافی مراعات سے براہ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 

طلبہ کے لیے پڑھنے کے ساتھ کام کرنے کے مواقع بھی دستیاب ہیں۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ملازمت کا تجربہ بھی حاصل کرسکیں۔اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ چارلسٹن کالج سے تمام طلبہ فنون ِ لطیفہ سے متعلق اپنی انٹرن شپ بھی مکمل کرتے ہیں جو کہ ان کی تعلیمی ضروریات کا لازمی جزو ہے۔

 چینڈلر بتاتی ہیں ’’فنونِ لطیفہ سے متعلق انٹرن شپ اکثر چارلسٹن میں ثقافتی اداروں ہی میں مکمل کی جاتی ہے۔حالاں کہ طلبہ نے امریکہ کے دیگر شہروں میں بھی انٹرن شپ کی ہے۔ ان شہروں میں واشنگٹن ڈی سی میں واقع  جان ایف کنیڈی مرکز برائے پر فارمنگ آرٹس اور نیو یارک سٹی میں واقع میڈیسن اسکوائر گارڈن شامل ہیں۔

طلبہ کو اختیار ہے کہ وہ آرٹس اینڈ کلچرل مینجمنٹ کے نئے ایک سالہ گریجویٹ سرٹیفکٹ پروگرام میں داخلہ لیں ۔ اسے اپنے طور پر بھی اور پبلک ایڈمنسٹریشن اور کری ایٹو رائٹنگ کے دو علاحدہ ماسٹر ڈگری پروگرام کے طور پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ طلبہ کے پاس اس کا متبادل موجود ہے کہ وہ  اس سرٹیفکٹ پروگرام کو آن لائن کے علاوہ آف لائن بھی مکمل کرسکتے ہیں۔ 

ثقافتی دارالحکومت 

آرٹس مینجمنٹ میں ماسٹرس آف آرٹس کی ڈگری واشنگٹن ڈی سی میں واقع امیریکن یونیورسٹی میں بھی دی جاتی ہے۔اس کورس کے تحت طلبہ کو آرٹس مینجمنٹ ، مارکیٹنگ، چندہ جمع کرنا ، حکومت چلانا ، قیادت فراہم کرنا ، ثقافتی حکمت عملی وضع کرنا اور گفتگو کے آداب میں تربیت سکھائی جاتی ہے جو طلبہ کی عملی زندگی کے لیے بے حد ضروری چیزیں ہیں جو ان کو مستقبل میں کام آتی ہیں ۔ 

اس پروگرام کی دیگر خصوصیات میں عالمی روابط، گریجویٹ اور پیشہ ور افراد کا وسیع نیٹ ورک اور بڑے فاؤنڈیشنوں اور فنون ِ لطیفہ کے اداروں سے اس کے مراسم ہیں ۔ کُل وقتی طور پر اس پروگرام کو دو برس میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔ طلبہ اسے جزوقتی طور پر بھی کرسکتے ہیں جس کے لیے کلاسیز شام میں ہوتی ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے کا رآمد ہے جو یا تو پیشہ ور ہیں یا کسی دوسرے شعبے میں کریئر سازی کے خواہشمند ہیں۔

اس کورس کا نصاب ِ تعلیم۳۹ کریڈٹ پر مشتمل ہے جس میں تحقیقی کام کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت بھی شامل ہے۔ کورس کے تحت طلبہ واشنگٹن ڈی سی میں مقامی تنظیموں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ماسٹرس کا اپنا پورٹ فولیو تیار کرتے ہیں۔

اس طور پر انہیں تعلیم حاصل کرتے ہوئے کام کا تجربہ بھی ہوتا ہے۔ یا بصورت دیگر طلبہ لندن میں واقع  سوتھ بائی انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ فنونِ لطفیہ اور تجارت میں ، آرٹ میوزیم اور گیلری کو سجانے اور سنوارنے کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ 

مطلوبہ کلاسیز کے علاوہ طلبہ اپنی دلچسپی اور ضرورت کے مطابق ۱۲ کریڈٹ کے منتخب مضامین اور ۵ کریڈٹ کے  کیپسٹون کورس(کسی تعلیمی پروگرام کو ایک مربوط تجربے میں تبدیل کرنے والے کورس) بھی کرسکتے ہیں ۔البتہ جو طلبہ تحقیق کے خواہشمند ہیں یا پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ بات لازمی ہوتی ہے کہ وہ مقالہ بھی لکھیں۔ 

ان کے علاوہ ایک قلیل مدتی ۱۵ کریڈٹ کا سرٹیفکٹ کورس انٹر نیشنل آرٹس مینجمنٹ میں بھی ہے۔ اس کورس کو   اسکول آف انٹرنیشنل سروس کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے ۔ یہ ان طلبہ کے لیے مفید ہے جو کُل وقتی ماسٹرس کورس تو نہیں کرنا چاہتے مگر اس کے باوجود ایک سالہ پُر مشقت کورس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

 

کینڈِس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط