مرکز

سیکھنے کے عمل کا جائزہ

ہیوبرٹ ایچ ہمفری فیلو وجینتی شنکر کے سینٹر فار سائنس آف اسٹو ڈنٹ لرننگ کا مقصد طلبہ کے سیکھنے کے مراحل میں اعلیٰ معیار کے جائزوں اور تحقیق میں صلاحیت سازی کی تشکیل ہے۔

بہت سارے دیگر ممالک کی طرح انڈیا کا تعلیمی نظام اسکول کے امتحانات میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی تعداد اور ان کے ذریعے حاصل کیے گئے نمبر کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ مگر بہت سارے اسکول اس بات پر بہت کم توجہ دیتے ہیں کہ طلبہ کیا سیکھ رہے ہیں اور کس قدر بہتر طور پر سیکھ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ بچوں کے سیکھنے کے عمل کے تعلیمی جائزوں اور تحقیق کے لیے شاید ہی کسی قسم کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔طلبہ کے سیکھنے کے عمل کے خلا اور ان کی غلط فہمیوں پر با معنی انداز میں روشنی ڈال سکنے والے جائزوں کی گنجائش بھی کافی کم ہے۔ یہاں تک کہ جہاں کہیں جدید انداز میں جائزے لیے بھی جاتے ہیں تو ان جائزوں کے تجزیہ اور نتائج کا استعمال کرکے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنا اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانا ایک چیلنج ہوتاہے۔

وجینتی شنکر اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ وہ   سینٹر فار سائنس آف اسٹوڈنٹ لرننگ(سی ایس ایس ایل)کی بانی اور ایکزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ اس ادارے کا قیام ۲۰۱۵ ء میں نئی دہلی میں عمل میں آیا۔ یہ مرکز ریاستی حکومتوں اور تعلیمی منصوبوں کی مالی اعانت کرنے والوں کو طلبہ کی آزمائش میں مدد کرتا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ طلبہ کیا سیکھ رہے ہیں اور مختلف اقسام کی مداخلت سے اس میں کیا فرق واقع ہو رہا ہے۔  

شنکر بتاتی ہیں کہ بچوں کی جانب سے تعلیمی میدان میں عمدہ کارکردگی نہیں کرپانے کے اسباب میں سے ایک رٹ کرکے یاد کرنے کے عمل پر زور دیا جانا بھی ہے۔ اس طریقہ تعلیم میںسمجھنے کی بجائے یاد کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ اس سے اختراع اور تخلیق کی بھی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ 

زیادہ تر اسکولوں میں لیے جانے والے امتحانات کا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کیا یاد کیا گیا ۔ شنکر کہتی ہیں’’ اساتذہ کو کبھی سکھایا نہیں جاتا کہ کس طرح بہتر امتحان لیا جا سکتا ہے ۔ یعنی اس بات کا جائزہ کہ یہ جانا جائے کہ طلبہ نے کیا سیکھا ، نہ کہ یہ کہ اساتذہ نے کیا پڑھایا۔‘‘

شنکر کا مرکز انڈیا میں ۷ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ مرکز کے ذریعہ طلبہ کے سیکھنے کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کے نتائج کو استعمال کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ مرکز ریاستوں کے تعلیمی شعبے سے وابستہ حکام کو قلیل مدتی تربیت بھی فراہم کرتا ہے تاکہ اس شعبے میں ان کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔ مرکز دیگر کئی ریاستوں کے حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ ان کے حکام کو بھی یہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ مرکز اس بات پر بھی غور کر رہا ہے کہ اس کی سہولیات دیگر ترقی پذیر ممالک کو بھی دستیاب کروائی جا سکیں۔

مرکز نے ریاستی حکومت کے افسران کے لیے ماسٹر سطح کا ایک تعلیمی پروگرام تشکیل دیا ہے تاکہ ریاستی حکومتوں کے حکام کو اس بات کی تربیت دی جا سکے کہ وہ اپنے طور پر بھی علمی جائزے کا کام شروع کریں اور اس کے نتائج کا استعمال تدریس کو بہتر بنانے کے لیے کرسکیں۔فی الحال آندھر پردیش سے محکمہ تعلیم کے ۱۱ افسران نے اس سہ سالہ مشق سے پُر پروگرام میں اپنا اندراج کروایا ہے۔ وہ اپنا ۶۰ فی صد وقت پڑھائی پر لگاتے ہیں ۔ ۴۰ فی صد اوقات وہ ان چیزوں کے نفاذ پر صرف کرتے ہیں جو انہوں نے سیکھا ہے۔

اس پروگرام کی مشاورت اور اس کی نگہداشت پین سلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کرتی ہے( جہاں ۱۴۔ ۲۰۱۳ ء میں فل برائٹ ہمفری فیلو کے طور پر شنکر نے ایک برس گزارا ) جہاں کے ایک سبکدوش پروفیسر اس ماسٹر پروگرام کے مشیر اور نگراں کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

شنکر سی ایس ایس ایل کے قیام کے لیے معلومات فراہم کرنے اور ان کے اندر اعتماد پیدا کرنے کا سہرا ۱۰ ماہ پر مشتمل ہیو برٹ ایچ ہمفری فیلوشپ کے سر باندھتی ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی کفالت والی یہ فیلو شپ نوجوانوں اور عملی زندگی کے وسطی ماہ و سال والے پیشہ ور افراد کے لیے تبادلے کا ایک پروگرام ہے۔  

اس فیلو شپ نے انہیں سیکھنے کے عمل کے جائزے کو گہرائی سے سمجھنے کی سہولت فراہم کی ۔ اس نے انہیں پیشہ ورانہ، سماجی، جغرافیائی اور سیاسی چیلنجوں کی عالمی سطح پر بہتر سمجھ بھی عطا کی ۔واضح رہے کہ ہر برس ۱۵۰ ہمفری فیلو شپ دی جاتی ہے ۔ فیلو شپ حاصل کرنے والے افراد امریکہ کی ۱۳ بڑی یونیورسٹیوں سے وابستگی اختیار کرتے ہیں۔مثال کے طور پر پین سلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں شنکر کی ملاقات دوسرے ممالک کے وظیفہ یافتہ افراد سے ہوئی۔ وہ بتاتی ہیں ’’ اس سے ہمیں ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھنے کا موقع ملا۔ ‘‘

جائزے کے عمل کو انجام دینے اور ریاستی تعلیمی محکمے کے افسران کو تربیت دینے کے علاوہ سی ایس ایس ایل سیکھنے کے عمل کی سائنس میں تحقیق کا بھی کام کرتا ہے۔ یہاں اس کا مقصد بہتر طور پریہ سمجھنا ہے کہ ماہر تعلیم کس طرح تعلیمی شعبے سے منسلک لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں اور یکسوئی، حافظہ، خود کی شبیہ، جذباتی ذہانت اور بات چیت جیسی آسان مہارتوں کو فروغ دے سکتے ہیں جو بہتر طور پر طلبہ کے سیکھنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

۲۰۱۸ء میں سی ایس ایس ایل نے گریڈ اسکول طلبہ کے سیکھنے کے عمل اور سیکھنے کے عمل میں پیش آنے والے عام مسائل کا وسیع تجزیہ کیا۔حکومت ہند کے

 پالیسی ساز ادارے نیتی آیوگ کی ایما پر کیے گئے اس جائزے کی کفالت عالمی بینک نے کی۔ شنکر بتاتی ہیں ’’تدریسی عمل کو بہتر بنانے کے لیے اور اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ کیا طلبہ کو اصلاحی امداد چاہئے، ریاستی حکومتیں اساتذہ کے لیے تربیتی پروگرام میں اس جائزے کے نتائج کا استعمال کرتی ہیں ۔ ‘‘

 

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ صحافی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط