مرکز

فنون لطیفہ اور تکنیک کی آمیزش

کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف دی آرٹس یا کَیل آرٹس کا اَینیمیشن پروگرام ایسے طلبہ کے لیے تیار کیا گیا ہے جو چیزوں کو سمجھنے کے علاوہ فنون لطیفہ اور ٹیکنالوجی کے اختلاط کے خواہاں ہوں۔

’’کَیل آرٹس وہ اہم ترین شئے ہے جس سے میں اس وقت دست بردار ہونے کی امید کرتا ہوں جب میں ایسے مقام پر پہنچ جاؤں جہاں مزید نئے مواقع دستیاب ہوں۔اگر میں آئندہ نسلوں کی ذہانت کو فروغ دینے کے لیے کوئی ایسی جگہ تیار کرنے میں مد گاربن سکوں ، تو میں سمجھوں گا کہ میں نے واقعی کوئی کام کیا ہے۔‘‘ 

 ۔امریکہ کی اَینیمیشن صنعت کے پیش رَو والٹ ڈزنی

اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کافی عرصے کے بعد والٹ ڈزنی نے برسر روزگار فنکاروں کے لیے سیکھنے اور خیالات کو مشترک کرنے کی غرض سے فنون لطیفہ کے روایتی اسکولوں کے رسم و رواج سے پاک ایک خیالی او ر اشتراکی ماحول فراہم کرنے پر غور و فکر کرنا شروع کیا ۔انہوں نے اپنے بھائی رائے ڈزنی کے ساتھ اس خیال کو ۱۹۶۱ء میں حقیقی شکل دینا شروع کیا جب انہوں نے لاس اینجلس میں فنون لطیفہ اور موسیقی کے دو اسکولوں کو ضم کرکے  کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف دی آرٹس قائم کیا ۔ اپنی تکمیل کے بعد ۱۹۷۰ ء میں کَیل آرٹس کالج نے آرٹ ، ڈیزائن ، فلم ، موسیقی ،تھیٹر اور رقص پر مبنی پروگراموں میں داخلے کی خاطر طلبہ کے لیے اپنے ادارہ کے دروازے کھول دیے ۔

اس ادارہ نے ابتداء ہی سے عام طور پر فنون لطیفہ اور ٹیکنالوجی کا اختلاط کرکے علمی اور ثقافتی پروگراموں سے لے کر کافی مقبول پروگراموں تک فنکارانہ پیش رفت اور مشق میں قائدانہ کردار نبھایا ہے۔ان میں کمپیوٹر گیمس میں استعمال کی جانے والی موسیقی ، نسائی ڈیزائن اور فنون لطیفہ اور تصوّریت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈزنی کے نشاۃالثانیہ جس نے  بیوٹی اینڈ دی بیسٹ جیسے اَینیمیشن کے شاہکار سے زندگی اور  ڈیجیٹل اَینیمیشن میں  پِکسَرکی بنیادی کوششوں اور  اسپونج باب اسکوائر پینٹسیعنی سمندر میں اننّاس کے پودوں سے تیار گھر میں رہنے والی ایک چھوٹے پیلے رنگ کی مخلوق تک شامل ہے۔

نیویارک میں واقع  دی میوزیم آف ماڈرن آرٹنے کَیل آرٹس کو’’امریکی فنون لطیفہ سے متعلق تعلیم میں حقیقی طور پر کامیاب تجربات میں سے ایک ‘‘ قرار دیا ہے۔ اس میں ۶ تعلیمی اسکول شامل ہیں جن میں فنون لطیفہ، تنقیدی مطالعات ، رقص ، فلم ، ویڈیو ، موسیقی اور تھیٹر میں انڈر گریجویٹ ڈگری کی پڑھائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 

دنیا کے لیے اَینیمیشن کا تحفہ

اَینیمیشن کی دنیا روایتی فنون لطیفہ میں ایک مضبوط بنیاد سے شروع ہوتی ہے جس کی رسائی  کمپیوٹراَینیمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر تکنیکی ترقیات تک ہے۔ادارہ کے طلبہ خود کو اَینیمیشن کے پختہ فنکار کے قالب میں ڈھالنے کے لیے مکمل طور پر فنکارانہ اور تکنیکی تربیت حاصل کرتے ہیں۔یہاں تجرباتی اَینیمیشن کی ڈائرکٹر مورین فرنِس دعویٰ کرتی ہیں ’’ہمارے طلبہ کافی ذہین اور اختراعی صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں ۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والوں سے دلچسپ کام کی امید کی جاتی ہے۔ ‘‘

سنہ ۲۰۰۱ ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی فلموں کے لیے ۲۰۰۲ ء میں   آسکر کٹیگری فار بیسٹ اَینیمیٹیڈ فیچر شروع کیا گیا تھا۔ اسی وقت سے اس زمرے میں آسکر جیتنے والی فلموں میں سے ۱۱ کی ہدایت کاری کی ذمہ داری  کَیل آرٹس اَینیمیشن کے سابق طلبہ نے ادا کی ہے۔ یہاں کے طلبہ کی ہدایت کاری میں تیار  اَینیمیٹیڈ فلمس  نے سنہ ۱۹۸۵ ء سے ۲۰۱۸ ء کے درمیان باکس آفس پر ۴۶بلین ڈالر سے بھی زیادہ(قریب ۳ ٹریلین روپے) کی کمائی کی ہے۔ 

ادارہ کے سابق طلبہ جہاں دنیا میں اَینیمیشن کو فروغ دینے والوں کے طور پر جانے جاتے ہیں وہیں یہاں کے اساتذہ کی شناخت صنعت کے راہنما کے طور پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرفر نِس اَینیمیشن کی تاریخ داں ،اَینیمیشن کے جریدے کی بانی مدیر اور اَینیمیشن کی تاریخ،  نظریے اور مشق کے مطالعہ کے لیے وقف ایک بین الاقوامی تنظیم سوسائٹی فاراَینیمیشن اسٹڈیز کے بورڈ کی بانی رکن اور سابق چیئر پرسن ہیں۔  

 اَینیمیشن کورسیز 

اس ادارہ سے طلبہکیر یکٹر اَینیمیشن میں  بیچلر آف فائن آرٹس ڈگری  اور ایکسپیریمینٹل اَینیمیشن میں بیچلر اور ماسٹرس دونوں ڈگریاں لے سکتے ہیں۔ فرنِس کہتی ہیں ’’ادارہ دو پروگرام چلاتا ہے ۔ ان میں سے ایک ٹوڈی اَینیمیشن  اور  اَینیمیشنکی صنعت کے اسٹوڈیو کے طریق عمل کے سیکھنے پر مبنی ہے۔یہ کورس کیریکٹر اَینیمیشن کا ہے جو  بی ایف اے  کے تحت آتا ہے۔ ایکسپیریمینٹل اَینیمیشن پروگرام میں وسیع طور پر اسٹوپ موشن،خاکہ نگاری اور مصوّری ، مجازی حقیقت،تفاعل، تنصیب اور  پرفارمینس اَینیمیشن  پر توجہ دی جاتی ہے۔یہاں  بیچلر آف فائن آرٹساور  ماسٹر آف فائن آرٹس دونوں ہی ڈگریوں کی پڑھائی ہوتی ہے ۔ ‘‘

کیریکٹر اَینیمیشن پروگرام میں طلبہ اداکاری اور کہانی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کی فنکارانہ مہارت کو نکھارنے کے لیے زندگی کی خاکہ کشی سے لے کر  کمپیوٹر گرافکس کے مطالعات تک انہیں سخت تکنیکی تربیت دی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ انہیںمکالموں کی ادائیگی کے ساتھ  ساؤنڈ افیکٹ جیسے نکتے بھی سکھائے جاتے ہیں۔

یہاں کا ایکسپیریمینٹل اَینیمیشن پروگرام سب سے زیادہ تخلیقی فنکاروں کو ایک ترقی پسند اور توجہ طلب ماحول میں اپنی جمالیات کوفروغ دینے کا موقع دیتا ہے۔بیچلر ڈگری کے طلبہ ٹو ڈی ڈرائنگ  سے لے کر  کمپیوٹر اَینیمیشن تک اَینیمیشن کے بہت ساری جہتوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔وہ اپنے اساتذہ اور یہاں کا دورہ کرنے والے فنکاروں کے ساتھ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ بیرون ملک جاکر علم حاصل کریں اور معروف  اَینیمیشن اسٹوڈیو کے سالانہ  پورٹفولیو ریویوز (اپنے کام کا خاکہ اور خلاصہ)کا حصہ بنیں۔ 

ماسٹر ڈگری کے طلبہ خود کو تجربات میں زیادہ مصروف رکھتے ہیں۔ایک جانب تو وہ پروجیکٹ سے متعلق اپنا مقالہ مکمل کرتے ہیں تو دوسری جانب اَینیمیشن کے کاروباری پہلو سے متعلق شعبے میں تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔تربیتی نصاب میں کسی فلمی میلے میں شرکت اور پیشہ ورانہ مواقع سے استفادہ جیسے پہلو شامل ہوتے ہیں ۔  

فرنِس بتاتی ہیں ’’ تجرباتی اَینیمیشن پروگرام ایسے ذہین فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا کام انجام دیتا ہے جو ٹائم بیسڈ میڈیا (عصری فن پارے جن میں ویڈیو، فلم ، سلائڈ، آڈیو اور کمپیوٹر کے ذریعہ استعمال ہوسکنے والی تکنیک شامل ہیں)میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ جب وہ کلاس میں اپنے خیالات پیش کرتے ہیں یا وہاں کام کر رہے ہوتے ہیں یا ایک دوسرے کے کام کا تنقیدی جائزہ لے رہے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں ۔ہمارا پروگرام داخلے کے وقت ہی سے کافی مسابقتی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ یہاں ہر طالب علم اپنے شعبے میں تخلیقی صلاحیت کا مالک ہوتا ہے۔ سابق طلبہ کا ہمارا نیٹ ورک بھی کافی مضبوط ہے۔ ہمارے کاموں کی ایک تاریخ ہے جو ہمیں فیسٹیول میں ایوارڈجیتنے میں مدد کرتی ہے۔ ‘‘ 

داخلے کے لیے کوشاں

یہاں داخلے کے لیے تمام دنیا کے طلبہ کو درخواست دینی پڑتی ہے جس میں طلبہ کو ترجمہ کی ان کی صلاحیت کی نقل لگانی پڑتی ہے۔ ساتھ میں انگریزی زبان کی استطاعت کا ثبوت بھی پیش کرنا پڑتا ہے۔اس ادارہ میں ہر ۵ میں سے ایک طالب علم بین الاقوامی ہے۔ انڈیا سے بہت سارے طلبہ کے ساتھ قریب ۵۰ ملکوں کے طلبہ بھی یہاں داخلہ لیتے ہیں۔یہاں کے بہت سارے اساتذہ کا پس منظر بھی بین الاقوامی ہوتا ہے۔ بین الاقوامی طلبہ کو یہاں مسابقتی وظیفہ کا اور یا پھر مطالعہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔  

فرنِس بتاتی ہیں ’’ایکسپیریمینٹل اَینیمیشن میں داخلہ انہیں طلبہ کو دیا جاتا ہے جو کافی اچھی ذاتی جمالیاتی حس کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ وسیع زمینی مناظر، روایتی تصویر کشی اور نقاشی ، دو جہتی تصاویر اَینیمیشن کی تیاری ، نقشہ کشی یا کسی بھی قسم کے عام کردار کی پیش کش کو ہم لوگ ترجیح نہیں دیتے ۔ہمیں ایسے طلبہ کی تلاش ہوتی ہے جن کے اندر فنون لطیفہ کو متاثر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔  کیریکٹر اَینیمیشن پروگرام میں مختلف قسم کی ترجیحات ہوتی ہیں ۔ اس میں

 خاص طور سے انسان کی تصاویرکو پیش کرنے کی دلچسپی کا اظہا ر ہوتا ہے۔درخواست دینے والوں کو ایسی تصاویربنانے کا اہل ہونا چاہئے جو کسی نہ کسی طرح ذاتی طرز اور شخصیت کی عکاسی کرتی ہوں۔‘‘ 

کینڈِس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط