مرکز
1 2 3

آؤ، دوستی کی راہ ہموار کریں!

امریکی یونیورسٹیوں میں مختلف ملکوں سے آنے والے لوگوں کے درمیان باہمی ربط پیدا کرنے اور میل جول بڑھانے سے متعلق مشورے۔

کسی امریکی اسکول میں داخلے کے لئے درخواست دینا اور اس کا منظور ہو جانا کوئی کار ِطفلاں نہیں ہے۔ اسی لئے ان لوگوں کو فخر ہونا چاہئے جن کی درخواست منظور ہوگئی ہو۔ جلد ہی آپ کو محسوس ہوگا کہ گوناگوں پس منظر رکھنے والے لوگوں سے ملاقاتیں،آپ کی ذہنی ترقی اور آپ کے سماجی حلقے کی وسعت دونوں کے لئے کس قدر اہم ہیں۔ زیر نظر مضمون میں چند بنیادی تشویشات پر روشنی ڈال گئی ہے تاکہ امریکہ میں آپ کی تعلیمی زندگی کی ابتداء میں دوسرے طلبہ اور طالبات سے میل جول بڑھانے اور تعلقات استوار کرنے میں آپ کو کوئی دشواری لاحق نہ ہو۔

’’میں اپنے کالج میں کسی کو نہیں جانتا۔ میں اس بات پر فکر مند ہوں کہ شروع کے چند دنوں میں، وہاں میرا کوئی دوست نہ ہوگا۔‘‘
امریکہ جانے والے طلبہ کی غالباً یہ سب سے بڑی تشویش ہے۔ کسی نئے ماحول میں خود کو ڈھالنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب آپ اپنے وطنِ عزیز سے ہزاروں میل دور ہوں۔ تاہم پریشان یا فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ امریکی کالجوں نے آپ کو اس پریشانی سے نکالنے کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔ یہ راستہ(اسٹوڈنٹ اورینٹیشن) طلبہ کو اپنے ماحول سے آشنا اور ہم آہنگ کرنے کا راستہ ہے۔ یہ امریکی رواج آپ کے کالج میں دنیا کے گوشے گوشے سے آئے طلبہ سے ملنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ کئی لوگ اس اورینٹیشن پروگرام کو حواس باختہ ہو کر چھوڑ دیتے ہیں کیوں کہ تمدنی اور ثقافتی فرق سے وہ ابھی بھی جانبر نہیں ہوپاتے۔ اگر آپ بھی انہیں احساسات سے گرانبار ہیں تو آپ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ تنہائی کے کرب اور اپنوں کی یاد کے قلق کا واحد علاج لوگوں سے میل جول بڑھانے اور ہر وقت خود کو مشغول رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ چوںکہ ہر طالب علم کو یہی فکر لاحق ہے اسی لئے ایک رسمی سا تعارف ہی ہمدردی اور دوستی کی راہ ہموار کردیتا ہے۔ تو اپنی جانب قدم بڑھانے والے کسی اجنبی سے جھجھکنے کے بجائے ایک پر جوش ہیلو سے اس کا خیر مقدم کیجئے۔ یا تو ایک گرم جوش جو اب آئے گا یا کم از کم ایک مسکراہٹ آپ کے استقبال کا جواب ٹھہر ے گی۔

ناموں کا استعمال

دیگر ملکوں کے بالمقابل امریکہ میں پہلا نام زیادہ آسانی سے استعمال ہوتا ہے۔ اپنی عمر یا عمر میں چھوٹے کسی شخص سے ملاقات کے فوراً بعد اس کا پہلا نام استعمال کرنا تقریباً ہمیشہ ہی قابل قبول ہوتاہے لیکن جب کسی عہدے پر موجود شخص سے یا اپنے پروفیسر سے یا عمر میں بڑے شخص سے بات کریں تو مرد کی صورت میں اس کے نام کے ساتھ مسٹر اور عورت کی صورت میں اس کے نام کے ساتھ مس کا استعمال کریں۔ یہ لوگ اگر آپ سے کہیں کہ آپ انہیں ان کے پہلے نام سے پکارسکتے ہیں توویسا ہی کریں۔ لوگوں سے یہ پوچھنے میں قطعی جھجھک نہ محسوس کریں کہ وہ کس نام سے پکارا جانا پسند کریں گے۔ اسی طرح آپ بھی بتائیں کہ کس نام سے پکارا جاناآپ کو پسندہے۔

’’جن لوگوں سے میں ملوں گا وہ مجھ سے عام طور پر کس قسم کا سوال کرسکتے ہیں؟‘‘
چوںکہ امریکی کالجو ںاور یونیورسٹیوں کی انجمنیں، امریکہ کے گوشے گوشے اور دنیا کے طول و عرض سے آئے ہوئے طلبہ پر مشتمل ہوتی ہیں، اسی لئے آپ کی کلاس کے رفقاء فطری طور پر جو پہلا سوال آپ سے کریں گے وہ ’’آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟‘‘ ہوگا۔ اس سوال کے جواب کے بعد عام طور پر آپ کے وطن کے بارے میں گفتگو کا سلسلہ دراز ہو جاتا ہے۔ چنانچہبہتر یہ ہوگا کہ آپ ہندوستان کے بارے میں اپنی معلومات کو بہتر کرلیں۔ آپ سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ آپ کو اپنے ملک کے بارے میں سارے اعداد و شمار حفظ ہوں گے لیکن موٹی موٹی باتیںجاننا ضروری ہے تاکہ آپ گفتگو میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے سکیں۔

’’کیا میرے غیر مانوس لب و لہجے پر لوگ میرا مذاق اڑائیں گے؟‘‘
امریکہ جانے والے بیشتر ہندوستانی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کالب و لہجہ غیر مانوس سا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگوں سے کھل کر ملنے سے کتراتے ہیں اور اپنے ہی حلقے میں بند رہتے ہیں۔ اگر آپ R کے تلفظ پر اپنی زبان کو اینٹھ رہے ہیں تو امریکہ کے بارے میں یہ نکتہ آپ کے ذہن نشین ہونا چاہئے کہ یہاں ملک کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے لوگ مختلف لب و لہجے میںگفتگوکرتے ہیں۔ اگر ایک بار آپ امریکہ میں ایک عرصہ گزار لیں تو آپ کو یہاں کے لِسانی تنوع کے بارے میں خود ہی اندازہ ہوجائے گا۔ صاف اور واضح طور پر بولنے کی کوشش کریں اور یہ نہ بھولیں کہ آپ کس طرح سے بول رہے ہیں۔اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ کیا بول رہے ہیں۔

’’مجھے کلاس میں کچھ بولنے سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ پھر میری ذہنی نموکس طرح ممکن ہوگی؟‘‘
زیادہ تر بین الاقوامی طلبہ ابتداء میں، امریکی کلاس روم میں سوالات کرنے میںجھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ رفتہ رفتہ نئے تعلیمی نظام سے مانوس ہو رہے ہیں۔ خوبی کی بات یہ ہے کہ بیشتر امریکی کالجوں کے اساتذہ سے کلاس روم کے باہر ملاقات ممکن ہے۔ چند اسکولوں میں تو اساتذہ کے اوقات بھی مقرر کردئے گئے ہیں۔ اگر آپ کو محسوس ہو کہ نئے نظام کی پیچیدگیاںآپ کے لئے پریشان کن ثابت ہو رہی ہیںتو یاد رکھیں کہ آپ کے پروفیسر آپ کی مدد کو تیار بیٹھے ہیں۔ اپنے پروفیسروں کے دفتری اوقات کا فائدہ اٹھایئے۔ ان سے سوالات کیجئے؛ درس و تدریس سے متعلق ان کی رہنمائی حاصل کیجئے اور ان سے مضبوط رابطہ قائم کیجئے۔ اگر آپ کو کبھی بھی کلاس روم میں اظہار خیال میں تأمل ہو تو اپنے پروفیسروں سے مشورہ طلب کریں اور اپنی ذہنی نمو کو تیز تر کریں۔

’’امریکہ جاتے ہوئے مجھے اور کن باتوں کو ذہن نشین رکھنا ہے؟‘‘
اب جب کہ آپ امریکہ جانے کے لئے پوری طرح تیار اور کمر بستہ ہیں، دو انتہائی ضروری باتوں کو گِرہ میں باندھ لیں۔ پہلی بات یہ کہ ہنس چال چلنے کی کوشش نہ کریں۔ دوسروں کی نقّالی سے گریز کریں۔ صرف دوسروں کو رام کرنے کے لئے لب نہ کھولیں۔ وہی بات زبان پر لائیں جو آپ کے دل میں ہے اور جس سے آپ وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کسی پارٹی میں شراب نہیں پینا چاہتے تو صاف صاف بتادیں۔ آپ خواہ کچھ بھی ہوں، امریکی عوام آپ کی قدر کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جب کبھی آپ شک و شبہہ میں مبتلا ہوں تو سوالات پوچھنے میں تأمل نہ کریں۔ اس سے لوگ آپ کو حقارت سے نہ دیکھیں گے۔ حقیقت میں، اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ آپ ایک غیر ملکی طالب علم کی حیثیت سے ان کے ملک کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ جانے والے طلبہ کو جو خدشات لاحق ہوتے ہیں ان میں سے چند کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں، امریکہ میں ایک کامیاب اور خوشگوار تعلیمی زندگی کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ نئے کلچر، نئی آب و ہوا اور نئے لوگوں سے مانوس ہوں اور دوسروں کی بے جا نقّالی سے گریز کریں۔

 

دھرو راوت،برائون یونیورسٹی، پرویڈنس، رھوڈ آئی لینڈ کے شعبۂ کمپیوٹر سائنس و علم ہئیت کے طالب علم ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط