مرکز

روبوٹ سازی کی جانب پیش قدمی

 کیا آپ مستقبل کی اعلیٰ تکنیک سے لیس مشینوں کو تیار کرنے میں اپنا کریئر بنانا چاہتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو روبو ٹِکس انجینئر نگ میں ڈگری آپ کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔ 

یہ  بات آسان ہے کہ روبوٹ کو تصوراتی سائنس فکشن کی ایجادات سمجھا جائے۔ اسے ایسی خودکار چیز سمجھنا بھی سہل ہے جو صرف کتابوں ، سنیمائی پردوں اور خیالوں میں نظر آتی ہے۔ مگر حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ 

کھیتوں سے لے کر فیکٹریوں تک اورطبّی سہولتوں سے لے کر کان کنی تک ہر جگہ بڑے اور چھوٹے روبوٹ پوری دنیا میں لوگوں کی زندگیوں اور صنعتی اداروں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس سے قطع نظر کہ یہ مشینیں فصل کاٹ رہی ہیں، مصنوعات تیار کر رہی ہیں اور مریضوں کے علاج میں مدد کر رہی ہیں :یہ تمام چیزیں ان ماہرین کے بغیرکچھ بھی نہیں ہیں جو انہیں ڈیزائن کر تے ہیں۔

روبو ٹِکس انجینئر نگ یعنی روبوٹ تیار کرنے اور اس سے کام لینے کا فن، ہنر اور سائنس نئی ضرور ہے مگر امریکہ میں یہ تیز رفتار سے فروغ پانے والا علمی شعبہ ہے۔پین سلوانیا میں واقع وائڈ نر یونیورسٹی (ڈبلیو یو )اور مشی گن میں واقع  لیک سُپیریر اسٹیٹ یونیورسٹی (ایل ایس ایس یو )ایسے ادارے ہیں جو اس شعبے کو وقف مضامینِ تخصیص کی پیش کش کرتے ہیں۔اور کسی بھی قابل طالب علم کے لیے روبوٹِک انجینئرنگ میں گریجویٹ ڈگری لینا یا انڈر گریجویٹ ڈگری حاصل کرنا ایک قابل ذکر تجربہ ہو سکتا ہے۔  

نِک لیوبیک ،وائڈنر یونیورسٹی کے روبوٹِک انجینئر نگ کے سالِ اوّل کے طالب علم ہیں ۔ وہ اس شعبے کو بجلی اور میکانیکی انجینئر نگ کی کیمیا گری قرار دیتے ہیں جس میں کمپیوٹر سائنس پر توجہ دی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’روبوٹِکس انجینئرنگ کو کسی بھی صنعت میں استعمال کیاجا سکتا ہے ،لہٰذا وسیع تر معلومات کو اس کی بنیاد بنایا جانا چاہئے۔ اس کے بعد یہ شعبہ مخصوص شعبوں اور کاموں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ‘‘   

جب بات کلاس ورک کی ہوتی ہے تو لیوبیک جیسے روبوٹِکس انجینئر نگ کے طلبہ دلچسپ چیلنجوں کے وسیع سلسلے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔لیک سُپیریر اسٹیٹ یونیورسٹی کے روبوٹکس شعبے کے ڈائرکٹر جِم دیو پرساد کہتے ہیں کہ کمپیوٹر پروگرامنگ اور برقی، میکانیکی اور پیداوار سے متعلق انجینئر نگ میں عمیق مطالعہ کافی اہم ہے۔وائڈنر یونیورسٹی میں ڈپارٹمنٹ آف روبوٹِکس انجینئر نگ میں ایسو سی ایٹ پروفیسر زیاؤ مو سونگ طبیعیات، ریاضی، برقی دور کے منصوبے، مائیکرو پروسیسر ، علم حرکت ، مشین ڈیزائن ، مصنوعی ذہانت اور میکانیات کو مشترکہ طور پر پڑھے جانے پر زور دیتے ہیں ۔ 

بات چیت کی صلاحیت ، تخلیقیت اور حکمت عملی سے متعلق فکر و خیال جیسی وسیع مہارتیں بھی روبو ٹِکس میں کامیابی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں ۔ لیو بیک کہتے ہیں ’’ مسائل کو حل کرنے کے لیے اختراع پرداز ہونا اورمسائل کو حل کرنے کے طریقوں کے فروغ کی صلاحیت کا حامل ہونا انجینئرنگ کے کسی بھی شعبے کے لیے کافی اہم چیزیں ہیں ۔ ‘‘

وائڈ نر یونیورسٹی اور لیک سُپیریر یونیورسٹی ، روبو ٹِکس پروگرام کے بارے  میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے اور اس شعبے میں شامل ہونے کی خا طر بین الاقوامی طلبہ کے لیے چیزوں کو آسان بناتی ہیں ۔ انڈیا سے آنے والے طلبہ کو انگریزی میں مہارت کی شہادت ، تعلیمی مقاصد کے لیے امریکہ کا دورہ کرنے کا سرکاری اجازت نامہ اور روبوٹِکس انجینئر نگ کے طور پر ترقی کرنے کے لیے لازمی ہنر اور تجربے کو ظاہر کرنے والے معیاری آزمائشی نتائج سمیت بہت سارے دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

دونوں ادارے طلبہ کی خاطر کہیں بھی داخلے کے لیے مختلف قسم کے وظیفے اور مالی امداد پیش کرتے ہیں۔مثال کے طور پرلیک سُپیریر اسٹیٹ یونیورسٹی نئے طلبہ کو روبوٹکس میں یقینی طور پر وظیفہ فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی کے ون ریٹ ٹیوشن پروگرام کی بدولت تمام دنیا سے آنے والے طلبہ کو مشی گن کے طلبہ کی ہی طرح ہی ٹیوشن کی کم فیس ادا کرنے کی سہولت ملتی ہے۔ 

وائڈنر یونیورسٹی #YouAreWelcomeHere وظائف جیسی چیزیں فراہم کرتی ہے جس کی رو سے منتخب شدہ بین الاقوامی طلبہ کو کم از کم ۵۰ فی صدٹیوشن فیس کی ادائیگی کی سہولت دی جاتی ہے ۔ انجینئرنگ شعبے میں دستیاب نئے طلبہ کے لیے وظیفے کے دیگر مواقع میں مفت لیپ ٹاپ کا دیا جانا بھی شامل ہے۔ 

دیو پرساد ان طلبہ کے لیے کریئر کے غیر معمولی مواقع ، کام کرنے کے اپنے طریقے اور آمدنی کے خاطر خواہ امکانات کی بات کرتے ہیں جو روبوٹِکس انجینئر نگ میں انڈر گریجویٹ یا گریجویٹ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ’’ تمام دنیا میں اس شعبے میں روزگار کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔ اس شعبے میں صنعتی اور کاروباری اداروں میں جو پہلے سے ہی اپنا وجود رکھتے ہیں یا ایسے اداروں میں جو روبوٹکس کی دنیا میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ملازمت کے بیش بہا مواقع ہیں۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ یہ ایک تفریح فراہم کرنے والا کام ہے۔لہٰذا اتنے سارے مختلف شعبوں میں وسیع مواقع ہونے کی وجہ سے کوئی بھی اس میں بیزاری محسوس نہیں کر سکتا ہے۔ 

روبوٹِکس کی دنیا کے خود کے منفرد چیلنج ہیں ۔ دیو پرساد کا انتباہ ہے کہ اس شعبے میں داخل ہوتے وقت نئے روبوٹِکس انجینئر وں کوکئی تصورات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہئے جیسے روبوٹ انسان کی جگہ لے سکتے ہیں ، یا روبوٹ کا زیادہ استعمال انسانوں کے لیے بے روزگاری کا سبب بنے گا وغیرہ۔ وہ کہتے ہیں ’’در اصل اب تک کے مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ صنعتی اداروں میں روبوٹ انسان کی جگہ نہیں لیتے بلکہ ان کی جگہ زیادہ صلاحیت ، تعلیم اور تربیت والے افراد کی ضرورت پیدا کرتے ہیں ۔ اکثرکسی بھی شعبے میں روبوٹ کا استعمال اپنے ساتھ روزگار کے دو مواقع لے کر آتا ہے۔ ‘‘

اب سوال یہ ہے کہ کس قسم کے طلبہ کو روبوٹِکس انجینئرنگ میں ڈگری کے لیے تعلیم حاصل کرنا چاہئے اور اس ترقی پذیر شعبے میں نئے ماہرین کے عالمی مطالبے کی تکمیل میں مدد کرنی چاہئے؟  اس کے جواب میں دیو پرساد کہتے ہیں ’’کوئی بھی ایسا شخص جو ٹیکنالوجی میں اور صنعتی اداروں اور روزمرہ کی زندگی میں اس کا استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو اور ساتھ ہی وہ جو ایسے مسائل کے حل کا خواہش مند ہو اور لوگوں کی زندگی کو آسان اور بہتر بناسکے۔‘‘

لیوبیک کے مطابق اس شعبے کے چیلنج منفرد ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’’ روبوٹِکس انجینئروں کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ناکامی ہے۔ آپ یہ بات کسی بھی شعبے کے لیے کہہ سکتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ روبوٹِکس انجینئر نگ ناکامی کو ایک چیلنج خیال کر تی ہے ۔ بہتری اور ترقی روبوٹکس کی بنیاد ہے اور جب اس میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تب اچھا محسوس نہیں ہوتا۔‘‘ 

اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں ۔جب انجینئر نگ کے پروجیکٹ امید کے مطابق کام نہیں کرتے ہیں تو لیوبیک مستقل مزاجی کا ، سخت محنت کا اور کسی بھی مسئلے سے ہمت نہیں ہارنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’’یہ دیکھنا کہ کوئی بھی چیز جسے تیار کیا گیا ہے وہ کام کر رہی ہے ،یہ سب سے اچھے احساسات میں سے ایک ہو سکتا ہے۔روبوٹِکس کے پروجیکٹ میں آپ کے کارناموں کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ ‘‘

 

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں۔ وہ نیو یارک سٹی میں رہتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط