مرکز
1 2 3

انتخاب: امریکہ میں درست یونیورسٹی کا انتخاب آپ کا پہلا دشوار مرحلہ ہے۔

امریکہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعداد بہت بڑی ہے۔ لیکن یہ تو آپ جانتے ہی ہیں ۔ جو نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ امریکہ میں کچھ ایسی بہترین درسگاہیں بھی ہیں جن کا نام آپ نے کبھی نہیں سنا ۔

ایک ایسے تعلیمی ادارہ کے بارے میں غور کیجئے جو مشرقی امریکہ میں ۱۲۸ہیکٹر قدرتی ریزرو کے قریب واقع قدرتی خوبصورتی کی دولت سے مالامال احاطہ ہے، قومی سطح پر جس کی علمی درجہ بندی سب سے بلند ہے ،کلاس میں طلبہ اور طالبات کی اوسط تعداد ۱۷ہے اور طلبہ اساتذہ کا تناسب ۱۳پر ایک ہے۔ تقریباً ۹۵فیصد طلبہ کو فراغت کے ۶مہینے کے اندر یا توروز گارمل جاتا ہے یااعلیٰ تر تعلیم کا ان کا پروگرام شروع ہوجاتا ہے ۔

سینٹرل پنسلوانیا کے جونیاٹا کالج میں آپ کا خیر مقدم ہے اور ایک بات طے ہے کہ آپ نے شاید اس سے پہلے اس کاذکر کبھی نہیں سنا۔ جو بین الاقوامی طلبہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے پر غور کر رہے ہیں ان کے لئے جونیاٹا اور اسی طرح کے دوسرے کالجوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے اس صورت میں بھی کہ اس طرح کا چھوٹا آزاد خیال آرٹس اسکول ان کے لئے نہیں ہے ۔

سوال ہے کیوں؟ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ میں مشہور زمانہ آئی وی لیگ یونیورسٹیوں جیسے کے پرنسٹن ، ییل ، ڈارٹ ماؤتھ اور نامورو شہرت یافتہ یونیورسٹیاں جیسے اسٹین فورڈ اور ڈیو ک سے آگے بھی امریکہ میں متبادل تعلیمی ادارے موجود ہیں ۔ ایسے دوسرے امریکی تعلیمی ادارے اگر سینکڑوں میں نہیں تو درجنوں میں ضرور ہیں جہاں آپ کو ٹھیک اسی معیار کی تعلیم مل سکتی ہے جس معیار کی تعلیم کسی اعلیٰ اور نامور یونیورسٹی میں دی جاتی ہے ۔ اس لئے ہمیں اپنی تلاش آئی وی لیگ سے آگے بڑھانی چاہئے اور چار زمروں کے تعلیمی اداروں پر ایک نظر ڈالنی چاہئے ۔

غیر روائتی تعلیم
جیساکہ ہندوستان میں ہوتاہے یا کسی اور جگہ پر، امریکہ میں بھی طلبہ پر اس کا شدید دباؤ رہتاہے کہ وہ ایسی تعلیم حاصل کریں جو ان کو اچھی منافع بخش نوکریاں دے سکے ، پیشہ ورانہ قد بڑا کر سکے ، ان کی ٹکنالوجی کی ہنر مندی بڑھا سکے یا پھر ترجیحاً یہ تینوں چیزیں انہیں حاصل ہوں ، لیکن اعلیٰ درجے کے انگنت امریکی کالج انڈرگریجویٹ تعلیم کے لئے انتہائی مختلف طرز عمل اپنا تے ہیں ۔جو طلبہ اپنے آپ کو آگے بڑھا نے اور اعلیٰ تعلیم کے معمول کے مطابق ڈھانچے سے باہر قدم رکھنا چاہتے ہیں ان کو ہو سکتاہے کہ ان درسگاہوں میں داخلہ کے لئے اور ایک بار سوچنا پڑے ۔

ان میں سے ایک انتہائی معروف ادارہ سینٹ جانس ہے جہاں ہر سال ۳۰بین الاقوامی طلبہ و طالبات سمیت۸۵۰طلبہ و طالبات داخلہ لیتے ہیں ۔ان کی پڑھائی کا نصاب ایسا ہی ہے جیسا کہ میری لینڈ کے اناپولس اور نیو میکسکو کے سانتا فے میں زیر عمل ہے ۔ سینٹ جانس کا مطلب ہے’’ عظیم کتابوں‘‘کے ذریعہ تعلیم کا طریقہ لیکن جیسا کہ داخلوں کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر روبرٹا گیبل نے بتایا کہ یہ عوامی تاثر گمراہ کن ہے کہ وہاں طلبہ اور طالبات کو ناولوں کے بڑے ڈھیر کو پڑھنے کے لئے چار سال تک میز کرسی پر بیٹھے رہنا پڑتا ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہاں کا نصاب مغربی تہذیب کی عظیم سمجھی جانے والی کتابوں کے گرد تعمیر کیا گیا ہے لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ طلبہ و طالبات کو اپنا نصف وقت حساب اور سائنس کی کتابوں پر بھی صرف کرناپڑتاہے اور خواہ وہ اپنی پڑھائی ماہر ریاضیات اقلیدس کے حساب کے ثبو ت کے ساتھ شروع کرنے آتے ہیں لیکن وہ لوگ قدیم یونان کا بھی مطالعہ کرتے ہیں ، فرانسیسی زبان بھی پڑھتے ہیں اور ایک برس تک موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں ۔

خصوصی مہارت کے تعلیمی ادارے

مائیکل جے فریڈمین

یوں تو بیشتر امریکی یونیورسٹیوں میں بہت سے الگ الگ مضامین میں پڑھائی کی پیشکش ہوتی ہے لیکن وہیں کچھ دیگر یونیورسٹیاں ایسی بھی ہیں جن میں زیادہ مرکوز نصاب کی تدریس کی جاتی ہے۔ بعض مخصوص شعبوں جیسے کہ فائن آرٹس، یا پرفامنگ آرٹس، بزنس اور ٹکنالوجی کی ہنرمندی یا فوجی تربیت میں مہارت کے لئے مخصوص مرکوز توجہ دینے والی ان یونیورسٹیوں میں طلبہ کو کسی خاص شعبے میں اپنی پڑھائی پر پوری توجہ مرکوز کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے ۔ہر طریقہ کار ہر طالب علم کے لئے مثالی نہیں ہے لیکن کچھ طلبہ ایسے ہوتے ہیں جن کو خصوصی مہارت والا درست اسکول مل جائے تو ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو اور زیادہ نکھرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے خصوصی ہنر اور زیادہ نکھر جاتے ہیں اور اسی شعبہ میں جھکاؤ رکھنے والے دیگر ہمسروں کے ساتھ ربط ضبط کا موقع بھی ملتا ہے۔ جن اداروں کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ دستیاب مواقع والے چند اسکولوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

نیویارک سٹی میں واقع انتہائی ترجیحی جولیارڈ اسکول اپنے طلبہ کو موسیقی، رقص اور ڈرامہ میں پیشہ وارانہ تربیت سے پہلے کی تربیت دیتا ہے۔ اس اسکو ل میں امریکہ کی ۴۶ ریاستوں اور ۳۹ دیگرملکوں کے طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس سے فراغت حاصل کرکے نمایاں حیثیتیں اختیار کرنے والے لوگوں میں کلاسیکی آرٹسٹ آئزک پرل مین، یویوما اور پنچاس زوکرمین کے علاوہ بھی سیمینل جاز ہستیاں جیسے تھیلونیس مونک اوروائنٹن مارسلس اور کلاسیکل سوپرانو گلوکار لیونٹائن پرائس سے لیکر گہری آواز والی جاز گلوکا ر ہ نینا سائمن تک شامل ہیں۔

ساو ننا کالج آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کا ہیڈ کوارٹر ساو ننا ،جارجیا میں واقع ہے جہاں طلبہ و طالبات کو بصری اور عملی فنون ، ڈیزائن اور فن تعمیر کے علاوہ آرٹس اور فن تعمیر کی تاریخ میں عملی زندگی اپنانے کے لئے تیار کیاجاتا ہے۔اس خصوصی مرکوز توجہ کی وجہ سے ساو ننا کالج میں اونچے درجات کی اس پڑھائی کی سہولت ملتی ہے جو پڑھائی ریسرچ اور لبرل آرٹس کے دیگر تعلیمی اداروں میں نہیں ملتی۔ وہاں کے طلبہ ایڈورٹائزنگ ڈیزائن، اینی میشن، کمرشیل فوٹوگرافی اور درجنوں دیگر مخصوص شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی شعبے میں عملی زندگی اختیار کرنے کے خواہش مند بہت سے انڈر گریجویٹ طلبہ اپنی پڑھائی پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے امکان کو کافی اہمیت دیتے ہیں جیسا کہ اس کالج کی صدر پاولا ایس ویلیس کا کہنا ہے کہ’’ ساونا کالج آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے طلبہ تکنیکی مہارت کے ساتھ تخلیقی بصیرت کو گوندھ کر فن کارانہ فکراور بصیرت کو پیشہ وارانہ مہارت اور کامیاب اور فائدہ مند مستقبل میں بدل ڈالتے ہیں۔‘‘

جو طلبہ ڈیزائن اور آرٹس میں عملی زندگی اختیارکرنے کے خواہش مند ہیں وہ ساوننا اور جولیارڈ جیسے تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں ۔بہت سے ایسے ہیں جو تجارتی دنیا میںآگے بڑھنا آسان بنانے کے لئے یا پھولتے پھلتے ٹکنالوجی زمرے میں اپنے فروغ کے لئے ہنرمندی حاصل کرنے کی غرض سے ان اداروں میں پڑھتے ہیں ۔ ایسے طلبہ اکثر زیادہ عمر کے ہوتے ہیں اور پہلے سے کہیں کام کررہے ہوتے ہیں ۔منافع کمانے کے لئے کھلے ہوئے بہت سے مالکانہ ادارے ان کی ضرورت کی بخوبی تکمیل کرتے ہیں۔ ڈیرائے یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے، جہاں آن لائن کلاسیں لگتی ہیں اور ۹۵سے زیادہ احاطوں میں تدریس کا اہتمام ہے ، عملی ہدایتوں کی بھی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اکثر ان کے یہاں اساتذہ جزوی ہوتے ہیں یا الحاقی۔ یہ اساتذہ بھی یونیورسٹی کے باہر کہیں کل وقتی روزگار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ کسی ایک فرد کی ملکیت والے اسکول میں رات کے وقت یا اختتام ہفتہ پر کلاسوں کا اہتمام کرکے بال بچہ والے طالب علموں یا کامگار طلبہ و طالبات کے مصروف دن رات میں کلاسوں کا وقت ان کی آسانی کے مطابق نکالتے ہیں اور جزوقتی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں کمپیوٹر سائنس اور پروگرامنگ بزنس اور تعلیم کے دیگر ٹکنالوجی سے تعلق رکھنے والے شعبے زیادہ مقبول ہیں۔

مائیکل جے فریڈ مین یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں بیورو آف انٹرنیشنل انفارمیشن پروگرام میں تحریری مواد کے دفتر کے ڈائرکٹر ہیں۔

وہاں اعلیٰ درجات نہیں ہوتے ، امتحانات نہیں ہوتے کلاس چننے کی سہولت بھی نہیں ہوتی ۔ ہرکوئی ایک ہی نصاب لیتاہے جس کی بنیاد ابتدائی متن کی قرأت اور بحث پر ہوتی ہے ۔ ہمپشائر کالج میں ۱۵۰۰طلبہ ہیں ۔ یہ مساچیوسٹس میں ایمہرسٹ کے قریب ۳۲۰ہیکٹر پر واقع ایک وسیع و عریض احاطہ ہے جہاں مختلف طرز عمل اپنا یا جاتاہے ۔وہاں کے فیکلٹی ممبران طلبہ کو اپنی نگرانی میں تربیت دیتے ہیں،یہ طلبہ پڑھائی کے انفرادی طور پر نصاب تیار کرتے ہیں اور اس طرح فزیکل سائنس ، ٹکنالوجی ، سوشل سائنس میں ایک بڑے پیمانے کا منصوبہ وجود میں آتا ہے یا پھر قلم تحریر ،اسٹیج پر فن کے مظاہرے اور آرٹس کے ایک مجموعہ کے ذریعہ یہ نصاب اور منصوبہ بنتا ہے۔

سینٹ جانس کی طرح ہمپشائر کالج میں بھی ایسے طلبہ کا فیصد بہت زیادہ ہے جو اپنی پڑھائی دور تک جاری رکھتے ہیں اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیتے ہیں اور بہت سے طلبہ سائنس اور انجینئر نگ میں ڈاکٹریٹ کر تے ہیں ۔

داخلوں کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور بین الا قوامی داخلے کے کوآرڈی نیٹر گیب ایگری کے مطابق ’’ہم ایسے طلبہ کی تلا ش میں رہتے ہیں جن کا دانشورانہ تجسس بہت زیادہ ہو ، جواپنی بات زیادہ سلیقے سے لکھ سکتے ہوں، جن کے یہاں کچھ دانشورانہ تجسس ہو اور سیکھنے کی خواہش بھی ہو ۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہمپشائر میں درخواست دینے کا عمل بہت لچک دار اور منفرد ہے جہاں طلبہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش حقیقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم لوگ ان طلبہ اور طالبات کے پس منظر کو سمجھتے ہیں اور ان پر زیادہ سے زیادہ ذاتی توجہ دیتے ہیں تاکہ ان کے پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کا عمل زیادہ آسان ہو جائے ۔

واشنگٹن کے اولمپیامیں چار سو ہیکٹر میں واقع جنگلوں اور سمندری ساحلو ں کے کیمپس میں ایورگرین اسٹیٹ کالج کے طلبہ اور طالبات بھی اپنی تعلیم کی صورت گری خود کرتے ہیں ۔وہ کسی اہم خیال یا موضوع کو لے کر چار سال کی ایک واحد کلاس تیار کرتے ہیں جسے ’’پروگرام‘‘ کہا جاتا ہے ۔وہ لوگ سیمنار ، لیکچر ، تجربہ گاہوں ، کھلے میں مطالعہ جات اور آزادانہ تحقیق پر مشتمل نصاب کے زیادہ بڑے دائرے میں کام کے ذریعہ اپنے موضوعات تلاش کرتے ہیں ۔ آج ایور گرین کے طلبہ اور طالبات کس قسم کے موضوع یا پروگرام لے رہے ہیں؟ کالج کے ویب سائٹ سے جو مثالیں لی جا سکتی ہیں ان میں فائبر آرٹس ، غیر مغربی آرٹس کی تاریخ ، اطلاقی ریاضیات اور نظریاتی طبعیات او ربک ٹورنٹ :اکیسویں صدی میں اطلاعاتی مطالعہ جات شامل ہیں۔

ہمپشائر کالج

کہ ہندوستان میں ہوتاہے یا کسی اور جگہ پر، امریکہ میں بھی طلبہ پر اس کا شدید دباؤ رہتاہے کہ وہ ایسی تعلیم حاصل کریں جو ان کو اچھی منافع بخش نوکریاں دے سکے ، پیشہ ورانہ قد بڑا کر سکے ، ان کی ٹکنالوجی کی ہنر مندی بڑھا سکے یا پھر ترجیحاً یہ تینوں چیزیں انہیں حاصل ہوں ، لیکن اعلیٰ درجے کے انگنت امریکی کالج انڈرگریجویٹ تعلیم کے لئے انتہائی مختلف طرز عمل اپنا تے ہیں ۔جو طلبہ اپنے آپ کو آگے بڑھا نے اور اعلیٰ تعلیم کے معمول کے مطابق ڈھانچے سے باہر قدم رکھنا چاہتے ہیں ان کو ہو سکتاہے کہ ان درسگاہوں میں داخلہ کے لئے اور ایک بار سوچنا پڑے ۔

ان میں سے ایک انتہائی معروف ادارہ سینٹ جانس ہے جہاں ہر سال ۳۰بین الاقوامی طلبہ و طالبات سمیت۸۵۰طلبہ و طالبات داخلہ لیتے ہیں ۔ان کی پڑھائی کا نصاب ایسا ہی ہے جیسا کہ میری لینڈ کے اناپولس اور نیو میکسکو کے سانتا فے میں زیر عمل ہے ۔ سینٹ جانس کا مطلب ہے’’ عظیم کتابوں‘‘کے ذریعہ تعلیم کا طریقہ لیکن جیسا کہ داخلوں کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر روبرٹا گیبل نے بتایا کہ یہ عوامی تاثر گمراہ کن ہے کہ وہاں طلبہ اور طالبات کو ناولوں کے بڑے ڈھیر کو پڑھنے کے لئے چار سال تک میز کرسی پر بیٹھے رہنا پڑتا ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہاں کا نصاب مغربی تہذیب کی عظیم سمجھی جانے والی کتابوں کے گرد تعمیر کیا گیا ہے لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ طلبہ و طالبات کو اپنا نصف وقت حساب اور سائنس کی کتابوں پر بھی صرف کرناپڑتاہے اور خواہ وہ اپنی پڑھائی ماہر ریاضیات اقلیدس کے حساب کے ثبو ت کے ساتھ شروع کرنے آتے ہیں لیکن وہ لوگ قدیم یونان کا بھی مطالعہ کرتے ہیں ، فرانسیسی زبان بھی پڑھتے ہیں اور ایک برس تک موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں ۔

وہاں اعلیٰ درجات نہیں ہوتے ، امتحانات نہیں ہوتے کلاس چننے کی سہولت بھی نہیں ہوتی ۔ ہرکوئی ایک ہی نصاب لیتاہے جس کی بنیاد ابتدائی متن کی قرأت اور بحث پر ہوتی ہے ۔ ہمپشائر کالج میں ۱۵۰۰طلبہ ہیں ۔ یہ مساچیوسٹس میں ایمہرسٹ کے قریب ۳۲۰ہیکٹر پر واقع ایک وسیع و عریض احاطہ ہے جہاں مختلف طرز عمل اپنا یا جاتاہے ۔وہاں کے فیکلٹی ممبران طلبہ کو اپنی نگرانی میں تربیت دیتے ہیں،یہ طلبہ پڑھائی کے انفرادی طور پر نصاب تیار کرتے ہیں اور اس طرح فزیکل سائنس ، ٹکنالوجی ، سوشل سائنس میں ایک بڑے پیمانے کا منصوبہ وجود میں آتا ہے یا پھر قلم تحریر ،اسٹیج پر فن کے مظاہرے اور آرٹس کے ایک مجموعہ کے ذریعہ یہ نصاب اور منصوبہ بنتا ہے۔

سینٹ جانس کی طرح ہمپشائر کالج میں بھی ایسے طلبہ کا فیصد بہت زیادہ ہے جو اپنی پڑھائی دور تک جاری رکھتے ہیں اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیتے ہیں اور بہت سے طلبہ سائنس اور انجینئر نگ میں ڈاکٹریٹ کر تے ہیں ۔

داخلوں کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور بین الا قوامی داخلے کے کوآرڈی نیٹر گیب ایگری کے مطابق ’’ہم ایسے طلبہ کی تلا ش میں رہتے ہیں جن کا دانشورانہ تجسس بہت زیادہ ہو ، جواپنی بات زیادہ سلیقے سے لکھ سکتے ہوں، جن کے یہاں کچھ دانشورانہ تجسس ہو اور سیکھنے کی خواہش بھی ہو ۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہمپشائر میں درخواست دینے کا عمل بہت لچک دار اور منفرد ہے جہاں طلبہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش حقیقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم لوگ ان طلبہ اور طالبات کے پس منظر کو سمجھتے ہیں اور ان پر زیادہ سے زیادہ ذاتی توجہ دیتے ہیں تاکہ ان کے پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کا عمل زیادہ آسان ہو جائے ۔

واشنگٹن کے اولمپیامیں چار سو ہیکٹر میں واقع جنگلوں اور سمندری ساحلو ں کے کیمپس میں ایورگرین اسٹیٹ کالج کے طلبہ اور طالبات بھی اپنی تعلیم کی صورت گری خود کرتے ہیں ۔وہ کسی اہم خیال یا موضوع کو لے کر چار سال کی ایک واحد کلاس تیار کرتے ہیں جسے ’’پروگرام‘‘ کہا جاتا ہے ۔وہ لوگ سیمنار ، لیکچر ، تجربہ گاہوں ، کھلے میں مطالعہ جات اور آزادانہ تحقیق پر مشتمل نصاب کے زیادہ بڑے دائرے میں کام کے ذریعہ اپنے موضوعات تلاش کرتے ہیں ۔

آج ایور گرین کے طلبہ اور طالبات کس قسم کے موضوع یا پروگرام لے رہے ہیں؟ کالج کے ویب سائٹ سے جو مثالیں لی جا سکتی ہیں ان میں فائبر آرٹس ، غیر مغربی آرٹس کی تاریخ ، اطلاقی ریاضیات اور نظریاتی طبعیات او ربک ٹورنٹ :اکیسویں صدی میں اطلاعاتی مطالعہ جات شامل ہیں۔

کم معروف تعلیمی ادارے
میری لینڈ کے بالٹی مور کے باہر گاؤچر کالج سے اوریگون ، پورٹ لینڈ میں ریڈ کالج تک پورے امریکہ میں ایسے چھوٹے لبرل آرٹس کالج موجود ہیں جن کی انڈر گریجویٹ تعلیم کی اہلیت بے نظیر ہے۔

مثال کے طور پر جونیا ٹا میں، جہاں طلبہ کی مجموعی تعداد ۱۶۰۰ ہے اور ان میں ۱۵۰بین الاقوامی طلبہ ہیں ، طلبہ و طالبات فیکلٹی کے صلاح کاروں کی مدد سے بہت انفرادی طور پر تعلیم کا کورس بھی ڈیزائن کرتے ہیں اور یونیورسٹی کے باہر بھی کام کرنے اور پڑھنے کے مواقع حاصل کرتے ہیں ۔

۲۰۱۱ کے اعلیٰ درجے کے کچھ کمیونٹی کالج جسے کولوریڈو کے تھنک ٹینک و لیڈر شپ ادارے، ا یس پین انسٹی ٹیوٹ نے منتخب کیا ہے۔

ویلین شیا کالج
/http://valenciacollege.edu

لیک ایریا ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ
/http://www.lakeareatech.edu

میامی ڈیڈ کالج
/http://www.mdc.edu/main

ولاّ ولاّ کمیونٹی کالج
/http://www.wwcc.edu

ویسٹ کنٹکی کمیونٹی اینڈ ٹیکنیکل کالج
/http://www.westkentucky.kctcs.edu

مسس سپی گلف کوسٹ کمیونٹی کالج
/http://www.mgccc.edu

موٹ کمیونٹی کالج
/http://www.mcc.edu

نارتھ ویسٹ آئیووا کمیونٹی کالج
/http://www.nwicc.edu

سانتا باربرا سٹی کالج
/http://www.sbcc.edu

ساؤتھ ویسٹ ٹکساس جونیئر کالج
/http://www.swtjc.edu

بین الاقوامی پروگرام کی اسسٹنٹ ڈین کیٹی سسومین کا کہنا ہے کہ ’’ ہم لوگ خاص کر اس معاملہ میں اچھے ہیں کہ انڈر گریجویٹ طلبہ اور طالبات کو گریجویٹ کی سطح کا کام کرنے کا موقع دیتے ہیں اور اس کا بھی موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ فیکلٹی ممبر وں کے ساتھ مل کر تحقیقی مقالے لکھ سکیں ۔ہمارے یہاں گرچہ پڑھائی چیلنج بھرا کام ہے لیکن یہ ایسے بین الا قوامی طلبہ کے لئے بہت اچھی جگہ ہے جو لبرل آرٹس کے قول و قرار پر ثابت قدم ہوں ، جو زیادہ منظم ہوں اور یہ سیکھنے کے اہل ہوں کہ اچھی تحریرکیسے لکھی جاتی ہے اور یہ بھی جاننا چاہتے ہوں کہ اپنی عافیت گاہ کے باہر کیسے قدم رکھیں۔‘

ان میں سے بیشترتعلیمی اداروں میں طلبہ کو شریک کرنا ، ان کو آزادانہ طور پر کچھ سیکھنے کا موقع دینا اور بہ یک وقت تعلیمی زندگی اور حقیقی زندگی دونوں کے اطلاقات میں ہنر اور علم کو مربوط کرنے کی اہلیت پیدا کرنا مشترکہ موضوعات ہیں ۔ مثال کے طور پر وسکونسن میں بیلائٹ کالج کے پریکٹس سینٹر میں لبرل آرٹس کے طلبہ اور طالبات کو اپنے موجودہ تعلیمی کام کو انٹر ن شپ ، تحقیقی مواقع اور عوامی خدمت کے ذریعہ کیریئرکی منزلوں سے مربوط کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔

بیلائٹ ، وسکونسن کا قدیم ترین کالج ہے جہاں ۱۳۰۰طلبہ اور طالبات زیرتعلیم ہیں اور اب جیسا کہ وہاں داخلہ خدمات کی وائس پریسیڈینٹ نینسی بینی ڈکٹ نے بتایا کہ اسکائی پی جیسی آن لائن ٹکنالوجی کے استعمال اور سفرکرتی ہو ئی نمائش کے ذریعہ بین الاقوامی طلبہ تک اپنی رسائی بڑھانے میں پہلے سے زیادہ سوچی سمجھی کوششیں کر رہا ہے ۔ بینی ڈکٹ نے کہا کہ ’’بہت سے ملکوں میں آپ اپنا پروگرام شروع کرتے ہیں اور آپ کا مقدر طے ہو جا تاہے ۔ہم نے دیکھا ہے کہ لوگوں میں زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کی ایک حقیقی بھوک ہو تی ہے اور اسی لئے ہم اس کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ لبرل آرٹس تعلیم کے ذریعہ بڑے پیمانے پر متبادلات کامطلب کیا ہے۔ ‘

لبرل آرٹس کے یہ تعلیمی ادارے ہی شہرت یافتہ یونیورسیٹیوں کا واحد متبادل نہیں ہیں۔مسا چیوسٹس کے ورسیسٹر میں ایک چھوٹی مگر ممتاز تحقیقی یونیورسٹی کلارک یونیورسٹی ہے جہاں بیچلرس اور ماسٹرس ڈگری کا پانچ سال کا پروگرام ہوتا ہے جہاں پانچواں سال مفت ہو تا ہے ۔ یوں توکلارک کے طلبہ و طالبات کے مجموعی تعداد۲۲۰۰ہے لیکن وہاں تقریبا ۲۰۰انڈر گریجویٹ اور ۶۸۰گریجویٹ طلبہ اور طالبات بین الا قوامی ہیں۔

لکسنگ ٹن میں ا س سے بھی زیادہ ، بہت زیادہ بڑا ایک ادارہ یونیورسٹی آف کنٹکی ہے جو امریکہ میں بہت سے ریاستی یونیورسٹی نظاموں سے زیادہ مثالی ہے ۔وہاں طلبہ اور طالبات کی مجموعی تعداد ۲۷۰۰۰ہے جن میں سے تقریبا ۱۵۰۰بین الا قوامی طلبہ اور طالبات ہیں ۔کنٹکی میں اگر جہ کلاس میں شامل طلبہ اور طالبات کی تعداد اوسط یعنی ۲۵ہوتی ہے اس کے باوجود وہاں ۲۰۰مختلف بڑے نصابوں کی تدریس کی جاتی ہے ۔

بین الا قوامی طلبہ اور اسکالرخدمات کی اسسٹنٹ ڈائیریکٹر کیرن سلے میکر نے کہا کہ کنٹکی کے بڑے فائدوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس یونیورسٹی کے تمام کالج ایک ہی کیمپس میں واقع ہیں ۔ بیشتر یونیورسٹیوں میں انڈر گریجویٹ طلبہ کے سینئر کلاسوں میں اس طرح مقامی اور بین الا قوامی طلبہ کاامتزاج دیکھا جا سکتاہے ۔البتہ ان کے پاس مہارت کے مختلف روایتی شعبے اور تسلیم شدہ تعلیمی حیثیتیں ہیں ۔

شمالی کیرولینا میں گرینس بورو اور رالیخ کے درمیان واقع ایلون یونیورسٹی ایک چھوٹی سی پرائیویٹ یونیورسٹی کی مثال ہے جو گذشتہ دہائی میں گمنامی سے نکل کر اعلیٰ درجے کا ادارہ بن کر سامنے آئی ہے ۔ بہت سے امریکی بھی اس کے بارے میں نہیں جانتے خاص کر اس لئے بھی کہ یہ یونیورسٹی ایک ایسی ریاست میں واقع ہے جہاں پہلے سے ہی زیادہ مشہور تعلیمی درس گاہیں یعنی ڈیوک یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا واقع ہیں ۔ بین الا قوامی طلبہ اور طالبات کے داخلے کی ڈائریکٹرشیریل بورڈن نے بتایا کہ ’’میں سمجھتی ہوں کہ جو بین الا قوامی طلبہ ایلون میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ ایسے طلبہ اور طالبات ہیں جو کمرہ جماعت کے اندر بھی کچھ سیکھنے کے بارے میں بہت پر جوش ہوتے ہیں اور باہر بھی ۔ ایلون میں بہت سرگرم ماحول ہے جہاں طلبہ اور طالبات کے لئے کلاس روم کے اندر اپنے خیالات اور رائے کے اظہار کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ کلاس روم کے باہر طلبہ اور طالبات کو یونیورسٹی کے کیمپس کے اندر وافر تنظیموں اورکلبوں کی سہولت حاصل ہے جس میں وہ شریک ہو سکتے ہیں اور جس کا حصہ بن سکتے ہیں ۔

کمیونٹی کالج
دو سال کے کمیونٹی کالج کسی زمانے میں امریکہ کی اعلیٰ ترین تعلیم کا نظر انداز شدہ متبادل ہوا کرتے تھے لیکن اب ان پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے اور وہ زیادہ نظر بھی آرہے ہیں ۔جو بین الاقومی طلبہ نرسنگ ، کمپیوٹر یا بزنس جیسے شعبو ں میں تکنیکی یا پیشہ وارانہ تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا بیچلر س ڈگری کی خاطر چار سالہ کورس میں منتقل ہونے کے لئے اسے پہلے قدم کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں انہیں ان صورتوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

کیلی فورنیا میں سانتا باربرا سٹی کالج کو ہی لے لیں جسے ایس پن انسٹی ٹیوٹ نے امریکہ کے اعلیٰ درجہ کے کمیونٹی کالجوں میں سے ایک قرار ردیا ہے ۔ سانتا بار برامیں طلبہ اور طالبات کی تعداد تقریباً بیس ہزار ہے اور ان میں ۱۰۰۰ بین الاقوامی طلبہ و طالبات شامل ہیں۔سانتا باربرا میں ایک یا دو سال کے ۸۰ کورس اور سرٹی فیکٹ کے۵۰ پروگرام چلتے ہیں جن میں بایو میڈیکل سائنس سے تعمیری ٹکنالوجی اور کھانا پکانے کے فن سے بین الاقوامی تجارت تک کے مضامین کی تدریس کا اہتمام ہے۔ انٹرنیشنل پروگرام کی سینئر ڈائرکٹر کیرولا اسمتھ کے مطابق اس درسگاہ کے بین الاقوامی طلبہ میں سے ایک تہائی بزنس کورس کرنے آتے ہیں۔اس کے بعد طلبہ کی پہلی پسند اقتصادیات اور انجینئرنگ ہے۔ اسمتھ نے بتایا کہ بہت سے طلبہ و طالبات کے یہاں آنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر وہ چار سال کے ڈگری کورس کے لئے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے نظام میں شامل ہوجائیں یا کسی پرائیویٹ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کریں۔

اس تعلیمی ادارے میں میڈیا آرٹس کا ایک مضبوط پروگرام ہے۔ خاص کر فلم اینڈ ٹیلی وژن میں ۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ہالی ووڈ کے بہت سے اداکار، فلمکار اور ٹیکنیشین لاس اینجلز میں کام کرتے ہیں مگر روزانہ آنا جاناکرنے کی دقت کے باوجود سانتا باربرا ہی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

سانتا باربرا کے شمال میں مگر بحرالکاکل کے کنارے ہی واقع ٹے کوما کمیونٹی کالج ہے جو کہ ریاست واشنگٹن میں پڑتا ہے۔ وہاں بھی بین الاقوامی طلبہ کی ایک خاصی تعداد ہے۔ ٹے کوما میں کیریر ٹریننگ کے علاوہ اکاؤنٹنگ سے علم حیوانیات تک ایسے ۵۰ کورس دستیاب ہیں جن کو چار سال کے کورس کے کسی ادارے میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔ سمندر سے کافی دوری پر واقع سینٹ پال کالج ہے جو کہ وسطی مغربی ریاست مینیسوٹا میں واقع ہے اور واشنگٹن منتھلی میگزین نے اسے امریکہ کانمبر ایک کمیونٹی کالج قرار دیا ہے۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ۲۰۱۱ میں طلبہ کے ربط ضبط سے متعلق کمیونٹی کالجوں کا جو جائزہ لیا گیا اس میں سینٹ پال کالج کی درجہ بندی دوسروں سے اونچی تھی۔ واشنگٹن منتھلی کے مطابق سینٹ پال نے اپنی پیشہ وارانہ تربیت کی کلاسوں کو زبردست تعاون کے طرز عمل کے ساتھ لبرل آرٹس کے لئے اپنے قول و قرار کو تنقیدی طرز فکر سے ملادیا ہے۔ اس کالج میں۴۴ ایسوسی ایٹ ڈگری اور ۷۱کیریر، سرٹی فیکٹ اور ڈپلوما پروگرام دستیاب ہیں جن میں بزنس، کمپیوٹر سائنس، صحت سے متعلق پیشوں سے تعلق رکھنے والے مضامین کی تدریس و تربیت ہوتی ہے ۔یہ مضامین بیشتر کمیونٹی کالجوں میں مشترک ہیں لیکن محل وقوع اور مقامی ضرورتوں کی بنیاد پر امریکی کمیونٹی کالج پیشہ وارانہ تعلیم کے نمایاں طور پروسیع دائرے کی پیشکش کرسکتے ہیں۔

 

ہاورڈ سنکوٹا، امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے وابستہ قلمکارو ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے ضوابط