مرکز

دیانتدار پیش رفت

امریکی یونیورسٹیاں طلبہ سے دیانتداری کے ساتھ کام کرنے اور تمام قسم کی تعلیمی خیانت سے گریز کرنے کی توقع رکھتی ہیں۔ 

ہزاروں طلبہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب پلکوں پر سجاتے ہیں کیوں کہ اس سرزمین پردنیا بھرمیں اعلیٰ تعلیم کے بعض بہترین ادارے موجود ہیں۔  لیکن ان میں سے کچھ اکثرکام کی مقدار،مقررہ حد اور امتحان کے معمولات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ وہاں کا محنت طلب ماحول بعض طلبہ کو  دیانت قربان کرنے یا بالفاظِ دیگر دھوکہ دہی یا نامناسب چیزوں میں ملوث ہونے یا ادبی سرقہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ جب کہ تعلیم سے متعلق بعض سرگرمیوں میں اشتراک کا عمل از خود انجام دینا ہوتا ہے جس کے لیے طلبہ کو ٹرم پیپر آن لائن خریدنے ہوتے ہیں ۔

سان ڈیاگو کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا (یو سی ایس ڈی )میں علمی دیانتداری دفتر کی ڈائریکٹر اور تعلیم میں سالمیت اور اخلاقیات کے شعبے کی ماہر  ٹریسیا برٹ رَیم گیلنٹ کہتی ہیں ’’ طلبہ مختلف وجوہات کے سبب نا مناسب ذرائع کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان میں محفوظ ذریعۂ معاش کے لیے یونیورسٹی ڈگری حاصل کرنے کا دبائو،دھوکہ دہی کی صنعت کے ساتھ معاہدہ اور تمام دنیا کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ذریعہ عرصۂ دراز تک اس مسئلے کو نظر انداز کیا جانا شامل ہیں۔ انٹرنیٹ نے اسے آسان بنا دیا ہے۔ اور طلبہ بھی بعض اوقات غلط فیصلہ کرنے کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ‘‘

برٹ رَیم گیلنٹ کہتی ہیں کہ اتنے چیلنجوں کے درمیان ایمانداری، یقین، انصاف، احترام، ذمہ داری اور حوصلے کے بنیادی اقدارکو عالمی مرکز برائے علمی دیانتداری (آئی سی اے آئی) ایک عہد بستگی قرار دیتا ہے۔ آئی سی اے آئی تعلیمی اداروں کا ایک مجموعہ ہے جسے دھوکہ دہی ، ادبی سرقہ اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں   علمی بددیانتی سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ دنیا بھر میں تعلیمی برادری میں       ایمانداری کی ثقافت کو فروغ دینے میں بھی مدد کرتا ہے۔ادارے کا موقف ہے کہ تعلیم کے شعبے میں علمی دیانتداری جیسی بنیادی قدر کا فروغ دینا علمی مشن کے ساتھ ساتھ دیانتداری کے اعلیٰ معیارکے توازن کوبرقرار رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ گیلنٹ مزید کہتی ہیں کہ یو سی ایس ڈی اور دیگر امریکی تعلیمی اداروں میں تعلیمی دیانتداری ایک بنیادی عمل ہے۔ 

 گیلنٹ اپنی بات جاری رکھتی ہوئے کہتی ہیں ’’ تعلیمی دیانتداری کافی اہم ہے کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صاف و شفاف ماحول میں تعلیم حاصل کریں گے اور آپ کی ڈگری آپ کی معلومات اور آپ کی مہارت کی ایک بالکل صحیح، قابل احترام اور قابل یقین علامت ہوگی۔دیانتداری کے بغیر نہ تو کسی قسم کی تعلیم دی جا سکتی ہے اور نہ ہی سیکھنے کا کوئی معاملہ طے پا سکتا ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ آخر اتنے سارے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ کا ہی انتخاب کیوں کرتے ہیں ؟ کیوں کہ امریکی یونیورسٹی کی ڈگری کی قدر کافی بلند و اعلیٰ ہے اور اس کی وجہ ایمانداری اور دیانتداری ہے۔ ‘‘

آخر اتنے سارے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ کا ہی انتخاب کیوں کرتے ہیں ؟ کیوں کہ امریکی یونیورسٹی کی ڈگری کی قدر کافی بلند و اعلیٰ ہے اور اس کی وجہ ایمانداری اور دیانتداری ہے۔

 تعلیمی دیانتداری کو فروغ دینے اور اسے نافذ کرنے کے لیے یو سی ایس ڈی کا پروگرا م جہاں ایک سخت پروگرام تصور کیا جاتا ہے وہیں برٹ رَیم گیلنٹ کہتی ہیں کہ اس کے مقاصد کا اثر کیمپس میں طلبہ کے بسر کیے جانے والے وقت سے بھی کہیں پرے ہے۔ 

وہ مزید کہتی ہیں ’’ تعلیمی دیانتداری پر زور دیتے ہوئے یونیورسٹیاں ایسے پیشہ وروں اور رہنمائوں کو فروغ دے رہی ہیں جو ایمانداری کے ساتھ کام کرتے رہیں گے اور صاف و شفاف، قابل احترام ، ذمہ دار، ایماندار اور قابل اعتماد تنظیم اور رشتے قائم کریں گے۔ ایک حقیقی جمہوری معاشرہ وجود میں اسی وقت آ سکتا اور باقی رہ سکتا ہے جب لوگوں اور تنظیموںکی اکثریت دیانت سے کام لے ۔ ‘‘

یو سی ایس ڈی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو نا مناسب ذرائع کے استعمال کے معاملات سامنے آنے پر مداخلت کرتے ، اسے روکتے اور لوگوں کو اخلاقیات کی راہ دکھاتے ہیں ۔ ا س عمل میں وہ مدد کے لیے یا حکام کو باخبر کرنے کے لیے دوسروں کی خدمات بھی لیتا ہے ۔ گرچہ اس سلسلے میں راہ نما ہدایات کی خلاف ورزی پر نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ پروگرام تادیبی نہ ہوکر تعلیمی نوعیت کا ہے جس میں سالمیت کو ملحوظ خاطر رکھ کر پیش قدمی پر زور دیا جاتا ہے۔ کیمپس کمیونٹی کے ان اراکین کو ہر سال دیانتداری اعزاز سے بھی نوازا جاتا ہے۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو مثال قائم کرنے کے ساتھ تعلیمی ، تحقیقی اور پیشہ ورانہ دیانتداری کو فروغ دیتے ہیں۔ 

 گیلنٹ باخبر کرتی ہیں کہ یو سی ایس ڈی میں نامناسب ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے پائے جانے والے طلبہ میں بیشتر اپنے عمل کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں جس کے بعد انہیں صداقت سے متعلق تربیتی پروگرام میں بھیجا جاتا ہے۔ دس ہفتے پر مشتمل اس پروگرام میں انہیں ماہرین تعلیم کے زیر نگرانی رکھا جاتا ہے جودیانتداری کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی اور تکنیک تلاش کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ اس طریقے میں طلبہ کو مضامین تحریر کرکے اس بات کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ انہوں نے نامناسب ذرائع کااستعمال کیوں کیا ۔ اس کے بعد انہیں کئی دیگرتعلیمی ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں۔ اصلاح کا یہ طریقہ ان کے تجربات کو مثبت لائق تدریس لمحات میں تبدیل کر سکتا ہے۔ 

برٹ رَیم گیلنٹ بتاتی ہیں ’’ ہماراموقف یہ ہے کہ طلبہ صرف ایک غلط فیصلہ کرتے ہیں اورایک بار نامناسب ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ خراب لوگ ہیں جنہیں یونیورسٹی سے باہر نکال دیا جانا چاہئے۔ تعلیمی اداروں کے طور پر یونیورسٹیوں کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو ان کے تجربات سے سیکھنے میں مدد کریں۔ ‘‘

طلبہ تعلیمی دیانت داری کو زک پہنچانے والی دھوکہ دہی کے امکانی نقصانات سے کیسے محفوظ رہیں ، اس سلسلے میں طلبہ کی راہنمائی کرتے ہوئے برٹ رَیم گیلنٹ تین بنیادی سوالات کے اطلاق کا مشورہ دیتی ہیں ۔ 

٭ اقدار: کیا یہ عمل ایمانداری، ذمہ داری اورانصاف پر مبنی اور قابل احترام اور قابل اعتماد ہے؟

٭ معیارات: کیا یہ عمل کسی استاد یا یونیورسٹی کی تعلیمی دیانتداری سے متعلق پالیسی یا ضابطے کے ذریعے ممنوع قرار دیا گیا ہے؟

٭ انکشاف: کیا اس عمل کے بارے میں کسی پروفیسر کو معلوم ہے اور یہ کہ کیا یہ قابل تسلیم ہوگا؟

سب سے اہم بات جس کے بارے میں برٹ رَیم گیلنٹ بتاتی ہیں وہ یہ ہے کہ طلبہ کو اس بات کا فیصلہ کرنے میں پہل کرنے والا ہونا چاہئے کہ تعلیمی دیانت کے حوالے سے کیا قابل تسلیم ہے اور کیا قابل قبول نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں ’’وہ لوگ جو سوالات نہیں کرتے، نا مناسب ذرائع کے استعمال میں ان کے ملوث ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ انہیں اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ یہاں (امریکی یونیورسٹی میں) چیزیں مختلف ہونے والی ہیں۔ انہیں یہ معلوم کرنے کے لیے گھر پر کام (ہوم ورک) کرنے کی ضرورت ہے کہ ان سے کیا توقعات ہیں اور ان کے جو بھی سوالات ہوں ان کے جوابات کی تلاش کے لیے انہیں یونیورسٹی کے وسائل کا استعمال کرنا چاہئے۔‘‘

 

اسٹیو فاکس کیلی فورنیا کے وِنچورا میں مقیم آزاد پیشہ قلمکار، ایک اخبار کے سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط