مرکز

تعلیمی میلوں سے متعلق لائحہ عمل

یہ مضمون ممکنہ طلبہ کے لیے راہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ طلبہ امریکی یونیورسٹیوں کے میلوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھا سکتے ہیں ۔

بہت سارے ممکنہ طلبہ کے لیے کسی امریکی یونیورسٹی کے کسی میلے میں شرکت کرنا اپنے لیے درست تعلیمی ادارہ چننے اور ایک کامیاب درخواست تیار کرنے کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔ ایسے اجتماع میں طلبہ کو اس بات کا موقع ملتا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے عہدیداروں کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کریں اور معلومات حاصل کریں ، امریکہ میں موجود غیر معمولی مواقع کے بارے میں جانکاری حاصل کریں، ساتھیوں کے ساتھ خیالات مشترک کریں اور داخلے کے لیے امتحانات، درخواست، مالی اعانت اور دیگر معلومات کے لیے ماہرین کے مشوروں سے بہرہ ور ہوں۔ ان میلوں میں شرکت کی خاطر اچھی طرح سے تیاری کرنے کا عمل اُن اسکولوں کے نمائندوں کے ساتھ بامعنی اوربا مقصد تعلقات بنانے میں طلبہ کے لیے اعتماد سازی کا کام کرسکتا ہے جن میں وہ داخلہ لینا چاہتے ہیں ۔

امریکہ ۔ہند تعلیمی فاؤنڈیشن (یو ایس آئی ای ایف )کیمپس سے فعال ادارہ ایجوکیشن یو ایس اے تقریباََ دو دہائیوں سے اسٹڈی ان دی یو ایس میلوں کا اہتمام کرتا ہے اور ان میلوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں طلبہ کی مدد کرتا ہے۔ 

ایسے طلبہ جو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں انہیں خود سے لازمی طور پر بعض اہم سوالات کرنے چاہئیں۔ 

o    میں کیا پڑھنے کا خواہشمند ہوں؟

o   میں کہاں پڑھنا چاہتا ہوں ؟

o    میں جس یونیورسٹی یا کالج میں پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہوں ،ان میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں؟ 

o میرے لیے کون سی خصوصیات اہم نہیں ہیں؟

اگران سوالات کے جواب مل جائیں توان سے یونیورسٹی کے میلوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں مددملے گی۔  

 

میلے سے پہلے

طلبہ کووقت سے پہلے ہی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں تحقیق کرنی چاہئے تاکہ انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ کیا وہ ان کی امیدوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور ان پر کھرے اترتے ہیں ۔ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے۴۷۰۰  سے بھی زیادہ منظور شدہ ادارے ہیں۔

ہر طالب علم کی کالج کی زندگی سے متعلق منفرد توقعات ہوتی ہیں اورتعلیمی ادارے کا انتخاب ان ہی توقعات سے متاثر ہونا چاہئے۔ طلبہ جب اپنے لیے ممکنہ تعلیمی اداروں کی فہرست مرتب کرتے ہیں تو ان کا پیرا میٹر مختلف ہوتا ہے مگر فہرست ترتیب دیتے وقت طلبہ کو ترجیحی کورس، فیس ، جغرافیائی محل وقوع، جسامت،  آب وہوا اور اپنے اہل خانہ سے قربت جیسے عوامل کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔

ان میلوں میں امریکی یونیورسٹیوں کے نمائندوں سے پوچھے جانے کے لیے طلبہ کو سوالات کی ایک چھوٹی لیکن جامع فہرست بنانی چاہئے۔ زیادہ تر امریکی یونیورسٹیاں چوں کہ درخواست گزاروں کا مکمل طور پر جائزہ لیتی ہیں ، لہٰذا داخلے کے شعبے سے متعلق نمائندے طلبہ کو اس وقت تک یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کا داخلہ کسی مخصوص پروگرام میں ہو پائے گا یا نہیں۔  جی آر ای  یا سَیٹ کٹ آف، جی پی اے کٹ آف اور دیگرپروفائل کے جائزے کی درخواستوں سے متعلق سوالات عام طور سے فائدہ مند نہیں ہوتے ۔ اس کی جگہ نمائندوں سے پوچھے جانے کے لیے ان کے مطالعے کے مضامین، تحقیقی دلچسپیاں، یونیورسٹی میں کیمپس کی زندگی اور اس بنیاد پر ملنے والی ملازمت سے متعلق سوالات پرطلبہ کو توجہ دینی چاہئے۔

 

میلے کے درمیان

طلبہ کو میلے میں یونیورسٹی نمائندوں کے ذریعے پیش کی جانے والے تعارفی سیشنوں میں شرکت کرنی چاہئے۔ ان کی بدولت طلبہ کو یونیورسٹیوں کے پروگرام سے متعلق جانکاری ملتی ہے۔ 

اپنے وقت کا صحیح استعمال اور یونیورسٹی کے نمائندوں سے زیادہ سے زیادہ 

بات چیت طلبہ کے لیے کافی اہم ہے۔ اگر بات چیت طویل اور تفصیلی ہوجائے تو طلبہ آمنے سامنے بات چیت کے لیے فون یا اسکائپ کے ذریعے دوسری ملاقات کی گزارش کر سکتے ہیں ۔ پہلے سے ہی تیار سوالات کی فہرست طلبہ کو ایک درست سمت میں گامزن ہونے میں ان کی مدد کر سکتی ہے۔

   یونیورسٹی نمائندوں سے ملی تمام اہم معلومات طلبہ کو تحریر کرلینی چاہئے۔کوئی بھی عام معلومات یا کوئی بھی چیز جسے درست طور پر یاد رکھنے کی ضرورت ہو اسے بھی لکھ لینا چاہئے۔ یہ مشق طلبہ کو فیصلہ کرتے وقت یا پھر درخواست کے لیے مضامین لکھنے کے وقت مدد فراہم کرے گی۔

 

 میلے کے بعد

طلبہ کو اگران کے سوالا ت کے جواب نہیں ملتے ہیں تو انہیں میلے کے اختتام کے بعد نمائندوں کو اس کے بارے میں لکھنا چاہئے اور پھر اس کے لیے ان کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہئے۔ کسی مخصوص یونیورسٹی میں ان کی حقیقی دلچسپی کو ظاہر کرنے میںبھی یہ چیز طلبہ کی مدد کرے گی۔ 

یہ معلوم ہونا بہت اچھی بات ہے کہ آپ کیا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی دلچسپی اور اپنی تعلیمی ضروریات کی بنیاد پر کون سے اہم مضامین کا آپ پہلے سے ہی انتخاب کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی دیگر امکانات کے لیے تیار رہنا بھی کافی اہم ہے ۔ طلبہ کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے کہ نمائندوں کے ذریعے مشترک کی گئی معلومات نے ان کے اند ر کسی پروگرام کے تئیں دلچسپی پیدا کر دی ہے جس کے بارے میں انہوں نے پہلے غور نہیں کیا ہوگا ۔ 

نیویارک میں واقع راچیسٹر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے دفتر میں  پارٹ ٹائم اینڈ گریجویٹ انرولمینٹ سروسیز کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر  کیتھرین بیک زیک کہتی ہیں ’’کسی بھی نمائندے سے آپ ان کا بزنس کارڈ لیں اور درخواست کی ضروریات، صورتحال اور دیگر کسی بھی سوال کے جواب کے لیے ان سے رابطہ کریں۔یونیورسٹی سے رابطے کی خاطر آ پ کے لیے ایک ذریعہ بننے میں ہمیں خوشی ہوگی ۔ اوراسی مقصد کے تحت ہم لوگ اپنا کام انجام دے رہے ہیں۔ ‘‘

کولو رَیڈو اسٹیٹ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل پروگرام  کی  انٹرنیشنل ریکروٹمنٹ ایڈوائزر میلیسا ٹکسیرا کہتی ہیں ’’ایجوکیشن یو ایس اے کے میلے دلچسپی رکھنے والے طلبہ اور والدین کے لیے ہمیشہ سے ہی کافی کار آمد رہے ہیں۔طلبہ کو ہمیشہ کیمپس کی زندگی، وہاں قیام و طعام کی سہولتوں ، وظائف ، کریئر سروس سینٹر ، ملازمت سے متعلق میلے وغیرہ کے بارے میں ہی پوچھنا چاہئے اورنقل مکانی اورمستقل اقامت، مکمل مالی اعانت، مضمون یااسٹیٹمینٹ آف پَرپَسمیں کانٹ چھانٹ وغیرہ کے بارے میں سوالات نہیں کرنے چاہئیں۔ ‘‘  

 

روپالی ورما نئی دہلی میں واقع امریکہ۔ ہند تعلیمی فاؤنڈیشن میں ایجوکیشن یو ایس اے کی مشیر ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط