مرکز

اسٹیم شعبہ جات میں خواتین کی حوصلہ افزائی

سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور میتھمیٹکس یعنی ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں خواتین کی مدداور ان کی حوصلہ افزائی میں سیرا کیوس یونیورسٹی میں جاری پہل مثالی ثابت ہو سکتی ہے۔ 

سیرا کیوس یونیورسٹی میں  سِوِلاینڈ انوائرونمینٹل انجینئرنگکی پروفیسر کے طور پر اپنی ملازمت کے ابتدائی ۱۵ برسوں میں شوبھا کے بھاٹیا یونیورسٹی کے  کالج آف انجینئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنسمیں واحد خاتون استاد تھیں۔۱۹۹۷ ء تک حالات کچھ بہتر تو ہوئے مگر وہ اور ان جیسی دیگر خاتون ہمکار کالج اساتذہ فہرست کا صرف ۶ فی صد حصہ ہی بن سکیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں واقع  بروکِنگس انسٹی ٹیوشن کے ایک مطالعے کے مطابق یہ کوئی

غیر معمولی صورت حال نہیں ہے۔مطالعے کے مطابق امریکی یونیورسٹیوں میںاساتذہ کی گوناگونیت کی تحقیق میں پایا گیا کہ  ۱۶۔۲۰۱۵ کے تعلیمی سال میں ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں اساتذہ کے طور پر خواتین کی موجودگی محض ۱۸ اعشاریہ۱ فی صد سے ۳۱ اعشاریہ ۱ فی صد کے درمیان تھی۔ 

خاتون رفقا ء کے کسی نیٹ ورک کے بغیر صرف اپنے تجربے سے بھاٹیا کو یہ بات معلوم تھی کہ ایسی صورت حال میں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ۱۹۹۹ء میں بھاٹیا اور یونیورسٹی میں  ڈپارٹمنٹ آف ارتھ سائنسیز کی اس وقت کی

 چیئر پرسن اور ان کی ہمکار  کیتھرین آر نیوٹن دونوں نے مل کر  وِمین اِن سائنس اینڈ انجینئرنگ (ڈبلیو آئی ایس ای  یا  وائز)نامی پہل کو فروغ دیا جس کی بدولت اب بھی یونیورسٹی میں ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں خواتین کی مددکی جارہی ہے۔  

 وائزکی شروعات ۳ اہم اہداف کے ساتھ ہوئی تھی جو اب بھی پرو جیکٹ کے مقاصد ہیں۔ ان میں ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کرنا ، ان شعبوں میں خواتین کی ملازمت کو برقرار رکھنے کے فی صد میں 

اضافہ کرنا ، خطابات کے ذریعہ ایس ٹی ای ایم شعبہ جات سے وابستہ خاتون دانشوروں کو نمایاں کرنا اور انڈر گریجویٹ ، گریجویٹ ، پوسٹ ڈاکٹریٹ اور اساتذہ جیسے مطالعے کی تمام سطحوں پر خواتین کو مشورہ دینے اور مشاورت کے پروگرام فراہم کرنا شامل ہیں ۔ اساتذہ کی قیادت میں کام کرنے والے اس پروگرام کی وجہ سے نمایاںکامیابیاں حاصل کی گئیں۔

بھاٹیا بتاتی ہیں ’’اس پروگرام پر مجھے ناز ہے۔ یہ طلبہ کے لیے صرف اس لیے کار آمد نہیں کہ انہیں تعلیمی میدان میں اپنی بہترین استعداد کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس لیے بھی کہ کامیاب ہونے کے لیے انہیں اظہارِ خیالات سے متعلق مہارت جیسے کئی ہنر کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔مشاورت اور راہنمائی کے ذریعے ، ٹیم کے ایک راہنما کی حیثیت سے اور ٹیم کے ارکان کی حیثیت سے کام کیسے کیا جاتا ہے ...طلبہ یہاں باہمی تعاون سے متعلق ان مہارتوں کو سیکھتے ہیں۔ وائزمیں پروگراموں کے ذریعے ہم ان ہی چیزوں کے بارے میں باتیں کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کو اپنے تجربات کے بارے میں لکھنے اور کہنے کا موقع ملتا ہے۔یہ ایک ایسا عمل ہے جسے ہم خصوصی طور پر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے میں عام طور سے نہیں دیکھ پاتے۔‘‘

سنہ ۲۰۱۰ ء میں بھاٹیا اور وائز کے ان ہمکاروں نے  ایس یو ایڈوانس کے نام سے معروف  ایڈوانس انسٹی ٹیوشنل ٹرانسفورمیشن کولیبریٹو ایگریمنٹ کے لیے  یو ایس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (این ایس ایف )سے ۳ اعشاریہ۴ ملین ڈالر( قریب۲۴ کروڑ روپے) عطیہ حاصل کیا۔اس پہل نے سیرا کیوس یونیورسٹی کو خواتین کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ تجربات کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دینے کا اہل بنایا ۔مثال کے طور پر یونیورسٹی نے ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں خواتین کی زیادہ تقرری ، خاص کر کم نمائندگی والے نسلی اور ثقافتی گروہوں اور جسمانی طور پر معذور خواتین کی تقرری کی جانب توجہ مبذول کی۔ اس نے ایک دوسرے سے، مشیروں سے ، تحقیقی مراکز سے اور آزمائشی مدت کے بعد بحیثیت معلّم یا لیکچرر مستقل تقرری اور یونیورسٹیوں میں پروفیسر کے عہدے پر تقرری کے لیے ضروری کیمپس کے وسائل سے رابطہ قائم کراکے ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں اساتذہ کی شکل میں خواتین کے لیے 

نیٹ ورک تشکیل دینے کا کام کیا ۔اس کے لیے اساتذہ کو روبرو تدریسی سہولت اور ہنر پیدا کرنے سے متعلق ورک شاپ تک رسائی حاصل تھی ۔ایس یو ایڈوانس نے دیگر یونیورسٹیوں کے شعبوں اور صنعت کے محققین تک مواقع کی رسائی فراہم کرکے مختلف شعبے کی تحقیق کے لیے بھی حمایت فراہم کی ۔حتمی طور پر اس پہل نے مر د اورخواتین کی مساوات اور خواتین کی شمولیت کی سطح پر ادارہ جاتی تبدیلی پر

 پُر زور طریقے سے توجہ دی ۔ اس پروگرام نے مرد اساتذہ کو شراکت دار بنایا اور تحقیق کے ساتھ ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں مردوں اور خواتین کے لیے عملی زندگی کی تفہیم کے وسائل فراہم کیے۔ اس میں اس بات کا سمجھنا بھی شامل تھا کہ سماجی رابطے عملی زندگی کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ اس پہل کے نتائج کافی شاندار رہے۔ 

بھاٹیا کہتی ہیں ’’جب اس پہل کی ابتدا کے وقت یونیورسٹی کے ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں صرف ۴۹ خاتون اساتذہ تھیں لیکن جب یہ پہل پایۂ تکمیل کو پہنچنے والی تھی تب تک ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں یہ تعداد ۱۰۰ خاتون اساتذہ تک پہنچ چکی تھی۔ ہم نے کافی ذہین خواتین کی تقرری کی۔بہت ساری خواتین کو ترقی بھی دی ۔ سب ایک دوسرے کے رابطے میں تھے ۔ لوگ اب ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور اب وہ تجاویزتیار کرنے اور مالی امداد حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کرتے ہیںاورایک دوسرے کے لیے مشیر کی خدمات  انجام دیتے ہیں۔ ‘‘

اس کی کامیابی کی بنیاد پر بھاٹیا اور وائز کے ان کے ہمکار اب ایس ٹی ای ایم شعبہ جات میں مرد وں اور خواتین کی نمائندگی میںفرق کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ 

بھاٹیا کہتی ہیں ’’دو دہائیوں کے دوران ہم نے ایس یو ایڈوانس اور وائز پروگراموں کے ذریعے بہت ہی بہتر کا م کیا ہے لیکن اب بھی ہم لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آبادی کے تناسب کے حساب سییہاں مساوات کی حکمرانی ہے۔  

میکا نیکل انجینئرنگ،ایرو اسپیس انجینئرنگ اور  سِوِل انجینئرنگ جیسے ایس ٹی ای ایم کے مخصوص شعبوں میں اب بھی کافی فرق پایا جاتا ہے۔ان انڈر گریجویٹ پروگراموں میں اوسطاََ۲۰ سے ۲۵ فی صد خواتین اپنا حصہ رکھتی ہیں لیکن پریشانی یہ ہے کہ اس تعداد میں اضافہ نہیں ہورہا ہے ۔

انوائرونمینٹل انجینئرنگ یا علم حیاتیات کے شعبے میںسر دست خاتون انڈر گریجویٹ کا حصہ ۳۰ سے ۴۰ فی صد ہے مگرگریجویٹ یا اساتذہ کی سطح پر ان کی نمائندگی کم ہوکر ۱۰ فی صد پر آجاتی ہے ۔ ‘‘

بھاٹیا کو امید ہے کہ ایس یو ایڈوانس کے ذریعے انہوں نے جو کام انجام دیے ہیں یا وائز کے ذریعے جو کام انجام دے رہی ہیں ، یہ دیگر یونیورسٹیوں کے لیے نمونے کا کام کریں گے۔ بھاٹیا کہتی ہیں ’’وائز نے حال ہی میں انڈر گریجویٹ سطح پر سیاہ فام خواتین کے لیے ایک پروگرام شروع کیا ہے جو ایک پہل ہے اور یہ کافی اہم ہے کیوں کہ کافی کم تعداد میں ہونے کی وجہ سے ان طالبات کو ہم رکھ نہیں پاتے، لہٰذا ان کی تربیت اور مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

وہ زور دے کر کہتی ہیں کہ یونیورسٹی سیاہ فام خواتین کی تقرری ،انہیں برقرار رکھنا اور انہیں ترقی دینا بھی چاہتی ہے ۔بھاٹیا کا خیال ہے کہ یہ ایک مشن ہے جس کی تکمیل ممکن ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’مجھے اس بات کی بھی بے پناہ مسرت ہے کہ ہمارے 

ٹریک ریکارڈ اور اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے ہمیں ملنے والی حمایت کی وجہ سے آئندہ کئی برسوں تک ہم لوگ سیرا کیوس یونیورسٹی میں ان پروگراموں کو برقرار رکھنے کے قابل ہو ں گے۔اور اب تو میں ان پروگراموںکو قومی سطح پر کام کرتے ہوئے بھی دیکھنا پسند کروں گی۔‘‘

 

کیری لو وینتھل میسی نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط